Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 983

Chapter on Mosques and Places of Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Mosques and Places of Prayer

Zujajat al-Masabih 983Volume 1

English

It is narrated from Ibn 'Abbas and Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with them) with an addition: "He said: 'O Muhammad, do you know what the highest assembly is disputing about?' I said: 'Yes, it is about the expiations.' The expiations are staying in the mosques after the prayer, walking on foot to congregational prayers, and perfecting ablution in difficult conditions. Whoever does this will live a good life and die a good death, and he will be free from sin as on the day his mother gave birth to him." He said: "O Muhammad, when you pray, say: 'O Allah, I ask You for the ability to do good deeds, to avoid evil deeds, and to love the poor. If You intend to test Your servants, take me to You without being tested.'" He said: "The levels are spreading peace, feeding others, and praying at night while people are asleep."

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۳ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنهمس)، وَزَادَ فِيْهِ: «قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فِي الْكَفَّارَاتِ، وَالْكَفَّارَاتُ الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوْءِ فِي الْمَكَارِهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، فَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ. قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ: إِفْشَاءُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامُ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1102
اور ترمذی نے دوسری روایت جس کو ابن عباس اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے کی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا تم جانتے ہو کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں جانتا ہوں (ملاء اعلیٰ کے فرشتے) کفارات یعنی ان اعمال میں بحث کر رہے ہیں جو گناہوں کے مٹانے والے ہیں وہ تین عمل ہیں (1) پہلا نمازوں کے بعد (ذکر، دعا، اور دوسری نماز کے انتظار میں مخلوق سے دوری اور مشغول بحق رہنے کیلئے) مسجدوں میں ٹھہرے رہنا، (2) دوسرا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی غرض سے مسجدوں کو پیدل جانا، (3) تیسرا ناگوار حالات (جیسے بیماری اور موسم سرما) میں اعضاء وضوء کا کامل طور پر دھونا۔ جس نے ان چیزوں پر عمل کیا تو وہ اچھی طرح (یعنی اطاعت الٰہی کی لذت، عبادت کی توفیق، رزق حلال، قناعت اور قسمت پر راضی رہتے ہوئے) زندگی بسر کرے گا اور اس کی موت بھی اچھی طرح (یعنی اعمال کی قبولیت، توبہ، حسن خاتمہ اور موت کے وقت فرشتوں کی خوش خبری پر) ہوگی اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جس طرح وہ اپنی ماں سے پیدا ہونے کے دن پاک تھا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جب تم نماز پڑھ لو تو یہ دعا کیا کرو: (اے اللہ! میں تجھ سے نیک کاموں کے کرنے اور برے امور کے ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت رکھنے کا سوال کرتا ہوں، جب تو اپنے بندوں کو فتنوں (یعنی دنیوی عذاب میں) مبتلا کرنے کا ارادہ فرمائے تو مجھے اپنی جانب فتنے میں مبتلا کئے بغیر بلالے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے ان اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں جن سے بندوں کے درجات بلند ہوتے ہیں اور وہ درجات بڑھانے والے اعمال یہ ہیں (1) پہلا (اپنے اور بیگانے کو) کثرت سے سلام کرنا (2) دوسرا کھانا کھلانا اور (3) تیسرا رات میں نماز پڑھنا جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 726 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 726

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ“ میں نے اللہ عزوجل کو نہایت حسین صورت میں دیکھا۔ واضح ہو کہ یہ اور اسی قسم کے مضامین جو اس حدیث میں اور اس حدیث کے بعد والی حدیث میں مذکور ہیں، ان کا شمار متشابہات میں ہے اور متشابہات کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ ان پر ایمان رکھا جائے اور ان کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے، چنانچہ قرآن حکیم کے سورہ آل عمران کی وہ آیت جس میں محکمات اور متشابہات کا ذکر ہے، اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے : ”وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا“ (سورہ آل عمران، پ:3، ع:1، آیت نمبر:7) (جو لوگ علم دین میں پختہ کار اور (”فہیم“) ہیں (وہ متشابہات کے بارے میں) اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس پر ہمارا ایمان ہے، یہ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے)۔ الغرض متشابہات کے درپے ہونا دینداری کے خلاف اور گمراہ ہونے کی نشانی ہے۔ (مرقات۔)