It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: The Prophet (peace be upon him) entered the Ka'bah, then came out with Bilal behind him. I asked Bilal, "Did he pray?" He said, "No." The next day, he entered again, and I asked Bilal, "Did he pray?" He said, "Yes, he prayed two Rak'ahs."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
بیت اللہ میں داخل ہوئے پھر باہر تشریف فرما ہوئے، بلال رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے
تھے، ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر
نماز ادا کئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، جب دوسرا دن ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر بیت اللہ
کے اندر داخل ہوئے، میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اندر نماز
پڑھے ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں دو رکعت نماز پڑھے ہیں۔
(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
And the saying of Allah, the Almighty: "And We commanded Ibrahim and Isma'il: 'Purify My House for those who perform Tawaf, those who stay in I'tikaf, and those who bow and prostrate.'" (Qur'an, Al-Baqarah 2:125). And His saying: "Wherever you are, turn your faces toward it." (Qur'an, Al-Baqarah 2:144). And His saying: "Indeed, the first House [of worship] established for mankind was that at Makkah—blessed and a guidance for the worlds." (Qur'an, Al-Imran 3:96). And His saying: "In houses which Allah has ordered to be raised and in which His name is remembered." (Qur'an, An-Nur 24:36). And His saying: "The mosques of Allah are only to be maintained by those who believe in Allah and the Last Day." (Qur'an, At-Tawbah 9:18).
It is narrated from 'Abdur-Rahman ibn Az-Zajjaj that he said: I came to Shaybah ibn 'Uthman and said, "O Abu 'Uthman, Ibn 'Abbas says that the Messenger of Allah (peace be upon him) entered the Ka'bah but did not pray." He said, "Yes, he did. He prayed two Rak'ahs near the two front pillars, then leaned his back against them."
عبدالرحمن بن زجاج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں شیبہ
بن عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر پوچھا کہ اے ابا عثمان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ابن
عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہو کر کعبہ کے اندر نماز نہیں
پڑھے، شیبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو سامنے کے دو ستونوں کے
پاس دو رکعت نماز ادا فرمائے ہیں اور نماز کے بعد دونوں ستونوں سے اپنی پشت مبارک چمٹائے رہے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے،
اور ابویعلی اور ابن عساکر نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) entered the Ka'bah with Al-Fadl, Usamah ibn Zayd, and 'Uthman ibn Talhah. The first person I met was Bilal, so I asked him, "Where did the Prophet (peace be upon him) pray?" He said, "Between these two pillars."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور حضرت فضل اور اسامہ بن زید اور عثمان ابن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی (آپ
کے ساتھ داخل ہوئے) (بخاری اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ فضل رضی اللہ عنہ کے بجائے
بلال رضی اللہ عنہ ساتھ تھے) ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پہلا شخص جس سے میں ملا وہ بلال رضی
اللہ عنہ تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر کہاں نماز پڑھتے
ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ ان دو ستونوں کے درمیان نماز ادا فرمائے ہیں۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور طحاوی، بخاری اور مسلم نے بھی اسی طرح کی
روایت کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "What lies between the east and the west is the Qiblah." 1
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 342 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
What lies between the east and the west is the Qiblah
(1) Explanation of the statement: "What lies between the east and the west is the Qiblah": The apparent meaning is that this refers to the Qiblah of the people of Madinah, as it lies between the east and the west. This hadith supports the opinion that the Qiblah is determined by direction. For the people of Makkah, it is the exact direction of the Ka'bah, while for others, it is the general direction. This is mentioned in Al-Mirqat and Ad-Durr Al-Mukhtar.
Note 1
(۱) قوله ما بين المشرق والمغرب قبلة والظاهر أنها قبلة أهل المدينة؛ فإنها واقعة بين المشرق والمغرب، وهذا الحديث يؤيد القول بالجهة، يعني للمكي إصابة عينها ولغيره - أي غير معاينها - إصابة جهتها. «المرقاة» و«الدر المختار ملتقط منهما.
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مدینہ منورہ کے رہنے والوں کا قبلہ جانب جنوب، مشرق اور
مغرب کے درمیان ہے، اس لئے کہ مدینہ منورہ مشرق اور مغرب کے درمیان واقع ہے۔
واضح ہو کہ استقبال قبلہ میں دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ عین کعبہ کی جانب رخ کرنا فرض ہے
اگر عین کعبہ کی جانب رخ کرنا کعبۃ اللہ کے نگاہ سے غائب ہونے کی وجہ سے دشوار ہے تو عین کعبہ کی
جانب رخ کرنے کی نیت کرنا ضروری ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ جو لوگ مکہ مکرمہ میں رہتے ہوں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ عین کعبہ کی
جانب رخ کریں اور اسی طرح مدینہ منورہ میں رہنے والوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ بھی عین کعبہ کی
نیت کریں کیوں کہ مدینہ منورہ کا قبلہ بذریعہ وحی متعین ہوا ہے البتہ وہ لوگ جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے
سوا دوسرے مقامات پر رہتے ہوں، ان کیلئے عین کعبہ کی جانب رخ کرنے کی نیت ضروری نہیں بلکہ ان
کے لئے سمت کعبہ کی جانب رخ کرنے کی نیت کرنا کافی ہے اور اسی پر فتویٰ ہے اور اس حدیث سے اسی
قول کی تائید ہوتی ہے، کیوں کہ اس حدیث میں وارد ہے کہ ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے“ اور
اسی سے سمت قبلہ کی نیت کے کافی ہونے کی دلیل حاصل ہوتی ہے۔ (نہایہ، ہدایہ، درمختار،
مرقات۔)12
It is narrated from Abu Dharr (may Allah be pleased with him) that he said: I asked, "O Messenger of Allah, which mosque was first established on earth?" He said, "The Masjid al-Haram." I asked, "Then which?" He said, "Then the Masjid al-Aqsa." I asked, "How much time was between them?" He said, "Forty years. Then the entire earth is a mosque for you, so wherever prayer time overtakes you, pray."
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے روئے زمین پر کونسی مسجد بنائی گئی؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد الحرام یعنی کعبہ (سب سے پہلے روئے زمین پر عبادت گاہ بنایا
گیا ہے) راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کونسی مسجد بنائی گئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس، میں نے پوچھا کہ ان دونوں مسجدوں کی تعمیر کے درمیان میں
کتنے برس کا فاصلہ ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چالیس سال، پھر حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ تمام روئے زمین تمہارے لئے مسجد ہے جہاں کہیں تم کو نماز کا وقت آجائے وہاں نماز
پڑھ لو۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3366 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 520a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: لمعات میں کہا ہے کہ اس حدیث میں اشکال ہے وہ یہ ہے کہ کعبۃ اللہ کے بانی حضرت
ابراہیم علیہ السلام ہیں اور بیت المقدس کے بانی سلیمان علیہ السلام ہیں اور ان دونوں کی تعمیر میں ایک
ہزار برس سے زیادہ مدت کا فرق ہے، اس اشکال کا عمدہ جواب ابن جوزی رحمۃ اللہ نے نقل کیا ہے کہ
اس حدیث میں اشارہ ان دونوں مسجدوں کے ابتدائی تعمیر کی طرف ہے کیوں کہ جس طرح کعبہ کے بانی
اول ابراہیم علیہ السلام نہیں ہیں اسی طرح بیت المقدس کے بانی اول سلیمان علیہ السلام نہیں ہیں۔ اس
بارے میں منقول ہے کہ کعبۃ اللہ کو سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا اور جب ان کی اولاد
روئے زمین پر پھیلی تو ان کی اولاد ہی سے کسی نے اولاً بیت المقدس کی بناء رکھی اور ان دونوں مسجدوں کی
اس ابتدائی تعمیر میں چالیس برس کا فرق ہے۔ پھر اس کے بعد دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبۃ
اللہ بنایا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس تعمیر کیا۔12
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A prayer in this mosque of mine is better than a thousand prayers in any other mosque except the Masjid al-Haram."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اس مسجد میں ایک نماز کا ادا کرنا دوسرے مساجد کے مقابلہ میں مسجد حرام
کے سوائے ایک ہزار نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A man's prayer in his house is equal to one prayer, his prayer in the mosque of his tribe is equal to twenty-five prayers, his prayer in the mosque where Friday prayer is held is equal to five hundred prayers, his prayer in the Masjid al-Aqsa is equal to fifty thousand prayers, his prayer in my mosque is equal to fifty thousand prayers, and his prayer in the Masjid al-Haram is equal to one hundred thousand prayers."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کی نماز جس کو وہ اپنے گھر میں ادا کرتا ہے اس سے اس کو ایک نماز کا
ثواب ملتا ہے اور وہ نماز جس کو اپنے محلّہ کی مسجد میں ادا کرتا ہے اس کی ایک نماز ثواب میں پچیس
نمازوں کے برابر ہوتی ہے اور اس کی ایک نماز جس کو وہ جامع مسجد میں ادا کرتا ہے اس کا ثواب اُس کو
(500) پانچ سو نمازوں کے برابر ملتا ہے اور اس کی وہ نماز جس کو وہ مسجد اقصیٰ میں ادا کرتا ہے اس کا
ثواب اس کو پچاس ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے اور وہ نماز جس کو وہ میری مسجد میں ادا کرتا ہے اس کا
ثواب اس کو پچاس ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے اور وہ نماز جس کو وہ مسجد حرام میں ادا کرتا ہے اس کا
ثواب اس کو ایک لاکھ نمازوں کے برابر ملتا ہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مسجد نبویؐ کی ایک نماز ثواب میں پچاس ہزار نمازوں کے برابر
ہے، اور اس سے پہلے کی حدیث میں مروی ہے کہ مسجد نبویؐ کی ایک نماز ثواب میں ایک ہزار نمازوں کے
برابر ہے ان دو حدیثوں میں جو تفاوت پایا جاتا ہے اس کے بارے میں مرقات میں لکھا ہے کہ یہ
تفاوت، تفاوت احوال کی بناء پر ہو سکتا ہے کیوں کہ نیکی تو ایک ہوتی ہے مگر حالات کے لحاظ سے کبھی اس
کا ثواب دس گنا اور کبھی ستر گنا اور کبھی سات سو گنا ہوتا ہے تو تفاوت حالات کی وجہ سے مدینہ منورہ کی
مسجد میں ایک نماز کا ثواب کسی کو ایک ہزار اور کسی کو پچاس ہزار مل سکتا ہے۔12
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that he said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Whoever comes to this mosque of mine, only coming for good—to learn or teach—he is like a Mujahid in the cause of Allah. Whoever comes for any other reason is like a man looking at the property of others."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری اس مسجد میں صرف کسی نیک کام (مثلاً نماز،
اعتکاف، زیارت، تلاوت اور ذکر کے) سیکھنے یا سکھانے کیلئے (یا ان پر عمل کرنے کیلئے آیا ہو) تو وہ
شخص مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو شخص ان چیزوں کے سوا کسی اور چیز کیلئے آتا ہو تو وہ شخص اس
آدمی کی طرح ہے جو دوسروں کے سامان کو صرف دیکھتا ہے (اور اس سے کچھ بھی نفع نہیں اٹھاتا)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ جو شخص مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نیک کام کیلئے نہیں آتا
اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دوسروں کے سامان کو دیکھتا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ شخص
آخرت میں ان لوگوں کے اجر و ثواب کو دیکھے گا جنہوں نے مسجد نبوی میں خیر کے کام کئے تھے تو اس نے
اس مسجد میں کار خیر نہ کر کے حصول اجر کا جو موقع ضائع کر دیا اس پر حسرت کرے گا اور رنجیدہ ہوگا کہ میں
کیوں ایسی دولت سے محروم رہا۔(اشعۃ اللمعات)12۔
It is narrated from As-Sa'ib ibn Yazid (may Allah be pleased with him) that he said: I was sleeping in the mosque when a man threw pebbles at me. I looked and saw that it was 'Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him). He said, "Go and bring those two men." I brought them, and he asked, "Who are you, or where are you from?" They said, "We are from the people of Ta'if." He said, "If you were from the people of Madinah, I would have punished you severely. You raise your voices in the mosque of the Messenger of Allah (peace be upon him)."
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں سو رہا
تھا کہ کسی نے مجھے کنکر مار کر جگایا میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں آپ نے
مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور ان دونوں شخصوں کو میرے پاس بلا لاؤ (کہ مسجد میں پکار کر باتیں کررہے
ہیں) میں نے ان دو آدمیوں کو آپ کے سامنے پیش کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم
کس قبیلہ کے ہو یا کہاں کے ہو؟ دونوں نے جواب دیا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں حضرت عمر
رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم مدینہ والوں میں سے ہوتے تو ضرور میں تم کو سزا دیتا تم دونوں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز بلند کرتے ہو۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Do not undertake journeys except to three mosques: the Masjid al-Haram, the Masjid al-Aqsa, and this mosque of mine."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین ہی مساجد کی جانب فضیلت مسجد حاصل کرنے کی غرض سے سفر کیا
جاسکتا ہے، مسجد الحرام (یعنی کعبہ اللہ) اور مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) اور میری یہ مسجد (یعنی مسجد
نبوی ﷺ)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1197 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ مسجد الحرام کی ایک نماز فضیلت میں ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ
میں ایک نماز پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور اسی طرح مسجد نبوی میں بھی ایک نماز پچاس ہزار
نمازوں کے برابر ہے، اس لئے جو شخص فضیلت اور ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ ان تینوں مسجدوں کی
طرف سفر کرسکتا ہے۔ اب رہی دوسری مسجدیں تو ان تینوں مسجدوں کے سوا دنیا بھر کی تمام مسجدیں
فضیلت میں ایک دوسرے کے برابر ہیں، اس لئے ان تینوں مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کی طرف
فضیلت حاصل کرنے کی نیت سے سفر کرنا ایک لوفعل ہوگا، اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا ہے کہ کسی مسجد کی طرف سفر نہ کرو اور صرف انہی تین مسجدوں کی طرف سفر کرو۔
بعض حضرات نے اس حدیث کے الفاظ ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ“ سے
استدلال کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام کے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلئے سفر کرنا ناجائز و
ممنوع ہے، حالانکہ اس حدیث کے ان الفاظ سے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلئے سفر کی ممانعت کسی طرح
ثابت نہیں کی جاسکتی کیوں کہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ ان تین مسجدوں کے سوا
سفر کے فضیلت اور برکت حاصل کرنے کے قابل کوئی اور مسجد نہیں علاوہ ازیں ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا
إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ“ میں جو حصر موجود ہے وہ مساجد سے متعلق ہے نہ کہ مقابر سے۔ چنانچہ ملا علی قاری
رحمۃ اللہ علیہ نے شرح عین العلم میں اس حدیث کا ذکر کر کے صراحت فرمائی ہے: ”لَا يَمْنَعُ هٰذَا زِيَارَةَ
قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ لِأَنَّ النَّهْىَ فِى حَقِّ الْمَسَاجِدِ دُونَ سَائِرِ الْمَشَاهِدِ“ (اس حدیث
سے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کے قبور کی زیارت سے منع نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حصر مسجدوں سے
متعلق ہے نہ کہ زیارت گاہوں سے) تو اس حدیث میں جو حصر مساجد سے متعلق ہے اس حصر کو عام
کرکے شد رحال سے متعلق سفر مراد لیا جائے تو پھر نہ صرف مقابر اور مشاہد بلکہ تجارت اور سوداگری اور
اسی طرح ہر قسم کے سفر کی ممانعت ثابت کرنا پڑے گی اور اسی صورت میں حدیث ناقابل عمل قرار پائے
گی۔ تو شد رحال سے جب عام سفر کی ممانعت ثابت نہیں کی جاسکتی تو پھر کس بناء پر اس حدیث سے
مقابر انبیاء اور اولیاء کی زیارت کیلئے سفر کو ناجائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ بالخصوص جب کہ دوسری حدیث میں
مذکور ہے ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ أَلَا فَزُورُوهَا“ (میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے
روک رکھا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو) حدیث کے الفاظ ”أَلَا فَزُورُوهَا“ عام ہیں جس سے نہ
صرف مقامی بلکہ دور دراز کے مقابر کی زیارت کا حکم حاصل ہوتا ہے پس ثابت ہوا کہ زیارت قبور کیلئے
سفر مامور بہ ہے اور نہی عنہ نہیں ہے، چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ قبر سیدنا موسیٰ
الكاظم رضى الله عنه ترياق مجرب الاجابة الدعاء (امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی قبر
شریف اجابت دعا کیلئے تریاق مجرب ہے۔)
اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”مَنْ يُسْتَمَدُّ فِى حَيَاتِهِ يُسْتَمَدُّ بَعْدَ مَمَاتِهِ“
(جس سے زندگی میں مدد طلب کی جاتی تھی اس کی وفات کے بعد بھی اس سے مدد طلب کی جاسکتی ہے۔)
اس کے علاوہ اس حدیث میں ان تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کی زیارت کیلئے سفر اس لئے
ممنوع قرار دیا گیا ہے کہ ان مساجد ثلاثہ کے سوا جتنی مسجدیں ہیں وہ ثواب اور فضیلت میں ایک
دوسرے کے مساوی ہیں تو ان تین مسجدوں کے سوا جس کسی مسجد کی طرف سفر ہوگا وہ فعل عبث ہوگا اس
کے برخلاف مقابر اور مشاہد فضیلت اور برکت میں مساوی نہیں ہوتے بلکہ متفاوت ہوتے ہیں۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مناسک میں لکھا ہے کہ مکہ معظمہ میں کئی مشاہد ہیں جن
کی زیارت علماء نے مستحب قرار دی ہے مگر مولد سیدتنا فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا یعنی ام المؤمنین خدیجہ
الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے مسکن مبارک کے متعلق سب کا اتفاق ہے۔ جس کو طبرانی نے نقل کیا ہے: ”هُوَ
أَفْضَلُ مَوَاضِعِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْمَسْجِدِ“، یعنی مولد فاطمہ رضی اللہ عنہا مسجد حرام کے بعد مکہ معظمہ کے
تمام مقامات متبرکہ میں افضل ترین مقام ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی گھر میں تشریف فرما
رہے اور یہیں سے آپ نے ہجرت فرمائی تو جب ثابت ہوا کہ مقابر اور مشاہد برکت میں متفاوت ہیں تو
جس علت سے مساجد ثلاثہ کے سوا کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ علت مقابر اور
مشاہد میں نہیں پائی جاتی تو ان مساجد کا حکم بھی ان مقابر اور مشاہد سے متعلق نہیں ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام مشاہد اور مقابر فیض رسانی میں مساوی نہیں ہوتے ہیں اس لئے ایک کی
زیارت کی وجہ سے دوسرے کی زیارت سے استغنا حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف مسجدیں کہ یہ
ثواب میں یکساں ہوتے ہیں کہ جو ثواب ایک مسجد میں ہے وہی دوسری مسجد میں پایا جاتا ہے اس لئے
اس حدیث میں ان مساجد ثلاثہ کے سوا کسی اور مسجد کی طرف سفر کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، اس طرح ثابت
ہو گیا کہ ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ“ سے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلئے سفر کو ممنوع
قرار دینا غلط ہے اور بیجا استدلال ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، فصل الخطاب۔)12
It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: The Prophet (peace be upon him) used to come to the mosque of Quba every Saturday, walking or riding, and he would pray two Rak'ahs there.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ہر ہفتہ کے دن پیدل اور سوار ہو کر مسجد قباء تشریف لے جایا کرتے تھے اور مسجد قباء میں دو رکعت
نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The area between my house and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise, and my pulpit is over my pond."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ زمین جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری
ہے، اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1196 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1391a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے ”مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَ
مِنْبَرِي عَلٰى حَوْضِي“ (میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ زمین جنت کی کیاریوں میں سے
ایک کیاری ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے) اس بارے میں محققین کے دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے
کہ ریاض الجنۃ یعنی مسجد نبوی کا وہ حصہ جو منبر شریف اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حجرہ مبارک کے
درمیان ہے یہ حصہ اور منبر شریف ہر دو اس عالم کے نہیں ہیں بلکہ جنت کے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کیلئے جنت سے اس عالم میں منتقل کئے گئے ہیں جس طرح کہ حجر اسود حضرت آدم علیہ السلام کیلئے جنت
سے اس عالم میں منتقل کیا گیا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ریاض الجنۃ یعنی مسجد نبوی میں منبر شریف اور حجرہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا
درمیانی حصہ زمین اور منبر شریف دونوں اسی عالم کے ہیں جو بروز قیامت ہر دو بقعہ جنت میں منتقل کئے
جائیں گے اور یہ دونوں زمین کے دیگر حصوں کی طرح فانی نہیں ہوں گے کہ ریاض الجنۃ یعنی منبر شریف
اور حجرہ نبوی کا درمیانی حصہ تو جنت کی ایک کیاری بنایا جائے گا اور منبر شریف حوض کوثر پر ہوگا۔ جس پر
حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرمائیں گے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)
It is narrated from 'Aisha (may Allah be pleased with her) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said during his final illness: "May Allah curse the Jews and Christians, for they took the graves of their prophets as places of worship."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے مرض الوفات کی حالت میں جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحت یاب نہیں ہوئے فرمایا کہ اللہ
تعالیٰ لعنت کرے یہود اور نصاریٰ پر کہ ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا دیا۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1330 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 529 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے: ”لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ
مَسَاجِدَ“ (اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کہ ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔)
واضح ہو کہ یہود اور نصاریٰ نے اپنے انبیاء کی قبروں کو دو طرح سے سجدہ گاہ بنا رکھا تھا ایک یہ کہ
جس طرح بت پرست بتوں کی پوجا کرتے ہیں، یہود و نصاریٰ بھی انبیاء کی قبروں کو سجدہ کرتے اور اس
سجدہ سے انبیاء کی عبادت کا قصد کرتے۔ ظاہر ہے کہ یہ شرک جلی ہے دوسرے یہ کہ انبیاء کی قبروں کو قبلہ
بناتے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتے کہ نماز اور عبادت میں انبیاء کی قبروں کی جانب اس
خیال سے متوجہ ہوتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور رضاء کا ذریعہ ہیں، حالانکہ یہ دوسرا طریقہ بھی شرک
خفی ہے، کیوں کہ اس طریقہ سے بھی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کیا جا رہا ہے الغرض یہود و نصاریٰ کی
عبادت کے یہ دونوں طریقے غیر مشروع ہیں، اسی وجہ سے اس حدیث میں یہود و نصاریٰ پر لعنت کی گئی ہے۔
اس حدیث میں یہود و نصاریٰ کے فعل کی حکایت سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان بھی
انبیاء اور اولیاء کی قبور کو سجدہ گاہ نہ بنائیں لیکن اس بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ اس حدیث سے انبیاء
اور اولیاء کے قرب و جوار میں مسجدیں بنانے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ نفس قبر کو مسجد یعنی سجدہ گاہ
بنانے اور قبر کے پاس مسجد بنانے میں بڑا فرق ہے، قبروں کے پاس مسجد بنانے کا جواز اور استحسان تو
قرآن شریف کی آیت ”لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَّسْجِدًا“ سے ثابت ہے۔
چنانچہ تفسیر مظہری میں سورۃ کہف کی آیت ذیل کی تفسیر اس طرح مرقوم ہے:
”(إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ) فيقول المسلمون: انهم مسلمون نبنى عَلَيْهِمْ
مَسْجِدًا، وقال الكفار: انهم اولاد الكفار ولم يثبت اسلامهم (فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ
بُنْيَانًا) صومعة او كَنِيسَةً لكن قطع الله ذلك النزاع ايضاً بِتَغْلِيْبِ المؤمنين (رَبُّهُمْ
أَعْلَمُ بِهِمْ) فغلب بالحجة والقدرة من علم اطلاعه على حَقِيْقَةِ أمرهم حَتّى (قَالَ
الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ) بالحجة وَالْقُدْرَةِ (لَنَتَّخِذَنَّ) على رَغْمِ المشركين (عَلَيْهِمْ
مَسْجِدًا) نصلى فيه ، ونتبرك بهم“.
(اس آیت کا معہ تفسیر ترجمہ یہ ہے) ((اصحاب کہف کے بارے میں مسلمان اور کفار جھگڑنے
لگے تو مسلمان کہتے تھے کہ اصحاب (کہف) مسلمان ہیں، ہم ان پر مسجد بنائیں گے کفار نے کہا کہ
اصحاب کہف اولاد کفار ہیں ان کا مسلمان ہونا ثابت نہیں ہے، اس لئے وہ آپس میں کہنے لگے کہ صومعہ یا
کنیسہ بناؤ خدا نے مسلمانوں کو کفار پر غالب بنا کر اس نزاع کو قطع کر دیا کیوں کہ اصحاب کہف کا رب ان
کو زیادہ جانتا ہے پس وہ ان پر حجت و قدرت کے ساتھ ان کو غالب کر دیا جو اصحاب کہف کی حقیقت
حال پر خدا کے مطلع ہونے کا یقین رکھتے تھے تو حجت و قدرت کے ساتھ جو اپنے کام میں غالب تھے یعنی
مسلمانوں نے کہا کہ مشرکین کے خلاف میں ہم اصحاب کہف کے قرب و جوار میں مسجد بنا کر اس میں نماز
پڑھیں گے اور اصحاب کہف سے برکت اور تبرک حاصل کریں گے۔
نہ صرف تفسیر محامئ بلکہ تفسیر مدارک، روح البیان، تفسیر کبیر اور علامہ شہاب خفاجی کے حاشیہ تفسیر
بیضاوی الغرض ان سارے مفسرین کرام نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انبیاء
یا اولیاء کے قرب و جوار میں مسجد بنا کر بلا قصد تعظیم و بلا توجہ بجانب قبر اس اہل قبر سے محض حصول امداد کی
نیت سے نماز ادا کی جائے تا کہ ثواب عبادت و برکت قرب و جوار صلحاء و حصول امداد کا مل ہو تو کوئی حرج
نہیں۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات اور فصل الخطاب۔)12
It is narrated from Jundub (may Allah be pleased with him) that he said: I heard the Prophet (peace be upon him) say: "Indeed, those before you used to take the graves of their prophets and righteous people as places of worship. Do not take graves as places of worship, for I forbid you from that."
جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے خوب سن لو کہ جو لوگ تمہارے پہلے کی امت کے تھے وہ
اپنے انبیاء اور اپنے نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا کرتے تھے۔ خوب یاد رہے کہ قبروں کو سجدہ گاہ
مت بنایا کرو میں تم کو اس سے منع کر رہا ہوں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
It is narrated from 'Ata' ibn Yasar that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "O Allah, do not make my grave an idol that is worshipped. Allah's wrath became severe against a people who took the graves of their prophets as places of worship."
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنا کہ اس کی پوجا کی جائے، اس قوم پر اللہ کا سخت
غضب ہے کہ جس نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا ہے۔
(اس کی روایت امام مالک نے مرسلاً کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The most beloved places to Allah are its mosques, and the most hated places to Allah are its markets."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام جگہوں میں سب سے محبوب ترین جگہ اللہ تعالیٰ کے پاس مساجد ہیں اور
سب جگہوں میں سب سے مبغوض ترین جگہ اللہ تعالیٰ کے پاس بازار ہیں۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: A Jewish scholar asked the Prophet (peace be upon him), "Which land is the best?" The Prophet remained silent and said, "I will remain silent until Jibril comes." He remained silent, and Jibril came and asked. Jibril said, "The one being asked is not more knowledgeable than the one asking, but I will ask my Lord, the Blessed and Exalted." Then Jibril said, "O Muhammad, I drew closer to Allah than I have ever been before." The Prophet asked, "How was it, O Jibril?" Jibril replied, "There were seventy thousand veils of light between me and Him. He said, 'The worst places are its markets, and the best places are its mosques.'"
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک یہودی عالم نے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب جگہوں میں سب سے بہتر کون سی جگہ ہے؟ اس پر حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا اور فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام آنے تک میں خاموش رہوں گا، حضور صلی
اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان
سے دریافت فرمایا تو جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اس بارے میں جس سے سوال کیا جا رہا ہے
وہ سوال کرنے والے سے زیادہ باخبر نہیں ہے لیکن میں اپنے رب تبارک وتعالیٰ سے پوچھوں گا، پھر
جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالیٰ سے اس قدر قریب ہوا تھا کہ ایسی
قربت مجھے کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے جبرئیل (علیہ السلام) یہ
قربت کیسی تھی؟ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ستر ہزار نور کے
پردے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام جگہوں میں بدترین جگہ بازار ہیں اور تمام جگہوں میں، بہترین
جگہ مساجد ہیں۔
(اس کی روایت ابن حبان نے اپنی صحیح میں کی ہے اور امام احمد، ابویعلی، حاکم، طبرانی اور بزار
نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When you pass by the gardens of Paradise, graze in them." It was asked, "O Messenger of Allah, what are the gardens of Paradise?" He said, "The mosques." It was asked, "And what is grazing, O Messenger of Allah?" He said, "Saying: Subhan Allah, Alhamdulillah, La ilaha illa Allah, and Allahu Akbar."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم جنت کے باغوں میں سے گذرو تو میوے کھاؤ، عرض کیا گیا کہ یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت کے باغات کیا ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجدیں ہیں، سوال
کیا گیا کہ میوے کھانا کیا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ پڑھنا (یہی میوہ کھانا ہے۔(اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3509 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مسجد میں ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ پڑھنا چاہئے، واضح ہو کہ ان کلمات کے پڑھنے کی جو ترغیب وارد ہے اس سے یہ مقصود
نہیں کہ صرف انہی کلمات کا پڑھنا مختص ہے بلکہ ان کلمات کا ذکر تمثیلاً ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا
ذکر کیا جائے۔(مرقات)12۔
It is narrated from 'Uthman (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever builds a mosque for Allah, Allah will build for him a house in Paradise."
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو (شہرت) کی نیت نہ کرے محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے واسطے مسجد
بنائے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں گھر بناتے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
It is narrated from 'Aisha (may Allah be pleased with her) that she said: The Messenger of Allah (peace be upon him) ordered that mosques be built in residential areas, that they be cleaned, and that they be perfumed.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور مسجدوں کو پاک وصاف رکھا جائے
اور ان کو خوشبودار رکھا جائے۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
It is narrated from Talq ibn 'Ali that he said: We went as a delegation to the Messenger of Allah (peace be upon him), pledged allegiance to him, and prayed with him. We informed him that we had a church in our land, so we asked him for some of the leftover water from his ablution. He called for water, performed ablution, rinsed his mouth, and then poured it into a container for us. He instructed us, saying, "Go, and when you reach your land, demolish your church and sprinkle this water in its place, then make it a mosque." We said, "The land is far, the journey is difficult, and the water will dry up." He said, "Mix it with water, for it will only increase in purity."
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے نمائندوں کے طور پر حاضر ہوئے، ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم سے بیعت کر کے مسلمان ہوئے، ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ہم نے حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ، ہماری سرزمین میں ہمارا ایک گرجا ہے اور ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے
حضور کے استعمال شدہ پانی کو طلب کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا: آپ نے وضو فرمایا
اور کلی کی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ہمارے ایک برتن میں ڈال دیا اور ہم کو حکم دیا کہ جاؤ
اور جب تم اپنی سرزمین میں پہنچ جاؤ تو اپنے گرجا کو توڑ دو اور اس کی جگہ اس پانی کو چھڑک دو، اور وہاں
مسجد بنالو ہم نے عرض کیا کہ ہمارا وطن دور ہے اور اس وقت سخت گرمی ہے اور یہ پانی تو خشک ہوجائے
گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دوسرا پانی اس میں ملا کر اس کو بڑھالو، اس میں پانی ملا
نا پاکی اور برکت ہی کو بڑھائے گا۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I was not commanded to elevate mosques." Ibn 'Abbas said, "You will decorate them just as the Jews and Christians decorated theirs."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسجدوں کو بلند کرنے اور ان کو آراستہ کرنے
اور اس میں نقش و نگار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (انسانوں کے حالات
کے پیش نظر یہ پیشین گوئی فرمائی) کہ تم یقیناً مسجدوں کو اس طرح آراستہ کرو گے کہ جس طرح یہود و
نصاریٰ نے ان کو سونے کے نقوش سے آراستہ کر رکھا تھا۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے ”مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ“ (اللہ تعالیٰ کی جانب سے
مجھے مسجدوں کو بلند کرنے، ان کو آراستہ کرنے، اور ان میں نقش و نگار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے) اس
حدیث کے پیش نظر ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ مسجدوں کی تعمیر کے وقت ان کی بلندی، آرائش
اور نقش و نگار میں اعتدال کا لحاظ رکھنا اور غلو سے پرہیز کرنا مسنون ہے؛ کیوں کہ ان چیزوں میں غلو کرنے
سے فتنہ اور فخر و مباہات میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔
واضح ہو کہ ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول سے مسجدوں کی بلندی، آرائش اور سونے کے نقش
و نگار میں غلو سے ممانعت ظاہر ہو رہی ہے نہ کہ نفس فعل سے، اس لئے مسجدوں کی بلندی، آرائش اور
سونے کے نقش و نگار سے زینت فی نفسہ مباح ہے جس کی تفصیل ذیل میں آ رہی ہے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی قسم کی
زیادتی نہیں فرمائی، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باوجود کثرت مال کے طول و عرض میں کسی قدر اضافہ
فرمایا لیکن مسجد کی تجدید ان ہی اشیاء سے فرمائی جن اشیاء سے مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تیار کی گئی تھی، یعنی مسجد کی دیواریں پختہ اینٹ سے ستون کھجور کے
تنوں سے اور چھت کھجور کی شاخوں سے اور بلندی وہی تھی جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تھی۔
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کافی
اضافہ فرمایا اور دیواروں کو اینٹ کے بجائے منقوش پتھروں اور گچ سے اور ستونوں کو بھی کھجور کے تنوں کی
بجائے منقش پتھر سے، اور چھت کو کھجور کی شاخوں کی بجائے ساگوانی لکڑی سے تعمیر فرمایا۔
الغرض ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی، تزئینت اور نقش و
نگار کا لحاظ محض اس وجہ سے نہیں کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور ان
دونوں حضرات رضی اللہ عنہما کو بعد کے آنے والے مسلمانوں کیلئے اس دنیا میں اعتدال، زہد اور کفایت
شعاری کی تعلیم دینی مقصود تھی۔
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک بن مروان پہلا شخص ہے جس نے
مسجدوں کو سونے کے نقش و نگار سے آراستہ کیا اور یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا آخری زمانہ تھا اور اس زمانہ کے
علماء نے فتنے کے اندیشہ سے ولید کے مسجدوں کو نقش و نگار میں غلو کرنے پر تنبیہ نہیں فرمائی۔
ابن منیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے جب اپنے گھروں کی تعمیر میں بلندی، آراستگی اور
سونے کے نقش و نگار سے زینت کا رواج شروع کیا تو مسجدوں کی تعمیر میں بھی ان چیزوں کا لحاظ مباح
قرار دیا گیا تا کہ عوام کی نظروں میں مسجدیں حقیر معلوم ہونے نہ لگیں۔
امام الائمہ حضرت ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے کہ مساجد کی تعظیم کے پیش نظر مسجدوں
کی تعمیر میں ان کی بلندی، پختگی، آراستگی اور سونے کے نقش و نگار سے زینت دی جا سکتی ہے بشرطیکہ بیت
المال اور اموال وقف پر یہ صرف عائد نہ کیا جائے۔
علامہ نسفی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب ”الکافی شرح الوافی“ میں فرماتے ہیں ”وزينة
مسجد شىء عظيم و فى ذالك ترغيب الناس فى الجماعة وتعظيم بيت الله“ (مسجد
کی زینت بڑے عظمت کی چیز ہے کہ اس سے نہ صرف لوگوں میں جماعت کی ترغیب ہوتی ہے کہ بلکہ یہ
اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعظیم کا سبب ہے)۔
مسجد کی زینت کے جواز میں حضرات امام اعظم رحمة اللہ علیہ کے قول کی تائید کئی وجوہ سے ہوتی
ہے، اولاً خود اس حدیث کے الفاظ ”ما امرت“ سے مسجد کی زینت کی تائید ہوتی ہے اگر مسجدوں کی
بلندی، پختگی، آراستگی وغیرہ کی صریحاً ممانعت مقصود ہوتی تو حدیث میں ”ما امرت“ (مجھے حکم نہیں دیا گیا)
کی بجائے ”نُهِيْتُ“ (مجھے منع کیا گیا ہے) ارشاد ہوتا کیوں کہ عدم حکم سے عدم جواز ثابت نہیں ہوتا اور
اس طرح خود حدیث سے بھی مسجد کی بلندی اور زینت کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
ثانیاً مسجد کی پختگی، آراستگی نقش و نگار پر سب سے قوی دلیل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل ہے
جس کی تفصیل ابھی اوپر گذر چکی ہے، کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عَلَيْكُمْ
بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ“ الخ (تم میری اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت کو لازم
کر لو جو ہدایت یافتہ ہیں ...... الخ)
ثالثاً یہ کہ مسجد کی بلندی پختگی، آراستگی اور نقش و نگار پر عمل قرونِ اولیٰ سے جاری ہے جو دراصل
پوری امت کا تعامل ہے جس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے: ”مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ
عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ” (جو عمل مسلمانوں کو محبوب ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو بھی محبوب ہے) تو اس حدیث ”مَا رَآهُ
الْمُسْلِمُونَ“ الخ کے پیش نظر اجماع امت سے مسجدوں کی بلندی، پختگی، آراستگی اور نقش و نگار کا جواز
حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ نمود و نمائش سے دور رہ کر خالص رضا، الٰہی کے حصول کی غرض سے یہ کام کئے
جائیں۔12
(یہ مضمون کچھ اضافہ کے ساتھ ”عمدۃ القاری“ سے لیا گیا ہے۔)
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Among the signs of the Hour is that people will compete in beautifying mosques." [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, Al-Darimi, and Ibn Majah.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ (مسجدوں کو نقش و نگار سے آراستہ
کریں گے اور مسجدوں میں ذکر اور تلاوت قرآن کی بجائے) مسجدوں کو جو آراستہ کیا ہے اس پر باہم
فخر کریں گے۔
(اس کی روایت ابوداؤد، نسائی، دارمی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(قوسین کی عبارت عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔12)
ف: علامہ نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الکافی شرح الوافی میں اس حدیث کے حوالے سے
لکھا ہے کہ ”مسجدوں کی بلندی“ آراستگی اور سونے کے نقش و نگار سے زینت، ان کاموں کو اگر تعظیم
مساجد کیلئے انجام دیا جائے تو محض ان چیزوں کے قیامت کی نشانی ہونے کی وجہ سے ان کی قباحت
ثابت نہیں کی جاسکتی، کیونکہ کسی چیز کے قیامت کی نشانی ہونے کی وجہ سے اس کو برا نہیں قرار دیا جاسکتا
اگر ان چیزوں کو علامات قیامت ہونے کی وجہ سے برا سمجھا جائے تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول
کو بھی برا سمجھا جائے گا کہ حضرت کے نزول کو بھی علامات قیامت میں بتایا گیا ہے۔12
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves, 1 those who build mosques over graves, and those who place lamps on them. [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Al-Nasa’i]
In a narration by Muslim, it is mentioned: "The Prophet (peace be upon him) said, 'I had forbidden you from visiting graves, but now visit them.'"
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں پر اور قبروں کے اوپر
چراغ لگانے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں
نے تم کو (خواہ مرد ہو یا عورتیں) زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب میں تم کو اجازت دیتا ہوں کہ قبروں کی
زیارت کیا کرو، (کیوں کہ قبروں کی زیارت سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves
(1) Explanation of the statement: "The Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves": In Sharh As-Sunnah, it is explained that this was before the permission was granted. When the permission was given, it included both men and women. The meaning of the permission is his statement: "I had forbidden you from visiting graves, but now visit them, for they remind you of the Hereafter." This is mentioned in Al-Mirqat. In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is stated: "There is no harm in visiting graves, even for women, as mentioned in the hadith: 'I had forbidden you...' Rather, it is recommended, as stated in Al-Bahr from Al-Mujtaba, due to the command in the mentioned hadith. However, one should not abandon visiting graves because of the innovations and corrupt practices that occur at the graves of saints, such as mixing between men and women. Acts of worship should not be abandoned for such reasons. Rather, one should perform them and reject innovations, and even remove them if possible."
Note 1
قوله
(۱) قوله: لعن رسول الله ﷺ زائرات القبور في شرح السنة: هذا كان قبل الترخص، فلما رخص دخل في الرخصة الرجال والنساء، ومراده بالترخص : قوله : كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها؛ لأنها تذكر الآخرة، قاله في «المرقاة». وقال في الدر المختار و رد المحتار: لا بأس بزيارة القبور ولو للنساء الحديث: «كنت نهيتكم .... بل تندب، كما في «البحر» عن «المجتبى»، للأمر بها في الحديث المذكور، كما في الإمداد ولا تترك الزيارة لما يحصل عند قبور الأولياء من منكرات ومفاسد، كاختلاط الرجال بالنساء وغير ذلك؛ لأن القربات لا تترك لمثل ذلك، بل على الإنسان فعلها وإنكار البدع، بل وإزالتها إن أمكن.
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کو مستحق لعنت قرار دیا ہے
(1) قبروں کی زیارت کرنے والی عورتیں (2) قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والے (3) قبروں کے اوپر چراغ
لگانے والے۔
(1) واضح ہو کہ اس حدیث میں عورتوں کیلئے زیارت قبور سے جو ممانعت ثابت ہو رہی ہے وہ
مسلم کی اس حدیث سے منسوخ ہے: كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا؛ لِأَنَّهَا تُذَكِّرُ
الْآخِرَةَ” میں نے تم کو (خواہ مرد ہوں یا عورتیں) قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب میں تم کو (مرد
ہوں کہ عورتیں) اجازت دیتا ہوں کہ قبروں کی زیارت کیا کرو۔ اس لئے کہ قبروں کی زیارت سے
آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ عورتوں کیلئے زیارت کے جواز میں حدیث: ”لَعَنَ اللّٰهُ زَائِرَاتِ
الْقُبُورِ” کی روایت کے بعد فرماتے ہیں: ”قد رأى بعض اهل العلم ان هذا كان قبل ان
يرخص النبي صلى الله عليه وسلم في زيارة القبور، فلما رخص دخل في رخصته
الرجال والنساء“۔
(امام ترمذی فرماتے ہیں کہ بعض اہل علم کی تحقیق یہ ہے کہ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر
لعنت اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور سے مرد و عورت ہر دو کو منع
فرما دیا تھا، اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور کی اجازت دے دی تو یہ اجازت مردوں کے
ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی حاصل ہوگئی ہے) کیوں کہ شریعت کا یہ عام قاعدہ ہے کہ اوامر و نواہی بالعموم
مردوں کو دیئے جاتے ہیں اور چونکہ عورتیں مردوں کے تابع ہوتی ہیں اس حیثیت سے سارے احکام
عورتوں سے بھی متعلق ہو جاتے ہیں۔
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں لکھتے ہیں: ”واحتج من أباح زيارة القبور للنساء
بحديث عائشة رضى الله عنها رواه فى التمهيد من رواية بسطام بن مسلم عَنْ أَبِي
التَّيَّاحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَقْبَلَتْ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ
الْمَقَابِرِ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ! مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ؟ قَالَتْ: مِنْ قَبْرِ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ
بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالٰى عَنْهُمَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَلَيْسَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ ؛ كَانَ يَنْهَى عَنْ زِيَارَتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِزِيَارَتِهَا“۔
(جن حضرات نے عورتوں کیلئے زیارت قبور کے جواز کو ثابت کیا ہے وہ ام المؤمنین عائشہ رضی
اللہ عنہا کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو تمہید میں مروی ہے۔ بسطام بن مسلم رضی اللہ عنہ
ابوالتیاح رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ام
المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن قبرستان سے تشریف لا رہی تھیں، ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ ام المؤمنین
رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کی قبر کی زیارت
کر کے آ رہی ہوں، میں نے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیارت قبور سے منع نہیں فرماتے
تھے؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا جواب دیں، ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابتداء اسلام میں) قبروں کی
زیارت سے منع فرمایا تھا پھر بعد میں آپ نے (مرد اور عورتوں) دونوں کو اجازت دے دی۔
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ ابتداء اسلام میں زیارت قبور کی ممانعت کے اسباب بتاتے ہوئے
فرماتے ہیں: ”النهى عن زيارة القبور انما كان فى اول الاسلام عند قربهم بعبادة
الاوثان واتخاذ القبور مساجد، فلما استحكم الاسلام، وقوى فى قلوب الناس،
وأُمنت عبادة القبور والصلوة اليها نسخ النهى عن زيارتها؛ لانها تذكر الآخرة
وتزهد فى الدنيا“۔
(علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابتداء اسلام میں زیارت قبور سے ممانعت محض اس لئے
تھی کہ عربوں کو بتوں کی پوجا اور قبروں کی پرستش کو (ترک کئے ہوئے) بہت تھوڑا زمانہ گزرا تھا لیکن
جب دین کا استحکام ہوگیا اور لوگوں کے دلوں میں اسلام کی عظمت قوی ہوگئی اور قبروں کی پرستش اور
قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا اندیشہ دور ہوگیا تو قبروں کی زیارت سے ممانعت منسوخ کردی
گئی اس لئے کہ زیارت قبور آخرت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی کا سبب ہے۔
حضرت شاہ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ لمعات میں فرماتے ہیں کہ زیارت قبور مستحب ہے کیوں کہ اس
سے قلب میں رقت پیدا ہوتی ہے، موت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اور فناء دنیا کا خاکہ سامنے آجاتا ہے، میت
کیلئے دعاء اور استغفار کا موقع حاصل ہوتا ہے جمیع مشائخ صوفیہ کرام اور بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اہل
کشف اور کاملین کے نزدیک یہ ایک محقق بات ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بے شمار حضرات کو
ارواح مقدسہ سے فیض حاصل ہوا ہے۔
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ”باب الامر بالاستغفار للمومنين“ میں ام المومنین سیدتنا عائشہ
رضی اللہ عنہا سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں روایت کرتے ہیں کہ : ”فَأَمَرَنِي أَنْ آتِي
الْبَقِيعَ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، قُلْتُ كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ ! قَالَ: قُولِي ”السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ
الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، فَيَرْحَمُ اللّٰهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ
شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ“۔
(ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں
بقیع (یعنی مدینہ منورہ کے قبرستان کو) جاؤں اور اہل بقیع کیلئے دعاء کروں میں دریافت کی یا رسول اللہ
(صلی اللہ علیہ وسلم) میں کس طرح دعاء کروں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) تم
یہ کہو سلام ہو تم پر اے مسلمانوں کے قبروں والو! اور نزول رحمت ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پیش
روؤں پر اور ہمارے پسماندوں پر اور بلا شبہ ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔)
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کردہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو اہل بقیع کی زیارت کا حکم دیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتیں
دعاء اور استغفار کیلئے قبروں کی زیارت کرسکتی ہیں۔
درمختار اور رد المحتار ہر دو کتابوں میں یہ مذکور ہے کہ حدیث ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ“ کے پیش نظر
عورتوں کیلئے قبروں کی زیارت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اھ بلکہ عورتوں کیلئے مستحب ہے کہ وہ
قبروں کی زیارت کریں اس کو بحر میں مجتبیٰ کے حوالے سے لکھنے کے بعد واضح کیا ہے کہ یہ حدیث ”كُنْتُ
نَهَيْتُكُمْ“ الخ کے حکم صریح کی بناء پر ہے۔ علاوہ ازیں امداد میں بھی یہی مذکور ہے، علامہ شامی، رد المحتار
میں مزید وضاحت فرماتے ہیں کہ بعض اوقات اولیاء کرام کی قبروں کے پاس بعض غیر مشروع امور ہوا
کرتے ہیں، مثلاً مرد اور عورتوں کا ہجوم کی وجہ سے خلط ملط ہوجانا وغیرہ تو ایسے نامشروع امور کی وجہ سے
زیارت قبور ترک نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ زیارت قبور جیسے نیک کام کو بعض غیر مشروع امور کی وجہ سے
چھوڑ دینا نامناسب ہے بلکہ انسان کو چاہئے کہ قبروں کی زیارت کرے اور بدعات پر تنبیہ کرے اور اگر
قدرت ہو تو ان غیر مشروع امور کو زائل کردے۔
(2) دوسرے اس حدیث میں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحق لعنت قرار دیا ہے، ”وہ
قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والے ہیں“۔
واضح ہو کہ اس حدیث میں جو وعید مذکور ہے وہ اس صورت میں صادق آئے گی جب کہ یہود و
نصاریٰ کی طرح قبور کو بت بنا کر سجدہ کیا جائے یا قبروں کو حصول رضائے الٰہی کا ذریعہ سمجھ کر نماز میں قبروں
کی طرف رخ کیا جائے، اس کے برخلاف کسی ولی کے مزار کے قریب مسجد بنائی جائے اور اس میں
بغرض تبرک نماز پڑھی جائے تو یہ عمل اس وعید میں داخل نہ ہوگا۔ چنانچہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ شرح
بخاری میں قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”لما كانت اليهود والنصارى
يسجدون لِقُبُورِ الانبياء تعظيماً لشأنهم ويجعلونها قبلة يتوجهون فى الصلوة نحوها،
واتخذوها اوثانا، لعنهم النبى صلى الله عليه وسلم و منع المسلمين عن مثل ذاك
. فأما من اتخذ مسجداً فى جوار صالح وقصد التبرك بالقرب منه لا للتعظيم له
ولا للتوجه اليه فلايدخل فى الوعيد المذكور“۔
(علامہ عینی فرماتے ہیں کہ جب یہود ونصاریٰ انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کے خیال سے انبیاء کرام
کی قبروں کو سجدہ کرنے لگے اور قبروں کو قبلہ بنا کر نماز میں قبروں کی طرف رخ کرنے لگے اور قبروں کو
بت بنا کر پوجنا شروع کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت فرمائی اور مسلمانوں کو بھی ان افعال سے
منع فرمایا لیکن جو احباب کسی ولی صالح کے قرب و جوار میں مسجد بنا لیں اور ان صاحب قبر سے تقرب کا
قصد کریں، بشرطیکہ نفس قبر کی تعظیم مقصود نہ ہو اور قبر کی طرف نماز میں رخ نہ کیا جائے تو ایسے حضرات اس
وعید میں داخل نہیں ہوں گے۔)
مرقات اور مجمع البحار میں علامہ عینی رحمة اللہ علیہ کی مذکورہ بالا شرح کے بعد مزید یہ اضافہ
ہے: ”الا ترى ان مرقد اسماعيل عليه السلام فى المسجد الحرام عند الحطيم، ثم
ان ذالك المسجد افضل مكان يتحرى المصلى لصلاتِهِ“۔
(کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مزار اقدس مسجد حرام میں حطیم کے اندر
واقع ہے اور اس جگہ کو مسجد حرام کے ان سارے مقامات میں فضیلت حاصل ہے جہاں نمازی کو نماز
پڑھنا چاہئے۔)
اولیاء اللہ کے مزارات کے قرب و جوار میں مسجدیں بنانے کے جواز پر تفصیلی بحث 11 گیارہ
حدیث پہلے (انبیاء اور علماء کے قبور کے قرب و جوار میں مسجد بنانے کے ثبوت کی حدیث نمبر)
13/1074) کے فائدے میں گذر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ کی جائے۔12
(3) تیسرے جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحق لعنت قرار دیا ہے وہ قبروں کے اوپر چراغ
جلانے والے ہیں۔
واضح ہوکہ حدیث میں قبروں کے اوپر چراغ جلانے والوں کی وعید میں جو الفاظ مذکور ہیں وہ یہ
ہیں ”المتخذين عليها السُّرُج“، جن کے حقیقی معنی یہ ہیں قبروں کے اوپر چراغ جلانے والے مستحق
لعنت ہیں، نہ یہ کہ قبروں کے پاس چراغ جلانے والے حرف ”على“ کو جس کے معنی (اوپر) کے ہیں
”عند“ بمعنی (نزدیک) کے معنوں میں استعمال کرنا مجاز ہے اور کسی لفظ کے معنی مجازی اسی وقت مراد
لئے جاسکتے ہیں جبکہ اس لفظ کے حقیقی معنی نہ بن سکتے ہوں، چونکہ یہاں حقیقی معنی بن سکتے ہیں اس لئے
”المتخذين عليها السُّرُج“ کی وعید میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین داخل ہوں گے جو قبروں کے
اوپر چراغ جلایا کرتے ہیں اور چونکہ مسلمانوں کو ان گمراہوں کی مشابہت اور اس عمل سے باز رکھنا مقصود
تھا اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں مسلمانوں کو یہ تاکید ہے کہ ان اعمال سے باز رہیں
اور ان کی مشابہت نہ کریں۔
”المتخذين عليها السُّرُج“، کے جو معنی اختیار کئے گئے ہیں ان کی تائید علامہ سید عبدالغنی
نابلسی رحمة اللہ علیہ کی تالیف حدیقہ ندیہ، شرح طریقہ محمدیہ سے ہوتی ہے کیونکہ علامہ موصوف
اس حدیث کے اس ٹکڑے کی شرح میں فرماتے ہیں ”والسرج“ ای الذین یوقدون السرج
على القبور عبثا من غير فائدة“ یعنی قبروں پر چراغ جلانے کی وعید ان لوگوں پر صادق آئے گی
۔(جو قبروں کے اوپر بلا ضرورت بے فائدہ چراغ روشن کرتے ہوں۔)
جب یہ بات ثابت ہو چکی کہ حدیث شریف کے الفاظ ”المتخذين عليها السرج“ کے
حقیقی معنی بن سکتے ہیں تو وعید میں صرف وہی لوگ داخل ہوں گے جو قبروں کے اوپر چراغ روشن کرتے
ہوں اور وہ حضرات جو قبروں کے پاس چراغ روشن کرتے ہوں اس وعید میں داخل نہیں ہوں گے۔
واضح ہو کہ قبروں کے پاس چراغ لگانے کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں: (1)ایک ضرورتاً اور
(2)دوسرے بلا ضرورت۔ قبروں کے پاس بلا ضرورت چراغ روشن کرنا اسراف ہے اور اسراف بے
شک ممنوع ہے، نیز چراغ کے روشن کرنے سے قبر کی تعظیم یا قبر کی زینت مقصود ہے تو ان صورتوں میں
بھی قبروں کے پاس چراغ روشن کرنا ممنوع ہوگا کیونکہ یہ نیتیں شرعاً محمود نہیں، البتہ صاحب قبر اور اولیاء
کرام کی تعظیم مقصود ہو تو اس نیت سے قبروں کے پاس چراغ روشن کرنا اسراف نہ ہوگا بلکہ یہ شرعاً محبوب
اور مطلوب ہے۔
ان قبروں کے پاس ضرورتاً چراغ روشن کرنے کے جواز میں آیت ”ولقد زينا السماء
الدنيا“ کی تفسیر کرتے ہوئے تفسیر روح البیان اس طرح ناطق ہے:
”و كذا إيقاد القناديل والشمع عند قبور الاولياء والصلحاء من باب التعظيم
والاجلال ايضاً للاولياء، فالمقصد منها مقصد حسن . و نذر الزيت والشمع للاولياء
يوقد عند قبورهم تعظيماً لهم، و محبة فيهم جائز ايضاً، لاينبغى النهى عنه“.
تفسیر روح البیان میں ہے کہ (اولیاء اور صلحاء کے مزارات کے پاس قنادیل اور فانوس روشن
کئے جا سکتے ہیں، کیونکہ یہ ان کی تعظیم اور بزرگی کا سبب ہے، اس لئے یہ عمدہ مقصد ہے، اسی طرح روغن
زیتون اور موم بتی مزارات کے قریب جلانا اس سے بھی اولیاء اللہ کی تعظیم اور محبت ظاہر ہوتی ہے اس لئے
ان چیزوں سے منع کرنا مناسب نہیں۔)
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ فعل مباح پر بھی حسن نیت سے ثواب ملتا ہے۔ چنانچہ فتح الباری
شرح صحیح بخاری“ میں مذکور ہے: ”ان المباح قد يرتفع بالنية الى درجة ما يثاب عليه“ کسی
امر مباح کو اچھی نیت سے انجام دیا جائے تو اس پر بھی ثواب ملتا ہے)۔
اس طرح ثابت ہوا کہ اولیاء کرام کی تعظیم و تکریم کی غرض سے ان کی قبروں کے پاس چراغوں کو
روشن کرنا حصول ثواب کا ذریعہ ہے۔
علامہ نابلسی رحمۃ اللہ علیہ ”حدیقہ ندیہ“ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اخراج الشموع الى
القبور بدعة واتلاف المال، كذا فى البزازية، هذا كله اذا خلا عن فائدة. وأما اذا
كان موضع القبور مسجدا على الطريق، او كان هناك احد جالسا، او كان قبر ولى
من الاولياء، او عالم من المحققين تعظيماً لروحه المشرقة على تراب جسده
كاشراق الشمس على الارض اعلاما للناس انه ولى ليتبركوا به، ويدعوا الله عنده
فيستجاب لهم، فهو امر جائز لا منع فيه. وانما الاعمال بالنيات“12۔
بزاز یہ میں مذکور ہے کہ قبروں کی طرف موم بتیوں کا لے جانا بدعت ہے اور مال کا ضائع کرنا
ہے جبکہ چراغوں کا روشن کرنا کسی فائدے سے خالی ہواور اگر وہاں قبرستان میں مسجد ہو یا قبرستان سر راہ
واقع ہو اور قبر کے پاس کوئی شخص بیٹھا ہوا، یا کسی ولی یا محققین علماء میں سے کسی عالم کا مزار ہے تو ان
صورتوں میں چراغوں کا روشن کرنا جائز ہوگا۔ کیونکہ یہ ان کی روح مبارک کی تعظیم کا سبب ہے جو اپنے
بدن کی خاک پر اس طرح تجلی ڈال رہی ہے جیسے آفتاب زمین پر اور وہاں چراغ کے روشن کرنے سے
لوگ واقف ہو سکیں گے کہ یہ کسی ولی کا مزار ہے جن سے وہ برکت حاصل کریں گے اور وہاں اللہ تعالیٰ
سے دعا مانگیں گے کہ ان کی دعا قبول ہو جائے تو یہ ایسا امر جائز ہے جس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اس
لئے کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔
مجمع البحار میں ”والمتخذين عليها السرج“ کی شرح کرتے ہوئے یہ لکھا ہے جس کا ذکر
نسائی کے حاشیہ پر بھی ہے: ”وان كان ثم مسجدا وغيره ينتفع فيه للتلاوة والذكر فلا باس
بالسراج فيه“ (اگر قبر کے پاس مسجد ہو اور کوئی ایسی جگہ ہو جہاں قرآن کی تلاوت اور ذکر کیا جاتا ہے تو
اس جگہ چراغ جلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”شرح سفر السعادة“ میں ارشاد فرمایا ہے
ڈالنا اور اولیاء اللہ کے مزارات کے پاس چراغوں کا روشن کرنا اور ایسے ہی تکلفات کا استعمال مستحسن
ہے۔)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”لَا تَجْتَمِعُ اُمَّتِى عَلَى الضَّلَالَةِ“ (میری امت
گمراہی پر جمع نہیں ہوگی)
ایک اور حدیث صحیح مسلم میں ہے: ”مَنْ سَنَّ فِى الْاِسْلَامِ سُنَّةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ
مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَىْءٌ“۔
(جو کوئی اسلام میں کسی اچھے طریقے کو جاری کرے کہ اس کے بعد اس طریقہ پر عمل ہو رہا ہو تو
اس شخص کو بعد کے عمل کرنے والوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا اور ان لوگوں کے ثواب میں بھی
کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی) ان دونوں حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ علماء صلحاء کا فعل دلیل ہے
اور ہر بدعت گمراہی نہیں۔ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح باجماعت کو قائم فرما کر ارشاد فرمایا
”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ“ (تراویح باجماعت کیا اچھی بدعت ہے) اس لئے ہر بدعت کو گمراہی سمجھنا
نادانی کی بات ہے۔
امام اجل علامہ سید ابو الحسن علی نورالدین بن عبداللہ المدنی قدس سرہ اپنی کتاب، خلاصۃ الوفاء
باخبار دار المصطفیٰ“ میں فرماتے ہیں روضہ انور صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی کا سامان سونے اور چاندی اور
اس کے مثل اور قیمتی چیزوں کی قندیلیں جو روضہ مطہرہ کے گرد آویزاں کی جاتی ہیں مجھے معلوم نہیں کہ اس
کی ابتداء کب سے ہے ہاں امام حافظ الحدیث محمد بن محمد نجار رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”الدرة
الثمينة فى اخبار المدينة“ میں فرمایا ہے کہ سقف مسجد کریم کے اتنے حصے میں جو دیوار قبلہ سے حجرۂ
مقدسہ تک ہے چالیس سے زیادہ قندیلیں آویزاں ہیں ایک سونے کی اور دو بلور کی اور چھوٹی بڑی نقرہ کی
قندیلیں منقش اور سادہ ہیں جن کو سلاطین اور امراء اپنی حکومت کی طرف سے حاضر کیا کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ روشنی خاص روضہ انور علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کیلئے ہوتی تھی اور صدہا
سال سے اس کا رواج تھا یہاں یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجرۂ
مقدسہ میں حضرت صدیق اکبر، اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما بھی آرام فرما ہیں اور روضہ کے گرد
صدہا سال سے روشنی کی جاتی ہے، جس سے تلاوت قرآن اور ذکر وغیرہ میں فائدہ حاصل کیا جاتا ہے اور
صحابہ کرام کے زمانہ سے آج تک یہاں چراغوں کے روشن کرنے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
امام اجل تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی (سبکی) رحمہ اللہ (متوفی:756ھ) نے
اس باب میں ایک کتاب تالیف فرمائی ہے، جس کا نام ”تنزيل السكينة على قناديل المدينة“
ہے اور اس میں ثابت کیا ہے کہ مزار مبارک کے آس پاس روشنی کرنی جائز ہے اور اس پر رحمت الٰہی کا
سکینہ اترتا ہے۔
بعض حضرات قبور کے پاس چراغ روشن کرنے کو اس لئے ناجائز قرار دیتے ہیں کہ قبروں کے
پاس آگ کا لے جانا آتش جہنم سے ہے حالانکہ اگر رات کے وقت تدفین عمل میں آ رہی ہے تو قبر کے
پاس چراغ لے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح بخاری میں ضرورتاً قبر کے پاس
چراغ لے جانے کے جواز میں کئی روایتیں نقل فرمائی ہیں بطور نمونہ ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے:
”رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ؛ رَأَى نَاسٌ نَارًا فِى الْمَقْبَرَةِ فَأَتَوْهَا،
فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى الْقَبْرِ وَإِذَا هُوَ يَقُولُ ”نَاوِلُونِى صَاحِبَكُمْ“
فَإِذَا هُوَ الرَّجُلُ الَّذِى كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ“. وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ، وَقَالَ
النَّوَوِىُّ وَسَنَدُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ“.
(ابوداؤد نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ چند لوگوں کو قبرستان
میں آگ نظر آئی تو وہاں پہنچے انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر ہیں اور ارشاد
فرما رہے ہیں کہ اپنے دوست کو مجھے دیدو(کہ میں اس کو قبر میں اتار دوں) اور وہ وہی صحابی تھے جو بلند
آواز سے ذکر کیا کرتے تھے۔
(اس کی روایت حاکم نے کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
کہ اس کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے۔)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبرستان میں ضرورتاً چراغ لے جا سکتے ہیں، اس لئے وہ حضرات
جو قبروں کے پاس مطلقاً چراغ لے جانے کو آتش جہنم بتا کر ناجائز قرار دیتے ہیں ان کا استدلال بیجا ہے۔
علاوہ ازیں اگر آگ کو آتش جہنم کی وجہ سے مردہ اور قبر کے پاس لے جانا حرام قرار دیا جاتا تو
میت کو گرم پانی سے غسل کا حکم نہیں دیا جاتا کیوں کہ گرم پانی بھی آتش جہنم سے ہے۔
قال اللہ تعالیٰ ”يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ“۔ (سورۃ
حج، پ:17، ع:2، آیت نمبر:19)(دوزخیوں کے سروں پر سے گرم پانی بہایا جائے گا۔)
حالانکہ مردہ کو گرم پانی سے غسل دینا شرعاً مطلوب ہے، چنانچہ درمختار میں مذکور ہے:
”يُصَبُّ عَلَيْهِ مَاءٌ مُغْلٰى بِسِدْرٍ إِنْ تَيَسَّرَ وَإِلَّا فَمَاءٌ خَالِصٌ“ (غسل میت کیلئے
اگر بیری کے پتوں کا گرم شدہ پانی مل جائے تو بہتر ہے ورنہ خالص گرم پانی کافی ہے)۔
پس ثابت ہوا کہ گرم پانی کے آتش جہنم ہونے کے باوجود مردے کیلئے اس کے استعمال میں کوئی
مضائقہ نہیں ہے بلکہ یہ مامور بہ ہے اس طرح قبروں کے پاس چراغ جلانا بھی جائز ہوگا اور آتش جہنم کی
توجیہ کر کے قبروں کے پاس چراغ جلانے کی ممانعت کو ثابت کرنا غیر صحیح ہوگا۔
الغرض ان سارے دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں کے پاس چراغوں کو روشن کرنا حسب
ذیل اغراض کی بناء پر جائز ہے:
(1) وہاں مسجد ہو کہ نمازیوں کو بھی آرام ہوگا اور مسجد میں بھی روشنی ہوگی۔
(2) مقابر سر راہ ہوں کہ روشنی کرنے سے راہرو کو بھی نفع پہنچے گا اور اموات کو بھی کہ مسلمان مقابر
مسلمین کو دیکھ کر سلام کریں گے قرآن پڑھیں گے، دعا کریں گے اور ثواب پہنچائیں گے، گزرنے
والوں کی قوت زائد ہے تو اموات کو نفع پہنچے گا اگر اموات کی قوت زائد ہے تو گزرنے والے فیض حاصل
کریں گے۔
(3) مزارات اولیاء کرام کے پاس روشنی تو ان کی ارواح طیبہ کی تعظیم کا سبب ہے جو موجب خیر و
برکت ہے۔12
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The rewards of my Ummah were shown to me, even the reward for removing a speck of dust from the mosque. The sins of my Ummah were also shown to me, and I did not see a sin greater than a Surah or a verse of the Qur'an that a man was given and then forgot."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ (شب معراج میں) مجھ پر میری امت کے ثواب پیش کئے گئے۔ یہاں تک کہ مسجد
سے کچرا نکالنے کا ثواب بھی پیش کیا گیا اور میری امت کے گناہ مجھ پر پیش کئے گئے اور میں نے اس
آدمی کے گناہ سے بڑا گناہ نہیں دیکھا جس کو قرآن کا ایک سورہ یاد تھا یا ایک آیت یاد تھی اور وہ اس کو اس
طرح بھول گیا (کہ دیکھ کر بھی نہیں پڑھ سکتا ہے)۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When you see a man frequenting the mosque, testify to his faith, for Allah says: 'The mosques of Allah are only maintained by those who believe in Allah and the Last Day.' (Qur'an, At-Tawbah 9:18)."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کی خبرگیری کیا کرتا ہے (یعنی مرمت کرتا
ہے، جھاڑو دیتا ہے، اس میں نماز پڑھتا ہے مسجد میں چراغ روشن کرتا ہے اور ذکر و عبادت اور علوم دین
کے درس میں مشغول رہتا ہے) تو تم اس کے لئے مومن ہونے کی شہادت دے دو اس لئے کہ اللہ
تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ“۔ (سورۃ
توبہ، پ:10، ع:3، آیت نمبر:18) (حقیقت میں اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد رکھتے ہیں کہ جو اللہ پر
اور آخرت پر ایمان لائے ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A man's prayer in congregation is twenty-five times greater than his prayer at home or in the market. This is because when he performs ablution and perfects it, then goes to the mosque, with no purpose other than prayer, he does not take a single step except that he is raised a degree and a sin is removed from him. When he prays, the angels continue to pray for him as long as he remains in his place of prayer: 'O Allah, bless him, O Allah, have mercy on him.' And one of you remains in prayer as long as he is waiting for the prayer." In another narration, it adds: "When one of you enters the mosque, the prayer holds him... and the angels' supplication includes: 'O Allah, forgive him, O Allah, accept his repentance,' as long as he does not harm anyone or commit any sin."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کی نماز باجماعت اس کے گھر کی اور بازار (یعنی دوکان) کی نماز پر پچیس
نمازوں کی فضیلت رکھتی ہے، اس لئے کہ جب وہ وضو کرتا ہے اور اچھی طرح جملہ احکام کی پابندی
کے ساتھ پورا وضو کرتا ہے، پھر مسجد کو نماز ہی کی خاطر جاتا ہے تو اس کے ہر ہر قدم پر اس کا ایک ایک
درجہ بلند ہوتا جاتا ہے اور ایک ایک گناہ معاف ہوتا جاتا ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے تو فرشتے اس
کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور فرشتے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک
وہ اپنی جائے نماز پر رہتا ہے اور فرشتوں کی دعا ان الفاظ سے ہوتی ہے: ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اللّٰهُمَّ
ارْحَمْهُ،، یعنی اے اللہ! اس شخص کی مغفرت فرما، اے اللہ اس شخص پر رحمت نازل فرما اور تم میں جو
شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں رہتا ہے تو گویا وہ نمازی ہی میں ہے۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ جب وہ مسجد میں آ جاتا ہے اور نماز ہی اس کو
روک رکھی ہے، (تو گویا وہ نمازی میں ہے) اور ملائکہ کی دعا میں یہ بھی اضافہ ہے ”اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ،
اللّٰهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ“ (اے اللہ اس شخص کو بخش دے اے اللہ اس شخص کی توبہ قبول فرما) یہ دعا اس وقت
تک جاری رہتی ہے جب تک کہ مسجد میں کسی کو اذیت نہ پہنچائے اور جب تک اس کا وضو نہ ٹوٹ
جائے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
It is narrated from Abu Umamah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Three people are guaranteed by Allah: A man who goes out to fight in the cause of Allah is guaranteed by Allah until He takes his soul and admits him to Paradise or returns him with reward or spoils; a man who goes to the mosque is guaranteed by Allah; and a man who enters his home peacefully is guaranteed by Allah."
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کیلئے اللہ تعالیٰ نے (دنیا اور آخرت کے ضرر سے محفوظ
رکھنے کا) ذمہ لیا ہے، (1) ایک وہ شخص جو جہاد فی سبیل اللہ کیلئے نکلا تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ اگر اس
کو موت آ جائے تو اسے جنت میں داخل کر دے یا اس کو اجر یا مال غنیمت دے کر گھر واپس کرے،
(2) دوسرا وہ شخص ہے جو مسجد کو جائے تو یہ بھی اللہ کے ذمہ ہے کہ اس کے اجر و ثواب کو ضائع نہ کرے۔
(3) تیسرا وہ شخص جو گھر میں داخل ہو کر (گھر والوں کو) سلام کرتا ہے تو یہ بھی اللہ کے ذمہ ہے کہ (اس
کو فتنوں سے بچائے اور خیر و برکت عطا فرمائے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
It is narrated from him (Abu Umamah) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever leaves his home in a state of purity for an obligatory prayer, his reward is like that of a pilgrim in Ihram. Whoever goes out for the Duha prayer, with no purpose other than that, his reward is like that of a person performing 'Umrah. And a prayer followed by another prayer, with no idle talk in between, is recorded in 'Illiyyin (the highest heaven)."
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے باوضو فرض نماز کیلئے مسجد کو جائے تو اس کا ثواب اس حاجی
کے ثواب کی طرح ہے جو احرام باندھے ہوئے ہو اور جو شخص گھر سے چاشت کی نماز کیلئے نکلے اور اس
کے سوا اس کی کوئی اور غرض نہیں ہے تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہوگا اور ایک
نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح ادا کرنا کہ دونوں کے درمیان دنیا کی باتیں اور بیہودہ کلام نہ ہو، (تو
یہ ایسا اعلیٰ عمل ہے) جو علیین یعنی عالی مرتبہ لوگوں کے دفتر میں لکھا جاتا ہے۔
(اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever goes to the mosque in the morning or evening, Allah prepares a place for him in Paradise every time he goes."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص صبح کی نماز کیلئے مسجد کو جائے یا زوال کے بعد کی نمازوں کیلئے مسجد کو
جائے تو وہ جیسے جیسے صبح شام مسجد کو جاتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں مہمانی کے سامان تیار
فرماتے جاتے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Explanation of the statement: "What lies between the east and the west is the Qiblah": The apparent meaning is that this refers to the Qiblah of the people of Madinah, as it lies between the east and the west. This hadith supports the opinion that the Qiblah is determined by direction. For the people of Makkah, it is the exact direction of the Ka'bah, while for others, it is the general direction. This is mentioned in Al-Mirqat and Ad-Durr Al-Mukhtar.
Note 1
(۱) قوله ما بين المشرق والمغرب قبلة والظاهر أنها قبلة أهل المدينة؛ فإنها واقعة بين المشرق والمغرب، وهذا الحديث يؤيد القول بالجهة، يعني للمكي إصابة عينها ولغيره - أي غير معاينها - إصابة جهتها. «المرقاة» و«الدر المختار ملتقط منهما.
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مدینہ منورہ کے رہنے والوں کا قبلہ جانب جنوب، مشرق اور مغرب کے درمیان ہے، اس لئے کہ مدینہ منورہ مشرق اور مغرب کے درمیان واقع ہے۔ واضح ہو کہ استقبال قبلہ میں دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ عین کعبہ کی جانب رخ کرنا فرض ہے اگر عین کعبہ کی جانب رخ کرنا کعبۃ اللہ کے نگاہ سے غائب ہونے کی وجہ سے دشوار ہے تو عین کعبہ کی جانب رخ کرنے کی نیت کرنا ضروری ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جو لوگ مکہ مکرمہ میں رہتے ہوں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ عین کعبہ کی جانب رخ کریں اور اسی طرح مدینہ منورہ میں رہنے والوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ بھی عین کعبہ کی نیت کریں کیوں کہ مدینہ منورہ کا قبلہ بذریعہ وحی متعین ہوا ہے البتہ وہ لوگ جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سوا دوسرے مقامات پر رہتے ہوں، ان کیلئے عین کعبہ کی جانب رخ کرنے کی نیت ضروری نہیں بلکہ ان کے لئے سمت کعبہ کی جانب رخ کرنے کی نیت کرنا کافی ہے اور اسی پر فتویٰ ہے اور اس حدیث سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے، کیوں کہ اس حدیث میں وارد ہے کہ ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے“ اور اسی سے سمت قبلہ کی نیت کے کافی ہونے کی دلیل حاصل ہوتی ہے۔ (نہایہ، ہدایہ، درمختار، مرقات۔)12