Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ · Chapter 22

بَابُ سُجُودِ الْقُرْآنِ

16 narrations · In source reading order

Hadith 1393

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۳۹۳ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ1، فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ، فَلِي النَّارُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ مَاجَه. وَفِي جَامِعِ الْآثَارِ الْأَمْرُ لِلْوُجُوْبِ، وَتَقْرِيرُ الشَّارِعِ لِلصِّحَّةِ، وَتَقَدَّمَ آنِفًا مُوَاظَبَتُهُ عَلَى بَعْضِ السُّجُودِ، وَلَا فَارِقَ بَيْنَ سَجْدَةٍ وَسَجْدَةٍ.

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah, the Almighty: "And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate." (Surah Al-Inshiqaq, 84:21)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 81a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1052 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Chapter-heading commentary

And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate.

(1) The statement: "And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate." is explained in Al-Mirqat: The prostration of recitation (Sajdah al-Tilawah) is obligatory based on this verse and the hadith that follows, for both the reciter and the listener, even if the listener was not actively listening, according to Abu Hanifah and his companions. Malik, Shafi'i, and Ahmad said it is recommended (Sunnah) for both the reciter and the listener. There is a difference of opinion regarding someone who was not actively listening to the recitation but happened to hear it. There are two opinions among the followers of Shafi'i, the stronger of which, as mentioned in Al-Rawdah, is that it is also recommended. I say: The evidence from this verse for the obligation of the prostration of recitation is that Allah criticized a group of people for not prostrating, as He said: "وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ". Criticism is only deserved for neglecting an obligation. This explanation is taken from some commentaries.

Note 1

The son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated.

(1) The statement: "The son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated." is based on the principle that when the Wise One (Allah) narrates something from someone who is not wise and does not follow it with disapproval, it indicates that it is correct. This serves as evidence that the son of Adam is commanded to prostrate, and the command implies obligation. Moreover, every prostration mentioned in the Qur'an also indicates this obligation. The prostrations in the Qur'an are of three types: Those accompanied by an explicit command. Those that include a narration of the disbelievers' refusal when they were commanded to prostrate. Those that narrate the actions of the prophets in prostrating. Compliance with the command, following the example of the prophets, and opposing the disbelievers are all obligatory, unless there is specific evidence indicating that it is not obligatory. However, the indication of obligation in these cases is speculative (zanni), so the established ruling is that it is obligatory (wajib), not obligatory in the sense of being a definitive duty (fard). This is as mentioned in Sharh al-Nuqayah.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله : وإذا قرئ إلخ : قال في «المرقاة»: تجب سجدة التلاوة بهذه الآية والحديث الآتي بعد على القارئ والسامع، ولو لم يكن مستمعًا عند أبي حنيفة وأصحابه. وقال مالك والشافعي وأحمد: تسن على القارئ والمستمع. واختلفوا فيمن لم يكن مستمعًا للقراءة، بل حصل له سماع، على قولين هما وجهان لأصحاب الشافعي، أصحهما في الروضة الاستحباب أيضًا. انتهى قلت: وجه الاستدلال بهذه الآية على وجوب سجدة التلاوة: أن الله تعالى ذَمَّ أقواما بترك السجود، فقال: وإذا قرئ إلخ. وإنما يستحق الذم بترك الواجب، أخذته من بعض الحواشي.

Note 1

قوله

(۱) قوله : أمر ابن آدم بالسجود فسجد والأصل: أن الحكيم إذا حكى عن غير حكيم ولم يعقبه بالإنكار، دل على أنه صواب، ففيه دليل على أن ابن آدم مأمور بالسجدة والأمر للوجوب، مع أن أي السجدة تفيده أيضًا؛ فإنها ثلاثة أقسام قسم فيه الأمر الصريح، وقسم يتضمن حكاية استنكاف الكفرة حيث أمروا به، وقسم فيه حكاية فعل الأنبياء بالسجود. وكل من الامتثال والاقتداء ومخالفة الكفرة واجب، إلا أن يدل دليل في معين على عدم لزومه، لكن دلالتها فيه ظنية، فكان الثابت الوجوب، لا الفرض. كذا في شرح النقاية».

Note 1

ف۔ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ“ الخ (انسان کو سجدہ کا امر۔ حکم۔ کیا گیا) یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ حکیم جب غیر حکیم کی بات سنائے پھر اس غیر حکیم کی اس بات کا انکار نہ کرے تو حکیم کا غیر حکیم کی بات کو سنا کر رد نہ کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکیم نے غیر حکیم کی جو بات سنائی ہے وہ صحیح ہے۔ واضح ہو کہ یہاں حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور غیر حکیم شیطان ہے، اور غیر حکیم کی بات جو سنائی گئی ہے وہ یہ ہے ”أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ، غور کیجئے کہ حکیم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر حکیم یعنی شیطان کی یہ بات سنائی کہ (انسان کو سجدہ کا امر کیا گیا) اور شیطان کی اس بات کو سنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیطان کے اس قول کا رد نہیں فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شیطان کے اس قول کو رد نہ فرمانا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں انسان کو سجدہ کرنے کا امر ہوا تھا، اور یہ بھی واضح ہے کہ امر مطلق سے وجوب کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور چونکہ یہاں مطلقاً سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے اس لئے سجدہ کرنے کے اس مطلق امر سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت کا ادا کرنا واجب ہے۔ یہاں ایک یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ امر وجوب کے علاوہ استحباب کے لئے بھی ہوتا ہے تو یہاں سجدہ کرنے کے امر کو کیوں مستحب نہ قرار دیا جائے؟ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ قرینہ سے یہاں سجدہ کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے، استحباب ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ سجدہ نہ کرنے پر دوزخ کی وعید ہے اور سجدہ کرنے پر جنت کا وعدہ ہے اور اس قسم کا وعدہ اور وعید کسی امر مستحب کے لئے نہیں آتا بلکہ امر واجب کے لئے ہی ہوتا ہے اس طرح اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہاں سجدہ کا امر، امر واجب ہے نہ کہ امر مستحب۔ ہر دو دلیلوں سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت کا ادا کرنا واجب ہے۔ سجدہ تلاوت کے وجوب پر تیسری دلیل یہ ہے کہ آیات سجدہ سے بھی سجدہ تلاوت کے واجب ہونے کا پتہ چلتا ہے اس لئے کہ سجدہ کی آیتیں تین طرح کی ہیں، ایک تو وہ ہیں جن میں صراحت کے ساتھ سجدہ کا امر ہوا ہے۔ دوسرے وہ آیتیں ہیں جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سجدہ کرنے کے واقعات کے بیان پر مشتمل ہیں اور تیسرے وہ آیتیں ہیں جو کفار اور مشرکین کی ایسی حکایتوں پر مشتمل ہیں جن میں ان کو سجدہ کرنے کا امر کیا گیا تو انہوں نے انکار کیا۔ آیات سجدہ کی یہ تینوں قسمیں یعنی امر خداوندی کی تعمیل، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی اقتداء اور اتباع اور کفار و مشرکین کی مخالفت، یہ تینوں چیزیں واجب ہیں، بشرطیکہ ان میں سے کسی چیز کے واجب نہ ہونے پر کوئی دلیل قائم نہ ہو جائے، چونکہ آیات سجدہ کی مذکورہ تینوں قسموں کا واجب نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے، اس لئے تلاوت کے تمام سجدے واجب ہیں۔ سجدۂ تلاوت کے وجوب پر چوتھی دلیل وہ ہے جس کو جامع الآثار میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت کے سجدوں پر مواظبت اور پابندی فرمائی ہے اس سے بھی سجدۂ تلاوت کے واجب ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

Hadith 1394

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٣٩٤ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ عَلَى الْأَرْضِ، حَتَّى أَنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1411 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سواری کی حالت میں آیت سجدہ سننے یا پڑھنے سے اگر سجدۂ تلاوت واجب ہوا ہے تو اتر کر زمین پر بھی سجدۂ تلاوت ادا کیا جا سکتا ہے اور اگر اترے بغیر سواری ہی پر اشارے سے سجدۂ تلاوت ادا کر لیا جائے تو بھی سجدۂ تلاوت جو واجب ہے ادا ہو جائے گا۔ البتہ سجدۂ تلاوت اگر زمین پر چلنے کی حالت میں واجب ہوا ہے تو اس کو سواری پر ادا نہیں کیا جا سکتا، زمین ہی پر سجدہ کو ادا کرنا ضروری ہے۔ (ردالمحتار) حدیث شریف میں جو مذکور ہے کہ جو حضرات سوار تھے انہوں نے ہاتھ پر سجدہ کیا، اس بارے میں ترجمہ اعلاء السنن میں لکھا ہے: ہاتھ پر سجدہ کرنا اشارہ سے سجدہ کرنا ہی تھا اگرچہ اشارہ کے لئے اس قدر سر جھکانا ضروری نہ تھا مگر ان حضرات نے غایت تعظیم کے لئے اس قدر سر جھکایا۔

Hadith 1395

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٣٩٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: السَّجْدَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَى الْبُخَارِيُّ مِثْلَهُ تَعْلِيْقًا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1077 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1396

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٣٩٦ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ لا يَقْرَأُ السَّجْدَةَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ، فَنَزْدَحِمُ 1 حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا لِجَبْهَتِهِ مَوْضِعًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 575a (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1075 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

We crowded

(1) The statement: "We crowded" indicates the obligation of the prostration of recitation (Sajdah al-Tilawah). This is as mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(١) قوله : فنز دحم إلخ : هذا يدل على وجوب سجود التلاوة. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے سجدہ تلاوت کا شدت اہتمام معلوم ہوتا ہے جو سجدہ تلاوت کے واجب ہونے کی علامت ہے اور اس حدیث شریف سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سجدہ تلاوت جس طرح پڑھنے والے پر واجب ہے، اسی طرح سننے والے پر بھی سجدہ تلاوت واجب ہے (مرقات، اطفاء الفتن ترجمہ اعلاء السنن)

Hadith 1397

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۳۹۷ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه): أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ، وَسَجَدْنَا مَعَهُ. 2 رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1413 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

When he reached a verse of prostration, he said 'Allahu Akbar,' prostrated, and we prostrated with him.

(2) The statement: "When he reached a verse of prostration, he said 'Allahu Akbar,' prostrated, and we prostrated with him." This indicates that the takbir (saying "Allahu Akbar") is only said for the prostration. This is the view taken by Abu Hanifah. According to Shafi'i, one raises their hands and says takbir for the opening of the prayer (ihram), and then says takbir again for the prostration. This is as mentioned in Al-Mirqat.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فإذا مر بالسجدة كبر وسجد وسجدنا معه هذا يدل على أنه لا يكبر إلا للسجود، وبه أخذ أبو حنيفة، وعند الشافعي يرفع يديه ويكبر للإحرام، ثم يكبر للسجود. كذا في «المرقاة».

Hadith 1398

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۳۹۸ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ، فَرَأَوْا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 807 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1399

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۳۹۹ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: سَجَدَ النَّبِيُّ ﷺ بِـ النَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُوْنَ وَالْمُشْرِكُوْنَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1071 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے اور اس کے بعد والی دونوں حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مفصلات میں بھی سجدۂ تلاوت ہے اور ان کا اداء کرنا بھی واجب ہے اور یہی مذہب حنفی ہے (مرقات)

Hadith 1400

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠٠ - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه): أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَرَأَ وَالنَّجْمِ» فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شَيْئًا مِنْ قُرَيْشٍ أَخَذَ كَفَّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ، وَقَالَ: يَكْفِيْنِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتَهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1067 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 576 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1401

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠١ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» وَأَقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 578a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1402

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠٢ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ فِي سُجُودِ الْحَقِّ»: إِنَّ الْأَوْلَى عَزِيمَةُ وَالْأُخْرَى تَعْلِيمُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ وَقَالَ: فَبِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ هَذَا نَأْخُذُ. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: رَأَى بَعْضُهُمْ فِيهَا سَجْدَةً، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكٍ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ. وَقَالَ مُحَمَّدُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى فِي سُوْرَةِ الْحَجَّ إِلَّا سَجْدَةً وَاحِدَةً الْأَوْلَى، وَبِهَذَا نَأْخُذُ.

Hadith 1403

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠٣ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) أَنَّهُ قَالَ: فِي الْحَجِّ سَجْدَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلُهُ.

Hadith 1404

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠٤ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَيْتُ رُؤْيَا وَأَنَا أَكْتُبُ سُوْرَةَ صَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ السَّجْدَةَ رَأَيْتُ الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ يَحْضُرُنِي انْقَلَبَ سَاجِدًا، فَقَالَ: قَصَصْتُهَا عَلَى رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا. رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ. وَفِي جَامِعِ الْآثَارِ الْمُوَاظَبَةُ مِنْ غَيْرِ تَرْكِ، كَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ ظَاهِرُ قَوْلِهِ: «فَلَمْ يَزَلْ» دَالٌ عَلَى الْوُجُوبِ، كَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1040 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 1040

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: جامع الآثار میں لکھا ہے: اس حدیث شریف کے الفاظ ”فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا“ (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سورہ ص کے سجدہ تلاوت کو ہمیشہ ادا فرماتے تھے) واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سورہ ص کے اس سجدہ تلاوت کو ہمیشہ ادا کرنا، اور اس کو کسی وقت بھی ترک نہ کرنا اس سے ثابت ہے کہ سورہ ص کا سجدہ تلاوت بھی واجب ہے (یہ فتح القدیر میں مذکور ہے)۔

Hadith 1405

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠٥ - وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ(رضي الله عنهما): أَأَسْجُدُ فِي «ص»؟ فَقَرَأَ: ﴿وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ حَتَّى أَتَى فَبِهُدَتْهُمُ اقْتَدِهُ، فَقَالَ: نَبِيُّكُمْ وَ مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. (الأنعام: ۹۰)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4807 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1406

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠٦ - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ (رضي الله عنه) قَرَأَ «ص» وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَنَزَلَ فَسَجَدَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

Hadith 1407

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠٧ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمُ، كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا تَقُوْلُ: اللهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَحُطَّ بِهَا عَنِّي وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَرَأَ النَّبِيِّ ﷺ سَجْدَةً، ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُوْلُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُ وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 579 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.746
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1053 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1408

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٠٨ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Arabic quotation in the English source

"سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ"

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 580 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1414 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1035 (unverified) 91% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1129 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1035

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ نماز کے سجدہ میں جس تسبیح یعنی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کا پڑھنا مسنون ہے، سجدۂ تلاوت میں بھی اسی تسبیح کا پڑھنا کافی ہے اس لئے کہ نماز کا سجدہ سجدۂ تلاوت کے سجدہ سے افضل ہے۔ اور جب نماز کے سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کا پڑھنا کافی ہے تو سجدۂ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کا پڑھنا بدرجۂ اولیٰ کافی ہوگا خواہ فرض نماز میں سجدۂ تلاوت ادا کیا جا رہا ہو یا نفل نماز میں یا خارج نماز، الغرض سجدۂ تلاوت ادا کرنے والا سجدۂ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى پڑھے۔ اب رہا اوپر کی دونوں حدیثوں میں تلاوت کے سجدوں میں ماثورہ دعاؤں کا پڑھنا جو مذکور ہے تو ان کو ایسی نمازوں کے سجدۂ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کے بعد پڑھنا مستحب ہے جو عموماً تنہا پڑھی جاتی ہیں جیسے تہجد، وتر، سنت اور نفل، اسی طرح کوئی شخص کسی فرض نماز کو تنہا پڑھ رہا ہے اور اس میں آیت سجدہ پڑھی گئی تو وہ سجدۂ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کے ساتھ ان ماثورہ دعاؤں کو بھی پڑھ سکتا ہے اور خارج نماز سجدۂ تلاوت ادا کرنے والے کے لئے بھی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کے ساتھ ان ماثورہ دعاؤں کا پڑھنا افضل ہے۔ (اشعۃ اللمعات، مرقات، درمختار، ردالمحتار، کوکب دری، اعلاء السنن)