And the saying of Allah, the Almighty: "And they fall down upon their faces weeping, and it increases them in humility." (Quran 17:109) And His saying: "Prostrate and draw near [to Allah]." (Quran 96:19)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 812 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 490b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اگر دونوں پیر زمین سے اٹھ جائیں تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر ایک پیر اٹھ جائے تو نماز
مکروہ ہوگی۔ (اشعۃ اللمعات) یہ مردوں کا سجدہ ہے۔)
عورتوں کا سجدہ اس طرح ہے کہ عورتیں سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے زمین پر گھٹنے رکھیں پھر
کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں اور ہاتھوں کی انگلیاں خوب ملا دیں اور پاؤں کھڑے نہ کریں بلکہ پاؤں کو
داہنی طرف نکال دیں اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رو رکھیں اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں اور پیٹ
دونوں رانوں سے اور بانہیں یعنی دونوں ہاتھ کہنیوں تک زمین پر بچھا کر پہلو سے ملا دویں۔ (درمختار)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد اور عورتیں دونوں
نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے کپڑوں کو ادھر سے ادھر نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔
(اگر نماز شروع کرنے سے پہلے آستین کہنیوں تک چڑھائے ہوئے ہوں یا دامن سمیٹے ہوئے
نماز پڑھی جائے تو نماز مکروہ ہوگی اور اگر نماز کی حالت میں آستین چڑھائے یا دامن سمیٹ لے تو نماز
ٹوٹ جائے گی اس لئے کہ یہ عمل کثیر ہے۔ (ردالمحتار۔)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد جن
کے سر کے بال دراز ہوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے بالوں کو نہ سمیٹیں اور
نہ سنبھالیں۔ (اگر مرد عورتوں کی طرح نماز شروع کرنے سے پہلے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز
پڑھیں تو نماز مکروہ ہوگی اس لئے مرد جوڑا کھول کر نماز پڑھیں اور اگر نماز کی حالت میں جوڑا باندھا تو
نماز فاسد ہو جائے گی اور ایسا ہی عورتیں بھی نماز کی حالت میں جوڑا باندھیں تو عورتوں کی بھی نماز فاسد
ہو جائے گی، البتہ عورت پہلے سے اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز شروع کرے تو عورت کی نماز
مکروہ نہ ہوگی جیسا کہ مرد کی نماز جوڑا باندھ کر پڑھنے سے مکروہ ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن، بحوالہ نیل
الاوطار۔) (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 812 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ باب السجود کی پہلی حدیث جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اس
میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ نمازی سات ہڈیوں پر سجدہ کیا کرے، ان سات ہڈیوں کے منجملہ
اس حدیث میں صرف پیشانی کا ذکر ہے ناک کا ذکر نہیں ہے اور یہ دوسری حدیث جو حضرت ابن عباس
رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی فرما کر ناک کی طرف اشارہ
فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناک اور پیشانی دونوں ایک عضو کے حکم میں ہیں اور چونکہ ناک
پیشانی کا جزو ہے، اس لئے صرف ناک پر سجدہ کرنا گویا پیشانی پر سجدہ کرنا ہے۔
چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے بنایہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کی ایک اور روایت نقل فرمائی
ہے جس میں الجبهة والانف (پیشانی اور ناک) کا ذکر ہے جس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ پیشانی اور
ناک دونوں ایک ہی عضو ہیں، اس وجہ سے چاہے پیشانی پر سجدہ کریں یا ناک پر کریں دونوں صورتوں
میں سجدہ ادا ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ہڈیوں کا ذکر فرمایا ہے جن پر سجدہ کیا
جاتا ہے اگر پیشانی اور ناک دو الگ عضو قرار دیئے جائیں تو ہڈیاں سات کی بجائے آٹھ ہو جائیں گی
یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جیسے صرف پیشانی پر سجدہ کرنا جائز ہے ایسے ہی
صرف ناک پر بھی بغیر عذر کے سجدہ کرنا جائز ہے (شرح وقایہ۔) اور صاحبین کے پاس بغیر عذر کے
صرف ناک پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اور یہ بھی امام صاحب کا دوسرا قول ہے کہ صرف ناک پر بغیر عذر
کے سجدہ کرنا جائز نہیں اور امام صاحب نے بعد میں اس دوسرے قول سے رجوع فرمایا ہے اس لئے فتویٰ
اسی پر ہے کہ صرف ناک پر سجدہ بغیر عذر کے جائز نہیں بلکہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ ہونا چاہئے اور
یہی افضل ہے جس پر آنے والی حدیثیں شاہد ہیں۔ (ردالمحتار، اشعۃ اللمعات مرقات، ملتقی، جامع
الآثار۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
When he prostrated, he placed his knees before his hands
(1) The statement: "When he prostrated, he placed his knees before his hands": This is the opinion of Abu Hanifah and Al-Shafi’i, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
When he rose, he raised his hands before his knees
(2) The statement: "When he rose, he raised his hands before his knees": This is the opinion of Abu Hanifah. Al-Shafi’i disagreed, as his view is that it is Sunnah to rely on the palms and fingers spread on the ground when rising, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله : إذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه وبه قال أبو حنيفة والشافعي، قاله في المرقاة».
Note 2
قوله
(٢) قوله: وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه وبهذا قال أبو حنيفة، وخالفه الشافعي؛ لأن مذهبه أنه يسن أن يعتمد في قيامه على بطن راحتيه وأصابعه مبسوطة على الأرض. كذا في «المرقاة».
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 282 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اقعاء کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ سرین دونوں ایڑیوں پر رکھے جائیں اور گھٹنے زمین پر
ٹیکے ہوں، اور دوسری صورت یہ ہے کہ سرین اور ہاتھ زمین پر ہوں اور پنڈلیاں کھڑی رکھی جائیں جس
طرح کتے بیٹھتے ہیں۔ (شرح وقایہ اور عمدۃ الرعایۃ۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 489 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے چند فائدے معلوم ہوئے، (1) ایک یہ کہ بزرگوں کی
خدمت اور ان کو راضی رکھنا دارین کی سعادت کا باعث ہوتا ہے، (2) دوسرا فائدہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو چاہے مانگو وہ دیا جائے گا اس سے ثابت ہوا
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کی ہر چیز پر اختیار دیا گیا تھا کہ آپ جو چاہیں جس کو چاہیں اللہ
تعالیٰ کے حکم سے عطا فرما دیں، چنانچہ مرقات میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت بطور جاگیر عطا
فرمائی ہے کہ آپ جس کو چاہیں دیں، اللہ تعالیٰ اس دینے سے راضی ہیں، (3) تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ربیعہ
بن کعب رضی اللہ عنہ صد ہزار تحسین کے قابل ہیں کہ آپ نے دنیا کو نہ مانگا آخرت ہی کو مانگا، یہ دنیا کی
چیزوں میں سے جو بھی مانگتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور عطا فرما دیتے مگر آپ کا دنیا کو چھوڑ کر آخرت
ہی کو مانگنا اس میں طالب صادق کے لئے سبق ہے کہ وہ ہمیشہ دنیا پر آخرت ہی کو ترجیح دیا کرے،
(4) چوتھا فائدہ یہ ہے کہ امید وہوس لگائے رکھنا اور خود کچھ نہ کرنا طالب صادق کا کام نہیں بلکہ خود بھی
ریاضتیں کرکے حصول مقصد کی امید باندھنا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تم بکثرت نمازیں پڑھ کر اور کثرت سے سجدے کرکے جنت
میں میری رفاقت کے قابل بنو۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 850 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 284 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں اور اسی طرح دوسری حدیثوں میں دو سجدوں کے درمیان جلسہ
میں جن دعاؤں کا پڑھنا مروی ہے، ان کے متعلق صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ ان دعاؤں کو ایسی
نمازوں کے جلسہ میں پڑھنا مستحب ہے جو عموماً تنہا پڑھی جاتی ہیں جیسے تہجد، وتر، سنت اور نفل، اسی طرح
کوئی شخص فرض نماز کو تنہا پڑھ رہا ہے تو وہ بھی اس کے جلسہ میں ان دعاؤں کو پڑھ سکتا ہے البتہ یہ نمازیں
جب جماعت سے پڑھی جاتی ہیں تو ان کے جلسوں میں ان دعاؤں کو نہیں پڑھنا چاہئے تاکہ مقتدیوں پر
بار نہ ہو، لیکن نماز کسوف کے جلسہ میں جماعت سے پڑھی جانے کے باوجود دعاؤں کو پڑھا جا سکتا ہے
کیوں کہ یہ نماز طوالت سے پڑھی جانے کے لئے ہی وضع ہوئی ہے، ایسا ہی اگر امام کسی ایسی جماعت کو
نماز پڑھا رہا ہے جو سب ہم خیال ہوں اور کسی پر نماز کی طوالت بار نہیں تو اس کے جلسہ میں بھی امام اور
مقتدی دونوں ان دعاؤں کو پڑھ سکتے ہیں۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اگر دونوں پیر زمین سے اٹھ جائیں تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر ایک پیر اٹھ جائے تو نماز مکروہ ہوگی۔ (اشعۃ اللمعات) یہ مردوں کا سجدہ ہے۔) عورتوں کا سجدہ اس طرح ہے کہ عورتیں سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے زمین پر گھٹنے رکھیں پھر کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں اور ہاتھوں کی انگلیاں خوب ملا دیں اور پاؤں کھڑے نہ کریں بلکہ پاؤں کو داہنی طرف نکال دیں اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رو رکھیں اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں اور پیٹ دونوں رانوں سے اور بانہیں یعنی دونوں ہاتھ کہنیوں تک زمین پر بچھا کر پہلو سے ملا دویں۔ (درمختار) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد اور عورتیں دونوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے کپڑوں کو ادھر سے ادھر نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔ (اگر نماز شروع کرنے سے پہلے آستین کہنیوں تک چڑھائے ہوئے ہوں یا دامن سمیٹے ہوئے نماز پڑھی جائے تو نماز مکروہ ہوگی اور اگر نماز کی حالت میں آستین چڑھائے یا دامن سمیٹ لے تو نماز ٹوٹ جائے گی اس لئے کہ یہ عمل کثیر ہے۔ (ردالمحتار۔) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد جن کے سر کے بال دراز ہوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے بالوں کو نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔ (اگر مرد عورتوں کی طرح نماز شروع کرنے سے پہلے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھیں تو نماز مکروہ ہوگی اس لئے مرد جوڑا کھول کر نماز پڑھیں اور اگر نماز کی حالت میں جوڑا باندھا تو نماز فاسد ہو جائے گی اور ایسا ہی عورتیں بھی نماز کی حالت میں جوڑا باندھیں تو عورتوں کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ عورت پہلے سے اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز شروع کرے تو عورت کی نماز مکروہ نہ ہوگی جیسا کہ مرد کی نماز جوڑا باندھ کر پڑھنے سے مکروہ ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن، بحوالہ نیل الاوطار۔) (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)