ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مسلمان (ہجرت کر کے)
جب مدینہ منورہ پہنچے اور اس وقت نماز کیلئے ندا نہ کی جاتی تھی تو نماز کیلئے وقت کا اندازہ کر کے خود جمع
ہو جاتے تھے، اس بارے میں صحابہ نے ایک دن آپس میں مشورہ کیا، کسی کی رائے ہوئی کہ نصاریٰ
کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنا لیں اور بعض کہنے لگے (یہ نہیں) بلکہ یہودی سینگ کی طرح سینگ
بجانے کا انتظام کر لیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک آدمی کو کیوں نہیں مقرر کر دیتے جو نماز
کیلئے سب کو ندا کر دیا کرے۔ (یہ تجویز سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بلال (رضی
اللہ عنہ) اٹھو اور نماز کیلئے لوگوں کو (”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“ نماز تیار ہے کہہ کر) ندا کر دو۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
And the saying of Allah, the Almighty: "And when you call to prayer, they take it in ridicule and amusement. That is because they are a people who do not reason." (Qur'an, Al-Ma'idah 5:58). And His saying: "O you who have believed, when the call to prayer is made on the day of Jumu'ah (Friday)..." (Qur'an, Al-Jumu'ah 62:9).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 604 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 377 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابتدا میں اذان سے پہلے لوگوں کو نماز کیلئے جمع کرنے کیلئے ”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“
کے الفاظ سے بلایا جاتا تھا پھر بعد میں اذان شروع ہوئی۔ (مرقات۔)
عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے متعلق فکر لاحق ہوئی یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا چند
لوگوں کو مامور کر دیں کہ وہ اٹھیں اور ٹیلوں پر چڑھ جائیں اور لوگوں کو نماز کیلئے اشارہ کر کے بلائیں
(عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک شخص دو سبز
کپڑے پہنا ہوا مسجد کے حصار کی دیوار پر کھڑا ہوا کہہ رہا ہے:
(کچھ دیر کے بعد وہ شخص) پھر کھڑا ہوا اور کہا (نماز کیلئے تکبیر میں بھی ”قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ۔
قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ“ کے اضافے کے ساتھ) وہ الفاظ کہو (جو اذان میں کہے گئے ہیں، یہ کہہ کر تکبیر اس
کہ) میں نے اپنا خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
جاؤ اور اس کو بلال (رضی اللہ عنہ) کو سکھا دو، میں ایسا ہی کیا، (چونکہ یہ نئی چیز بھی اس لئے) لوگ (یہ سن
کر دوڑتے ہوئے آئے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ (یہ کیا ہے) یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان
سے فارغ ہو گئے۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور کہا کہ اگر اس خواب کے بیان کرنے
میں عبداللہ بن زید (رضی اللہ عنہ) سبقت نہ کرتے تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیتا کہ مجھے
بھی ایسا ہی خواب دکھائی دیا جو عبداللہ ابن زید رضی اللہ عنہ کو دکھائی دیا۔
(اس کی روایت ابوالشیخ نے کی ہے اور ابن ماجہ ابو داؤد اور امام احمد نے بھی اسی طرح روایت
کی ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور ترمذی نے بخاری سے اس کو علل
میں نقل کیا ہے۔)
ابن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ صحابہ میں سے جو
ہمارے اساتذہ تھے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے یہ اچھا معلوم
ہوتا ہے کہ تمام مسلمانوں کی نماز ایک جا باجماعت ادا ہوا کرے، یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ چند
لوگوں کو گھروں پر بھیج دوں کہ وہ نماز کیلئے بلا لیا کریں، اور میں نے یہ بھی ارادہ کیا کہ چند لوگوں کو حکم دو
⟦?⟧ کہ وہ ٹیلوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو نماز کے وقت جمع ہو جانے کی اطلاع دیں۔ راوی نے کہا کہ
ایک انصاری حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب میں نے حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ مسلمانوں کو نماز کیلئے جمع کرنے کے بارے میں متفکر ہیں تو گھر لوٹا خواب
میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سبز کپڑے پہنے ہوئے ہے اور وہ مسجد کے اوپر کھڑا ہوا ہے اُس نے اذان
دی اور تھوڑی دیر بیٹھ گیا پھر کھڑا ہوا (اور تکبیر کیلئے) اذان کی طرح وہی الفاظ کہے مگر یہ کہ اس نے ”قَدْ
قَامَتِ الصَّلٰوةُ۔ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ“ کا اضافہ کیا اور مذکورہ حدیث آخر تک بیان کی۔ (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارادہ فرمایا تھا کہ دو لکڑیاں تیار کروائیں ایک کو دوسرے پر ماریں تاکہ اس کی آواز سن کر لوگ
نماز کیلئے جمع ہوسکیں، عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو دو لکڑیاں خواب میں دکھائی دیں انہوں نے
دل میں کہا کہ یہ وہی دو لکڑیاں معلوم ہوتی ہیں جن کے بنوانے کا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
کیا تھا، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے خواب میں کہا گیا کہ کیوں آپ لوگ نماز کیلئے اذان نہیں
دیتے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جب بیدار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
حاضر ہوئے اور اپنا خواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان
دینے کا حکم فرما دیا۔ (اس کی روایت امام مالک نے موطا میں کی ہے۔)
ابوعمیر بن انس رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک انصاری چچا سے روایت کی ہے کہ ان
کے چچا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فکر کررہے تھے کہ لوگوں کو نماز کیلئے کس طرح جمع کیا
جائے؟ آپ سے عرض کیا گیا کہ نماز کے وقت ایک جھنڈا قائم کر دیں، جب لوگ اس کو دیکھیں گے تو
ایک دوسرے کو آگاہ کر دیں گے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند نہ آیا، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ
سے سینگھ بجا کر (نماز کیلئے) بلانے کا ذکر کیا گیا، آپ نے اس کو بھی پسند نہ کیا اور فرمایا کہ یہ یہود کا
طریقہ ہے، راوی نے کہا کہ پھر آپ سے ناقوس کا ذکر کیا گیا، آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ نصاریٰ کا
شعار ہے، اس کے بعد عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ گھر واپس ہو گئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
فکر کی وجہ سے خود بھی متفکر تھے تو ان کو خواب میں اذان سکھائی گئی راوی کہتے ہیں صبح کو جب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے خواب بیان کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم میں کچھ نیند اور کچھ بیداری میں تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے اذان سکھائی
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بھی بیس روز پہلے اسی طرح خواب دیکھا تھا
اور اسے چھپائے ہوئے تھے، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اب اس کا ذکر کیا تو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ تم نے مجھے اپنے خواب کی اطلاع کیوں
نہیں دی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مجھ سے پہلے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ذکر
کر دیا تھا اس لئے مجھے شرم معلوم ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بلال! اٹھو
اور عبداللہ بن زید تم کو جو سکھائیں اُس پر عمل کرو! تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔
ابوبشر راوی کا بیان ہے کہ مجھ سے ابوعمیر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ انصار کا یہ خیال تھا کہ اس روز
عبداللہ بن زید بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بجائے بلال رضی اللہ عنہ کے) ان کو مؤذن
مقرر فرماتے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں کہ ایک انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کو غمگین دیکھا ان انصاری کی عادت یہ تھی کہ جب وہ کھانا کھاتے تو ان کے ساتھ (شام کے کھانے
پر) اور لوگ بھی جمع ہو جاتے تھے (اس روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین دیکھ کر وہ غمزدہ ہوئے
اور واپس چلے گئے اور کھانا چھوڑ دیا اور جو اجتماع ان کے پاس ہوتا تھا وہ بھی نہ ہوا اور وہ (اپنے محلہ
کی) مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگ گئے ان کو اسی حالت میں اونگھ آ گئی، خواب میں ایک شخص آیا اور ان
سے کہا کہ کیا تم جانتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں غمگین ہوئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ
نہیں! اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے بارے میں غمگین ہوئے ہیں تو تم
خدمت اقدس میں جاؤ اور عرض کر دو کہ بلال کو حکم دیں کہ وہ اذان دیں اور اس شخص نے ان انصاری کو
یہ اذان سکھا دی:
پھر ان کو اس شخص نے اذان کے یہی الفاظ تکبیر کیلئے بھی سکھائے اور آخر میں ”قَدْ قَامَتِ
الصَّلٰوةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ. اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ کہا اور اذان و اقامت کے
الفاظ وہی تھے جو اب لوگوں کی اذان و اقامت کے الفاظ ہوتے ہیں، وہ انصاری آئے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھ گئے اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ان
انصاری نے آپ سے عرض کیا کہ میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر لیجئے
اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی یہی خواب دیکھ کر آئے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا جواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان فرمایا، پھر ان انصاری نے اجازت طلب کی اور خدمت
اقدس میں پہنچے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسی
طرح کا خواب مجھ کو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے سنایا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال (رضی اللہ
عنہ) کو حکم دیا کہ اسی طرح اذان دیں۔
(اس کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کی ہے اور طبرانی نے بھی اوسط میں اپنی
سند سے اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کی ہے۔
اور ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور کی روایت میں ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اقامت اس طرح ہے:
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے ہم کو حدیث سنائی ہے کہ عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص دیوار پر کھڑا ہے اور دو سبز چادروں میں ہے اور اس شخص
نے اذان کے الفاظ کو دو دو بار ادا کیا اور اقامت کے الفاظ بھی دو دو مرتبہ کہا اور بیٹھ گیا، اس شخص کی
اذان اور اقامت کو بلال رضی اللہ عنہ سن کر کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی اذان کے الفاظ کو دو دو بار
ادا کیا اور اقامت کے الفاظ بھی دو دو مرتبہ کہا اور بیٹھ گیا۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور ابو شیخ نے کی ہے۔)
اور بیہقی نے اپنی سنن میں دکین رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے اور الامام
میں کہا ہے کہ اس حدیث کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور یہ حدیث محدثین کے مذہب کی بناء پر صحابہ
کے عادل ہونے کی وجہ سے متصل اسند ہے اور ان کے ناموں کا معلوم نہ ہونا مضر نہیں ہے۔)
ف: اس حدیث میں اذان اور اقامت کے بعد بیٹھنے کا جو ذکر ہے اس سے اس بات کا اشارہ
مقصود ہے کہ اذان اور اقامت ختم ہوگئی، نیز اذان اور اقامت کے بعد بیٹھنے سے یہ وضاحت بھی مقصود
ہے کہ اذان اور اقامت کھڑے ہو کر کہنا مستحب ہے چنانچہ ”تنویر الابصار“ میں لکھا ہے کہ بیٹھے ہوئے
اذان اور اقامت کہنا مکروہ ہے۔12
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا تھا کہ (لوگوں کو نماز کیلئے سینگ بجا کر جمع کیا جائے) اور ناقوس خریدنے کا
بھی حکم دے دیا تھا عبداللہ بن زید کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں غمگین تھا کہ مجھے ایک خواب دکھائی دیا جس
میں میں نے ایک شخص کو دیکھا جو دو سبز چادروں میں ہے اور ناقوس لیا ہوا ہے، میں نے اس شخص سے
کہا اے بندۂ خدا کیا ناقوس کو بیچو گے؟ اس شخص نے کہا کہ تم اس کو کیا کرو گے؟ میں نے جواب دیا کہ
میں اس سے لوگوں کو نماز کے لئے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا کہ کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز نہ
بتلاؤں؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس شخص نے کہا کہ (نماز کیلئے) یہ
کہہ کر بلایا کرو:
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا خواب بیان کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں
نے ایک شخص کو خواب میں دو سبز کپڑے میں دیکھا اور پورا خواب سنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تمہارے دوست نے ایک خواب دیکھا ہے (پھر ان سے یہ فرمایا کہ تم)
بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کو جاؤ اور ان کو اذان کے الفاظ سکھا دو، اور بلال رضی اللہ عنہ اذان
دیں، اس لئے کہ بلال تم سے زیادہ بلند آواز والے ہیں، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں
بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کو گیا اور میں ان کو اذان کے الفاظ سکھاتا گیا اور بلال رضی اللہ عنہ اذان
دیتے گئے، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو اذان کی آواز
سنائی دی تو مسجد کو تشریف لائے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیشک میں نے بھی اسی
طرح کا خواب دیکھا ہے جس طرح انہوں نے دیکھا ہے۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو معراج میں آسمان کی سیر کرائی گئی تو اس وقت آپ پر اذان (کے الفاظ) کی وحی آئی تھی حضور
صلی اللہ علیہ وسلم معراج ہی سے اذان کے الفاظ لے کر اترے اور آپ کو اذان جبرئیل علیہ السلام نے
سکھائی۔ (اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں کی ہے۔)
ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ طبرانی کی اس روایت میں جس معراج کا ذکر آیا ہے وہ مشہور
معراج نہیں، یہ معراج جس میں اذان کے الفاظ سکھائے گئے ہیں جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی، کیونکہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی معراج ایک ہی ہوئی ہے، البتہ روحانی معراج متعدد ہوئے ہیں، یا یہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب تھا، جو معراج کے حکم میں ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خواب بھی
وحی ہوتا ہے اور یہ خواب بھی ایک روحانی معراج تھی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے الفاظ
سکھائے گئے، صحابہ رضی اللہ عنہم کو پہلے خواب میں اذان سکھائی گئی اور بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
خواب میں اذان کے بارے میں وحی کی گئی، اس سے مقصود یہ تھا کہ اذان کے بارے میں اس موافقت
کی وجہ سے صحابہ کرام کو خوشی حاصل ہو اور یہ ان سے منقول ہو ورنہ درحقیقت اذان کا حکم ایک شرعی حکم
ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے سوا دوسروں کے خواب سے ثابت نہیں ہوسکتا۔12
سعید بن عمر لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے
اذان کے بارے میں خواب دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خواب بیان کرنے
آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ (میرے خواب دیکھنے سے پہلے) وحی آچکی ہے چنانچہ
آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے خواب سے پہلے اذان کے بارے میں وحی
آچکی ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے مراسیل میں کی ہے اور عبدالرزاق نے بھی اپنی مصنف میں اس کی
روایت کی ہے۔)
اسود بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابومحذورہ
رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تکبیر کہا کرتے
تھے، اور اس کو کس طرح ختم کرتے تھے؟ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں تکبیر کے الفاظ دو
دو دفعہ اذان کی طرح کہا کرتا تھا اور تکبیر لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ پر ختم کرتا تھا۔
(اس کی روایت ابوشیخ نے کی ہے۔)
طبرانی نے الاوسط میں ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے ایک ایک کلمہ کو ”اللّٰهُ اَكْبَرُ اللّٰهُ اَكْبَرُ“ سے شروع فرما کر
آخر تک سکھائے ہیں اور اس میں ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے ترجیع کا ذکر نہیں کیا ہے۔
ف: ترجیع یہ ہے کہ ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنَّ
مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کو پست آواز سے ادا کرے پھر اس کے
بعد یہی الفاظ ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ
اللّٰهِ. اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کو بلند آواز سے کہے ترجیع اسی کو کہتے ہیں اور یہ ترجیع احناف
کے پاس جائز نہیں ہے جس کی تائید ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے اور اسی طرح
حضرت بلال اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذان سے بھی ترجیع ثابت نہیں۔ (شرح وقایہ، عمدۃ
الرعایہ، ہدایہ اور مرقات۔)
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم (کے عہد مبارک میں) اذان اور اقامت کے الفاظ دو دو تھے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے موذن عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ اذان اور اقامت کے الفاظ دو دو ادا
کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی اذان اور اقامت کے الفاظ دو دو ہوتے تھے۔
(اس کی روایت ابوالشیخ نے کی ہے۔)
اسود رضی اللہ عنہ بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ
اذان کے الفاظ کو دو دو مرتبہ ادا کرتے تھے اور اقامت کے الفاظ کو بھی دو دو دفعہ ادا کرتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی، عبدالرزاق اور دارقطنی نے کی ہے۔)
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ
اذان کے کلمے دو دو بار ادا کرتے تھے اور اقامت کے کلمے بھی دو دو دفعہ کہتے تھے۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
عبدالعزیز بن رفیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو
محذورہ رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے سنا ہے کہ وہ اذان کے الفاظ کو دو دو دفعہ کہتے تھے اور اقامت
کے الفاظ بھی دو دو دفعہ ادا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
مکحول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن محیریز رضی اللہ عنہ نے ان کو حدیث
بیان کی کہ انہوں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
اقامت کے سترہ کلمے سکھائے ہیں۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اقامت کے بارے میں کہا ہے کہ
اقامت کے الفاظ کو جو ایک ایک دفعہ کہتے ہیں یہ ایسی چیز ہے جس کو امراء نے اپنی آسانی کیلئے جاری
کر دیا ہے، (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
ف: امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں وضاحت کی ہے کہ ابوالفرج کا قول ہے کہ اقامت کے
الفاظ دو دو مرتبہ کہے جاتے تھے لیکن جب بنو اُمیہ کی حکومت آئی تو ان لوگوں نے اقامت کے الفاظ کو
ایک ایک مرتبہ جاری کر دیا۔
چنانچہ ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ان بادشاہوں کی
حکومت آنے تک اقامت بھی اذان کی طرح تھی لیکن جب یہ بادشاہ نماز کیلئے نکلتے تو نماز جلد شروع
کرنے کی غرض سے اقامت کے الفاظ کو ایک ایک دفعہ کر دیا۔ (زیلعی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ صبح صادق کی اطلاع دینے کے واسطے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پائے، انہوں نے دو
دفعہ ”الصَّلوٰةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ“ (نماز نیند سے بہتر ہے) پکارا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ اے بلال (رضی اللہ عنہ) تمہارے یہ الفاظ بہت اچھے ہیں تم ”الصَّلوٰةُ خَيْرٌ مِّنَ
النَّوْمِ“ کو صبح کی اذان میں کہا کرو۔
(اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان دیا کرتا تھا اور فجر کی اذان میں ”حَىَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کے بعد ”الصَّلوٰةُ
خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، الصَّلوٰةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ. لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ کہا کرتا تھا
۔(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
ابن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ یہ سنت ہے کہ مؤذن
اذان فجر میں ”حَىَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ (کے بعد) ”الصَّلوٰةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ“ کہے۔
(اس کی روایت بیہقی اور ابن خزیمہ نے کی ہے۔)
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ نماز صبح کیلئے، نکلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس کسی کے پاس سے گزرتے گئے تو اس کو”
الصَّلوٰة“ کہہ کر آواز دیتے گئے یا قدم مبارک سے ہلا کر جگاتے گئے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1264 (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
This indicates the permissibility of Tathweeb in general.
(1) His statement: "This indicates the permissibility of Tathweeb in general." And in the explanation of An-Nuqayah, it is said: "Tathweeb is the announcement of prayer between the Adhan and Iqamah according to what is customary in each region. It is considered Hasan in our view for every prayer because people are often neglectful in religious matters. However, Malik and Shafi'i disliked it absolutely."
Note 1
قوله
(۱) قوله: يؤخذ منه مشروعية التثويب في الجملة وقال في شرح النقاية والتثويب وهو الإعلام بالصلاة بين الأذان والإقامة بحسب ما تعارفه أهل كل بلد من لفظه حسن عندنا في كل صلاة؛ لتواني الناس في الأمور الدينية، وكرهه مالك والشافعي مطلقا.
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث سے تثویب کی مشروعیت معلوم ہوتی
ہے، چنانچہ مرقاۃ میں لکھا ہے کہ تثویب یہ ہے کہ ہر شہر والوں کے عرف کے موافق جو بھی لفظ مقرر کیا جائے
اس کے ذریعہ سے اذان اور اقامت کے درمیان نماز کا اعلان کیا جائے اس لئے تثویب ہر نماز میں
ہمارے پاس مستحب ہے کیونکہ امور دینیہ کی ادائی میں لوگوں میں سستی پیدا ہوچکی ہے البتہ امام مالک اور
امام شافعی رحمہما اللہ نے تثویب کو مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے۔12
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے بلال (رضی اللہ عنہ) سے ارشاد فرمایا کہ جب تم اذان دیا کرو تو اذان کے کلمات کو ٹھہر ٹھہر کر جدا
جدا کہا کرو اور جب اقامت کہا کرو تو اقامت کے الفاظ کو جلد جلد ادا کیا کرو اور اذان و اقامت کے
درمیان اتنا وقفہ دیا کرو کہ کھانا کھانے والا کھانے سے اور پانی پینے والا پانی پینے سے فارغ ہوجائے
اور جو قضاء حاجت کو گیا ہو اس سے فارغ ہو کر آسکے اور جب تک تم مجھے دیکھ نہ لو اس وقت تک نماز
کیلئے کھڑے نہ ہوا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ نے حماد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ اس وقت
کھڑے ہوتے جب مؤذن ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَوةُ“ کہے اور امام (تکبیر تحریمہ کے لئے) ”اللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 195 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Do not stand until you see me
(2) Explanation of the statement: "Do not stand until you see me": This likely means that the Prophet (peace be upon him) would come out of his room after the Mu'adhdhin began the Iqamah and enter the mosque’s Mihrab (prayer niche) when the Mu'adhdhin said, " حَيَّ على الصلاة " (Come to prayer). Therefore, our scholars stated that the Imam and the congregation should stand at "حَيَّ على الصلاة" and begin the prayer at "قد قامت الصلاة" (Prayer has begun), according to the opinion of Abu Hanifah and Muhammad. According to Abu Yusuf, they should begin at the completion of the Iqamah. The meaning is that when the Mu'adhdhin finishes saying, "قد قامت الصلاة" the Imam should begin. In Al-Khulasa, this is the most correct opinion. It is also said that it means the Imam begins before the completion of this statement. In Al-Muhit, Imam Al-Hulwani said: "This is the correct view." It is mentioned in Khazana: "If the Imam does not begin until after the completion of the Iqamah, there is no harm in that." The discussion here is about what is recommended, not what is merely permissible. The majority follow the opinion of Abu Yusuf so that the Mu'adhdhin can catch the beginning of the Imam’s prayer, and this is the practice of the people of the Two Holy Mosques. Allah knows best. According to Malik and Shafi'i, the Imam should delay starting until the Iqamah is completed and the rows are straight. This is taken from Al-Mirqat and Sharh An-Nuqayah.
Ibn Abi Shaybah narrated from Hammad that Anas (may Allah be pleased with him) would stand when the Mu'adhdhin said, "قد قامت الصلاة" (Prayer has begun), and the Imam said the Takbir.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ولا تقوموا حتى تروني : لعله كان يخرج من الحجرة بعد شروع المؤذن في الإقامة، ويدخل في محراب المسجد عند قوله: «حَيَّ على الصلاة، ولذا قال أئمتنا ويقوم الإمام والقوم عند «حي على الصلاة ويشرع عند قد قامت الصلاة في قول أبي حنيفة ومحمد، وعند الفراغ من الإقامة في قول أبي يوسف. والمعنى: إذا فرغ المؤذن من قوله: «قد قامت الصلاة شرع الإمام. في الخلاصة: هذا هو الأصح وقيل : معناه أنه شرع فيها قبل تمام هذا القول. وفي المحيط»: قال الإمام الحلواني: هذا هو الصحيح، وذكر في خزانة»: لو لم يشرع حتى فرغ من الإقامة، فلا بأس به، والكلام في الاستحباب لا في الجواز. انتهي والجمهور على قول أبي يوسف؛ ليدرك المؤذن أول صلاة الإمام، وعليه عمل أهل الحرمين، والله تعالى أعلم. وعند مالك والشافعي: يؤخر الشروع إلى الفراغ من الإقامة واستواء الصفوف المرقاة» وشرح النقاية» ملتقط منهما.
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمایا کہ جب تک تم مجھے دیکھ نہ لو نماز
کیلئے کھڑے نہ ہوا کرو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے
مؤذن کی اقامت شروع کر دینے کے بعد نکلتے تھے اور مؤذن جب ”حَیَّ عَلَی الصَّلوٰةِ“ کہتا تو
آپ مسجد کے محراب میں آ جاتے، اسی لئے ہمارے ائمہ نے کہا ہے کہ امام اور مقتدی سب ”حَیَّ عَلَی
الصَّلوٰةِ“ کے وقت کھڑے ہو جائیں اور امام ”قَدْقَامَتِ الصَّلوٰةُ“ کے وقت نماز شروع کر دے۔ یہ
امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کا قول ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اقامت سے فراغت
کے بعد نماز شروع کی جائے۔
”خلاصہ“ میں لکھا ہے کہ فتویٰ امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے قول پر ہے اس لئے
”قَدْقَامَتِ الصَّلوٰةُ“ پر نماز شروع کی جائے۔
واضح ہو کہ نماز شروع کرنے کے بارے میں ہمارے ائمہ کے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے
اس کا تعلق استحباب سے ہے کہ ”قَدْقَامَتِ الصَّلوٰةُ“ کے وقت نماز شروع کرنا مستحب ہے یا اقامت
سے فارغ ہونے کے بعد نماز کا شروع کرنا مستحب ہے؟ ورنہ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے کے
بعد نماز کا شروع کرنا سب کے پاس بالاتفاق جائز ہے۔ چنانچہ خزانۃ میں مذکور ہے کہ اگر امام نے نماز
شروع نہیں کی یہاں تک کہ مؤذن اقامت سے فارغ ہو گیا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہاں
خزانۃ کی عبارت ختم ہوئی) اور جمہور کا اتفاق امام ابویوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے کہ مؤذن کے اقامت
سے فارغ ہونے کے بعد نماز شروع کی جائے، کیونکہ اس صورت میں مؤذن کو بھی نماز امام کے ساتھ
ابتداء ہی سے مل جاتی ہے اور اسی پر اہل حرمین کا عمل ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔
البتہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول یہ ہے کہ امام نماز شروع کرنے میں اتنی تاخیر
کرے کہ مؤذن اقامت سے فارغ ہو جائے اور صفیں درست کر لی جائیں۔ (ماخوذ از: مرقاۃ و شرح نقایہ۔)
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان کہوں میں نے اذان کہی بلال رضی اللہ عنہ نے
اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صدائی قبیلہ والے نے اذان
دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 199 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 514 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 717 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Whoever calls the Adhan should also call the Iqamah
(1) Explanation of the statement: "Whoever calls the Adhan should also call the Iqamah": In our view (Hanafi school), it is not disliked for someone other than the Mu'adhdhin to call the Iqamah with the Mu'adhdhin's consent. This is also the opinion of Malik. However, Shafi'i disliked it. If the Mu'adhdhin is not present, there is no dislike in someone else calling the Iqamah, according to unanimous agreement. Nevertheless, it is preferable for the Mu'adhdhin to also call the Iqamah, based on this hadith and the following narrations. This is summarized from Sharh An-Nuqayah.
Note 1
قوله
(۱) قوله: من أذن فهو يقيم ولا يكره عندنا إقامة غير المؤذن برضاه، وبه قال مالك، وكرهها الشافعي. أما لو لم يحضر فلا يكره اتفاقا. نعم، الأفضل أن يكون المؤذن هو المقيم، له هذا الحديث، ولنا الأحاديث الآتية بعد. شرح النقاية ملخصا.
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے، اس بارے میں ہمارا مذہب
یہ ہے کہ اگر اذان دینے والے کی رضامندی سے دوسرا شخص اقامت کہے تو یہ مکروہ نہیں ہے اور امام
مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان دینے والے کے سوا اگر دوسرا
اقامت کہے تو اس کو مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے لیکن اذان دینے والا حاضر نہ ہو تو متفقہ طور پر کسی امام کے
پاس بھی دوسرے کا اقامت کہنا مکروہ نہیں ہے، ہمارے پاس بھی افضل یہی ہے کہ اذان دینے والا ہی
اقامت کہے، علاوہ ازیں اذان دینے والے کے سوا دوسرے کی اقامت جو ہمارے پاس جائز ہے، اس
کی تائید میں ذیل کی حدیثیں ملاحظہ کیجئے۔ (رد المحتار، شرح وقایہ۔)
محمد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا عبداللہ ابن زید رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ عبداللہ ابن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کی بجائے کئی
چیزوں کے انتظام کا ارادہ فرمایا تھا مگر ابھی کوئی چیز طے نہیں پائی تھی، راوی نے کہا کہ عبداللہ بن زید
رضی اللہ عنہ کو اذان کے بارے میں خواب دکھائی دیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم بلال
(رضی اللہ عنہ) کو اذان سکھاتے جاؤ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ، بلال رضی اللہ عنہ کو اذان سکھاتے
گئے اور بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے گئے، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے خواب
دیکھا ہے اور میں ہی اذان دینا چاہتا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اذان تو بلال رضی اللہ
عنہ کو دینے دو) اور تم اقامت کہو۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت حدیث کے صحیح
ہونے کی دلیل ہے اور ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے اور حازمی نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔)
عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، اور وہ اپنے
والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اذان
کے بارے میں خواب دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی
اس کے بعد عبداللہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد سعد بن عمار اپنے دادا سعد رضی
اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان دیتے وقت اپنے دونوں کانوں میں اپنی دونوں انگلیاں رکھا
کریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کانوں میں انگلیوں کا رکھنا تمہاری بلند آوازی کا باعث
ہوگا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اور وہ بنی النجار کی ایک خاتون سے
روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میرا گھر مسجد کے اطراف کے گھروں میں سب سے زیادہ بلند تھا
بلال رضی اللہ عنہ اس گھر پر چڑھ کر فجر کی اذان دیا کرتے تھے اور وہ آخری شب میں آ جاتے اور گھر کی
چھت پر بیٹھ کر صبح صادق کے طلوع ہونے کو دیکھتے رہتے اور جب صبح صادق کو دیکھتے تو انگڑائی لیتے
(اے اللہ میں تیری حمد بیان کرتا ہوں اور قریش کیلئے تیری مدد مانگتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم
کریں) وہ کہتی ہیں کہ پھر وہ اذان دیتے، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ خدا کی قسم مجھے یاد نہیں پڑتا کہ بلال رضی
اللہ عنہ نے کسی ایک شب میں بھی یہ دعا نہ پڑھی ہو۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابتدا میں اذان سے پہلے لوگوں کو نماز کیلئے جمع کرنے کیلئے ”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“ کے الفاظ سے بلایا جاتا تھا پھر بعد میں اذان شروع ہوئی۔ (مرقات۔)