Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 16

(یہ باب التَّشَهُّد یعنی التحیات کے بیان میں ہے)

14 narrations · In source reading order

Hadith 1269

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1445
علی بن عبدالرحمن معاوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتا دیکھا تو انہوں نے نماز سے فارغ ہوکر مجھے منع کیا اور فرمایا جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے تم بھی وہی کیا کرو، میں نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا عمل فرمایا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا:جب آپ نماز میں تشہد کے لئے بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھ لیتے تھے اور شہادت کے وقت تمام انگلیاں بند کر کے اپنے انگوٹھے کے قریب کی انگلی (جس کو شہادت کی انگلی کہتے ہیں) اس سے اشارہ فرماتے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے تھے۔(اس کی روایت ابوداؤد اور مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 580b (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ قعدہ میں بجائے گھٹنوں کے سیدھے ہاتھ کو سیدھی ران پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھے، دوسرے یہ کہ التحیات پڑھتے ہوئے جب کلمہ شہادت پر پہنچے تو سیدھے ہاتھ کی تمام انگلیوں کو بند کر کے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے۔(فتح القدیر)

Hadith 1270

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1446
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں یہ بات ٹھان لی تھی کہ دیکھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں؟ تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا، وائل رضی اللہ عنہ نے یہاں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری نماز پڑھنے کا تذکرہ کیا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قعدہ میں بیٹھنے کی کیفیت کو اس طرح بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں پیر بچھائے اور اس پر بیٹھ گئے اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھے اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر اس طرح رکھے کہ دائیں کہنی ران سے کچھ اٹھی ہوئی تھی، پھر سیدھے ہاتھ کی دونوں انگلیوں جن کو خنصر اور بنصر کہتے ہیں بند کر کے وسطی یعنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنایا حضرت وائل کہتے ہیں کہ ”وَرَأَيْتُهُ يَقُوْلُ أَىْ يُشِيْرُ“ (بذل المجہود۔) میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سبابہ سے اشارہ فرماتے دیکھا حضرت وائل نے یہ بھی کہا ”هٰكَذَا“
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 957 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس طرح (یعنی یہ کہ حضرت وائل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کر کے بتلایا۔ اس حدیث کے راویوں میں حضرت بشر ہیں، اس حدیث کو سناتے ہوئے انہوں نے بھی اپنے شاگرد کو یہ عمل اس طرح کر کے دکھایا کہ انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بنا کر سبابہ یعنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)

Hadith 1271

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1447Noor 1448
عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں التحیات پڑھتے ہوئے کلمہ شہادت پر پہنچتے تو سبابہ یعنی شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا کرتے مگر اس کو ہلایا نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔) اور ابوداؤد کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ مقام اشارہ سے ہٹتی نہیں تھی، یعنی اشارہ کرتے وقت مقام اشارہ ہی کو دیکھتے رہتے تھے۔ اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شہادت کی انگلی کا اشارہ شیطان پر ہتھیار کے حملہ سے زیادہ سخت ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 989 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1270 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1272

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1449
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک صحابی کلمہ شہادت پڑھتے وقت دونوں ہاتھوں کے شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”ایک سے“ ”ایک سے“، یعنی صرف سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی الدعوات الکبیر میں اس کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3557 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1272 (unverified) 72% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1273

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1450
عاصم بن کلیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ (ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اس وقت) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز (کے قعدہ) میں تھے میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر (کھلا ہوا) رکھے ہوئے ہیں اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر اس طرح رکھے ہوئے ہیں کہ انگلیاں بند ہیں اور شہادت کی انگلی ران پر کھلی رکھی ہوئی ہے، اور آپ یہ دعاء پڑھ رہے ہیں۔ ”يَامُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰى دِينِكَ“ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ (یہاں اس دعاء کے نقل کرنے سے راوی کی غرض یہ بتلانا ہے کہ قعدہ اخیرہ ہو رہا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھے ہاتھ کی انگلیاں اور شہادت کی انگلی اب تک بدستور ویسی ہی تھیں جیسے اشارہ کے بعد رکھی ہوئی تھیں۔) (اس کی روایت ترمذی نے اپنی جامع کے کتاب الدعوات میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3522 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.473

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): سعایہ میں مذکور ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں اشارہ کرنے کے بعد جو انگلیاں بند کئے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو ران پر کھلا رکھے ہوئے تھے قعدہ کے ختم ہونے تک ان سب کو بدستور اسی حالت میں بند رکھے ہوئے تھے کھولے نہ تھے۔ ف(2): واضح ہو کہ مذکور الصدر احادیث مآخذ ہیں اس تفصیل کے جس کو ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ ”تزیین العبارۃ“ میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ صحیح اور مختار ہمارے جمہور احناف کے پاس یہ ہے کہ قعدہ میں التحیات شروع کرتے وقت پہلے دونوں ہتھیلیوں کو دونوں رانوں پر اس طرح رکھیں کہ انگلیاں کھلی ہوئی قبلہ رخ رہیں، اور التحیات پڑھتے ہوئے جب کلمہ توحید یعنی أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ پر پہنچے تو خنصر اور بنصر دونوں چھوٹی انگلیوں کو بند کر لے اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ اس طرح کرے کہ لَا إِلٰهَ کہتے وقت شہادت کی انگلی کو اٹھائے اور إِلَّا اللّٰهُ کہتے وقت کلمہ کی انگلی کو کھلی ہوئی ران پر رکھ دے اور دوسری انگلیوں کو نہ کھولے، اگر قعدہ اولی ہو تو تیسری رکعت کے لئے اٹھنے تک اور اگر قعدہ اخیرہ ہو تو سلام پھیرنے تک انگلیوں کو بدستور اسی حالت پر رکھے۔

Hadith 1274

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1451
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے سب کچھ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا (منجملہ ان کے یہ بھی سکھایا) کہ جب تم نماز کے قعدہ میں ہو تو یہ پڑھا کرو ”التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ زبان، جسم و جان اور مال کی تمام عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 916 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1167 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 916

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1275

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1452
ابومعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو تشہد کی اس طرح تعلیم دی تھی جس طرح قرآن کی سورتوں کی تعلیم دیا کرتے تھے (ابومعمر کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کی تعلیم دی تھی ”واضح ہو کہ یہ ترجمہ بخاری کے باب المصافحہ کی روایت وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ“ کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔) میرا ہاتھ (مصافحہ کی طرح) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ہائے مبارک میں تھا (وہ تشہد یہ ہے) (اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6265 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 402a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 289 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کئی طریقوں سے مروی ہے اور تشہد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی حدیثیں آئی ہیں ان سب میں سب سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے اکثر علماء صحابہ کا عمل اسی حدیث پر رہا ہے اور صحابہ کے بعد اکثر علماء تابعین بھی اسی پر عمل کیا کرتے تھے اور حضرت سفیان ثوری و حضرت ابن المبارک امام احمد اور امام اسحاق کا بھی تشہد کے بارے میں یہی قول ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) اور حضرت بزار نے کہا ہے کہ تشہد کے بارے میں میرے پاس سب سے زیادہ صحیح حدیث یہی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو بیس سے زیادہ سندوں سے مروی ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تشہد کے بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بڑھ کر قوی اور سند کے لحاظ سے اس حدیث سے بڑھ کر صحیح کوئی حدیث نہیں ملی اور راویوں کے اعتبار سے یہ حدیث سب سے زیادہ مشہور راویوں سے مروی ہے اور سند کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے کی تائید کرنے والی اس حدیث کی سند سے بڑھ کر کسی حدیث کی سند نہیں ہے۔ (بزار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) تعلیق مجد میں امام مسلم کا قول اس طرح مذکور ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی صحت پر اکثر فقہاء اور محدثین نے اس وجہ سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام شاگردوں نے آپ سے تشہد کے جن الفاظ کی روایت کی ہے وہ سب ایک ہی ہیں ان کے الفاظ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے راویوں نے جس تشہد کی روایت کی ہے اُس کو ان کے شاگردوں نے مختلف الفاظ سے نقل کیا ہے اور ان کے الفاظ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی طرح ایک نہیں ہیں اور محمد بن یحیٰ ذہلی نے کہا ہے کہ تشہد کے بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے اور طبرانی نے الکبیر میں بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد سے بہتر کوئی تشہد نہیں سنا اور حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔

Hadith 1276

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 11453Noor 11454
قاسم بن مخیمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ علقمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر نماز کے قعدہ میں التحیات پڑھنا سکھلائے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔ وہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 969 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

فرماتے ہیں کہ حماد بن سلیمان رحمہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حماد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس طرح تشہد سکھائے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن کی سورتیں سکھایا کرتے تھے (یہ تشہد وہی ہے جو حدیث (دو حدیث پہلے ”حضرت ابن مسعودؓ کی منقولہ التحیات کے عنوان سے گزری ہے“) میں مذکور ہے۔ امام ابن الہمام نے اس کو بیان کیا ہے۔)

Hadith 1277

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1455
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے تشہد سیکھا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تشہد ایک ایک کلمہ کر کے اس طرح سکھائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک کلمہ فرماتے جاتے تھے اور میں ایک ایک کلمہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہراتا جاتا تھا۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔) اور امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے روایت کئے ہوئے تشہد کے الفاظ پر ایک حرف کے بھی بڑھانے اور گھٹانے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔

Hadith 1278

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1456
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، ہم کو برسر منبر تشہد سکھایا کرتے تھے جس طرح تم اپنے بچوں کو قرآن سکھاتے ہو پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی طرح تشہد پڑھ کر سنایا دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1279

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1457
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ نبی صلی کا تشہد بھی یہی ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور امام نووی رحمہ اللہ نے خلاصہ میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند جید ہے اور سعایہ میں مذکور ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تشہد پڑھا کرتے تھے وہی تشہد ہے جس کو ہم پڑھا کرتے ہیں۔

Hadith 1280

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1458
خصیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے متعلق لوگ اختلاف میں پڑ گئے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ نے جواب دیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کو اختیار کرو اور اس کو پڑھا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے جس کا ذکر زیلعی ابن الہمام ابن حجر اور عینی رحمہم اللہ نے کیا ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 289 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1281

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1459
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ التحیات کا اخفیٰ یعنی آہستہ پڑھنا سنت ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 986 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 291 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1282

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1460Noor 1461
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں کے بعد قعدہ اولیٰ میں التحیات پڑھنے کے لئے اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھتے ہیں۔ (اور التحیات ختم کرتے ہی درود و دعاء پڑھے بغیر تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوجاتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔ اور امام احمد رحمہ اللہ سے جو روایت آئی ہے اس میں اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ اولیٰ میں التحیات پڑھتے ہوئے ”أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ“ سے فارغ ہوتے ہی فوراً (بغیر درود اور دعاء کے تیسری رکعت کے لئے) اٹھ جاتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 366 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 995 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

As if he were sitting on hot stones until he stood up

(1) His saying: "As if he were sitting on hot stones until he stood up" means that he would not remain in the first Tashahhud for long; rather, he would keep it brief and stand up quickly, as if he were sitting on a hot stone. According to our school of thought, he would suffice with the Tashahhud without the prayer (upon the Prophet ﷺ) and supplication, or according to the Shafi‘i school, he would suffice with Tashahhud and prayer upon the Prophet ﷺ without supplication. This is mentioned in "Al-Mirqat." And in another narration by Ahmad from the Prophet ﷺ: "Then if he was in the middle of the prayer, he would rise as soon as he finished his Tashahhud."

Note 1

قوله

(۱) قوله: كأنه على الرضف حتى يقوم: يعني لا يلبث في التشهد الأول كثيرًا، بل يخففه ويقوم مسرعًا، كمن هو قاعد على حجر حار، فيكون مكتفيا بالتشهد دون الصلاة والدعاء على مذهبنا، أو مكتفيا بالتشهد والصلاة على الدعاء عند الشافعية. كذا في «المرقاة». وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ عَنِ النَّبِيَّ ﷺ : ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسْطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِيْنَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُدِهِ.