حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نماز عشاء میں
اوساط مفصل کی چند سورتیں مخصوص فرما لئے تھے اور انہی میں سے ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔)
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم سے نمازِ عشاء کی ایک رکعت میں والتين والزيتون پڑھتے ہوئے سنا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ
وسلم سے زیادہ کسی کو خوش آواز نہیں پایا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے فلاں صاحب (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے سوا کسی
اور کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو،
سلیمانؒ کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) میں (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں پہنچا اور آپ کے پیچھے
نمازیں پڑھیں، میں نے دیکھا کہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نماز ظہر کی پہلی دو رکعتیں طویل قرأت
(طوالِ مفصل سے) ادا فرماتے تھے اور آخری دو رکعتیں مختصر قرأت (یعنی سورۃ فاتحہ سے) ادا فرماتے
اور عصر کی نماز ظہر کی بہ نسبت مختصر قرأت (یعنی اوساطِ مفصل سے) ادا فرماتے تھے، اور مغرب کی نماز
میں قصار مفصل کی سورتیں پڑھتے تھے اور عشاء کی نماز میں اوساط مفصل کی سورتیں پڑھتے اور صبح کی
نماز میں طوال مفصل کی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طوالِ مفصل، اوساطِ مفصل
اور قصارِ مفصل کے ہر چھوٹے اور بڑے سورہ سے فرض نمازوں میں لوگوں کی امامت کرتے ہوئے
پایا۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
عبید اللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مروان،
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین بنا کر مکہ معظمہ روانہ ہوا تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم
کو نماز جمعہ پڑھائی آپ نے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورہ ”إِذَا جَاءَكَ
الْمُنَافِقُونَ“ پڑھی، نماز کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
یہ دونوں سورتیں نماز جمعہ میں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“ اور ”هَلْ أَتٰكَ حَدِيثُ
الْغَاشِيَةِ“ پڑھا کرتے تھے نعمان کہتے ہیں اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن میں دونوں جمع ہوجاتے تب
بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الاضحی اور عید الفطر
میں کیا پڑھتے تھے؟ تو ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو عید کی
نمازوں میں ق والقرآن المجيد اور اقتربت الساعة پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے سنت فجر کی پہلی رکعت میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور دوسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ
أَحَدٌ پڑھی ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سنت فجر کی پہلی رکعت میں سورہ بقرہ پ1ع16 کی یہ آیت) پڑھتے تھے، فرمایا ”قُوْلُوْا
(مسلمانو! تم یہود و نصاریٰ کو یہ) جواب دو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور (قرآن پر) جو ہم
پر اترا (اس پر) اور (صحیفے) جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت
یعقوب علیہم السلام اور حضرت یعقوب کی اولاد پر اترے (ان پر) اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ
علیہم السلام کو جو (کتاب) ملی اس پر اور جو (دوسرے) پیغمبروں کو ان کے پروردگار سے ملا (اس پر)
ہم ان (پیغمبروں) میں سے کسی ایک میں بھی (کسی طرح کی) جدائی نہیں سمجھتے اور ہم اسی (ایک خدا)
کے فرمان بردار ہیں۔ اور سنت فجر کی دوسری رکعت میں (سورہ آل عمران پ3ع7) کی یہ آیت
اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ“ (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) ان سے کہو کہ اے اہل کتاب آؤ ایسی بات
کی طرف (رجوع کرو) جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں (مانی جاتی) ہے کہ خدا کے سوا کسی کی
عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کے سوا ہم میں سے کوئی کسی کو (اپنا)
مالک نہ سمجھے، پھر اگر (ایسی سیدھی اور سچی بات کے ماننے سے بھی) منہ موڑیں تو (مسلمانو! ان لوگوں سے)
کہہ دو کہ تم اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو ایک ہی خدا کو مانتے ہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی بار نماز مغرب کے بعد کی دو سنتوں اور نماز فجر کے پہلے کی دو سنتوں میں
قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ پڑھتے سنا ہے اور اتنی بار کہ شمار نہیں کرسکتا (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور اس میں
فجر کی سنتوں کا ذکر ہے مغرب کی سنتوں کا ذکر نہیں ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 431 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1148 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اسی قسم کی دوسری احادیث کے سمجھنے کے لئے سرّی
جہری قرأت کی تعریف سنئے:۔
صاحب ردالمحتار نے امام کے نماز میں جہری قرأت کے متعلق لکھا ہے: وادنى الجهر
اسماع غيره ممن ليس بقربه كاهل الصف الاول واعلاه لاحد له (ترجمہ: امام کے لئے
جہری نماز میں جہری قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ پہلی صف والے اس کی قرأت کو سن سکیں، اگر امام
اپنے اور اپنے قریب کے ہی ایک یا دو شخصوں کو قرأت سنائے تو یہ جہر نہیں ہے سمجھا جائے گا اور جہری کی اعلیٰ
حد مقرر نہیں ہے۔ امام جہاں تک چاہے اپنی آواز کو سنا سکتا ہے۔ اور سرّی قرأت کے متعلق صاحب
ردالمحتار نے یہ لکھا ہے:۔
”ادنى المخافتة اسماع نفسه او من بقربه من رجل او رجلين مثلاً (ترجمہ:
سری نماز میں امام یا منفرد کے لئے قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنائیں اگر قریب کے
ایک یا دو آدمی بھی اس کی سری قرأت کو سن لیں تو اس کا شمار بھی سری قرأت ہی میں ہوگا۔
صاحب ردالمحتار نے خانیہ اور خلاصہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جامع صغیر میں بھی جہری اور سری
قرأت کی تعریف اسی طرح مذکور ہے۔
قرأت کی اس تعریف کو پیش نظر رکھ کر صدر کی اس حدیث پر غور کیجئے:۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب
کے بعد اور فجر کے پہلے کی دو سنتوں میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ کثرت سے
پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ سنتوں میں تو جہری قرأت نہیں ہے، پھر ابن مسعود رضی
اللہ عنہ نے اس سری قرأت کو کس طرح سن لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سرّی قرأت میں نمازی کی قرأت
کو قریب کے ایک دو آدمی سن لیں تو اس پر جہری قرأت کا حکم صادق نہیں آئے گا بلکہ یہ سری قرأت ہی
کہلائے گی اسی وجہ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سری نمازوں کی قرأت کو سنا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم (ایک روز) اپنے اصحاب کے پاس تشریف فرما ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ پر سورہ
رحمن کی تلاوت شروع سے آخر تک فرمائی، صحابہ قرأت کو خاموشی سے سنتے رہے تو حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ میں نے لیلۃ الجن میں جس رات جنوں سے ملاقات ہوئی اور وہ ایمان سے مشرف
ہوئے) اسی سورہ رحمن کو جنوں کے سامنے پڑھا تو وہ جواب دینے میں تم سے اچھے رہے، جب بھی
میں اللہ تعالیٰ کے اس قول پر آیا ”فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ“ (اے جن و انس! تم اپنے پروردگار
کی کون کونسی نعمتوں سے مکرتے جاؤ گے؟) تو جنات نے کہا ”لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ
فَلَكَ الْحَمْدُ“ (اے پروردگار! ہم آپ کی نعمتوں میں سے کسی نعمت سے مکرتے نہیں بلکہ آپ کی
سب نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہیں۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3291 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سورہ رحمن کی تلاوت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ
جب بھی ”فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ“ پر پہنچے تو جواب میں لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا
نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ فوراً پڑھتا جائے۔
ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات نے جب سورہ رحمن سنا
تو آیت ”فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ“ سننے کے بعد جواب میں انہوں نے لَا بِشَيْءٍ مِنْ
نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ پڑھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند فرمایا اور اس کے
بعد والی حدیث میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آیت ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“
تلاوت فرمائی تو جواب میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى پڑھے، اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو
حدیث آگے آ رہی ہے اس میں بھی مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض آیتوں کی تلاوت کے بعد ان
کا جواب دینے ارشاد فرمائے ہیں۔
ہمارے علماء احناف نے اس قسم کی تمام حدیثوں کا حکم خارج نماز تلاوت قرآن کرنے والے
اور تنہا نفل نماز پڑھنے والے سے متعلق کیا ہے کہ یہ دونوں جب ایسی آیتوں پر پہنچیں تو وہ ان آیتوں کے
پڑھنے کے بعد احادیث میں جو جوابات مذکور ہیں ان کو پڑھا کریں اس کے برخلاف فرض نمازوں میں
امام ہو یا مقتدی دونوں کے لئے امام کے ان آیتوں کی قرأت کے وقت مذکورہ جوابات دینا جائز نہیں
ہے، اور تنہا فرض نماز پڑھنے والے کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ بھی مذکورہ جوابات نہ دے اور ایسے ہی تراویح
اور دوسرے نوافل جو جماعت سے پڑھے جاتے ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے کہ ان میں بھی مذکورہ
جوابات کا دینا جائز نہیں۔
اسی طرح مقتدی اور امام اس قسم کی چیزوں میں بالکل برابر ہیں دونوں کا حکم ایک ہی ہے کہ امام
یا مقتدی دونوں کے لئے ترغیب کی آیتوں کے پڑھتے وقت جنت کا سوال کرنا اور ترہیب (ڈرانے
والی) آیتوں کے پڑھتے وقت دوزخ سے پناہ مانگنا اور تسبیح کی آیتوں (جن میں اللہ کی پاکی بیان کرنے
کا حکم ہے) کے جواب میں سبحان اللہ کہنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سننے پر درود پڑھنا یہ سب
چیزیں نماز میں جائز نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کے
بارے میں جو آیات اور حدیثیں آئی ہیں سب مطلق ہیں اس لئے اگر مقتدی ان آیات کو سننے کے بعد
مذکورہ جوابات دے تو امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کا جو حکم ہے اس کے خلاف ہوگا اور اسی طرح امام
کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ نماز میں قرأت کے سوا غیر قرآن پڑھے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
سے جماعت والی فرض اور نفل نمازوں میں ایسے جوابات کا دینا ثابت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے
علماء احناف نے اس کو اختیار نہیں کیا۔
ان دلائل کے قطع نظر نماز میں امام کا قرآن کے سوا غیر قرآن پڑھنا مقتدیوں پر دشواری کا
باعث ہوگا حالانکہ امام کو مقتدیوں کے لحاظ سے ہلکی نماز پڑھنے کا حکم ہے۔
(یہ پورا مضمون فتح القدیر، ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ اور سعایہ سے ماخوذ ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”سَبِّحِ اسْمَ
رَبِّكَ الْاَعْلٰى“ کی تلاوت فرماتے تو اس آیت کے ختم پر سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلٰى فرماتے تھے۔
(اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص سورہ ”وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ“ کی تلاوت کرتے
ہوئے ”اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ“ (کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے) پڑھے تو یہ کہنا
چاہئے، بَلٰى وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِيْنَ (کیوں نہیں! اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا حاکم ہے
اور میں اس بات پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔)
اور حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص سورہ ”لَا اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ“ کی
تلاوت کرتا ہوا ”اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلٰى اَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتٰى“ (کیا وہ خدا جس نے یہ
سب کچھ کیا قیامت میں مُردوں کو جلا اٹھانے پر قادر نہیں ہے؟) پڑھے تو اس کے جواب میں ”بَلٰى“
(کیوں نہیں جلا اٹھانے پر قادر ہے) کہنا چاہئے اور جو شخص سورہ والمرسلت کی تلاوت کرتا ہوا ”فَبِاَيِّ
حَدِيْثٍ م بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ“ (اس قدر وعظ و نصیحت کے بعد ایسی اور کونسی بات ہے جس سے یہ
لوگ ایمان لائیں گے) پڑھے تو اس کو ”آمَنَّا بِاللّٰهِ“ (ہم اللہ پر ایمان لائے) کہنا چاہئے (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے) اور ترمذی نے سورہ والتین میں
”اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ“ کے جواب میں قول نبوی ”بَلٰى وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكَ مِنَ
الشَّاهِدِيْنَ“ تک روایت کی ہے اور ترمذی میں سورہ ”قیامہ“ اور ”الْمُرْسَلَت“ کے جوابات کا ذکر نہیں ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اسی قسم کی دوسری احادیث کے سمجھنے کے لئے سرّی جہری قرأت کی تعریف سنئے:۔ صاحب ردالمحتار نے امام کے نماز میں جہری قرأت کے متعلق لکھا ہے: وادنى الجهر اسماع غيره ممن ليس بقربه كاهل الصف الاول واعلاه لاحد له (ترجمہ: امام کے لئے جہری نماز میں جہری قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ پہلی صف والے اس کی قرأت کو سن سکیں، اگر امام اپنے اور اپنے قریب کے ہی ایک یا دو شخصوں کو قرأت سنائے تو یہ جہر نہیں ہے سمجھا جائے گا اور جہری کی اعلیٰ حد مقرر نہیں ہے۔ امام جہاں تک چاہے اپنی آواز کو سنا سکتا ہے۔ اور سرّی قرأت کے متعلق صاحب ردالمحتار نے یہ لکھا ہے:۔ ”ادنى المخافتة اسماع نفسه او من بقربه من رجل او رجلين مثلاً (ترجمہ: سری نماز میں امام یا منفرد کے لئے قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنائیں اگر قریب کے ایک یا دو آدمی بھی اس کی سری قرأت کو سن لیں تو اس کا شمار بھی سری قرأت ہی میں ہوگا۔ صاحب ردالمحتار نے خانیہ اور خلاصہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جامع صغیر میں بھی جہری اور سری قرأت کی تعریف اسی طرح مذکور ہے۔ قرأت کی اس تعریف کو پیش نظر رکھ کر صدر کی اس حدیث پر غور کیجئے:۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد اور فجر کے پہلے کی دو سنتوں میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ کثرت سے پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ سنتوں میں تو جہری قرأت نہیں ہے، پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سری قرأت کو کس طرح سن لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سرّی قرأت میں نمازی کی قرأت کو قریب کے ایک دو آدمی سن لیں تو اس پر جہری قرأت کا حکم صادق نہیں آئے گا بلکہ یہ سری قرأت ہی کہلائے گی اسی وجہ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سری نمازوں کی قرأت کو سنا ہے۔