English
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves, 1 those who build mosques over graves, and those who place lamps on them. [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Al-Nasa’i]
In a narration by Muslim, it is mentioned: "The Prophet (peace be upon him) said, 'I had forbidden you from visiting graves, but now visit them.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٩٦٩ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ1 وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زَيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُوْرُوهَا».
اردو
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں پر اور قبروں کے اوپر
چراغ لگانے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں
نے تم کو (خواہ مرد ہو یا عورتیں) زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب میں تم کو اجازت دیتا ہوں کہ قبروں کی
زیارت کیا کرو، (کیوں کہ قبروں کی زیارت سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3236 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 320 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 977a (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 2043 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 737 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 737
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Explanation of the statement: "The Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves": In Sharh As-Sunnah, it is explained that this was before the permission was granted. When the permission was given, it included both men and women. The meaning of the permission is his statement: "I had forbidden you from visiting graves, but now visit them, for they remind you of the Hereafter." This is mentioned in Al-Mirqat. In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is stated: "There is no harm in visiting graves, even for women, as mentioned in the hadith: 'I had forbidden you...' Rather, it is recommended, as stated in Al-Bahr from Al-Mujtaba, due to the command in the mentioned hadith. However, one should not abandon visiting graves because of the innovations and corrupt practices that occur at the graves of saints, such as mixing between men and women. Acts of worship should not be abandoned for such reasons. Rather, one should perform them and reject innovations, and even remove them if possible."
Note 1
(۱) قوله: لعن رسول الله ﷺ زائرات القبور في شرح السنة: هذا كان قبل الترخص، فلما رخص دخل في الرخصة الرجال والنساء، ومراده بالترخص : قوله : كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها؛ لأنها تذكر الآخرة، قاله في «المرقاة». وقال في الدر المختار و رد المحتار: لا بأس بزيارة القبور ولو للنساء الحديث: «كنت نهيتكم .... بل تندب، كما في «البحر» عن «المجتبى»، للأمر بها في الحديث المذكور، كما في الإمداد ولا تترك الزيارة لما يحصل عند قبور الأولياء من منكرات ومفاسد، كاختلاط الرجال بالنساء وغير ذلك؛ لأن القربات لا تترك لمثل ذلك، بل على الإنسان فعلها وإنكار البدع، بل وإزالتها إن أمكن.
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کو مستحق لعنت قرار دیا ہے (1) قبروں کی زیارت کرنے والی عورتیں (2) قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والے (3) قبروں کے اوپر چراغ لگانے والے۔ (1) واضح ہو کہ اس حدیث میں عورتوں کیلئے زیارت قبور سے جو ممانعت ثابت ہو رہی ہے وہ مسلم کی اس حدیث سے منسوخ ہے: كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا؛ لِأَنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ” میں نے تم کو (خواہ مرد ہوں یا عورتیں) قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب میں تم کو (مرد ہوں کہ عورتیں) اجازت دیتا ہوں کہ قبروں کی زیارت کیا کرو۔ اس لئے کہ قبروں کی زیارت سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ عورتوں کیلئے زیارت کے جواز میں حدیث: ”لَعَنَ اللّٰهُ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ” کی روایت کے بعد فرماتے ہیں: ”قد رأى بعض اهل العلم ان هذا كان قبل ان يرخص النبي صلى الله عليه وسلم في زيارة القبور، فلما رخص دخل في رخصته الرجال والنساء“۔ (امام ترمذی فرماتے ہیں کہ بعض اہل علم کی تحقیق یہ ہے کہ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور سے مرد و عورت ہر دو کو منع فرما دیا تھا، اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور کی اجازت دے دی تو یہ اجازت مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی حاصل ہوگئی ہے) کیوں کہ شریعت کا یہ عام قاعدہ ہے کہ اوامر و نواہی بالعموم مردوں کو دیئے جاتے ہیں اور چونکہ عورتیں مردوں کے تابع ہوتی ہیں اس حیثیت سے سارے احکام عورتوں سے بھی متعلق ہو جاتے ہیں۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں لکھتے ہیں: ”واحتج من أباح زيارة القبور للنساء بحديث عائشة رضى الله عنها رواه فى التمهيد من رواية بسطام بن مسلم عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَقْبَلَتْ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْمَقَابِرِ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ! مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ؟ قَالَتْ: مِنْ قَبْرِ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالٰى عَنْهُمَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَلَيْسَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ ؛ كَانَ يَنْهَى عَنْ زِيَارَتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِزِيَارَتِهَا“۔ (جن حضرات نے عورتوں کیلئے زیارت قبور کے جواز کو ثابت کیا ہے وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو تمہید میں مروی ہے۔ بسطام بن مسلم رضی اللہ عنہ ابوالتیاح رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن قبرستان سے تشریف لا رہی تھیں، ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کی قبر کی زیارت کر کے آ رہی ہوں، میں نے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیارت قبور سے منع نہیں فرماتے تھے؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا جواب دیں، ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابتداء اسلام میں) قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا پھر بعد میں آپ نے (مرد اور عورتوں) دونوں کو اجازت دے دی۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ ابتداء اسلام میں زیارت قبور کی ممانعت کے اسباب بتاتے ہوئے فرماتے ہیں: ”النهى عن زيارة القبور انما كان فى اول الاسلام عند قربهم بعبادة الاوثان واتخاذ القبور مساجد، فلما استحكم الاسلام، وقوى فى قلوب الناس، وأُمنت عبادة القبور والصلوة اليها نسخ النهى عن زيارتها؛ لانها تذكر الآخرة وتزهد فى الدنيا“۔ (علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابتداء اسلام میں زیارت قبور سے ممانعت محض اس لئے تھی کہ عربوں کو بتوں کی پوجا اور قبروں کی پرستش کو (ترک کئے ہوئے) بہت تھوڑا زمانہ گزرا تھا لیکن جب دین کا استحکام ہوگیا اور لوگوں کے دلوں میں اسلام کی عظمت قوی ہوگئی اور قبروں کی پرستش اور قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا اندیشہ دور ہوگیا تو قبروں کی زیارت سے ممانعت منسوخ کردی گئی اس لئے کہ زیارت قبور آخرت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی کا سبب ہے۔ حضرت شاہ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ لمعات میں فرماتے ہیں کہ زیارت قبور مستحب ہے کیوں کہ اس سے قلب میں رقت پیدا ہوتی ہے، موت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اور فناء دنیا کا خاکہ سامنے آجاتا ہے، میت کیلئے دعاء اور استغفار کا موقع حاصل ہوتا ہے جمیع مشائخ صوفیہ کرام اور بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اہل کشف اور کاملین کے نزدیک یہ ایک محقق بات ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بے شمار حضرات کو ارواح مقدسہ سے فیض حاصل ہوا ہے۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ”باب الامر بالاستغفار للمومنين“ میں ام المومنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں روایت کرتے ہیں کہ : ”فَأَمَرَنِي أَنْ آتِي الْبَقِيعَ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، قُلْتُ كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ ! قَالَ: قُولِي ”السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، فَيَرْحَمُ اللّٰهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ“۔ (ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں بقیع (یعنی مدینہ منورہ کے قبرستان کو) جاؤں اور اہل بقیع کیلئے دعاء کروں میں دریافت کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں کس طرح دعاء کروں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) تم یہ کہو سلام ہو تم پر اے مسلمانوں کے قبروں والو! اور نزول رحمت ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پیش روؤں پر اور ہمارے پسماندوں پر اور بلا شبہ ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔) امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کردہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو اہل بقیع کی زیارت کا حکم دیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتیں دعاء اور استغفار کیلئے قبروں کی زیارت کرسکتی ہیں۔ درمختار اور رد المحتار ہر دو کتابوں میں یہ مذکور ہے کہ حدیث ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ“ کے پیش نظر عورتوں کیلئے قبروں کی زیارت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اھ بلکہ عورتوں کیلئے مستحب ہے کہ وہ قبروں کی زیارت کریں اس کو بحر میں مجتبیٰ کے حوالے سے لکھنے کے بعد واضح کیا ہے کہ یہ حدیث ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ“ الخ کے حکم صریح کی بناء پر ہے۔ علاوہ ازیں امداد میں بھی یہی مذکور ہے، علامہ شامی، رد المحتار میں مزید وضاحت فرماتے ہیں کہ بعض اوقات اولیاء کرام کی قبروں کے پاس بعض غیر مشروع امور ہوا کرتے ہیں، مثلاً مرد اور عورتوں کا ہجوم کی وجہ سے خلط ملط ہوجانا وغیرہ تو ایسے نامشروع امور کی وجہ سے زیارت قبور ترک نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ زیارت قبور جیسے نیک کام کو بعض غیر مشروع امور کی وجہ سے چھوڑ دینا نامناسب ہے بلکہ انسان کو چاہئے کہ قبروں کی زیارت کرے اور بدعات پر تنبیہ کرے اور اگر قدرت ہو تو ان غیر مشروع امور کو زائل کردے۔ (2) دوسرے اس حدیث میں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحق لعنت قرار دیا ہے، ”وہ قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والے ہیں“۔ واضح ہو کہ اس حدیث میں جو وعید مذکور ہے وہ اس صورت میں صادق آئے گی جب کہ یہود و نصاریٰ کی طرح قبور کو بت بنا کر سجدہ کیا جائے یا قبروں کو حصول رضائے الٰہی کا ذریعہ سمجھ کر نماز میں قبروں کی طرف رخ کیا جائے، اس کے برخلاف کسی ولی کے مزار کے قریب مسجد بنائی جائے اور اس میں بغرض تبرک نماز پڑھی جائے تو یہ عمل اس وعید میں داخل نہ ہوگا۔ چنانچہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”لما كانت اليهود والنصارى يسجدون لِقُبُورِ الانبياء تعظيماً لشأنهم ويجعلونها قبلة يتوجهون فى الصلوة نحوها، واتخذوها اوثانا، لعنهم النبى صلى الله عليه وسلم و منع المسلمين عن مثل ذاك . فأما من اتخذ مسجداً فى جوار صالح وقصد التبرك بالقرب منه لا للتعظيم له ولا للتوجه اليه فلايدخل فى الوعيد المذكور“۔ (علامہ عینی فرماتے ہیں کہ جب یہود ونصاریٰ انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کے خیال سے انبیاء کرام کی قبروں کو سجدہ کرنے لگے اور قبروں کو قبلہ بنا کر نماز میں قبروں کی طرف رخ کرنے لگے اور قبروں کو بت بنا کر پوجنا شروع کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت فرمائی اور مسلمانوں کو بھی ان افعال سے منع فرمایا لیکن جو احباب کسی ولی صالح کے قرب و جوار میں مسجد بنا لیں اور ان صاحب قبر سے تقرب کا قصد کریں، بشرطیکہ نفس قبر کی تعظیم مقصود نہ ہو اور قبر کی طرف نماز میں رخ نہ کیا جائے تو ایسے حضرات اس وعید میں داخل نہیں ہوں گے۔) مرقات اور مجمع البحار میں علامہ عینی رحمة اللہ علیہ کی مذکورہ بالا شرح کے بعد مزید یہ اضافہ ہے: ”الا ترى ان مرقد اسماعيل عليه السلام فى المسجد الحرام عند الحطيم، ثم ان ذالك المسجد افضل مكان يتحرى المصلى لصلاتِهِ“۔ (کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مزار اقدس مسجد حرام میں حطیم کے اندر واقع ہے اور اس جگہ کو مسجد حرام کے ان سارے مقامات میں فضیلت حاصل ہے جہاں نمازی کو نماز پڑھنا چاہئے۔) اولیاء اللہ کے مزارات کے قرب و جوار میں مسجدیں بنانے کے جواز پر تفصیلی بحث 11 گیارہ حدیث پہلے (انبیاء اور علماء کے قبور کے قرب و جوار میں مسجد بنانے کے ثبوت کی حدیث نمبر) 13/1074) کے فائدے میں گذر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ کی جائے۔12 (3) تیسرے جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحق لعنت قرار دیا ہے وہ قبروں کے اوپر چراغ جلانے والے ہیں۔ واضح ہوکہ حدیث میں قبروں کے اوپر چراغ جلانے والوں کی وعید میں جو الفاظ مذکور ہیں وہ یہ ہیں ”المتخذين عليها السُّرُج“، جن کے حقیقی معنی یہ ہیں قبروں کے اوپر چراغ جلانے والے مستحق لعنت ہیں، نہ یہ کہ قبروں کے پاس چراغ جلانے والے حرف ”على“ کو جس کے معنی (اوپر) کے ہیں ”عند“ بمعنی (نزدیک) کے معنوں میں استعمال کرنا مجاز ہے اور کسی لفظ کے معنی مجازی اسی وقت مراد لئے جاسکتے ہیں جبکہ اس لفظ کے حقیقی معنی نہ بن سکتے ہوں، چونکہ یہاں حقیقی معنی بن سکتے ہیں اس لئے ”المتخذين عليها السُّرُج“ کی وعید میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین داخل ہوں گے جو قبروں کے اوپر چراغ جلایا کرتے ہیں اور چونکہ مسلمانوں کو ان گمراہوں کی مشابہت اور اس عمل سے باز رکھنا مقصود تھا اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں مسلمانوں کو یہ تاکید ہے کہ ان اعمال سے باز رہیں اور ان کی مشابہت نہ کریں۔ ”المتخذين عليها السُّرُج“، کے جو معنی اختیار کئے گئے ہیں ان کی تائید علامہ سید عبدالغنی نابلسی رحمة اللہ علیہ کی تالیف حدیقہ ندیہ، شرح طریقہ محمدیہ سے ہوتی ہے کیونکہ علامہ موصوف اس حدیث کے اس ٹکڑے کی شرح میں فرماتے ہیں ”والسرج“ ای الذین یوقدون السرج على القبور عبثا من غير فائدة“ یعنی قبروں پر چراغ جلانے کی وعید ان لوگوں پر صادق آئے گی ۔(جو قبروں کے اوپر بلا ضرورت بے فائدہ چراغ روشن کرتے ہوں۔) جب یہ بات ثابت ہو چکی کہ حدیث شریف کے الفاظ ”المتخذين عليها السرج“ کے حقیقی معنی بن سکتے ہیں تو وعید میں صرف وہی لوگ داخل ہوں گے جو قبروں کے اوپر چراغ روشن کرتے ہوں اور وہ حضرات جو قبروں کے پاس چراغ روشن کرتے ہوں اس وعید میں داخل نہیں ہوں گے۔ واضح ہو کہ قبروں کے پاس چراغ لگانے کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں: (1)ایک ضرورتاً اور (2)دوسرے بلا ضرورت۔ قبروں کے پاس بلا ضرورت چراغ روشن کرنا اسراف ہے اور اسراف بے شک ممنوع ہے، نیز چراغ کے روشن کرنے سے قبر کی تعظیم یا قبر کی زینت مقصود ہے تو ان صورتوں میں بھی قبروں کے پاس چراغ روشن کرنا ممنوع ہوگا کیونکہ یہ نیتیں شرعاً محمود نہیں، البتہ صاحب قبر اور اولیاء کرام کی تعظیم مقصود ہو تو اس نیت سے قبروں کے پاس چراغ روشن کرنا اسراف نہ ہوگا بلکہ یہ شرعاً محبوب اور مطلوب ہے۔ ان قبروں کے پاس ضرورتاً چراغ روشن کرنے کے جواز میں آیت ”ولقد زينا السماء الدنيا“ کی تفسیر کرتے ہوئے تفسیر روح البیان اس طرح ناطق ہے: ”و كذا إيقاد القناديل والشمع عند قبور الاولياء والصلحاء من باب التعظيم والاجلال ايضاً للاولياء، فالمقصد منها مقصد حسن . و نذر الزيت والشمع للاولياء يوقد عند قبورهم تعظيماً لهم، و محبة فيهم جائز ايضاً، لاينبغى النهى عنه“. تفسیر روح البیان میں ہے کہ (اولیاء اور صلحاء کے مزارات کے پاس قنادیل اور فانوس روشن کئے جا سکتے ہیں، کیونکہ یہ ان کی تعظیم اور بزرگی کا سبب ہے، اس لئے یہ عمدہ مقصد ہے، اسی طرح روغن زیتون اور موم بتی مزارات کے قریب جلانا اس سے بھی اولیاء اللہ کی تعظیم اور محبت ظاہر ہوتی ہے اس لئے ان چیزوں سے منع کرنا مناسب نہیں۔) علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ فعل مباح پر بھی حسن نیت سے ثواب ملتا ہے۔ چنانچہ فتح الباری شرح صحیح بخاری“ میں مذکور ہے: ”ان المباح قد يرتفع بالنية الى درجة ما يثاب عليه“ کسی امر مباح کو اچھی نیت سے انجام دیا جائے تو اس پر بھی ثواب ملتا ہے)۔ اس طرح ثابت ہوا کہ اولیاء کرام کی تعظیم و تکریم کی غرض سے ان کی قبروں کے پاس چراغوں کو روشن کرنا حصول ثواب کا ذریعہ ہے۔ علامہ نابلسی رحمۃ اللہ علیہ ”حدیقہ ندیہ“ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اخراج الشموع الى القبور بدعة واتلاف المال، كذا فى البزازية، هذا كله اذا خلا عن فائدة. وأما اذا كان موضع القبور مسجدا على الطريق، او كان هناك احد جالسا، او كان قبر ولى من الاولياء، او عالم من المحققين تعظيماً لروحه المشرقة على تراب جسده كاشراق الشمس على الارض اعلاما للناس انه ولى ليتبركوا به، ويدعوا الله عنده فيستجاب لهم، فهو امر جائز لا منع فيه. وانما الاعمال بالنيات“12۔ بزاز یہ میں مذکور ہے کہ قبروں کی طرف موم بتیوں کا لے جانا بدعت ہے اور مال کا ضائع کرنا ہے جبکہ چراغوں کا روشن کرنا کسی فائدے سے خالی ہواور اگر وہاں قبرستان میں مسجد ہو یا قبرستان سر راہ واقع ہو اور قبر کے پاس کوئی شخص بیٹھا ہوا، یا کسی ولی یا محققین علماء میں سے کسی عالم کا مزار ہے تو ان صورتوں میں چراغوں کا روشن کرنا جائز ہوگا۔ کیونکہ یہ ان کی روح مبارک کی تعظیم کا سبب ہے جو اپنے بدن کی خاک پر اس طرح تجلی ڈال رہی ہے جیسے آفتاب زمین پر اور وہاں چراغ کے روشن کرنے سے لوگ واقف ہو سکیں گے کہ یہ کسی ولی کا مزار ہے جن سے وہ برکت حاصل کریں گے اور وہاں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں گے کہ ان کی دعا قبول ہو جائے تو یہ ایسا امر جائز ہے جس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اس لئے کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔ مجمع البحار میں ”والمتخذين عليها السرج“ کی شرح کرتے ہوئے یہ لکھا ہے جس کا ذکر نسائی کے حاشیہ پر بھی ہے: ”وان كان ثم مسجدا وغيره ينتفع فيه للتلاوة والذكر فلا باس بالسراج فيه“ (اگر قبر کے پاس مسجد ہو اور کوئی ایسی جگہ ہو جہاں قرآن کی تلاوت اور ذکر کیا جاتا ہے تو اس جگہ چراغ جلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”شرح سفر السعادة“ میں ارشاد فرمایا ہے ڈالنا اور اولیاء اللہ کے مزارات کے پاس چراغوں کا روشن کرنا اور ایسے ہی تکلفات کا استعمال مستحسن ہے۔) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”لَا تَجْتَمِعُ اُمَّتِى عَلَى الضَّلَالَةِ“ (میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی) ایک اور حدیث صحیح مسلم میں ہے: ”مَنْ سَنَّ فِى الْاِسْلَامِ سُنَّةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَىْءٌ“۔ (جو کوئی اسلام میں کسی اچھے طریقے کو جاری کرے کہ اس کے بعد اس طریقہ پر عمل ہو رہا ہو تو اس شخص کو بعد کے عمل کرنے والوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا اور ان لوگوں کے ثواب میں بھی کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی) ان دونوں حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ علماء صلحاء کا فعل دلیل ہے اور ہر بدعت گمراہی نہیں۔ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح باجماعت کو قائم فرما کر ارشاد فرمایا ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ“ (تراویح باجماعت کیا اچھی بدعت ہے) اس لئے ہر بدعت کو گمراہی سمجھنا نادانی کی بات ہے۔ امام اجل علامہ سید ابو الحسن علی نورالدین بن عبداللہ المدنی قدس سرہ اپنی کتاب، خلاصۃ الوفاء باخبار دار المصطفیٰ“ میں فرماتے ہیں روضہ انور صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی کا سامان سونے اور چاندی اور اس کے مثل اور قیمتی چیزوں کی قندیلیں جو روضہ مطہرہ کے گرد آویزاں کی جاتی ہیں مجھے معلوم نہیں کہ اس کی ابتداء کب سے ہے ہاں امام حافظ الحدیث محمد بن محمد نجار رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”الدرة الثمينة فى اخبار المدينة“ میں فرمایا ہے کہ سقف مسجد کریم کے اتنے حصے میں جو دیوار قبلہ سے حجرۂ مقدسہ تک ہے چالیس سے زیادہ قندیلیں آویزاں ہیں ایک سونے کی اور دو بلور کی اور چھوٹی بڑی نقرہ کی قندیلیں منقش اور سادہ ہیں جن کو سلاطین اور امراء اپنی حکومت کی طرف سے حاضر کیا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ روشنی خاص روضہ انور علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کیلئے ہوتی تھی اور صدہا سال سے اس کا رواج تھا یہاں یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجرۂ مقدسہ میں حضرت صدیق اکبر، اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما بھی آرام فرما ہیں اور روضہ کے گرد صدہا سال سے روشنی کی جاتی ہے، جس سے تلاوت قرآن اور ذکر وغیرہ میں فائدہ حاصل کیا جاتا ہے اور صحابہ کرام کے زمانہ سے آج تک یہاں چراغوں کے روشن کرنے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ امام اجل تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی (سبکی) رحمہ اللہ (متوفی:756ھ) نے اس باب میں ایک کتاب تالیف فرمائی ہے، جس کا نام ”تنزيل السكينة على قناديل المدينة“ ہے اور اس میں ثابت کیا ہے کہ مزار مبارک کے آس پاس روشنی کرنی جائز ہے اور اس پر رحمت الٰہی کا سکینہ اترتا ہے۔ بعض حضرات قبور کے پاس چراغ روشن کرنے کو اس لئے ناجائز قرار دیتے ہیں کہ قبروں کے پاس آگ کا لے جانا آتش جہنم سے ہے حالانکہ اگر رات کے وقت تدفین عمل میں آ رہی ہے تو قبر کے پاس چراغ لے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح بخاری میں ضرورتاً قبر کے پاس چراغ لے جانے کے جواز میں کئی روایتیں نقل فرمائی ہیں بطور نمونہ ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے: ”رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ؛ رَأَى نَاسٌ نَارًا فِى الْمَقْبَرَةِ فَأَتَوْهَا، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى الْقَبْرِ وَإِذَا هُوَ يَقُولُ ”نَاوِلُونِى صَاحِبَكُمْ“ فَإِذَا هُوَ الرَّجُلُ الَّذِى كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ“. وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ، وَقَالَ النَّوَوِىُّ وَسَنَدُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ“. (ابوداؤد نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ چند لوگوں کو قبرستان میں آگ نظر آئی تو وہاں پہنچے انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر ہیں اور ارشاد فرما رہے ہیں کہ اپنے دوست کو مجھے دیدو(کہ میں اس کو قبر میں اتار دوں) اور وہ وہی صحابی تھے جو بلند آواز سے ذکر کیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت حاکم نے کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے۔) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبرستان میں ضرورتاً چراغ لے جا سکتے ہیں، اس لئے وہ حضرات جو قبروں کے پاس مطلقاً چراغ لے جانے کو آتش جہنم بتا کر ناجائز قرار دیتے ہیں ان کا استدلال بیجا ہے۔ علاوہ ازیں اگر آگ کو آتش جہنم کی وجہ سے مردہ اور قبر کے پاس لے جانا حرام قرار دیا جاتا تو میت کو گرم پانی سے غسل کا حکم نہیں دیا جاتا کیوں کہ گرم پانی بھی آتش جہنم سے ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ”يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ“۔ (سورۃ حج، پ:17، ع:2، آیت نمبر:19)(دوزخیوں کے سروں پر سے گرم پانی بہایا جائے گا۔) حالانکہ مردہ کو گرم پانی سے غسل دینا شرعاً مطلوب ہے، چنانچہ درمختار میں مذکور ہے: ”يُصَبُّ عَلَيْهِ مَاءٌ مُغْلٰى بِسِدْرٍ إِنْ تَيَسَّرَ وَإِلَّا فَمَاءٌ خَالِصٌ“ (غسل میت کیلئے اگر بیری کے پتوں کا گرم شدہ پانی مل جائے تو بہتر ہے ورنہ خالص گرم پانی کافی ہے)۔ پس ثابت ہوا کہ گرم پانی کے آتش جہنم ہونے کے باوجود مردے کیلئے اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ یہ مامور بہ ہے اس طرح قبروں کے پاس چراغ جلانا بھی جائز ہوگا اور آتش جہنم کی توجیہ کر کے قبروں کے پاس چراغ جلانے کی ممانعت کو ثابت کرنا غیر صحیح ہوگا۔ الغرض ان سارے دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں کے پاس چراغوں کو روشن کرنا حسب ذیل اغراض کی بناء پر جائز ہے: (1) وہاں مسجد ہو کہ نمازیوں کو بھی آرام ہوگا اور مسجد میں بھی روشنی ہوگی۔ (2) مقابر سر راہ ہوں کہ روشنی کرنے سے راہرو کو بھی نفع پہنچے گا اور اموات کو بھی کہ مسلمان مقابر مسلمین کو دیکھ کر سلام کریں گے قرآن پڑھیں گے، دعا کریں گے اور ثواب پہنچائیں گے، گزرنے والوں کی قوت زائد ہے تو اموات کو نفع پہنچے گا اگر اموات کی قوت زائد ہے تو گزرنے والے فیض حاصل کریں گے۔ (3) مزارات اولیاء کرام کے پاس روشنی تو ان کی ارواح طیبہ کی تعظیم کا سبب ہے جو موجب خیر و برکت ہے۔12