ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری اذان وہ لوگ دیا کریں جو تم میں نہایت نیک ہوں اور تمہاری
امامت وہ کریں جو سب سے زیادہ علم والے ہیں۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اذان کیلئے افضل
اور سنت یہ ہے کہ باوضوء شخص ہی اذان دے اور یہ کہ اذان دینے والا کھڑا ہو کر ہی اذان کہے۔
(اس کی روایت ابوالشیخ نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ باوضوء شخص ہی اذان دیا کرے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 200 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باوضوء شخص کا اذان دینا مستحب
ہے اور اذان کیلئے وضوء ضروری نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قرآن کو جو عظمت میں اذان سے
زیادہ ہے بغیر ہاتھ لگائے ہوئے بغیر وضوء پڑھ سکتے ہیں تو اذان جو عظمت میں قرآن سے کم ہے بغیر
وضوء اذان دینا کس طرح ناجائز ہوگا، اس لئے جن روایتوں سے باوضوء اذان دینا ثابت ہوتا ہے ان
سے اذان باوضوء دینا مستحب قرار پائے گا، (اس کی تائید ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ کی آنے والی روایت
سے ہوتی ہے)۔ (یہ تعلیق ’’اعلاء السنن‘‘ میں مذکور ہے۔)
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر مؤذن بلا وضوء
اذان دے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے،)
اور امام محمد نے کہا ہے کہ ہم ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ کے اس قول کو اختیار کرتے ہیں اور بلا وضوء اذان
دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے البتہ ہم جنبی کے اذان دینے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اذان جزم ہے اور
تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے اور قرآن جزم ہے (یعنی اذان کے جملہ کے آخر کو سکون سے پڑھے
اور تکبیر میں بھی اسی طرح اور سلام میں بھی اسی طرح آخر کلمہ کو سکون سے پڑھے اور قرآن میں بھی
جہاں آیت ختم ہوتی ہے وہاں وقف کر کے پڑھے)۔
(اس کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے۔)
ابوالشعثاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مسجد میں ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں مؤذن نے اذان دی ایک شخص مسجد سے اٹھ کر جانے
لگا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ شخص مسجد سے باہر ہوگیا تو ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے حضور ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے (اس لئے کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ مسجد میں اذان سننے کے بعد بغیر نماز پڑھے مسجد سے جانا نہیں
چاہئے، اور اس نے ایسا نہیں کیا ہے، اس لئے یہ نافرمانی ہے۔)
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور مسلم، نسائی اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مسجد کے اندر ہے اور اذان ہوئی پھر وہ شخص مسجد سے نکل گیا اور کسی ضروری
کام کیلئے نہیں نکلا اور وہ دوبارہ مسجد میں واپس ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے تو وہ منافق ہے۔ (اس کی
روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باوضوء شخص کا اذان دینا مستحب ہے اور اذان کیلئے وضوء ضروری نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قرآن کو جو عظمت میں اذان سے زیادہ ہے بغیر ہاتھ لگائے ہوئے بغیر وضوء پڑھ سکتے ہیں تو اذان جو عظمت میں قرآن سے کم ہے بغیر وضوء اذان دینا کس طرح ناجائز ہوگا، اس لئے جن روایتوں سے باوضوء اذان دینا ثابت ہوتا ہے ان سے اذان باوضوء دینا مستحب قرار پائے گا، (اس کی تائید ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ کی آنے والی روایت سے ہوتی ہے)۔ (یہ تعلیق ’’اعلاء السنن‘‘ میں مذکور ہے۔)