ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا
جس کو یہ یاد نہیں کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار (اور یہ شک اس کو عمر بھر میں پہلی مرتبہ ہوا اور
ایسے شک کی اس کو عادت نہیں) تو وہ (بات کر کے یا سلام پھیر کر) نماز توڑ دے اور پھر از سر نو نماز
شروع سے پڑھے تاکہ اس کی نماز شک سے نہ ہو بلکہ یاد سے ہو۔
اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے ہی اپنی ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما
سے ہی اس طرح روایت کی ہے کہ ابن عمر نے فرمایا میرا بھی ایسا ہی واقعہ ہوا ہے کہ (جب عمر بھر میں
پہلی بار مجھ کو نماز میں شک ہوا کہ) میں نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تو میں نے نماز توڑ کر از سر نو شروع
سے نماز پڑھی ہے۔ (اس حدیث کا ترجمہ عمدۃ الرعایۃ سے ماخوذ ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ کی ایک اور روایت میں بھی ابن جبیر، شعبی اور شریح رضی اللہ
عنہم سے اسی طرح روایت ہے کہ کسی کو عمر بھر میں پہلی بار نماز میں شک ہوا ہو، تو وہ نماز توڑ کر شروع
سے نماز پڑھے۔
(اس حدیث کا ترجمہ ہدایہ، بنایہ، رد المحتار، موطاء، امام محمد، تعلیق ممجد، شرح وقایہ، عمدۃ الرعایۃ
اور اعلاء السنن ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔)
طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب تم نے نماز پڑھی اور تم
کو (نماز میں عمر بھر میں پہلی مرتبہ) شک ہوا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو نماز توڑ کر از سر نو شروع سے نماز
پڑھو، اگر دوبارہ ایسا ہی شک ہو کہ کتنی رکعتیں ادا کی ہیں تو اب نہ تو نماز توڑ دو اور نہ از سر نو نماز پڑھو۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
اور امام مالک نے عطاء سے اسی طرح روایت کی ہے۔
بخاری اور ابوداؤد کی ایک روایت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اپنی نماز کی (تعداد رکعات میں) شک ہوا
کرے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو اس کو چاہئے کہ تحری کرے یعنی سوچ کر ٹھیک بات معلوم کرے
اور تحری کے بعد جو ٹھیک بات معلوم ہو اس لحاظ سے اپنی نماز پوری کرے اور سلام کے بعد سہو کے دو
سجدے کرے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 401 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1020 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ بخاری اور ابوداؤد کی اس روایت میں نماز میں شک واقع ہونے سے تحری کر کے
گمان غالب پر عمل کرنے کا جو حکم ہے، مذہب حنفی بھی یہی ہے، چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ
ابوداؤد کا بھی اس بارے میں یہی قول ہے، اسی وجہ سے ابوداؤد نے جو باب قائم کیا ہے وہ یہ ہے ”بَابُ
مَنْ قَالَ يَتِمُّ عَلٰى أَكْبَرِ ظَنِّهِ“، یعنی جس شخص کو نماز میں شک ہو وہ اپنے گمان غالب پر عمل کرے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب تم میں سے
کسی کو اپنی نماز کی تعداد رکعات میں) شک ہوا کرے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تحری
کر کے گمان غالب معلوم کرے اگر اس کا گمان غالب یہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں تو (وہ
تیسری رکعت کے رکوع اور دونوں سجدوں سے فارغ ہو جائے اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی
رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے اس تیسری رکعت سے فارغ ہونے کے بعد قعدہ میں بیٹھ جائے، اس
لئے کہ چوتھی رکعت کا قعدہ فرض ہے) اس کے بعد کھڑا ہو کر چوتھی رکعت ادا کرے اور چوتھی رکعت
کے بعد پھر قعدہ اخیرہ کرے اور اس میں التحیات پڑھ کر سلام پھیرے اور سہو کے دو سجدے کرے اور
اگر تحری کے بعد اس کا گمان غالب یہ ہو کہ اس نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو وہ قعدہ اخیرہ کے لئے بیٹھ
جائے اور التحیات پڑھ کر سلام پھیرے اور سہو کے دو سجدے کرے۔ (اس کی روایت امام محمد نے
کتاب الآثار میں کی ہے۔)
عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابن عمر اور ابوسعید
خدری رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس کو نماز کی تعداد (رکعات کے بارے
میں) بھول ہوگئی اور اس کو یاد نہیں رہا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو ان دونوں حضرات میں سے
ہر ایک نے یہی فرمایا کہ وہ شخص تحری کرے یعنی سوچ کر ٹھیک بات معلوم کرے اور تحری کے بعد جو
بات ٹھیک معلوم ہو اسی لحاظ سے اپنی نماز پوری کرے اور سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کرے۔ (اس
کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس کو کسی فرض
نماز کی رکعت کے بارے میں بھول ہوگئی ہو اور اس کو یاد نہیں کہ اس نے چار رکعتیں ادا کی ہیں یا تین تو
ابراہیم نخعی نے جواب دیا (اس کو یہ شک عمر بھر میں پہلی بار ہوا ہے اور ایسے شک کی اس کو عادت
نہیں) تو وہ (بات کر کے یا سلام پھیر کر) نماز توڑ دے اور پھر از سر نو شروع سے نماز پڑھے اور اگر اس
کو بھولنے کی عادت ہے تو وہ شخص تحری کر کے گمان غالب معلوم کرے اور اگر اس کا غالب گمان یہ ہو
کہ اس نے پوری نماز پڑھ لی ہے تو وہ (سلام کے بعد) سہو کے دو سجدے کرے، اور اگر اس کا گمان
غالب یہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں (تو وہ تیسری رکعت کے رکوع اور دو نوں سجدوں سے
فارغ ہو جائے اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے اس تیسری
رکعت سے فارغ ہونے کے بعد قعدہ میں بیٹھ جائے (اس لئے کہ چوتھی رکعت کا قعدہ فرض ہے) اس
کے بعد کھڑا ہو کر چوتھی رکعت ادا کر کے پھر سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کرے۔ (اس کی روایت
امام محمد نے ”الآثار“ میں کی ہے۔)
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز کی (تعداد رکعات) میں ایسا
شک ہو کہ اس کا گمان غالب کسی طرف بھی قائم نہیں ہوتا ہے) مثلاً یہ تو چار رکعت پر جزم رہا ہے اور نہ
تین پر اور وہ ان دونوں احتمالات میں سے کسی احتمال کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا ہے تو وہ اقل یعنی تین کو
اختیار کر کے تین رکعت پر نماز کی بناء کرے اور چونکہ تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی احتمال ہے
اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت کو ادا کرے، اسی طرح چوتھی پڑھتے وقت اس کو
یہ خیال ہوگا کہ وہ چوتھی رکعت پڑھ رہا ہے یا پانچویں اب تک کی رکعت میں شک تھا اب زیادتی رکعت
میں شک ہو رہا ہے، اس وقت اگر غلطی ہوگی تو یہی ہوگی کہ نماز زیادہ ہو جائے گی اور عبادات میں
زیادتی کا ہونا بہتر ہے کمی ہونے سے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور ترمذی کی ایک اور روایت میں عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ سے ہی
مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز
کی تعداد رکعات کے بارے میں بھول ہو جائے اور اس کو ایسا شک ہو کہ اس کا گمان غالب کسی طرف
بھی قائم نہیں ہو رہا ہے، نہ تو کمی رکعات پر خیال جم رہا ہے اور نہ زیادتی رکعات پر اور ان دونوں
احتمالات میں سے کسی احتمال کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا ہے مثلاً) اس کو یہ یاد نہیں کہ ایک رکعت پڑھی
ہے یا دو تو اس صورت میں وہ (اقل یعنی) ایک رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس ایک رکعت
میں دوسری رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے ایک رکعت کے بعد قعدہ کر کے دوسری رکعت ادا کرے)
اور اگر اس کو یہ یاد نہ ہو کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور دوسری
رکعت کے بعد قعدہ کر کے تیسری رکعت شروع کرے) اور اگر اس کو یہ یاد نہ ہو کہ تین رکعتیں پڑھی
ہیں یا چار تو وہ تین رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی
احتمال ہے اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت شروع کرے اور سلام کے بعد) سہو
کے دو سجدے کرے۔
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو اسے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کرنے
چاہئے۔ (اس کے بعد پھر تشہد (جیسا کہ ترمذی اور دیگر محدثین نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ
سے روایت کی ہے جو آگے آ رہی ہے۔) درود اور دعاء پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لئے دوبارہ سلام
پھیرے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں
شک ہونے کی وجہ سے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو فرمایا۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
ابن سیرین رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (ایک طویل) حدیث
روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز کو (بجائے چار رکعت کے سہواً کم
کر کے) دو رکعتیں پڑھیں (اور ایک صحابی کے یاد دلانے پر) باقی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا، پھر
تکبیر کہہ کر سجدہ فرمایا، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ فرمایا، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھایا، اس کے بعد
آپ نے (نماز سے باہر ہونے کے لئے دوبارہ) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے (ایک طویل) حدیث میں مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عصر کی نماز بجائے چار رکعت کے سہواً کم کر کے) تین رکعتیں
پڑھائیں (اور ایک صحابی کے یاد دلانے سے) باقی ماندہ ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیرا پھر سہو کے دو
سجدے کئے اور اس کے بعد (نماز کے باہر آنے کے لئے دوسرا) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
محمد بن صالح بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ محمد بن
صالح نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک نماز پڑھی تو نماز میں ان سے سہو
ہو گیا، اس پر انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے (اور ختم نماز پر) ہماری طرف متوجہ ہو کر انس
رضی اللہ عنہ نے فرمایا واضح ہو کہ (سلام پھیر کر میں نے سہو کے دو سجدے کئے ہیں) یہ ایسا عمل ہے
جس کو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو
نماز پڑھائی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو ہو گیا اس پر آپ نے (سلام کے بعد) دو سجدے کئے اور
اس کے بعد تشہد پڑھا (اور نماز سے باہر آنے کے لئے پھر) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور حاکم اور ابن حبان نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے، اس لئے صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 395 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1039 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سہو کے سجدوں کی وجہ سے
سجدوں کے پہلے جو تشہد پڑھا جاتا ہے اس کا شمار نہیں ہوتا، اس لئے سہو کے سجدوں کے بعد پھر تشہد پڑھنا
چاہئے۔ (اور دوبارہ تشہد پڑھنے کے بعد حسب قاعدہ درود اور دعاء پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لئے
سلام پھیرا۔)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں چار رکعت کے بعد قعدۂ اخیرہ کر کے ایک رکعت کی زیادتی سے) پانچ
رکعتیں پڑھائیں (ایک صحابی کے یاد دلانے پر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر کر سہو کے دو
سجدے کئے (پھر تشہد درود اور دعاء پڑھ کر) آپ نے (نماز سے باہر آنے کے لئے پھر) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت بخاری اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1226 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابن سیرین اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم کی دونوں حدیثیں جو اوپر گزر چکی
ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں کمی ہونے سے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں اور اسی
طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں زیادتی ہونے
سے بھی سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں۔
اس طرح ثابت ہوا کہ نماز میں سہواً خواہ کمی ہو یا زیادتی دونوں صورتوں میں سلام پھیر کر سہو کے
دو سجدے کریں، پھر تشہد (درود اور دعاء پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لئے پھر) سلام پھیریں اور یہی
مذہب حنفی ہے۔
(یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔)
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ نماز میں ہر سہو کے لئے (خواہ سہو کمی کی وجہ سے ہو یا زیادتی کی
وجہ سے) سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔
(اس کی روایت ابن ماجہ اور ابوداؤد نے کی ہے اور امام احمد، عبدالرزاق اور طبرانی نے بھی اس
طرح روایت کی ہے۔)
شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ
نے ہم کو نماز پڑھائی تو وہ دو رکعتوں کے ختم پر (سہواً قعدہ اولیٰ کئے بغیر) کھڑے ہو گئے (ان کی غلطی
محسوس کرانے کے لئے) مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے (قعدہ کی طرف لوٹے
بغیر خود بھی) سبحان اللہ کہا (تا کہ مقتدی بھی کھڑے ہو جائیں) اور جب انہوں نے نماز پوری کی تو
سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کئے (بخلاف سجدہ تلاوت کے کہ اس کو کھڑے ہو کر ادا کرنا
مسنون ہے اور سہو کے سجدوں میں کھڑے ہونا نہیں ہے) نماز سے فارغ ہونے کے بعد مغیرہ بن
شعبہ نے حاضرین سے کہا کہ (ایسے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا
کہ میں نے (اس وقت) کیا ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو آپ سے سہو ہو گیا کہ (آپ قعدہ اولیٰ کئے بغیر) دو رکعتوں کے بعد
کھڑے ہو گئے ہم نے اطلاع کی خاطر سبحان اللہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قعدہ اولیٰ کی
طرف لوٹے بغیر) اسی حالت میں نماز جاری رکھی اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری فرمائی
تو سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے ادا کئے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب امام دو رکعتوں کے بعد (قعدہ اولیٰ کئے بغیر سہواً) کھڑا ہونے لگے اور
سیدھا ہونے سے قبل (یعنی گھٹنے زمین سے جدا ہونے سے پہلے) قعدہ اولیٰ نہ کرنا یاد آ جائے تو وہ
(قعدہ اولیٰ کے لئے) بیٹھ جائے (اور مقتضی یہ ہے کہ اس صورت میں سجدہ سہو نہ کرے) اور اگر امام
قیام کے قریب ہو گیا ہے (یعنی اس کے گھٹنے زمین سے جدا ہو چکے ہیں تو وہ قعدہ اولی کے لئے) نہ
بیٹھے اور (نماز پوری کر کے قعدہ اولی نہ کرنے کی وجہ سے) سہو کے دو سجدے ادا کرے۔
(اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس حدیث کا ترجمہ ہدایہ، بنایہ، رد المحتار، موطاء، امام محمد، تعلیق ممجد، شرح وقایہ، عمدۃ الرعایۃ اور اعلاء السنن ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔)