اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 970
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مسلمان (ہجرت کر کے)
جب مدینہ منورہ پہنچے اور اس وقت نماز کیلئے ندا نہ کی جاتی تھی تو نماز کیلئے وقت کا اندازہ کر کے خود جمع
ہو جاتے تھے، اس بارے میں صحابہ نے ایک دن آپس میں مشورہ کیا، کسی کی رائے ہوئی کہ نصاریٰ
کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنا لیں اور بعض کہنے لگے (یہ نہیں) بلکہ یہودی سینگ کی طرح سینگ
بجانے کا انتظام کر لیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک آدمی کو کیوں نہیں مقرر کر دیتے جو نماز
کیلئے سب کو ندا کر دیا کرے۔ (یہ تجویز سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بلال (رضی
اللہ عنہ) اٹھو اور نماز کیلئے لوگوں کو (”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“ نماز تیار ہے کہہ کر) ندا کر دو۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "And when you call to prayer, they take it in ridicule and amusement. That is because they are a people who do not reason." (Qur'an, Al-Ma'idah 5:58). And His saying: "O you who have believed, when the call to prayer is made on the day of Jumu'ah (Friday)..." (Qur'an, Al-Jumu'ah 62:9).
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 604 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 377 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابتدا میں اذان سے پہلے لوگوں کو نماز کیلئے جمع کرنے کیلئے ”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“ کے الفاظ سے بلایا جاتا تھا پھر بعد میں اذان شروع ہوئی۔ (مرقات۔)