اردو
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز کی (تعداد رکعات) میں ایسا
شک ہو کہ اس کا گمان غالب کسی طرف بھی قائم نہیں ہوتا ہے) مثلاً یہ تو چار رکعت پر جزم رہا ہے اور نہ
تین پر اور وہ ان دونوں احتمالات میں سے کسی احتمال کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا ہے تو وہ اقل یعنی تین کو
اختیار کر کے تین رکعت پر نماز کی بناء کرے اور چونکہ تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی احتمال ہے
اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت کو ادا کرے، اسی طرح چوتھی پڑھتے وقت اس کو
یہ خیال ہوگا کہ وہ چوتھی رکعت پڑھ رہا ہے یا پانچویں اب تک کی رکعت میں شک تھا اب زیادتی رکعت
میں شک ہو رہا ہے، اس وقت اگر غلطی ہوگی تو یہی ہوگی کہ نماز زیادہ ہو جائے گی اور عبادات میں
زیادتی کا ہونا بہتر ہے کمی ہونے سے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور ترمذی کی ایک اور روایت میں عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ سے ہی
مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز
کی تعداد رکعات کے بارے میں بھول ہو جائے اور اس کو ایسا شک ہو کہ اس کا گمان غالب کسی طرف
بھی قائم نہیں ہو رہا ہے، نہ تو کمی رکعات پر خیال جم رہا ہے اور نہ زیادتی رکعات پر اور ان دونوں
احتمالات میں سے کسی احتمال کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا ہے مثلاً) اس کو یہ یاد نہیں کہ ایک رکعت پڑھی
ہے یا دو تو اس صورت میں وہ (اقل یعنی) ایک رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس ایک رکعت
میں دوسری رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے ایک رکعت کے بعد قعدہ کر کے دوسری رکعت ادا کرے)
اور اگر اس کو یہ یاد نہ ہو کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور دوسری
رکعت کے بعد قعدہ کر کے تیسری رکعت شروع کرے) اور اگر اس کو یہ یاد نہ ہو کہ تین رکعتیں پڑھی
ہیں یا چار تو وہ تین رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی
احتمال ہے اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت شروع کرے اور سلام کے بعد) سہو
کے دو سجدے کرے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1023 (unverified) 50% confidence
- Candidate: Musnad Ahmad 1677 (unverified) 20% confidence
Mishkat (candidate) 1023
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس حدیث کا ترجمہ بنایہ، مرقات اور رد المحتار کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔)