English
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The area between my house and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise, and my pulpit is over my pond."
العربية
Typed, pending editorial approval
٩٥٧ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1073
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ زمین جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری
ہے، اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1196 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1391a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے ”مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَ مِنْبَرِي عَلٰى حَوْضِي“ (میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ زمین جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے) اس بارے میں محققین کے دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ ریاض الجنۃ یعنی مسجد نبوی کا وہ حصہ جو منبر شریف اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حجرہ مبارک کے درمیان ہے یہ حصہ اور منبر شریف ہر دو اس عالم کے نہیں ہیں بلکہ جنت کے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے جنت سے اس عالم میں منتقل کئے گئے ہیں جس طرح کہ حجر اسود حضرت آدم علیہ السلام کیلئے جنت سے اس عالم میں منتقل کیا گیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ریاض الجنۃ یعنی مسجد نبوی میں منبر شریف اور حجرہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا درمیانی حصہ زمین اور منبر شریف دونوں اسی عالم کے ہیں جو بروز قیامت ہر دو بقعہ جنت میں منتقل کئے جائیں گے اور یہ دونوں زمین کے دیگر حصوں کی طرح فانی نہیں ہوں گے کہ ریاض الجنۃ یعنی منبر شریف اور حجرہ نبوی کا درمیانی حصہ تو جنت کی ایک کیاری بنایا جائے گا اور منبر شریف حوض کوثر پر ہوگا۔ جس پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرمائیں گے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)