Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 891

(یہ باب اذان کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب اذان کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 891Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 999
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان کہوں میں نے اذان کہی بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صدائی قبیلہ والے نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 199 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 514 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 717 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Whoever calls the Adhan should also call the Iqamah

(1) Explanation of the statement: "Whoever calls the Adhan should also call the Iqamah": In our view (Hanafi school), it is not disliked for someone other than the Mu'adhdhin to call the Iqamah with the Mu'adhdhin's consent. This is also the opinion of Malik. However, Shafi'i disliked it. If the Mu'adhdhin is not present, there is no dislike in someone else calling the Iqamah, according to unanimous agreement. Nevertheless, it is preferable for the Mu'adhdhin to also call the Iqamah, based on this hadith and the following narrations. This is summarized from Sharh An-Nuqayah.

Note 1

قوله

(۱) قوله: من أذن فهو يقيم ولا يكره عندنا إقامة غير المؤذن برضاه، وبه قال مالك، وكرهها الشافعي. أما لو لم يحضر فلا يكره اتفاقا. نعم، الأفضل أن يكون المؤذن هو المقيم، له هذا الحديث، ولنا الأحاديث الآتية بعد. شرح النقاية ملخصا.

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے، اس بارے میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ اگر اذان دینے والے کی رضامندی سے دوسرا شخص اقامت کہے تو یہ مکروہ نہیں ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان دینے والے کے سوا اگر دوسرا اقامت کہے تو اس کو مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے لیکن اذان دینے والا حاضر نہ ہو تو متفقہ طور پر کسی امام کے پاس بھی دوسرے کا اقامت کہنا مکروہ نہیں ہے، ہمارے پاس بھی افضل یہی ہے کہ اذان دینے والا ہی اقامت کہے، علاوہ ازیں اذان دینے والے کے سوا دوسرے کی اقامت جو ہمارے پاس جائز ہے، اس کی تائید میں ذیل کی حدیثیں ملاحظہ کیجئے۔ (رد المحتار، شرح وقایہ۔)