It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that he said: "I have never prayed behind an imam whose prayer was lighter and more perfect than that of the Prophet (peace be upon him). If he heard the crying of a child, he would shorten the prayer out of concern that the child's mother might be distressed."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کسی امام کے پیچھے مختصر اور کامل نماز نہیں پڑھی (مختصر اس حیثیت سے کہ طوال
مفصل، اوساط مفصل اور قصار مفصل سے زیادہ طویل قرآت نہیں فرماتے تھے اور کامل اس حیثیت
سے کہ رکوع و سجدہ، قومہ اور جلسہ اور قعدہ اچھی طرح تعدیل ارکان کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔
خلاصہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز قرآت کے لحاظ سے ہلکی ہوتی تھی، رکوع اور سجدہ
قومہ اور جلسہ اور قعدہ کے لحاظ سے ہلکی نہیں ہوتی تھی) جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام کسی بچے کے
رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر فرما دیتے تھے تا کہ اس کی ماں (بچے کے رونے سے) پریشان نہ ہو
(اور اس کا دل نماز میں لگا رہے)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
It is narrated from Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I sometimes enter the prayer intending to prolong it, but when I hear the crying of a child, I shorten it because I know the distress his mother feels due to his crying."
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ قرآت لمبی کروں لیکن
کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز کو مختصر قرآت سے پوری کرتا ہوں، اس لئے کہ بچے کے
رونے کی وجہ سے ماں پر کیا گزرتی ہے اس کو میں خوب جانتا ہوں۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
It is narrated from Uthman ibn Abi Al-As (may Allah be pleased with him) that he said: "The last advice the Messenger of Allah (peace be upon him) gave me was: 'When you lead people in prayer, make it light for them.'" [Narrated by Muslim]
In another narration by Muslim: The Messenger of Allah (peace be upon him) said to him: "Lead your people in prayer." He said: "I replied, 'O Messenger of Allah, I feel something in my heart (hesitation).' He said, 'Come closer.' He seated me in front of him, placed his hand on my chest between my nipples, then said, 'Turn around.' He placed his hand on my back between my shoulders, and then said, 'Lead your people in prayer. Whoever leads people in prayer should make it light, for among them are the elderly, the sick, the weak, and those with needs. But when one of you prays alone, let him pray as long as he wishes.'"
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آخری
نصیحت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کی تھی کہ جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو نماز مختصر قرأت
کے ساتھ اداء کرنا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا عثمان! تم اپنی قوم کی امامت کیا کرو، تو میں نے عرض
کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جماعت کا مجھ پر رعب پڑتا ہے، جس کی وجہ سے امامت
کرنے سے اپنے دل میں جھجھک پاتا ہوں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عثمان! میرے قریب آجاؤ (جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ہوا تو حضور نے مجھے
اپنے پاس بٹھا کر میرے سینہ پر دونوں پستانوں کے درمیان اپنے دست مبارک کو رکھا، پھر ارشاد
فرمایا: پیٹھ پھیر کر بیٹھ جاؤ (جب میں پیٹھ پھیر کر بیٹھ گیا) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیٹھ پر
دونوں شانوں کے درمیان اپنی ہتھیلی مبارک رکھ دی، پھر ارشاد فرمایا: عثمان! (جاؤ) امامت کرو (اب
تم میں جھجھک نہیں رہے گی مگر تم کو اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ) جو شخص کسی قوم کی امامت کرے تو اس
کو مختصر قرأت کے ساتھ نماز پڑھانا چاہئے (اور جو اذکار اور دعائیں نفل نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں
ان کو فرض میں پڑھ کر فرض کو طویل نہ کرنا چاہئے) کیونکہ جماعت میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں، بیمار
بھی، کمزور بھی اور ضرورت مند بھی، ہاں اگر کوئی تنہا نماز پڑھے تو جس قدر چاہے (قرأت) طویل
کرے اور جو اذکار اور دعائیں ماثورہ ہیں ان میں سے بھی جسے چاہے پڑھ سکتا ہے)۔
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you leads people in prayer, let him make it light, for among them are the sick, the weak, and the elderly. But when one of you prays alone, let him prolong it as much as he wishes."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو اس کو مختصر (قرأت) کے
ساتھ نماز پڑھانا چاہئے۔ کیونکہ جماعت میں بیمار، کمزور اور بوڑھے سب ہی طرح کے آدمی ہوتے
ہیں ہاں اگر کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو جس قدر چاہے نماز کو طویل کرے (مگر اس قدر طویل نہ کرے
کہ نماز کا وقت ہی گزر جائے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
It is narrated from Qays ibn Abi Hazim that he said: Abu Masud informed us that a man said: "By Allah, O Messenger of Allah, I sometimes delay the Fajr prayer because of so-and-so, as he prolongs the prayer for us." I never saw the Messenger of Allah (peace be upon him) deliver a sermon with more anger than he did that day. He then said: "There are among you those who drive people away. Whoever among you leads people in prayer should make it light, for among them are the weak, the elderly, and those with needs."
قیس ابن ابی حازم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابومسعود رضی اللہ
عنہ نے مجھ کو خبر دی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر
عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فلاں شخص کی وجہ سے نماز صبح کی جماعت میں شریک
نہیں ہوا کرتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں طویل (قرأت) سے نماز پڑھاتے ہیں (جس کی میں تاب نہیں
لاسکتا، یہ سنتے ہی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصیحت کرنے میں اس دن سے زیادہ غصہ فرماتے
ہوئے میں نے کبھی نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: تم میں بعضوں کا ایسا برتاؤ ہے جس کی وجہ لوگوں کو
دین کے کاموں سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ پس جو شخص لوگوں کا امام بنے اس کو مختصر (قرأت) سے
نماز پڑھانا چاہئے (یعنی اس کو تمام نمازوں میں طوال مفصل، اوساط مفصل اور قصار مفصل سے
زیادہ طویل قرأت نہیں کرنا چاہئے) کیونکہ اس کے پیچھے کمزور، بوڑھے اور ضرورتمند سب ہی طرح
کے آدمی ہوتے ہیں، (اس لئے اس کو سب کی رعایت کرنا ضروری ہے)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The imam is a guarantor, and the muadhin (caller to prayer) is entrusted. O Allah, guide the imams and forgive the muadhins." [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Ash-Shafi'i]
In another narration with the wording of "Al-Masabih," Ahmad narrated a similar hadith with a raised chain (marfu'), and this chain is authentic. In "Al-Binayah," it is explained that this does not mean the imam is responsible for himself, as every worshipper is responsible for their own prayer. Rather, it means the imam is responsible for the congregation. It is not permissible to interpret this as the imam being responsible for the congregation in terms of obligation and performance, as this is not the intended meaning by consensus. Therefore, it is established 1 that the imam is responsible for the validity or invalidity of the congregation's prayer.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے (کہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام
کے صحت نماز پر منحصر ہے) اور مؤذن امانت دار ہے (کہ لوگ نمازوں کے پڑھنے اور روزوں کے
افطار میں مؤذن پر اعتماد کرتے ہیں) اے اللہ! اماموں کو علم و عمل کی ہدایت فرما، اور مؤذنین (کی
کوتاہیوں) کو بخش دے۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور امام شافعی نے کی ہے۔)
اور مصابیح میں بھی اس کی روایت موجود ہے۔
اور امام احمد نے بھی مرفوعاً اس کی روایت کی ہے جس کی سند صحیح ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
It is established
(1) The statement "It is established" etc.: At-Tahawi said: As for its ruling from a rational perspective, we have observed that the prayer of the followers is tied to the prayer of their imam in terms of its validity and invalidity. This is supported by sound reasoning, such as the fact that if the imam makes a mistake, those behind him are required to make up for it, whereas if they make a mistake and the imam does not, they are not required to do what the imam must do if he makes a mistake. Since it is established that the followers are obligated to address the imam's mistake and are exempt if the imam does not make a mistake, it is clear that their prayer is tied to the imam's prayer. Therefore, their prayer cannot be contrary to the imam's prayer.
Additionally, it is evident from rational analysis that scholars agree that if a person prays behind someone in a state of major impurity (janabah) while knowing it, their prayer is invalid. They consider the follower's prayer tied to the imam's prayer. Since this is the case when the follower knows about the invalidity of the imam's prayer, it should logically apply even if they do not know. For example, if a follower prays while in a state of major impurity—whether they know it or not—their prayer is invalid. Thus, what invalidates their prayer when they know also invalidates it when they do not know. Therefore, it is reasonable to conclude that their ignorance of the imam's invalid prayer also invalidates their own prayer.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فتعين إلخ : قال الطحاوي: وأما حكمه من طريق النظر : فإنا قد رأينا صلاة المأمومين مضمنة بصلاة إمامهم بصحتها وفسادها يوجب ذلك النظر الصحيح، من ذلك أنا رأينا الإمام إذا سها وجب على من خلفه لسهوه ما وجب عليه، ولو سَهَوْا هُمْ ولم يسه هو لم يجب عليهم ما يجب على الإمام إذا سها. فلما ثبت أن المأمومين يجب عليهم حكم السهو لسهو الإمام وينتفي عنهم حكم السهو بانتفائه عن الإمام، ثبت أن حكمهم في صلاتهم حكم الإمام في صلاته، وكان صلاتهم مضمنة بصلاته، ولما كانت صلاتهم مُضمَّنة بصلاته لم يجز أن يكون صلاتهم خلاف صلاته
وأيضًا مما يدل عليه النظر أنهم أجمعوا أن رجلا لو صلى خلف جنب، وهو يعلم بذلك أن صلاته باطلة، وجعلوا صلاته مضمنة بصلاة الإمام. فلما كان ذلك كذلك إذا كان يعلم بفساد صلاة إمامه كان كذلك في النظر إذا كان لا يعلم بها. ألا ترى أن المأموم لو صلى وهو جنب - وهو يعلم أو لا يعلم - كانت صلاته باطلة، فكان ما يفسد صلاته في حال علمه به هو الذي يفسد صلاته في حال جهله به، وكان علمه بفساد صلاة إمامه تفسد به صلاته، فالنظر على ذلك أن يكون كذلك جهله بفساد صلاة إمامه.
Note 1
ف: اس حدیث شریف کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وجوب اور اداء کو سمجھ لیا جائے۔
وجوب یہ ہے کہ امام اور مقتدی کی نماز واجب ہونے کے لحاظ سے ایک ہو، یعنی امام پر جو نماز واجب
ہے مقتدی بھی اسی نماز کو امام کے ساتھ ادا کر رہا ہو، مثلاً امام ظہر کی فرض نماز ادا کر رہا ہے، اور مقتدی
بھی اسی وقت کی نماز ظہر ادا کر رہا ہے تو امام اور مقتدی دونوں کی یہ نماز وجوب کے لحاظ سے متحد ہوئی۔
اگر امام جمعہ پڑھ رہا ہو اور مقتدی ظہر کی نیت سے اس امام کی اقتداء کرے تو یہ اقتداء صحیح نہ ہوگی، اس
لئے کہ وجوب کے لحاظ سے امام اور مقتدی کی نماز ایک نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام جمعہ کی نیت
سے نماز ادا کر رہا ہے اور مقتدی ظہر کی نیت سے اقتداء کرنا چاہتا ہے تو امام اور مقتدی کے نمازوں کا
وجوب جدا جدا ہونے سے امام اور مقتدی میں جس وجوب کا اتحاد ضروری ہے وہ حاصل نہ ہوا، اس لئے
اقتداء درست نہ ہوئی۔
اب رہی اداء تو واضح ہو کہ وجوب کے لحاظ سے جیسے امام اور مقتدی کی نماز میں اتحاد ضروری
ہے ایسے ہی یہ بھی ضروری ہے کہ امام اور مقتدی کی نمازوں میں امام کی نماز اداء کی حیثیت سے مقتدی
کی اداء کی حیثیت کے برابر ہو یا قوی ہو، امام اور مقتدی کے اداء کی حیثیت برابر ہونے کی مثال یہ ہے
کہ امام بھی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو، اور ایسے ہی مقتدی بھی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو،
اس طرح دونوں کی اداء ایک ہی حیثیت کی ہوگی۔ امام کے اداء کی حیثیت قوی ہونے کی مثال یہ ہے کہ
امام طاہر ہو اور مقتدی کسی عذر مثلاً سلسل البول وغیرہ میں مبتلا ہو تو چونکہ امام کی حیثیت قوی ہے، اور
مقتدی کی حیثیت ضعیف ہے اس صورت میں بھی دونوں کی اداء ایک ہی حیثیت کی سمجھی جائے گی، اس
کے برخلاف اگر مقتدی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو، اور امام کسی عذر میں جیسے سلسل البول وغیرہ میں
مبتلا ہو تو چونکہ امام کی حیثیت ضعیف ہے اور مقتدی کی حیثیت قوی ہے، اس لئے دونوں کی اداء ایک نہیں
سمجھی جائے گی اور ایسے معذور امام کے پیچھے طاہر مقتدی نماز ادا نہیں کرسکتا۔
حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امام (مقتدیوں کی نماز کا)
ضامن ہے حالانکہ ہر شخص اپنی نماز کا ضامن ہوا کرتا ہے تو یہاں امام کا مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہونا
اس لحاظ سے ہے جبکہ امام اور مقتدی کی نماز وجوب اور اداء کے لحاظ سے متحد ہو تو مقتدی کی ایسی نماز
امام کی نماز میں ضم ہو کر ایک ہی سمجھی جائے گی۔ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہونے پر دلیل یہ ہے
کہ امام کے سورہ فاتحہ پڑھ لینے سے مقتدی کی طرف سے بھی سورہ فاتحہ کی قرأت اداء ہو جاتی ہے۔
امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ مثلاً اگر امام کسی واجب کے
ترک ہونے سے سجدہ سہو کر رہا ہو تو مقتدی پر بھی سجدہ سہو کرنا ضروری ہے اگرچہ مقتدی سے کوئی
واجب ترک نہیں ہوا ہو، چونکہ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہی ہے اس لئے مقتدی کو بھی امام کے
ساتھ سجدہ سہو کرنا ضروری ہے۔
اس کے برخلاف اگر مقتدی سہواً کسی واجب کو چھوڑ دے تو نہ امام پر سجدہ سہو واجب ہے اور نہ
خود مقتدی پر، اس لئے کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز میں ضم نہیں ہوتی ہے بلکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز
میں ضم ہے، پس جب امام کی نماز مقتدی کی نماز میں ضم نہیں ہوئی ہے تو مقتدی کے سہو سے امام پر سجدہ
سہو لازم نہیں آئے گا اور چونکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز میں ضم ہوئی ہے، اور اس وجہ سے امام مقتدی کی
نماز کا ضامن بھی ہے اس لئے مقتدی کی نماز سہو کے باوجود بھی ناقص نہیں سمجھی جائے گی۔
جب ثابت ہو چکا کہ امام اور مقتدی کی نماز ایک ہی ہے اور امام مقتدی کی نماز کا ضامن ہے تو
مقتدی کی صحت نماز امام کی صحت نماز پر منحصر ہوگی، اس لئے امام کی نماز صحیح ہوئی تو مقتدی کی نماز بھی صحیح
ہوگی اور ایسا ہی مقتدی کی نماز کا فاسد ہونا امام کی نماز کے فاسد ہونے پر موقوف ہے کہ اگر امام کی نماز
فاسد ہوئی تو مقتدی کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی اگرچیکہ مقتدی کی نماز میں کوئی فساد واقع نہ ہوا ہو۔
مذکورہ تفصیل سے یہ ثابت ہوا کہ امام اور مقتدی کے وجوب اور ادا، ایک ہونے سے مقتدی کی
نماز امام کی نماز میں ضم ہو کر ایک ہی نماز سمجھی جائے گی اور امام، مقتدی کی ایسی نماز کی صحت اور فساد کا
ضامن ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر امام اور مقتدی کے وجوب اور ادا، ایک نہ ہوں تو مقتدی کی ایسی نماز
امام کی نماز میں ضم نہ ہوگی، اس لئے امام، مقتدی کی ایسی نماز کی صحت اور فساد کا ضامن نہ ہوگا۔
(طحاوی، بنایہ، ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ)
It is narrated from Amr ibn Dinar 1 that Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) said regarding a man who leads people in prayer while in a state of major impurity (janabah): "He must repeat the prayer, and so must they."
عثمان بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی
طالب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک واقعہ پیش ہوا، عرض کیا گیا کہ ایک شخص نے جنابت کی حالت میں
لوگوں کو نماز پڑھائی ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: (چونکہ امام نے بغیر غسل جنابت
کے نماز پڑھائی ہے، اس لئے اس کی نماز فاسد ہوگئی اور امام کی نماز کا فساد مقتدیوں پر بھی اثر کرتا
ہے، جیسے امام کی نماز نہیں ہوئی، ایسے ہی مقتدیوں کی بھی نماز نہیں ہوئی اس لئے) امام کو چاہئے کہ
پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ کرے اور مقتدیوں کو بھی چاہئے کہ اپنی اپنی نماز کا اعادہ کر لیں (اگرچیکہ
مقتدیوں سے نماز کے فساد کی کوئی وجہ پیدا نہیں ہوئی)۔
(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے۔)
It is narrated from Abu Ja'far that Ali (may Allah be pleased with him) led people in prayer while he was in a state of major impurity (janabah) or without ablution. He repeated the prayer and instructed them to repeat it as well.
ابو جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (ایک
مرتبہ یاد نہ رہنے سے) جنابت کی حالت میں یا بغیر وضوء لوگوں کو نماز پڑھا دی (جب حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو یاد آ گیا تو) آپ نے خود بھی نماز کا اعادہ فرمایا اور لوگوں کو بھی نماز کے اعادہ کا حکم دیا۔
(اس سے ثابت ہوا کہ امام کی نماز کا فساد مقتدیوں کی نماز کے فساد کا سبب ہوتا ہے)۔
(اس حدیث کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Umamah (may Allah be pleased with him) that Umar (may Allah be pleased with him) led people in prayer while he was in a state of major impurity (janabah). He repeated the prayer, but the people did not repeat it. Ali (may Allah be pleased with him) said to him: "Those who prayed with you should have repeated the prayer." Umar said: "They then returned to the opinion of Ali."
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ
نے (ایک مرتبہ بھولے سے) جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو
جب یاد آیا تو آپ نے اپنی نماز کا اعادہ کرلیا لیکن لوگوں کو (یہ معلوم نہ تھا کہ امام کی نماز کا فساد مقتدی
کی نماز کے فساد کا سبب بنتا ہے) اس لئے انہوں نے نماز کا اعادہ نہیں کیا (جب حضرت علی رضی اللہ
عنہ کو معلوم ہوا کہ لوگوں نے نماز کا اعادہ نہیں کیا ہے تو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جن لوگوں
نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے ان کو بھی نماز کا اعادہ کرنا چاہئے تھا۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے
ہیں کہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ امام کی نماز کے فساد کا اثر مقتدی
کی نماز پر پڑتا ہے اس لئے مقتدیوں نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر عمل کرکے) اپنی
اپنی نمازوں کا اعادہ کرلیا۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
طاوس اور مجاہد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایسے امام کے
بارے میں جس نے لوگوں کو بلا وضوء نماز پڑھا دی ہو یہ فرمایا کہ (امام کی نماز کا فساد مقتدیوں کی نماز
کے فساد کا سبب بنتا ہے) اس لئے امام اور مقتدی اپنی اپنی نمازوں کا اعادہ کرلیں۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "It is established" etc.: At-Tahawi said: As for its ruling from a rational perspective, we have observed that the prayer of the followers is tied to the prayer of their imam in terms of its validity and invalidity. This is supported by sound reasoning, such as the fact that if the imam makes a mistake, those behind him are required to make up for it, whereas if they make a mistake and the imam does not, they are not required to do what the imam must do if he makes a mistake. Since it is established that the followers are obligated to address the imam's mistake and are exempt if the imam does not make a mistake, it is clear that their prayer is tied to the imam's prayer. Therefore, their prayer cannot be contrary to the imam's prayer. Additionally, it is evident from rational analysis that scholars agree that if a person prays behind someone in a state of major impurity (janabah) while knowing it, their prayer is invalid. They consider the follower's prayer tied to the imam's prayer. Since this is the case when the follower knows about the invalidity of the imam's prayer, it should logically apply even if they do not know. For example, if a follower prays while in a state of major impurity—whether they know it or not—their prayer is invalid. Thus, what invalidates their prayer when they know also invalidates it when they do not know. Therefore, it is reasonable to conclude that their ignorance of the imam's invalid prayer also invalidates their own prayer.
Note 1
(۱) قوله: فتعين إلخ : قال الطحاوي: وأما حكمه من طريق النظر : فإنا قد رأينا صلاة المأمومين مضمنة بصلاة إمامهم بصحتها وفسادها يوجب ذلك النظر الصحيح، من ذلك أنا رأينا الإمام إذا سها وجب على من خلفه لسهوه ما وجب عليه، ولو سَهَوْا هُمْ ولم يسه هو لم يجب عليهم ما يجب على الإمام إذا سها. فلما ثبت أن المأمومين يجب عليهم حكم السهو لسهو الإمام وينتفي عنهم حكم السهو بانتفائه عن الإمام، ثبت أن حكمهم في صلاتهم حكم الإمام في صلاته، وكان صلاتهم مضمنة بصلاته، ولما كانت صلاتهم مُضمَّنة بصلاته لم يجز أن يكون صلاتهم خلاف صلاته وأيضًا مما يدل عليه النظر أنهم أجمعوا أن رجلا لو صلى خلف جنب، وهو يعلم بذلك أن صلاته باطلة، وجعلوا صلاته مضمنة بصلاة الإمام. فلما كان ذلك كذلك إذا كان يعلم بفساد صلاة إمامه كان كذلك في النظر إذا كان لا يعلم بها. ألا ترى أن المأموم لو صلى وهو جنب - وهو يعلم أو لا يعلم - كانت صلاته باطلة، فكان ما يفسد صلاته في حال علمه به هو الذي يفسد صلاته في حال جهله به، وكان علمه بفساد صلاة إمامه تفسد به صلاته، فالنظر على ذلك أن يكون كذلك جهله بفساد صلاة إمامه.
Note 1
ف: اس حدیث شریف کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وجوب اور اداء کو سمجھ لیا جائے۔ وجوب یہ ہے کہ امام اور مقتدی کی نماز واجب ہونے کے لحاظ سے ایک ہو، یعنی امام پر جو نماز واجب ہے مقتدی بھی اسی نماز کو امام کے ساتھ ادا کر رہا ہو، مثلاً امام ظہر کی فرض نماز ادا کر رہا ہے، اور مقتدی بھی اسی وقت کی نماز ظہر ادا کر رہا ہے تو امام اور مقتدی دونوں کی یہ نماز وجوب کے لحاظ سے متحد ہوئی۔ اگر امام جمعہ پڑھ رہا ہو اور مقتدی ظہر کی نیت سے اس امام کی اقتداء کرے تو یہ اقتداء صحیح نہ ہوگی، اس لئے کہ وجوب کے لحاظ سے امام اور مقتدی کی نماز ایک نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام جمعہ کی نیت سے نماز ادا کر رہا ہے اور مقتدی ظہر کی نیت سے اقتداء کرنا چاہتا ہے تو امام اور مقتدی کے نمازوں کا وجوب جدا جدا ہونے سے امام اور مقتدی میں جس وجوب کا اتحاد ضروری ہے وہ حاصل نہ ہوا، اس لئے اقتداء درست نہ ہوئی۔ اب رہی اداء تو واضح ہو کہ وجوب کے لحاظ سے جیسے امام اور مقتدی کی نماز میں اتحاد ضروری ہے ایسے ہی یہ بھی ضروری ہے کہ امام اور مقتدی کی نمازوں میں امام کی نماز اداء کی حیثیت سے مقتدی کی اداء کی حیثیت کے برابر ہو یا قوی ہو، امام اور مقتدی کے اداء کی حیثیت برابر ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام بھی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو، اور ایسے ہی مقتدی بھی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو، اس طرح دونوں کی اداء ایک ہی حیثیت کی ہوگی۔ امام کے اداء کی حیثیت قوی ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام طاہر ہو اور مقتدی کسی عذر مثلاً سلسل البول وغیرہ میں مبتلا ہو تو چونکہ امام کی حیثیت قوی ہے، اور مقتدی کی حیثیت ضعیف ہے اس صورت میں بھی دونوں کی اداء ایک ہی حیثیت کی سمجھی جائے گی، اس کے برخلاف اگر مقتدی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو، اور امام کسی عذر میں جیسے سلسل البول وغیرہ میں مبتلا ہو تو چونکہ امام کی حیثیت ضعیف ہے اور مقتدی کی حیثیت قوی ہے، اس لئے دونوں کی اداء ایک نہیں سمجھی جائے گی اور ایسے معذور امام کے پیچھے طاہر مقتدی نماز ادا نہیں کرسکتا۔ حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے حالانکہ ہر شخص اپنی نماز کا ضامن ہوا کرتا ہے تو یہاں امام کا مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہونا اس لحاظ سے ہے جبکہ امام اور مقتدی کی نماز وجوب اور اداء کے لحاظ سے متحد ہو تو مقتدی کی ایسی نماز امام کی نماز میں ضم ہو کر ایک ہی سمجھی جائے گی۔ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہونے پر دلیل یہ ہے کہ امام کے سورہ فاتحہ پڑھ لینے سے مقتدی کی طرف سے بھی سورہ فاتحہ کی قرأت اداء ہو جاتی ہے۔ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ مثلاً اگر امام کسی واجب کے ترک ہونے سے سجدہ سہو کر رہا ہو تو مقتدی پر بھی سجدہ سہو کرنا ضروری ہے اگرچہ مقتدی سے کوئی واجب ترک نہیں ہوا ہو، چونکہ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہی ہے اس لئے مقتدی کو بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا ضروری ہے۔ اس کے برخلاف اگر مقتدی سہواً کسی واجب کو چھوڑ دے تو نہ امام پر سجدہ سہو واجب ہے اور نہ خود مقتدی پر، اس لئے کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز میں ضم نہیں ہوتی ہے بلکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز میں ضم ہے، پس جب امام کی نماز مقتدی کی نماز میں ضم نہیں ہوئی ہے تو مقتدی کے سہو سے امام پر سجدہ سہو لازم نہیں آئے گا اور چونکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز میں ضم ہوئی ہے، اور اس وجہ سے امام مقتدی کی نماز کا ضامن بھی ہے اس لئے مقتدی کی نماز سہو کے باوجود بھی ناقص نہیں سمجھی جائے گی۔ جب ثابت ہو چکا کہ امام اور مقتدی کی نماز ایک ہی ہے اور امام مقتدی کی نماز کا ضامن ہے تو مقتدی کی صحت نماز امام کی صحت نماز پر منحصر ہوگی، اس لئے امام کی نماز صحیح ہوئی تو مقتدی کی نماز بھی صحیح ہوگی اور ایسا ہی مقتدی کی نماز کا فاسد ہونا امام کی نماز کے فاسد ہونے پر موقوف ہے کہ اگر امام کی نماز فاسد ہوئی تو مقتدی کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی اگرچیکہ مقتدی کی نماز میں کوئی فساد واقع نہ ہوا ہو۔ مذکورہ تفصیل سے یہ ثابت ہوا کہ امام اور مقتدی کے وجوب اور ادا، ایک ہونے سے مقتدی کی نماز امام کی نماز میں ضم ہو کر ایک ہی نماز سمجھی جائے گی اور امام، مقتدی کی ایسی نماز کی صحت اور فساد کا ضامن ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر امام اور مقتدی کے وجوب اور ادا، ایک نہ ہوں تو مقتدی کی ایسی نماز امام کی نماز میں ضم نہ ہوگی، اس لئے امام، مقتدی کی ایسی نماز کی صحت اور فساد کا ضامن نہ ہوگا۔ (طحاوی، بنایہ، ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ)