Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 22

Chapter on Prostration of Recitation

16 narrations · In source reading order

Hadith 1393

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1593
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے میری کمبختی! آدمی کو سجدہ کا حکم دیا گیا اس نے تو سجدہ کر لیا اور اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا اور میرے لئے جہنم واجب ہوگئی۔ مسلم، ابن ماجہ۔

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah, the Almighty: "And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate." (Surah Al-Inshiqaq, 84:21)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 81a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1052 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Chapter-heading commentary

And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate.

(1) The statement: "And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate." is explained in Al-Mirqat: The prostration of recitation (Sajdah al-Tilawah) is obligatory based on this verse and the hadith that follows, for both the reciter and the listener, even if the listener was not actively listening, according to Abu Hanifah and his companions. Malik, Shafi'i, and Ahmad said it is recommended (Sunnah) for both the reciter and the listener. There is a difference of opinion regarding someone who was not actively listening to the recitation but happened to hear it. There are two opinions among the followers of Shafi'i, the stronger of which, as mentioned in Al-Rawdah, is that it is also recommended. I say: The evidence from this verse for the obligation of the prostration of recitation is that Allah criticized a group of people for not prostrating, as He said: "وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ". Criticism is only deserved for neglecting an obligation. This explanation is taken from some commentaries.

Note 1

The son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated.

(1) The statement: "The son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated." is based on the principle that when the Wise One (Allah) narrates something from someone who is not wise and does not follow it with disapproval, it indicates that it is correct. This serves as evidence that the son of Adam is commanded to prostrate, and the command implies obligation. Moreover, every prostration mentioned in the Qur'an also indicates this obligation. The prostrations in the Qur'an are of three types: Those accompanied by an explicit command. Those that include a narration of the disbelievers' refusal when they were commanded to prostrate. Those that narrate the actions of the prophets in prostrating. Compliance with the command, following the example of the prophets, and opposing the disbelievers are all obligatory, unless there is specific evidence indicating that it is not obligatory. However, the indication of obligation in these cases is speculative (zanni), so the established ruling is that it is obligatory (wajib), not obligatory in the sense of being a definitive duty (fard). This is as mentioned in Sharh al-Nuqayah.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله : وإذا قرئ إلخ : قال في «المرقاة»: تجب سجدة التلاوة بهذه الآية والحديث الآتي بعد على القارئ والسامع، ولو لم يكن مستمعًا عند أبي حنيفة وأصحابه. وقال مالك والشافعي وأحمد: تسن على القارئ والمستمع. واختلفوا فيمن لم يكن مستمعًا للقراءة، بل حصل له سماع، على قولين هما وجهان لأصحاب الشافعي، أصحهما في الروضة الاستحباب أيضًا. انتهى قلت: وجه الاستدلال بهذه الآية على وجوب سجدة التلاوة: أن الله تعالى ذَمَّ أقواما بترك السجود، فقال: وإذا قرئ إلخ. وإنما يستحق الذم بترك الواجب، أخذته من بعض الحواشي.

Note 1

قوله

(۱) قوله : أمر ابن آدم بالسجود فسجد والأصل: أن الحكيم إذا حكى عن غير حكيم ولم يعقبه بالإنكار، دل على أنه صواب، ففيه دليل على أن ابن آدم مأمور بالسجدة والأمر للوجوب، مع أن أي السجدة تفيده أيضًا؛ فإنها ثلاثة أقسام قسم فيه الأمر الصريح، وقسم يتضمن حكاية استنكاف الكفرة حيث أمروا به، وقسم فيه حكاية فعل الأنبياء بالسجود. وكل من الامتثال والاقتداء ومخالفة الكفرة واجب، إلا أن يدل دليل في معين على عدم لزومه، لكن دلالتها فيه ظنية، فكان الثابت الوجوب، لا الفرض. كذا في شرح النقاية».

Note 1

ف۔ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ“ الخ (انسان کو سجدہ کا امر۔ حکم۔ کیا گیا) یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ حکیم جب غیر حکیم کی بات سنائے پھر اس غیر حکیم کی اس بات کا انکار نہ کرے تو حکیم کا غیر حکیم کی بات کو سنا کر رد نہ کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکیم نے غیر حکیم کی جو بات سنائی ہے وہ صحیح ہے۔ واضح ہو کہ یہاں حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور غیر حکیم شیطان ہے، اور غیر حکیم کی بات جو سنائی گئی ہے وہ یہ ہے ”أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ، غور کیجئے کہ حکیم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر حکیم یعنی شیطان کی یہ بات سنائی کہ (انسان کو سجدہ کا امر کیا گیا) اور شیطان کی اس بات کو سنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیطان کے اس قول کا رد نہیں فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شیطان کے اس قول کو رد نہ فرمانا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں انسان کو سجدہ کرنے کا امر ہوا تھا، اور یہ بھی واضح ہے کہ امر مطلق سے وجوب کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور چونکہ یہاں مطلقاً سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے اس لئے سجدہ کرنے کے اس مطلق امر سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت کا ادا کرنا واجب ہے۔ یہاں ایک یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ امر وجوب کے علاوہ استحباب کے لئے بھی ہوتا ہے تو یہاں سجدہ کرنے کے امر کو کیوں مستحب نہ قرار دیا جائے؟ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ قرینہ سے یہاں سجدہ کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے، استحباب ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ سجدہ نہ کرنے پر دوزخ کی وعید ہے اور سجدہ کرنے پر جنت کا وعدہ ہے اور اس قسم کا وعدہ اور وعید کسی امر مستحب کے لئے نہیں آتا بلکہ امر واجب کے لئے ہی ہوتا ہے اس طرح اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہاں سجدہ کا امر، امر واجب ہے نہ کہ امر مستحب۔ ہر دو دلیلوں سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت کا ادا کرنا واجب ہے۔ سجدہ تلاوت کے وجوب پر تیسری دلیل یہ ہے کہ آیات سجدہ سے بھی سجدہ تلاوت کے واجب ہونے کا پتہ چلتا ہے اس لئے کہ سجدہ کی آیتیں تین طرح کی ہیں، ایک تو وہ ہیں جن میں صراحت کے ساتھ سجدہ کا امر ہوا ہے۔ دوسرے وہ آیتیں ہیں جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سجدہ کرنے کے واقعات کے بیان پر مشتمل ہیں اور تیسرے وہ آیتیں ہیں جو کفار اور مشرکین کی ایسی حکایتوں پر مشتمل ہیں جن میں ان کو سجدہ کرنے کا امر کیا گیا تو انہوں نے انکار کیا۔ آیات سجدہ کی یہ تینوں قسمیں یعنی امر خداوندی کی تعمیل، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی اقتداء اور اتباع اور کفار و مشرکین کی مخالفت، یہ تینوں چیزیں واجب ہیں، بشرطیکہ ان میں سے کسی چیز کے واجب نہ ہونے پر کوئی دلیل قائم نہ ہو جائے، چونکہ آیات سجدہ کی مذکورہ تینوں قسموں کا واجب نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے، اس لئے تلاوت کے تمام سجدے واجب ہیں۔ سجدۂ تلاوت کے وجوب پر چوتھی دلیل وہ ہے جس کو جامع الآثار میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت کے سجدوں پر مواظبت اور پابندی فرمائی ہے اس سے بھی سجدۂ تلاوت کے واجب ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

Hadith 1394

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1594
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر سجدہ کی آیت تلاوت فرمائی تو سب لوگوں نے سجدہ کیا، ان میں سے بعض لوگ سوار تھے اور جو لوگ پیدل تھے وہ زمین پر سجدہ کر رہے تھے، اب رہے سوار تو چونکہ ان پر سواری کی حالت ہی میں سجدۂ تلاوت واجب ہوا تھا تو انہوں نے اپنے ہاتھوں پر سجدہ کیا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1411 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سواری کی حالت میں آیت سجدہ سننے یا پڑھنے سے اگر سجدۂ تلاوت واجب ہوا ہے تو اتر کر زمین پر بھی سجدۂ تلاوت ادا کیا جا سکتا ہے اور اگر اترے بغیر سواری ہی پر اشارے سے سجدۂ تلاوت ادا کر لیا جائے تو بھی سجدۂ تلاوت جو واجب ہے ادا ہو جائے گا۔ البتہ سجدۂ تلاوت اگر زمین پر چلنے کی حالت میں واجب ہوا ہے تو اس کو سواری پر ادا نہیں کیا جا سکتا، زمین ہی پر سجدہ کو ادا کرنا ضروری ہے۔ (ردالمحتار) حدیث شریف میں جو مذکور ہے کہ جو حضرات سوار تھے انہوں نے ہاتھ پر سجدہ کیا، اس بارے میں ترجمہ اعلاء السنن میں لکھا ہے: ہاتھ پر سجدہ کرنا اشارہ سے سجدہ کرنا ہی تھا اگرچہ اشارہ کے لئے اس قدر سر جھکانا ضروری نہ تھا مگر ان حضرات نے غایت تعظیم کے لئے اس قدر سر جھکایا۔

Hadith 1395

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1595Noor 1596
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب آیت سجدہ پڑھی جائے تو جیسے پڑھنے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہے (اسی طرح) سننے والے پر بھی سجدہ تلاوت واجب ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔) اور بخاری نے بھی اسی طرح تعلیقاً روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1077 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1396

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1597
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی آیت سجدہ تلاوت فرماتے اور ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس موجود ہوتے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خود بھی سجدہ فرماتے تھے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے تھے اور اس وقت اتنا ازدحام ہو جاتا تھا کہ ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کے لئے پیشانی رکھنے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی۔ (اس لئے ان حضرات کو پہلے والوں کے بعد سجدہ ادا کرنا پڑتا تھا)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 575a (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1075 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

We crowded

(1) The statement: "We crowded" indicates the obligation of the prostration of recitation (Sajdah al-Tilawah). This is as mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(١) قوله : فنز دحم إلخ : هذا يدل على وجوب سجود التلاوة. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے سجدہ تلاوت کا شدت اہتمام معلوم ہوتا ہے جو سجدہ تلاوت کے واجب ہونے کی علامت ہے اور اس حدیث شریف سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سجدہ تلاوت جس طرح پڑھنے والے پر واجب ہے، اسی طرح سننے والے پر بھی سجدہ تلاوت واجب ہے (مرقات، اطفاء الفتن ترجمہ اعلاء السنن)

Hadith 1397

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1598
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قرآن پاک سنایا کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی آیت پڑھتے تو اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں جاتے اور آپ ﷺ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1413 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

When he reached a verse of prostration, he said 'Allahu Akbar,' prostrated, and we prostrated with him.

(2) The statement: "When he reached a verse of prostration, he said 'Allahu Akbar,' prostrated, and we prostrated with him." This indicates that the takbir (saying "Allahu Akbar") is only said for the prostration. This is the view taken by Abu Hanifah. According to Shafi'i, one raises their hands and says takbir for the opening of the prayer (ihram), and then says takbir again for the prostration. This is as mentioned in Al-Mirqat.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فإذا مر بالسجدة كبر وسجد وسجدنا معه هذا يدل على أنه لا يكبر إلا للسجود، وبه أخذ أبو حنيفة، وعند الشافعي يرفع يديه ويكبر للإحرام، ثم يكبر للسجود. كذا في «المرقاة».

Hadith 1398

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1599
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر اداء فرمائی اور سجدۂ تلاوت کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قیام فرمایا اور قیام میں کچھ قرآت کئے بغیر رکوع میں چلے گئے۔ صحابہ کا خیال ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سورہ آلم تنزیل السجدہ پڑھ کر سجدہ تلاوت اداء فرمائے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 807 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1399

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1600
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ وَالنَّجْم تلاوت فرما کر سجدہ فرمایا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ تمام مسلمانوں اور مشرکوں اور جن وانس نے بھی سجدہ کیا۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1071 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے اور اس کے بعد والی دونوں حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مفصلات میں بھی سجدۂ تلاوت ہے اور ان کا اداء کرنا بھی واجب ہے اور یہی مذہب حنفی ہے (مرقات)

Hadith 1400

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1601
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سورہ وَالنَّجْم تلاوت فرمائی تو آپ نے بھی اس میں سجدہ کیا اور جو آپ کے ساتھ تھے، انہوں نے بھی سجدہ کیا بجز ایک بوڑھے کے کہ اس نے سجدہ نہیں کیا بلکہ کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی لے کر پیشانی سے لگالی اور کہا کہ مجھے تو یہی کافی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (کچھ زمانہ کے بعد) میں اسی شخص کو دیکھا کہ وہ کفر ہی کی حالت میں مارا گیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے) اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دوسری ایک روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ شخص امیہ بن خلف تھا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1067 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 576 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1401

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1602
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سورہ ”اِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ اور اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ“ میں سجدہ تلاوت ادا کیا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 578a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1402

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1603
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورہ حج میں تلاوت کے سجدوں کے متعلق فرمایا کہ اس سورت کا پہلا سجدہ (سجدہ تلاوت ہے اور وہ) واجب ہے اور دوسرا سجدہ سجدہ تعلیمی ہے (یعنی اس آیت کے ذریعہ سے نماز میں رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا گیا ہے، اس لئے یہ تلاوت کا سجدہ نہیں ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ آیت میں سجدہ کے ساتھ رکوع کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے اس لئے یہ تلاوت کا سجدہ نہیں ہے) اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے، اور امام طحاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ہم ابن اسحاق رضی اللہ عنہ کے اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ سورہ حج کا پہلا سجدہ واجب ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ بعض ائمہ کا قول یہ ہے کہ سورہ حج میں ایک ہی سجدہ تلاوت ہے اور امام سفیان ثوری رحمہ اللہ، امام مالک اور فقہاء کوفہ رحمہم اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ اور امام محمد رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سورہ حج میں صرف ایک ہی سجدے کے قائل تھے اور وہ سجدۂ اول ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔

Hadith 1403

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1604Noor 1605
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ سورہ حج میں صرف ایک ہی سجدہ تلاوت ہے (اور وہ پہلا ہے) اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔ ابن ابی شیبہ کی ایک دوسری روایت میں حضرت ابن المسیب حسن بصری، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

Hadith 1404

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1606
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا کہ سورہ ص لکھ رہا ہوں جب میں (خواب ہی میں) آیت سجدہ تک پہنچا اور اس کو لکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دوات اور قلم اور جو چیزیں میرے سامنے تھیں سب سجدہ میں گر گئیں، ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا یہ خواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے بیان کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سمجھا کہ اس میں حق تعالیٰ کی طرف سے، ہم کو سجدہ تلاوت کرنے کی تعلیم ہو رہی ہے اس لئے اس کے بعد سے سورہ ص کے آیت سجدہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سجدہ تلاوت کیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1040 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 1040

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: جامع الآثار میں لکھا ہے: اس حدیث شریف کے الفاظ ”فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا“ (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سورہ ص کے سجدہ تلاوت کو ہمیشہ ادا فرماتے تھے) واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سورہ ص کے اس سجدہ تلاوت کو ہمیشہ ادا کرنا، اور اس کو کسی وقت بھی ترک نہ کرنا اس سے ثابت ہے کہ سورہ ص کا سجدہ تلاوت بھی واجب ہے (یہ فتح القدیر میں مذکور ہے)۔

Hadith 1405

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1607
مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ کیا میں سورہ ص کے سجدہ تلاوت کو ادا کیا کروں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (سورۃ انعام پ 7 ع 9) کی آیت (نمبر:85 تا90)”وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ“ سے شروع کر کے ”فَبِهُدٰهُمُ اقْتَدِهْ“ یعنی اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم بھی انہی پیغمبروں کی اقتداء کیا کرو۔ تک تلاوت فرمائی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: داؤد علیہ السلام (یہ ترجمہ بخاری کے دوسرے نسخہ کے لحاظ سے کیا گیا ہے) بھی جملہ ان انبیاء کے ہیں جن کی اقتداء کا حکم تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے (چونکہ سورہ ص میں حضرت داؤد علیہ السلام کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے جس کی اقتداء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورہ ص کے اس مقام پر ہمیشہ سجدہ کیا کرتے تھے جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ابھی گذر چکا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دوامی فعل سے سورہ ص کا سجدہ ہم پر بھی واجب (یہ مضمون عمدۃ الرعایہ سے ماخوذ ہے)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4807 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1406

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1608
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منبر پر سورہ ص تلاوت فرماتے ہوئے (جب آیت سجدہ پڑھی تو فوراً منبر سے اتر کر سجدہ ادا کیا اس اہتمام سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ ص کا سجدہ بھی واجب ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)

Hadith 1407

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1609
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک صحابی (یعنی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جیسا کہ دار قطنی نے اپنی علل میں اس نام کی صراحت کی ہے) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آج کی رات سو رہا تھا خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، نماز میں میں نے (سورہ ص کی آیت سجدہ کو پڑھ کر) سجدہ کیا (اور اس آیت سجدہ کو سن کر) درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا اور میں نے درخت کو سجدہ کی حالت میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا:۔ اے اللہ اس سجدہ کی وجہ سے اپنے پاس میرے لئے اجر وثواب لکھ دیجئے اور اس سجدہ کی وجہ سے میرے (کبیرہ) گناہ معاف کر دیجئے اور اس سجدہ کی وجہ سے (اس اجر وثواب کو) میرے لئے اپنے پاس ذخیرہ بنا دیجئے اور مجھ سے اس سجدۂ تلاوت کو ایسا ہی قبول فرمائیے جیسے آپ نے داؤد علیہ السلام کے سجدہ کو قبول فرمایا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ خواب سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد سورۂ ص کی آیت سجدہ کو تلاوت فرما کر آپ نے بھی سجدہ ادا فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ فرمانے سے یہ سجدہ ہم پر بھی واجب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی دعا پڑھتے ہوئے سنا جو درخت نے پڑھی تھی اور جس کو اس دن صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تھا۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے) البتہ ابن ماجہ نے ”وَاجْعَلْهَا لِيْ عِنْدَكَ ذُخْرًا“ تک روایت کی ہے۔

[Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah, except that they did not mention the phrase: "Accept it from me as You accepted it from Your servant Dawud"]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 579 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.746
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1053 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1408

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1610
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز تہجد ادا فرماتے اور اس میں آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ میں یہ دعا فرماتے تھے۔ میرے چہرے نے اس کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس کو اپنی قدرت وقوت سے سماعت اور بصارت عطا فرمائی۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے کی ہے، اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

Arabic quotation in the English source

"سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ"

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 580 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1414 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1035 (unverified) 91% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1129 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1035

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ نماز کے سجدہ میں جس تسبیح یعنی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کا پڑھنا مسنون ہے، سجدۂ تلاوت میں بھی اسی تسبیح کا پڑھنا کافی ہے اس لئے کہ نماز کا سجدہ سجدۂ تلاوت کے سجدہ سے افضل ہے۔ اور جب نماز کے سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کا پڑھنا کافی ہے تو سجدۂ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کا پڑھنا بدرجۂ اولیٰ کافی ہوگا خواہ فرض نماز میں سجدۂ تلاوت ادا کیا جا رہا ہو یا نفل نماز میں یا خارج نماز، الغرض سجدۂ تلاوت ادا کرنے والا سجدۂ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى پڑھے۔ اب رہا اوپر کی دونوں حدیثوں میں تلاوت کے سجدوں میں ماثورہ دعاؤں کا پڑھنا جو مذکور ہے تو ان کو ایسی نمازوں کے سجدۂ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کے بعد پڑھنا مستحب ہے جو عموماً تنہا پڑھی جاتی ہیں جیسے تہجد، وتر، سنت اور نفل، اسی طرح کوئی شخص کسی فرض نماز کو تنہا پڑھ رہا ہے اور اس میں آیت سجدہ پڑھی گئی تو وہ سجدۂ تلاوت میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کے ساتھ ان ماثورہ دعاؤں کو بھی پڑھ سکتا ہے اور خارج نماز سجدۂ تلاوت ادا کرنے والے کے لئے بھی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى کے ساتھ ان ماثورہ دعاؤں کا پڑھنا افضل ہے۔ (اشعۃ اللمعات، مرقات، درمختار، ردالمحتار، کوکب دری، اعلاء السنن)