Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said regarding someone who does not know whether he prayed three or four Rak'ahs: "He should repeat the prayer until he is certain." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
In another narration from him: "As for me, if I do not know how many Rak'ahs I prayed, I repeat the prayer." A similar narration is reported from Ibn Jubayr, Ash-Sha'bi, and Shurayh.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا
جس کو یہ یاد نہیں کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار (اور یہ شک اس کو عمر بھر میں پہلی مرتبہ ہوا اور
ایسے شک کی اس کو عادت نہیں) تو وہ (بات کر کے یا سلام پھیر کر) نماز توڑ دے اور پھر از سر نو نماز
شروع سے پڑھے تاکہ اس کی نماز شک سے نہ ہو بلکہ یاد سے ہو۔
اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے ہی اپنی ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما
سے ہی اس طرح روایت کی ہے کہ ابن عمر نے فرمایا میرا بھی ایسا ہی واقعہ ہوا ہے کہ (جب عمر بھر میں
پہلی بار مجھ کو نماز میں شک ہوا کہ) میں نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تو میں نے نماز توڑ کر از سر نو شروع
سے نماز پڑھی ہے۔ (اس حدیث کا ترجمہ عمدۃ الرعایۃ سے ماخوذ ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ کی ایک اور روایت میں بھی ابن جبیر، شعبی اور شریح رضی اللہ
عنہم سے اسی طرح روایت ہے کہ کسی کو عمر بھر میں پہلی بار نماز میں شک ہوا ہو، تو وہ نماز توڑ کر شروع
سے نماز پڑھے۔
(اس حدیث کا ترجمہ ہدایہ، بنایہ، رد المحتار، موطاء، امام محمد، تعلیق ممجد، شرح وقایہ، عمدۃ الرعایۃ
اور اعلاء السنن ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔)
Tawus (may Allah be pleased with him) said: "If you pray and do not know how many Rak'ahs you prayed, repeat it once. If you are confused again, do not repeat it." [Narrated by Ibn Abi Shaybah while Malik narrated a similar report from Ata]
In a narration by Al-Bukhari and Abu Dawud from the Prophet (peace be upon him): "If one of you is confused during prayer, let him determine the most likely correct number, complete the prayer, say the Taslim, and then perform two prostrations of forgetfulness."
Al-'Ayni said: Abu Dawud's chapter heading indicates that one should act according to the most likely assumption, as he said: "Chapter on Those who say to complete based on the most likely assumption."
طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب تم نے نماز پڑھی اور تم
کو (نماز میں عمر بھر میں پہلی مرتبہ) شک ہوا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو نماز توڑ کر از سر نو شروع سے نماز
پڑھو، اگر دوبارہ ایسا ہی شک ہو کہ کتنی رکعتیں ادا کی ہیں تو اب نہ تو نماز توڑ دو اور نہ از سر نو نماز پڑھو۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
اور امام مالک نے عطاء سے اسی طرح روایت کی ہے۔
بخاری اور ابوداؤد کی ایک روایت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اپنی نماز کی (تعداد رکعات میں) شک ہوا
کرے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو اس کو چاہئے کہ تحری کرے یعنی سوچ کر ٹھیک بات معلوم کرے
اور تحری کے بعد جو ٹھیک بات معلوم ہو اس لحاظ سے اپنی نماز پوری کرے اور سلام کے بعد سہو کے دو
سجدے کرے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 401 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1020 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ بخاری اور ابوداؤد کی اس روایت میں نماز میں شک واقع ہونے سے تحری کر کے
گمان غالب پر عمل کرنے کا جو حکم ہے، مذہب حنفی بھی یہی ہے، چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ
ابوداؤد کا بھی اس بارے میں یہی قول ہے، اسی وجہ سے ابوداؤد نے جو باب قائم کیا ہے وہ یہ ہے ”بَابُ
مَنْ قَالَ يَتِمُّ عَلٰى أَكْبَرِ ظَنِّهِ“، یعنی جس شخص کو نماز میں شک ہو وہ اپنے گمان غالب پر عمل کرے۔
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "If one of you is uncertain during prayer and does not know whether he prayed three or four Rak'ahs, let him determine the most likely assumption. If he thinks it is three, let him add one more, then say the Tashahhud, say the Taslim, and perform two prostrations of forgetfulness. If he thinks it is four, let him say the Tashahhud, say the Taslim, and perform two prostrations of forgetfulness."
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب تم میں سے
کسی کو اپنی نماز کی تعداد رکعات میں) شک ہوا کرے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تحری
کر کے گمان غالب معلوم کرے اگر اس کا گمان غالب یہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں تو (وہ
تیسری رکعت کے رکوع اور دونوں سجدوں سے فارغ ہو جائے اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی
رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے اس تیسری رکعت سے فارغ ہونے کے بعد قعدہ میں بیٹھ جائے، اس
لئے کہ چوتھی رکعت کا قعدہ فرض ہے) اس کے بعد کھڑا ہو کر چوتھی رکعت ادا کرے اور چوتھی رکعت
کے بعد پھر قعدہ اخیرہ کرے اور اس میں التحیات پڑھ کر سلام پھیرے اور سہو کے دو سجدے کرے اور
اگر تحری کے بعد اس کا گمان غالب یہ ہو کہ اس نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو وہ قعدہ اخیرہ کے لئے بیٹھ
جائے اور التحیات پڑھ کر سلام پھیرے اور سہو کے دو سجدے کرے۔ (اس کی روایت امام محمد نے
کتاب الآثار میں کی ہے۔)
Amr ibn Dinar (may Allah be pleased with him) narrated that Ibn Umar and Abu Sa'id Al-Khudri were asked about a man who forgot and did not know how many Rak'ahs he prayed. They said: "He should determine the most correct number, complete the prayer, and then perform two prostrations of forgetfulness."
عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابن عمر اور ابوسعید
خدری رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس کو نماز کی تعداد (رکعات کے بارے
میں) بھول ہوگئی اور اس کو یاد نہیں رہا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو ان دونوں حضرات میں سے
ہر ایک نے یہی فرمایا کہ وہ شخص تحری کرے یعنی سوچ کر ٹھیک بات معلوم کرے اور تحری کے بعد جو
بات ٹھیک معلوم ہو اسی لحاظ سے اپنی نماز پوری کرے اور سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کرے۔ (اس
کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Ibrahim (may Allah be pleased with him) said regarding someone who forgets the obligatory prayer and does not know whether he prayed three or four Rak'ahs: "If it is his first time forgetting, he should repeat the prayer. If he frequently forgets, he should determine the most correct number. If he thinks he completed the prayer, he should perform two prostrations of forgetfulness. If he thinks he prayed three, he should add one more and then perform two prostrations of forgetfulness."
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس کو کسی فرض
نماز کی رکعت کے بارے میں بھول ہوگئی ہو اور اس کو یاد نہیں کہ اس نے چار رکعتیں ادا کی ہیں یا تین تو
ابراہیم نخعی نے جواب دیا (اس کو یہ شک عمر بھر میں پہلی بار ہوا ہے اور ایسے شک کی اس کو عادت
نہیں) تو وہ (بات کر کے یا سلام پھیر کر) نماز توڑ دے اور پھر از سر نو شروع سے نماز پڑھے اور اگر اس
کو بھولنے کی عادت ہے تو وہ شخص تحری کر کے گمان غالب معلوم کرے اور اگر اس کا غالب گمان یہ ہو
کہ اس نے پوری نماز پڑھ لی ہے تو وہ (سلام کے بعد) سہو کے دو سجدے کرے، اور اگر اس کا گمان
غالب یہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں (تو وہ تیسری رکعت کے رکوع اور دو نوں سجدوں سے
فارغ ہو جائے اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے اس تیسری
رکعت سے فارغ ہونے کے بعد قعدہ میں بیٹھ جائے (اس لئے کہ چوتھی رکعت کا قعدہ فرض ہے) اس
کے بعد کھڑا ہو کر چوتھی رکعت ادا کر کے پھر سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کرے۔ (اس کی روایت
امام محمد نے ”الآثار“ میں کی ہے۔)
Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say, "Whoever prays a prayer and is in doubt about whether he has shortened it, let him pray until he is certain of the excess." [Narrated by Ahmad]
In another narration by Tirmidhi, Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) said: I heard the Prophet (peace be upon him) say, "If one of you is in doubt during his prayer and does not know whether he has prayed one or two rak'ahs, let him assume it is one. If he does not know whether he has prayed two or three rak'ahs, let him assume it is two. If he does not know whether he has prayed three or four rak'ahs, let him assume it is three, and then perform two prostrations of forgetfulness." Tirmidhi said: This is a Hasan Sahih Hadith.
The conclusion is that three narrations have been established in this Chapter on
"If one of you is in doubt during his prayer, let him start over," or something similar.
"Whoever is in doubt about his prayer, let him strive to determine the correct number."
This hadith, which instructs building upon what is certain.
Our Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) reconciled these narrations by interpreting the first as referring to the first occurrence of doubt, the second as referring to cases where one can determine the correct number, and the third as referring to cases where one cannot determine the correct number. This is the perfection of comprehensiveness upon which the school of Imam Abu Hanifah is based, as mentioned in Sharh al-Munyah.
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز کی (تعداد رکعات) میں ایسا
شک ہو کہ اس کا گمان غالب کسی طرف بھی قائم نہیں ہوتا ہے) مثلاً یہ تو چار رکعت پر جزم رہا ہے اور نہ
تین پر اور وہ ان دونوں احتمالات میں سے کسی احتمال کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا ہے تو وہ اقل یعنی تین کو
اختیار کر کے تین رکعت پر نماز کی بناء کرے اور چونکہ تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی احتمال ہے
اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت کو ادا کرے، اسی طرح چوتھی پڑھتے وقت اس کو
یہ خیال ہوگا کہ وہ چوتھی رکعت پڑھ رہا ہے یا پانچویں اب تک کی رکعت میں شک تھا اب زیادتی رکعت
میں شک ہو رہا ہے، اس وقت اگر غلطی ہوگی تو یہی ہوگی کہ نماز زیادہ ہو جائے گی اور عبادات میں
زیادتی کا ہونا بہتر ہے کمی ہونے سے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور ترمذی کی ایک اور روایت میں عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ سے ہی
مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز
کی تعداد رکعات کے بارے میں بھول ہو جائے اور اس کو ایسا شک ہو کہ اس کا گمان غالب کسی طرف
بھی قائم نہیں ہو رہا ہے، نہ تو کمی رکعات پر خیال جم رہا ہے اور نہ زیادتی رکعات پر اور ان دونوں
احتمالات میں سے کسی احتمال کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا ہے مثلاً) اس کو یہ یاد نہیں کہ ایک رکعت پڑھی
ہے یا دو تو اس صورت میں وہ (اقل یعنی) ایک رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس ایک رکعت
میں دوسری رکعت کا بھی احتمال ہے اس لئے ایک رکعت کے بعد قعدہ کر کے دوسری رکعت ادا کرے)
اور اگر اس کو یہ یاد نہ ہو کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور دوسری
رکعت کے بعد قعدہ کر کے تیسری رکعت شروع کرے) اور اگر اس کو یہ یاد نہ ہو کہ تین رکعتیں پڑھی
ہیں یا چار تو وہ تین رکعت پر نماز کی بناء کرے (اور چونکہ اس تیسری رکعت میں چوتھی رکعت کا بھی
احتمال ہے اس لئے تیسری رکعت کے بعد قعدہ کر کے چوتھی رکعت شروع کرے اور سلام کے بعد) سہو
کے دو سجدے کرے۔
Abdullah ibn Ja'far (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "Whoever is in doubt about his prayer, let him perform two prostrations after the salam."
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو اسے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کرنے
چاہئے۔ (اس کے بعد پھر تشہد (جیسا کہ ترمذی اور دیگر محدثین نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ
سے روایت کی ہے جو آگے آ رہی ہے۔) درود اور دعاء پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لئے دوبارہ سلام
پھیرے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Alqamah reported that Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) performed two prostrations of forgetfulness after the salam and mentioned that the Prophet (peace be upon him) did the same.
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) performed prostrations of forgetfulness after the salam due to uncertainty.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں
شک ہونے کی وجہ سے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو فرمایا۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Ibn Sirin reported from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) led them in one of the afternoon prayers—Ibn Sirin said: Abu Hurairah named the prayer, but I forgot it—and he prayed two rak'ahs, then said the salam. He then went to a piece of wood placed in the mosque, leaned on it as if he were angry, placed his right hand over his left, interlaced his fingers, and placed his right cheek on the back of his left hand. Some people hurried out of the mosque and said, "The prayer has been shortened." Among them were Abu Bakr and Umar (may Allah be pleased with them), but they hesitated to speak to him.
A man with long arms, called Dhul-Yadain, said, "O Messenger of Allah, did you forget, or has the prayer been shortened?" The Prophet (peace be upon him) said, "I did not forget, nor has the prayer been shortened." He asked, "Is what Dhul-Yadain said true?" They replied, "Yes." So he stood up, prayed what he had missed, said the salam, then said takbir and prostrated as he usually did or longer, then raised his head and said takbir. He then prostrated again as he usually did or longer, raised his head, and said takbir. Sometimes they asked him, "Did he say the salam afterward?" He would reply, "I was informed that Imran ibn Husayn said he did." This was agreed upon (by Bukhari and Muslim], and the wording is from Bukhari.
In another narration by both, the Prophet (peace be upon him) said, "None of that happened," and Dhul-Yadain replied, "Some of it did, O Messenger of Allah."
ابن سیرین رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (ایک طویل) حدیث
روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز کو (بجائے چار رکعت کے سہواً کم
کر کے) دو رکعتیں پڑھیں (اور ایک صحابی کے یاد دلانے پر) باقی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا، پھر
تکبیر کہہ کر سجدہ فرمایا، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ فرمایا، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھایا، اس کے بعد
آپ نے (نماز سے باہر ہونے کے لئے دوبارہ) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed Asr and said the salam after three rak'ahs. He then entered his house, and a man named Khirbaq, who had long arms, came to him and mentioned what he had done. The Prophet (peace be upon him) came out angrily, dragging his cloak, and asked, "Is what he said true?" They replied, "Yes." So he prayed one rak'ah, said the salam, performed two prostrations, and then said the salam again.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے (ایک طویل) حدیث میں مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عصر کی نماز بجائے چار رکعت کے سہواً کم کر کے) تین رکعتیں
پڑھائیں (اور ایک صحابی کے یاد دلانے سے) باقی ماندہ ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیرا پھر سہو کے دو
سجدے کئے اور اس کے بعد (نماز کے باہر آنے کے لئے دوسرا) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Muhammad ibn Salih ibn Ali ibn Abdullah ibn Abbas reported that he prayed behind Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him), who made a mistake in the prayer and performed two prostrations after the salam. Anas then turned to them and said, "I only did what I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) do." [Narrated by Tabarani]
In a narration by Tirmidhi, Abu Dawud, and Nasa'i from Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him), the Prophet (peace be upon him) led them in prayer, made a mistake, performed two prostrations, then recited the tashahhud and said the salam. Tirmidhi said: This is a Hasan Gharib Hadith. Hakim and Ibn Hibban narrated something similar, and Hakim said it is Sahih according to the conditions of Bukhari and Muslim. In Umdat al-Ri'ayah, it is mentioned that this indicates the tashahhud before the prostrations is invalidated, and one must recite it again afterward.
محمد بن صالح بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ محمد بن
صالح نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک نماز پڑھی تو نماز میں ان سے سہو
ہو گیا، اس پر انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے (اور ختم نماز پر) ہماری طرف متوجہ ہو کر انس
رضی اللہ عنہ نے فرمایا واضح ہو کہ (سلام پھیر کر میں نے سہو کے دو سجدے کئے ہیں) یہ ایسا عمل ہے
جس کو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو
نماز پڑھائی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو ہو گیا اس پر آپ نے (سلام کے بعد) دو سجدے کئے اور
اس کے بعد تشہد پڑھا (اور نماز سے باہر آنے کے لئے پھر) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور حاکم اور ابن حبان نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے، اس لئے صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 395 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1039 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سہو کے سجدوں کی وجہ سے
سجدوں کے پہلے جو تشہد پڑھا جاتا ہے اس کا شمار نہیں ہوتا، اس لئے سہو کے سجدوں کے بعد پھر تشہد پڑھنا
چاہئے۔ (اور دوبارہ تشہد پڑھنے کے بعد حسب قاعدہ درود اور دعاء پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لئے
سلام پھیرا۔)
Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed Zuhr with five rak'ahs. He was asked, "Has the prayer been increased?" He replied, "What is that?" They said, "You prayed five rak'ahs." So he performed two prostrations after the salam.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں چار رکعت کے بعد قعدۂ اخیرہ کر کے ایک رکعت کی زیادتی سے) پانچ
رکعتیں پڑھائیں (ایک صحابی کے یاد دلانے پر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر کر سہو کے دو
سجدے کئے (پھر تشہد درود اور دعاء پڑھ کر) آپ نے (نماز سے باہر آنے کے لئے پھر) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت بخاری اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1226 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابن سیرین اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم کی دونوں حدیثیں جو اوپر گزر چکی
ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں کمی ہونے سے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں اور اسی
طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں زیادتی ہونے
سے بھی سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں۔
اس طرح ثابت ہوا کہ نماز میں سہواً خواہ کمی ہو یا زیادتی دونوں صورتوں میں سلام پھیر کر سہو کے
دو سجدے کریں، پھر تشہد (درود اور دعاء پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لئے پھر) سلام پھیریں اور یہی
مذہب حنفی ہے۔
(یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔)
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say, "For every mistake, there are two prostrations after the salam."
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ نماز میں ہر سہو کے لئے (خواہ سہو کمی کی وجہ سے ہو یا زیادتی کی
وجہ سے) سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔
(اس کی روایت ابن ماجہ اور ابوداؤد نے کی ہے اور امام احمد، عبدالرزاق اور طبرانی نے بھی اس
طرح روایت کی ہے۔)
Ash-Sha'bi reported that Al-Mughirah ibn Shu'bah (may Allah be pleased with him) led them in prayer and stood up after two rak'ahs. The people signaled to him, and he signaled back. When he completed the prayer, he said the salam, then performed two prostrations of forgetfulness while sitting. He then told them that the Messenger of Allah (peace be upon him) had done the same.
شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ
نے ہم کو نماز پڑھائی تو وہ دو رکعتوں کے ختم پر (سہواً قعدہ اولیٰ کئے بغیر) کھڑے ہو گئے (ان کی غلطی
محسوس کرانے کے لئے) مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے (قعدہ کی طرف لوٹے
بغیر خود بھی) سبحان اللہ کہا (تا کہ مقتدی بھی کھڑے ہو جائیں) اور جب انہوں نے نماز پوری کی تو
سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کئے (بخلاف سجدہ تلاوت کے کہ اس کو کھڑے ہو کر ادا کرنا
مسنون ہے اور سہو کے سجدوں میں کھڑے ہونا نہیں ہے) نماز سے فارغ ہونے کے بعد مغیرہ بن
شعبہ نے حاضرین سے کہا کہ (ایسے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا
کہ میں نے (اس وقت) کیا ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Al-Mughirah ibn Shu'bah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) led us in prayer and forgot (to complete it). He stood up after two rak'ahs, so we signaled to him, but he continued. When he completed the prayer and said the salam, he performed two prostrations of forgetfulness.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو آپ سے سہو ہو گیا کہ (آپ قعدہ اولیٰ کئے بغیر) دو رکعتوں کے بعد
کھڑے ہو گئے ہم نے اطلاع کی خاطر سبحان اللہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قعدہ اولیٰ کی
طرف لوٹے بغیر) اسی حالت میں نماز جاری رکھی اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری فرمائی
تو سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے ادا کئے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Al-Mughirah ibn Shu'bah (may Allah be pleased with him) also reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If the imam stands up after two rak'ahs, and if he remembers before standing up straight, he should sit down. But if he stands up straight, he should not sit down and should perform two prostrations of forgetfulness."
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب امام دو رکعتوں کے بعد (قعدہ اولیٰ کئے بغیر سہواً) کھڑا ہونے لگے اور
سیدھا ہونے سے قبل (یعنی گھٹنے زمین سے جدا ہونے سے پہلے) قعدہ اولیٰ نہ کرنا یاد آ جائے تو وہ
(قعدہ اولیٰ کے لئے) بیٹھ جائے (اور مقتضی یہ ہے کہ اس صورت میں سجدہ سہو نہ کرے) اور اگر امام
قیام کے قریب ہو گیا ہے (یعنی اس کے گھٹنے زمین سے جدا ہو چکے ہیں تو وہ قعدہ اولی کے لئے) نہ
بیٹھے اور (نماز پوری کر کے قعدہ اولی نہ کرنے کی وجہ سے) سہو کے دو سجدے ادا کرے۔
(اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس حدیث کا ترجمہ ہدایہ، بنایہ، رد المحتار، موطاء، امام محمد، تعلیق ممجد، شرح وقایہ، عمدۃ الرعایۃ اور اعلاء السنن ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔)