Hadith 466
Volume 1English
Purification · Chapter 6
74 narrations · In source reading order
English
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
ف: حلبی کا قول ہے کہ اس خصوص میں اس قسم کی کئی روایتیں موجود ہیں جو فضائل اعمال میں قابل قبول ہیں۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) Regarding the statement: "He had a piece of cloth with which he would dry his body parts after wudu," Ibn Hajar said: "If this is authentic, it should be understood as being done either out of necessity or to show that it is permissible. Maimunah came to him after he performed wudu with a cloth, but he rejected it and began wiping the water off with his hands. For this reason, the Shafi'i scholars say it is recommended for one performing wudu or ghusl to refrain from drying off, following the example of the Prophet ﷺ." In "Al-Khanyah," it is stated that the Hanafi scholars do not see any harm in using a cloth for wiping after wudu or ghusl, as it was narrated that the Prophet ﷺ did this, and this is the correct position. However, one should avoid overdoing it or being excessive. In "Sharah al-Kanz" by al-Zayla'i, it is also noted that wiping with a cloth after wudu is permissible, and this was practiced by Uthman, Anas, Hasan ibn Ali, and Masruq. The commentary in "Ma'raj al-Rayah" mentions that while wiping with a cloth is permissible, it should not be done excessively, so that the traces of wudu remain on the body parts. "Al-Muniyah" also explicitly states that it is recommended to wipe with a cloth. Therefore, while some narrations indicate a rejection, it could have been done for a specific reason or to demonstrate the permissibility of wiping with a cloth.
(۱) قوله : خرقة ينشف بها إلخ : قال ابن حجر : هذا إن صح فمحمول على أنه لعذر أو لبيان الجواز؛ لأن ميمونة أتته بعد وضوئه بمنديل فرده، وجعل ينفض الماء بيده، ولذا قال أصحابنا الشافعية يسن للمتوضئ والمغتسل ترك التنشيف للاتباع. اهـ وفي الخانية»: لا بأس عند الحنفية للمتوضئ والمغتسل أن يتمسح بالمنديل؛ لما روي عن رسول الله ﷺ أنه فعل ذلك، وهو الصحيح. إلا أنه ينبغي أن لا يبالغ ولا يستقصى. وفي شرح الكنز» للزيلعي : لا بأس بالتمسح بالمنديل بعد الوضوء، روي ذلك عن عثمان وأنس والحسن بن على ومسروق. وقال في معراج الراية»: إلا أنه لا يبالغ فيبقى أثر الوضوء على أعضائه، وصرح باستحباب التمسح صاحب «المنية» هذا. ويمكن أن يكون رده لعذر أو لبيان الجواز. كذا في «المرقاة» وغيره.
ف: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضوء کے بعد رومال پیش کیں تو آپ نے اس کو واپس فرمایا اور دست مبارک سے پانی کو پونچھنے لگے، اسی بناء پر شوافع کہتے ہیں کہ وضوء اور غسل کرنے والے کے لئے مسنون یہ ہے کہ وہ رومال وغیرہ سے اعضاء کو پونچھا نہ کرے، لیکن خانیہ میں لکھا ہے کہ احناف کے پاس وضوء کرنے والے اور غسل کرنے والے کے اعضاء کو کپڑے سے خشک کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے اس طرح پونچھا ہے اور یہی صحیح ہے، البتہ پونچھنے میں بہت ہی زیادتی نہ کرے، چنانچہ شرح کنز اور زیلعی میں مذکور ہے کہ وضوء کے بعد کپڑے سے پونچھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لئے کہ حضرت عثمان، انس، امام حسن بن علی اور مسروق رضی اللہ عنہم سے پونچھنے کی روایت آئی ہے۔ اور معراج الدرایہ میں مذکور ہے کہ پونچھنے میں بہت ہی زیادتی نہ کرے بلکہ اس طرح پونچھے کہ اعضائے وضوء پر وضوء کے پانی کے علامات باقی رہیں، پونچھنے کے مستحب ہونے کی صراحت مصنف منیہ نے کی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا رومال واپس فرما دیا ہو تو کسی عذر کے لئے ہو یا یہ بتلانے کے لئے کہ نہ پونچھنا بھی جائز ہے۔ (ماخوذ از ”مرقات“ وغیرہ)۔
English
Mishkat (candidate) 436
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Mishkat (candidate) 389
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا خواہ وضوء ہو یا نہ ہو عزیمت ہے، اور ایک ہی وضوء سے کئی نمازوں کا ادا کرنا رخصت ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وضوء اور بے وضوء، ہر دو حالتوں میں ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا عزیمت پر عمل تھا۔
English
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
عبداللہ بن محمد بن یعقوب رحمہ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جس شخص نے تین مرتبہ سر کے مسح کرنے کی روایت کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تین مرتبہ سر کا مسح اس طرح کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنا دست مبارک تالو پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں کو سر کے پچھلے حصہ تک لے گئے پھر وہاں سے ہاتھوں کو سر کے اگلے حصہ تک واپس لائے اور اسی کو تین مرتبہ مسح قرار دیا حالانکہ وہ (پورے سر پر) ایک ہی مرتبہ تھا اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو سر سے الگ نہیں کیا اور نہ تین مرتبہ آپ نے پانی لیا، یہ ایسا ہے جیسے کوئی پانی ہاتھ میں لے پھر اس کو بہو بچوں کے کنارے تک کھینچ لے جائے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے جارود بن زید، خارجہ بن مصعب اور اسد بن عمر رضی اللہ عنہم سے جو روایت کی ہے اس میں صرف ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے تو جب خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسح کرنے کی روایت کی ہے تو اسی صورت میں تین مرتبہ مسح کرنے کا مفہوم وہی ہوگا جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔