Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1381

Chapter on Forgetfulness in Prayer (Sahw)

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Forgetfulness in Prayer (Sahw)

Zujajat al-Masabih 1381Volume 1

English

Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say, "Whoever prays a prayer and is in doubt about whether he has shortened it, let him pray until he is certain of the excess." [Narrated by Ahmad] In another narration by Tirmidhi, Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) said: I heard the Prophet (peace be upon him) say, "If one of you is in doubt during his prayer and does not know whether he has prayed one or two rak'ahs, let him assume it is one. If he does not know whether he has prayed two or three rak'ahs, let him assume it is two. If he does not know whether he has prayed three or four rak'ahs, let him assume it is three, and then perform two prostrations of forgetfulness." Tirmidhi said: This is a Hasan Sahih Hadith. The conclusion is that three narrations have been established in this Chapter on "If one of you is in doubt during his prayer, let him start over," or something similar. "Whoever is in doubt about his prayer, let him strive to determine the correct number." This hadith, which instructs building upon what is certain. Our Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) reconciled these narrations by interpreting the first as referring to the first occurrence of doubt, the second as referring to cases where one can determine the correct number, and the third as referring to cases where one cannot determine the correct number. This is the perfection of comprehensiveness upon which the school of Imam Abu Hanifah is based, as mentioned in Sharh al-Munyah.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۳۸۱ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ (رضي الله عنه) قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً يَشُكُ فِي النُّقْصَانِ، فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَشُلَّ فِي الزَّيَادَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِذِي عَنْهُ الله قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: «إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ: فَلَمْ يَدْرٍ وَاحِدَةٌ صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَيْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ، فَإِن لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ، فَإِن لَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَيْنِ عَلَى ثَلَاثٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ». قَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ. فَالْحَاصِلُ : أَنَّهُ قَدْ ثَبَتَ فِي هَذَا الْبَابِ أَحَادِيْثُ ثَلَاثَةٌ: أَحَدُهَا: «إِذَا شَلَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَسْتَأْنِفْ أَوْ كَمَا قَالَ. وَثَانِيهَا: مَنْ شَكٍّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ». وَثَالِثُهَا: هَذَا الْحَدِيثُ النَّاطِقُ بِالْبِنَاءِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ. فَجَمَعَ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ الله بَيْنَهَا بِحَمْلِ الْأَوَّلِ عَلَى عُرُوضِ الشَّكٌّ أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَالثَّانِي عَلَى صُورَةِ وُقُوْعِ التَّحَرِّي عَلَى أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ، وَالثَّالِثِ عَلَى عَدَمِ وُقُوْعِ التَّحَرِّي عَلَيْهِ. وَهَذَا كَمَالُ الْجَامِعِيَّةِ الَّذِي ابْتَنَى مَذْهَبُ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ عَلَيْهِ، كَذَا فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1579Noor 1580
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز کی (تعداد رکعات) میں ایسا شک ہو کہ اس کا گمان غالب کسی طرف بھی قائم نہیں ہوتا ہے) مثلاً یہ تو چار رکعت پر جزم رہا ہے اور نہ تین پر اور وہ ان دونوں احتمالات میں سے کسی احتمال کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا ہے تو وہ اقل یعنی تین کو اختیار کر کے تین رکعت پر نماز کی بناء کرے اور چونکہ تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت کو ادا کرے، اسی طرح چوتھی پڑھتے وقت اس کو یہ خیال ہوگا کہ وہ چوتھی رکعت پڑھ رہا ہے یا پانچویں اب تک کی رکعت میں شک تھا اب زیادتی رکعت میں شک ہو رہا ہے، اس وقت اگر غلطی ہوگی تو یہی ہوگی کہ نماز زیادہ ہو جائے گی اور عبادات میں زیادتی کا ہونا بہتر ہے کمی ہونے سے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔) اور ترمذی کی ایک اور روایت میں عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز کی تعداد رکعات کے بارے میں بھول ہو جائے اور اس کو ایسا شک ہو کہ اس کا گمان غالب کسی طرف بھی قائم نہیں ہو رہا ہے، نہ تو کمی رکعات پر خیال جم رہا ہے اور نہ زیادتی رکعات پر اور ان دونوں احتمالات میں سے کسی احتمال کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا ہے مثلاً) اس کو یہ یاد نہیں کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو اس صورت میں وہ (اقل یعنی) ایک رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس ایک رکعت میں دوسری رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے ایک رکعت کے بعد قعدہ کر کے دوسری رکعت ادا کرے) اور اگر اس کو یہ یاد نہ ہو کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور دوسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے تیسری رکعت شروع کرے) اور اگر اس کو یہ یاد نہ ہو کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تین رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت شروع کرے اور سلام کے بعد) سہو کے دو سجدے کرے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1023 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Musnad Ahmad 1677 (unverified) 20% confidence

Mishkat (candidate) 1023

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس حدیث کا ترجمہ بنایہ، مرقات اور رد المحتار کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔)