حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرنا چاہے تو یہ دعاء
پڑھے: بِسْمِ اللهِ، اللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَارَزَقْتَنَا (ہم اللہ کے نام سے
مدد چاہتے ہیں یا الٰہی ہم کو شیطان سے محفوظ رکھ اور تو ہم کو جو دے گا ہماری اولاد اس کو بھی شیطان سے
محفوظ رکھ۔ تو ان دونوں (یعنی میاں بیوی سے) اولاد مقدر ہے تو اس بچہ کو شیطان ہرگز نقصان نہیں
پہنچائے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 141 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1434a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Chapter-heading commentary
Various supplications for different occasions
(1) The statement "Various supplications for different occasions" - Know that whatever has been prescribed by the Lawgiver for specific times or situations should be practiced by everyone at least once to follow the Sunnah. As mentioned in Al-Mirqat.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱)قوله: الدعوات المتفرقة في الأوقات واعلم أن كل ما ورد من الشارع في زمن أو حال مخصوص يسن لكل أحد أن يأتي به لذلك، ولو مرة للاتباع. قاله في «المرقاة».
قوله
(۱) قوله: يقول عند الكرب إلخ في هذا الذكر إشارة بأنه لا يقدر أحد على إزالة الغم إلا الله. قال الطيبي : هذا ذكر يترتب عليه رفع الكرب. قاله في المرقاة». وقال النووي: وهو حديث جليل ينبغي الاعتناء به، والإكثار عنه عند الكرب، والأمور العظيمة. قال الطبري: كان السلف يدعون به ويسمونه دعاء الكرب انتهى. وقال ابن بطال : حدثني أبو بكر الرازي قال: كنت بأصبهان عند أبي نعيم أكتب الحديث عنه، وهناك شيخ يقال له : أبو بكر بن علي عليه مدار الفتيا، فسعى به عند السلطان، فسجنه، فرأيت النبي في المنام وجبريل عن يمينه يحرك شفتيه بالتسبيح لا يفتر، فقال لي النبي قل لأبي بكر بن علي يدعو بدعاء الكرب الذي في صحيح البخاري حتى يفرج الله عنه، فأصبحت فأخبرته، فدعا به فلم يكن إلا قليلا حتى أخرج من السجن. كذا في «عمدة القاري».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ بیوی سے صحبت کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لینے
سے بچہ شیطان کے ضرر سے محفوظ رہتا ہے، علماء نے اس حفاظت کی تفصیل میں کہا ہے کہ شیطان بچہ کو
کافر نہیں کرسکتا اور اس کا خاتمہ بالخیر ہوگا یا اس کو جنون یا مرگی کے مرض میں مبتلا نہیں کرے گا الغرض بچہ
شیطان کے تصرف سے محفوظ رہے گا اور یہ سب اللہ کے ذکر کی برکتیں ہیں۔ (مرقات12)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کرب یعنی شدت فکر اور غم میں اس دعاء کو پڑھا کرتے تھے:
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بزرگ اور برتر ہیں اور حلیم ہیں (کہ نافرمانوں سے بدلہ
لینے میں جلدی نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جو عرش عظیم کے مالک ہیں اور اللہ تعالیٰ
کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کے رب ہیں اور عرش کریم کے رب ہیں۔ اس کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6346 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2730a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He would say during times of distress
(1) The statement "He would say during times of distress" - This supplication indicates that no one can remove distress except Allah. At-Tibi said this is a remembrance that leads to the removal of distress. An-Nawawi said this is a noble hadith that should be given attention and frequently recited during difficulties. At-Tabari said the early scholars would recite it and called it "the supplication of distress." Ibn Battal narrated that Abu Bakr ar-Razi saw the Prophet (ﷺ) in a dream telling him to recite this supplication, and when he did, he was released from prison. As mentioned in Umdat al-Qari.
Note 1
قوله
(۱) قوله: يقول عند الكرب إلخ في هذا الذكر إشارة بأنه لا يقدر أحد على إزالة الغم إلا الله. قال الطيبي : هذا ذكر يترتب عليه رفع الكرب. قاله في المرقاة». وقال النووي: وهو حديث جليل ينبغي الاعتناء به، والإكثار عنه عند الكرب، والأمور العظيمة. قال الطبري: كان السلف يدعون به ويسمونه دعاء الكرب انتهى. وقال ابن بطال : حدثني أبو بكر الرازي قال: كنت بأصبهان عند أبي نعيم أكتب الحديث عنه، وهناك شيخ يقال له : أبو بكر بن علي عليه مدار الفتيا، فسعى به عند السلطان، فسجنه، فرأيت النبي في المنام وجبريل عن يمينه يحرك شفتيه بالتسبيح لا يفتر، فقال لي النبي قل لأبي بكر بن علي يدعو بدعاء الكرب الذي في صحيح البخاري حتى يفرج الله عنه، فأصبحت فأخبرته، فدعا به فلم يكن إلا قليلا حتى أخرج من السجن. كذا في «عمدة القاري».
Note 1
ف: واضح ہوکہ دعاء الکرب سختی اور کرب کے وقت مفید اور مجرب ہے۔ جیسے کوئی درد لاحق ہو یا
آگ لگ جاوے یا پانی میں ڈوبنے لگے یا کسی اور بلا میں پھنس جاوے۔ چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ
نے فرمایا ہے کہ اس حدیث پر توجہ دینی چاہئے اور شدت تکلیف کے وقت اس پر عمل کرنا چاہئے۔ علامہ
طبری نے کہا ہے کہ سلف کا اس پر عمل تھا اور وہ بھی اس دعاء کو دعاء الکرب کہتے تھے۔ علامہ ابن بطال
نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے ابوبکر رازی نے کہا کہ: میں ایک مرتبہ اصفہان میں شیخ ابو نعیم کے پاس
حدیث لکھا کرتا تھا اور وہاں ایک شیخ رہا کرتے تھے جن کا نام ابوبکر بن علی تھا اور وہ افتاء کا کام کیا کرتے
تھے۔ بادشاہ وقت کے پاس کسی نے ان کی شکایت کی تو بادشاہ نے ان کو قید میں ڈال دیا۔ ابوبکر رازی
نے کہا کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اس وقت حضرت جبرئیل علیہ
السلام آپ کے سیدھی جانب میں اور مسلسل بغیر تھکے کے تسبیح پڑھ رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ابوبکر بن علی سے کہو کہ وہ صحیح بخاری میں جو دعاء الکرب مروی ہے اس کو
پڑھے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت کو دور فرما دے۔ میں نے اس خواب کی اطلاع ابوبکر بن علی کو دی اور
انہوں نے اس دعا کو پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے دن نہ گزرے تھے کہ قید سے ان کو رہائی مل گئی۔ یہ
واقعہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔ اس واقعہ سے اس دعا کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم فرمائے ہیں کہ غمزدوں کی دعا یہ ہے:
یا الٰہی! میں آپ ہی کی رحمت کا امیدوار ہوں، ایک لمحہ کے لئے بھی آپ مجھے اپنے نفس کے
سپرد نہ کیجئے اور آپ ہی میرے سب کام درست فرما دیجئے آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کی
روایت ابوداود نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی
چیز سے تکلیف پہنچتی تو یوں فرمایا کرتے تھے: ”يَاحَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ“ ”اے
زندہ جاوید! اے (ساری کائنات کے) سنبھالنے والے میں آپ ہی کی رحمت سے مدد چاہتا
ہوں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی کی فکر اور غم بڑھ جائے تو اس کو چاہئے کہ یہ دعا پڑھے:
یا الٰہی! میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندہ کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں اور میں تیرے
قبضہ میں ہوں، میری پیشانی کے بال آپ کے ہاتھ میں ہیں، مجھ پر تیرا ہی حکم جاری ہے تیرا فیصلہ
میرے حق میں انصاف ہے، میں تیرے ہر اس نام پاک کے وسیلہ سے مانگتا ہوں جس کو آپ نے
اپنی ذات کے لئے موسوم اور مخصوص کیا ہے یا جس نام کو آپ نے اپنی کتاب میں نازل کیا یا اس نام
کو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا جس نام کو آپ نے اپنے پردۂ غیب میں چھپائے
رکھا ہے، تو قرآن عظیم کو میرے دل کی راحت اور میری فکر اور غم کا دور کرنے والا بنا دے۔
جب کبھی کوئی بندہ اس دعاء کو پڑھتے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے غم کو دور فرما دیں گے اور اس کے
غم کو خوشی سے بدل دیں گے۔ اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی
نے عرض کیا: یا رسول اللہ مجھے بہت سی فکریں لاحق ہوگئی ہیں اور قرض (کا بوجھ بھی) بڑھ گیا ہے تو
آپ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا کلام یعنی دعاء نہ سکھاؤں جب تم اس کو پڑھا کرو گے تو اللہ تعالیٰ
تمہاری فکر کو دور کر دے گا اور تمہارے قرض کو ادا کر دے گا۔ راوی کا بیان ہے میں نے عرض کیا:
کیوں نہیں (آپ ضرور بتائیں!) آپ نے فرمایا کہ تم صبح اور شام اس دعاء کو پڑھا کرو:
یا الٰہی! میں فکر اور رنج سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور بے بسی اور سستی سے آپ کی پناہ میں
آتا ہوں اور بخل سے اور بزدلی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں قرض کے بوجھ اور لوگوں کے ظلم
اور زیادتی سے بھی آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
ان صحابی کا بیان ہے کہ میں اس دعا کو صبح اور شام پڑھتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے میری فکر کو دور کر دیا
اور مجھ سے میرا قرض ادا کروا دیا۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ کے پاس ایک
مکاتب (مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس کو مالک مقررہ رقم ادا کرنے پر آزاد کر دے) آیا اور عرض
کیا کہ: میں کتابت (یعنی آزاد ہونے کی مقررہ رقم) ادا کرنے سے عاجز ہو چکا ہوں (اس بارے
میں) آپ میری مدد فرمائیے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں تم کو وہ کلمات نہ بتاؤں
جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سکھایا ہے۔ اگر تمہارے اوپر ایک بڑے پہاڑ کے برابر
بھی قرض ہو تو (ان کلمات کے پڑھنے سے) اللہ تعالیٰ تمہارے قرض کو ادا کر دے گا۔ تم (یہ دعاء)
یا الٰہی! آپ مجھے حرام سے بچا کر حلال روزی سے میری کفالت کر دیجئے اور آپ اپنی مہربانی
سے اپنے سوا دوسروں سے مجھے بے نیاز کر دیجئے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور بیہقی نے دعوات کبیر میں اس کی روایت کی ہے۔
سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے دو شخص ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور ان
میں سے ایک اپنے ساتھی کو غصہ کی وجہ سے جس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا، بہت برا بھلا کہہ رہا تھا (یہ دیکھ
کر) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا (برکت والا) کلمہ جانتا ہوں اگر وہ
شخص اس کو کہہ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے (وہ کلمہ یہ ہے): أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
صحابہؓ نے اس شخص سے کہا کہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو نہیں سن رہا ہے؟
تو اس شخص نے جواب دیا میں دیوانہ نہیں ہوں (میں سن رہا ہوں اس پر ضرور عمل کروں گا) اس
حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو اس
لئے کہ اس نے فرشتہ کو دیکھا ہے (اور یہ قبولیت دعاء کا وقت ہوتا ہے) اور جب تم گدھے کی آواز
سنو تو ”أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“ پڑھو اس لئے کہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔ (اس
کی روایت مسلم اور بخاری نے متفقہ طور پر کی ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3303 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2729 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
it has seen an angel
(1) The statement "it has seen an angel" indicates the recommendation to supplicate when righteous beings are present, as mercy descends at their mention. As mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
it has seen a Satan
(2) The statement "it has seen a Satan" indicates the descent of wrath and punishment upon disbelievers, so one should seek refuge when passing by them. As mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱)قوله: فإنها رأت ملكا فيه استحباب الدعاء عند حضور الصالحين؛ فإن عند ذكرهم تنزل الرحمة فضلا عن وجودهم وحضورهم، فيستحب عند ذلك طلب الرحمة والبركة من الله الكريم. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(٢) قوله: فإنه رأى شيطانا: هذا يَدلُّ على نزول الغضب والعذاب على أهل الكفر، فيستحب الاستعاذة عند مرورهم خوفا أن يصيبه من شرورهم. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ گدھا شیطان کو دیکھ کر پکارتا ہے اور مرغ فرشتہ کو دیکھ
کر بانگ دیتا ہے۔ گدھا حماقت اور زیادہ کھانے کے سبب شیطان سے مناسبت رکھتا ہے اور مرغ
سخاوت، شجاعت اور کم خوابی میں فرشتہ سے مناسبت رکھتا ہے۔ فرشتہ کے سامنے دعاء کا حکم اس لئے دیا
گیا کہ فرشتہ بھی دعاء میں شریک ہو جائے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صالحین کے حضور میں دعاء
مستحب ہے اور شیطان کے شر سے بچنے کے لئے استعاذہ مستحب ہے۔ 12 (مرقات)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ جب تم کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے پکارنے کو سنو
تو ”أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“ پڑھا کرو کیوں کہ یہ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں جن کو تم نہیں
دیکھتے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی شخص یعنی مسافر کو رخصت فرماتے تو اس کے ہاتھ کو پکڑتے اور
(نہایت شفقت اور تواضع اور اظہار محبت میں) اس کا ہاتھ نہیں چھوڑتے اور آپ یوں دعا
میں تمہارے دین کو، تمہاری امانت کو اور تمہارے آخر عمل (یا خاتمہ بالخیر) کو اللہ تعالیٰ کے سپرد
کرتا ہوں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بھی اسی کے قریب قریب روایت فرمائی ہے۔
حضرت عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب (دشمن کے مقابلہ میں) فوج کو رخصت کرنے کا ارادہ فرماتے تو یوں
دعا فرماتے: اَسْتَوْدِعُ اللّٰهَ دِينَكُمْ، وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ (میں تمہارے دین
تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں)۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی
ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ! میں سفر کا
ارادہ رکھتا ہوں آپ مجھے کچھ توشہ دیدیجئے (یعنی دعاء فرمائیے کہ میرے سفر میں برکت ہو) تو آپ
نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ تجھے تقویٰ اور پرہیزگاری نصیب فرمائے (کہ یہ آخرت میں تجھے کام
آوے گی) انہوں نے عرض کیا: میرے لئے کچھ اور دعاء فرمائیے! تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے
گناہوں کو معاف کرے! انہوں نے پھر درخواست کی اور مزید دعاء فرمائیے میرے باپ اور میری
ماں آپ پر سے فدا ہوجائیں تو آپ نے فرمایا: تو جہاں بھی جائے اللہ تعالیٰ تیرے لئے (ہر کام
میں) آسانی دے۔ (اور تجھے دین اور دنیا کی بھلائی کی توفیق دے) اس کی روایت ترمذی نے کی
ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3444 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص بوقت سفر دعاء کی درخواست کرے تو
اس طرح دعاء دینی چاہئے: زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى، وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ۔12
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی
نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے (کچھ) نصیحت فرمائیے۔
آپ نے فرمایا: تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ لازم کرلو اور ہر بلند مقام پر (چڑھو تو) اللَّهُ اَكْبَرُ کہا
کرو۔ جب وہ صاحب (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے) رخصت ہونے لگے تو (غیاب میں)
آپ نے یوں دعاء فرمائی: اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبُعْدَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ۔
یا الٰہی! اس کے لئے (سفر کی) دوری کو کم کردے اور اس پر سفر میں آسانی فرما۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب سفر پر روانہ ہونے کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ فرماتے: پھر یہ دعاء
پڑھتے:
پاک ہے وہ (ذات عالی) جس نے اس (سواری) کو ہمارے قابو میں کر دیا ہے اور ہم تو
(اس قابل) نہ تھے کہ اس کو اپنے قابو میں کر لیتے اور بیشک ہم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا
ہے۔ یا الٰہی! ہم آپ سے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری مانگتے ہیں اور ایسا عمل جو آپ کو خوش
کر دے۔ یا الٰہی! ہم پر یہ ہمارا سفر آسان کر دے اور اس کی دوری کو کم کر دے۔ یا الٰہی! سفر میں آپ
ہی ہمارے محافظ ہیں اور اہل (و عیال) کے آپ ہی نگہبان ہیں۔ یا الٰہی! میں سفر کی مشقت اور
(واپسی پر) اہل اور مال میں برے منظر اور نقصان کے دیکھنے سے آپ ہی کی پناہ میں آتا ہوں۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب (سفر سے واپس) تشریف لاتے تو انہی کلمات کو پڑھتے
اور (ان کے ساتھ) یہ الفاظ زیادہ فرماتے: آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ .
(ہم سلامتی کے ساتھ) واپس ہونے والے، توبہ کرنے والے، اپنے پروردگار کی عبادت
کرنے والے اور تعریف کرنے والے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کی سواری کے
لئے ایک جانور لایا گیا جب آپ نے اپنے پیر کو رکاب میں رکھا تو بِسْمِ اللّٰه کہا اور جب آپ اس
کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایا الْحَمْدُلِلّٰه پھر (یہ آیت پڑھی)۔ ”سُبْحٰنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا
پھر تین 3 مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللّٰهُ اَكْبَرُ فرما کر (یہ دعاء) پڑھی۔ سُبْحَانَكَ
میں آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے آپ مجھے بخش دیجئے اس لئے
کہ گناہوں کو آپ ہی بخشتے ہیں۔
اس دعاء کو پڑھنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنس پڑے تو آپ سے دریافت کیا گیا
:امیرالمؤمنین آپ کیوں ہنسے؟ تو آپ نے فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں ایسے ہی
کرتے دیکھا جیسا کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے! تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کیوں
ہنسی آئی۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب کہ وہ یہ کہیں
”اے میرے رب! میرے گناہوں کو بخش دے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (بندہ) جانتا ہے کہ
میرے سوا گناہوں کا بخشنے والا کوئی نہیں۔
”اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداود نے کی ہے“۔
حضرت عبداللہ بن سَرْجِس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی سفر پر روانہ ہوتے تو سفر کی مشقت، واپسی پر نقصان، بھلائی
کے بعد برائی، مظلوم کی بد دعا، اور اہل (وعیال) اور مال کی بری حالت دیکھنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ
طلب فرماتے تھے۔ ”اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔“
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب ہم (کسی
بلند جگہ) چڑھتے تو اللہ اکبر کہا کرتے اور جب اترتے تو سبحان اللہ پڑھا کرتے۔ اس کی
روایت بخاری نے کی ہے۔
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ: میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ: جو (حضر یا سفر میں) کسی جگہ قیام کرے اور
یہ دعا پڑھے: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔
میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات یعنی اس کے اسماء اور صفات کی پناہ لیتا ہوں مخلوقات کی برائی
سے۔ تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ اپنی منزل سے روانہ ہو جائے۔ اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کئے یا رسول اللہ! ایک بچھو کے
کاٹنے سے کل رات مجھے کیا سخت تکلیف پہنچی ہے؟ (میں بتا نہیں سکتا۔ یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم شام کے وقت أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ پڑھ
لئے تو تم کو کچھ تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2709a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ترمذی کی ایک روایت میں یوں مروی ہے کہ جو کوئی مذکورہ کلمات کو شام کے
وقت تین بار پڑھے تو کسی جانور کا زہر اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ
جو کوئی صبح کے وقت مذکورہ دعاء کو پڑھے تو وہ دن میں مؤذی چیزوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اور حضرت
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص یہ دعاء پڑھتا ہے تو ستر(70) ہزار فرشتے اس کی
مغفرت کی دعاء کرتے ہیں اگر وہ مر جائے تو شہید مرتا ہے۔
(مرقات12)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر پر تشریف لے جاتے اور رات آ جاتی تو یہ دعاء پڑھتے:
اے زمین! میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں تیرے شر (جیسے
زلزلہ) سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے (جیسے خسف) سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں
پیدا کئے گئے اور ان چیزوں کے شر سے جو تجھ پر چلتے ہیں۔ اور میں اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں شیر سے،
سیاہ سانپ سے اور دوسرے سانپوں اور بچھوؤں سے اور شہروں میں رہنے والوں کے شر سے اور اس کی
ذُرِّیّت کے شر سے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب سفر پر ہوتے اور سحر کا وقت ہوتا تو یوں فرماتے:
سننے والے نے میرے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے اور اس کی نعمتوں کے اقرار اور اعتراف کو
سن لیا۔ اے ہمارے رب! ہماری نگہبانی فرما اور ہم پر احسان فرما۔ (یہ دعا) ہم دوزخ سے اللہ کی پناہ
میں آتے ہوئے (کہتے ہیں)۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی کسی غزوہ سے یا حج سے یا عمرہ سے واپس ہوتے تو (دوران سفر) زمین کی
ہر بلندی پر تین مرتبہ ”اللہ اکبر“ فرماتے پھر یہ دعا پڑھتے:
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے
اور تمام تعریف بھی اسی کے لئے ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم (اپنے وطن کی طرف) لوٹتے
ہوئے (اللہ کی طرف) رجوع ہوتے ہیں۔ ہم اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز
ہیں اور اپنے رب کی ہی تعریف بیان کرتے ہیں (دین کو غالب کر کے) اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو
سچ کر دکھایا اور اپنے بندہ (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد فرمائی (جیسا کہ غزوۂ خندق میں) اللہ
تعالیٰ نے سارے قبائل کو تنہا شکست دی۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم الاحزاب یعنی غزوۂ خندق کے روز مشرکوں پر بددعا ء کی اور
اے اللہ! قرآن کے نازل کرنے والے! اے حساب کے جلد لینے والے۔ یا الٰہی! کفار کے
لشکر کو شکست دے۔ اے اللہ (میں پھر دعا کرتا ہوں کہ) ان کو شکست دے اور ان کو منتشر کر دے۔ اس
کی روایت مسلم اور بخاری نے متفقہ طور پر کی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم جب جہاد فرماتے تو یوں دعا فرماتے:
یا الٰہی! تو ہی میرا معین و مددگار ہے۔ آپ (ہی) کی مدد سے دشمنوں کے خلاف) میں تدبیر کرتا
ہوں اور (ان پر) آپ ہی کی قوت سے حملہ کرتا ہوں اور (آپ ہی کی مدد سے ان سے) لڑتا
ہوں۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ غزوۂ
خندق کے دن ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کوئی ایسی دعا ہے کہ ہم اس کو
پڑھیں (اس لئے کہ خوف و دہشت کی وجہ سے) کلیجے مونہوں کو آگئے ہیں۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا:
ہاں (یہ دعا پڑھو)
یا الٰہی! ہمارے عیبوں کو چھپا دے اور ہمارے خوف اور دہشت کو امن سے بدل دے۔
حضرت ابوسعید خدری نے فرمایا کہ (ہم نے یہ دعا پڑھی اور اس کا اثر یہ ہوا کہ) اللہ تعالیٰ
نے اپنے دشمنوں کے چہروں کو تیز ہوا سے مارا اور اس آندھی سے ان کو شکست دی۔ اس کی روایت
امام احمد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ غزوۂ خندق جس کو احزاب بھی کہتے ہیں اس کا ذکر سورہ احزاب میں مذکور
ہے۔ یہاں مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔
ہجرت کے چھٹے سال یہود بنی نضیر جن کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ہر قبیلہ میں پھرے اور قریش،
فزارہ، غطفان اور بنی قریظہ کے بارہ ہزار آدمیوں کو جمع کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کیا مسلمان صرف تین
ہزار تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق
کھدوائی۔ ایک مہینہ تک مشرکین نے محاصرہ کیا لیکن حملہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایک رات اللہ تعالیٰ
نے ایک آندھی بھیجی جس کی وجہ سے (دشمنوں کے خیمے اکھڑ گئے، آگ بجھ گئی، گھوڑے بھاگ کھڑے
ہوئے لشکر برباد ہو گیا۔ ناچار سارے قبائل واپس ہو گئے۔ حاشیہ مشکاۃ۔12
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کو جب کسی قوم سے خطرہ لاحق ہوتا تو یہ دعا فرماتے:
یا الٰہی! ہم آپ کو (دشمنوں) کے مقابل کرتے ہیں اور ان کے شر سے آپ کی پناہ میں آتے
ہیں۔
اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1537 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
when he feared a people
(1) The statement: "when he feared a people" - In Al-Hisn it is mentioned: "If one fears an enemy or others, reciting Surah Quraysh is protection from every evil - this has been tried." As mentioned in Al-Maraqi.
Note 1
قوله
(۱)قوله : إذا خاف قوما وفي «الحصن»: وإن خاف من عدو وغيره فقراءة لإيلاف قريش أمان من كل سوء مجرب. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: واضح ہو کہ مرقات میں حصن حصین کے حوالہ سے لکھا ہے کہ دشمن وغیرہ سے خوف کے موقع
پر سورۃ لِاِیلافِ قُرَیْشٍ کا پڑھنا اور اس خوف سے سلامتی کے لئے بھی مجرب ہے۔
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کے ہاں بطور مہمان تشریف لائے ہم نے آپ کی
خدمت میں کھانا اور ملیدہ پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے کچھ تناول فرمایا پھر
آپ کی خدمت میں خشک کھجور پیش کئے گئے آپ کھجور کھاتے اور اس کی گٹھلیوں کو اپنے دونوں
انگلیوں یعنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں جمع فرماتے۔
اور ایک روایت میں یوں ہے کہ: آپ گٹھلیوں کو (بائیں ہاتھ کی) شہادت کی
انگلی اور درمیانی انگلی کی پیٹھ پر رکھتے جاتے۔
پھر آپ کی خدمت میں پانی حاضر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی نوش فرمایا (پھر
جب آپ رخصت ہونے لگے تو) میرے والد نے آپ کی سواری کی لگام تھامے ہوئے عرض کیا:
آپ ہمارے لئے دعاء فرمائیں! تو آپ نے فرمایا:۔
یا الٰہی! ان کی روزی میں برکت دیجئے اور ان کو بخش دیجئے اور ان کے اوپر رحم فرمائیے۔ اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
سلم جب ہلال دیکھتے تو یہ دعاء فرماتے:
یا الٰہی! اس چاند کو آپ ہمارے لئے امن، ایمان سلامتی اور اسلام (پر استحکام کا) سبب بنا
دیجئے (اے چاند!) تیرا رب اور میرا رب اللہ ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور دارمی اور ابن حبان بھی اس کی روایت کی ہے اور ان دونوں نے اس دعاء
میں یہ اضافہ کیا ہے: وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى. اور (ہم کو ان کاموں کی) توفیق عطا فرمائیے
جو آپ کو پسند ہیں اور آپ جن سے خوش ہیں۔
حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ جب ہلال دیکھتے تو یوں فرماتے:
یہ بھلائی اور ہدایت کا چاند ہے۔ یہ بھلائی اور ہدایت کا چاند ہے۔ یہ بھلائی اور ہدایت کا چاند
ہے (میں اس ذات پر ایمان لاتا ہوں جس نے تجھے پیدا کیا) اور اس کو بھی تین بار فرماتے پھر
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو اس مہینہ کو لے گیا اور فلاں مہینہ لایا۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (4)
Chapter-heading commentary
(1) The statement "Various supplications for different occasions" - Know that whatever has been prescribed by the Lawgiver for specific times or situations should be practiced by everyone at least once to follow the Sunnah. As mentioned in Al-Mirqat.
Chapter-heading commentary
(۱)قوله: الدعوات المتفرقة في الأوقات واعلم أن كل ما ورد من الشارع في زمن أو حال مخصوص يسن لكل أحد أن يأتي به لذلك، ولو مرة للاتباع. قاله في «المرقاة».
(۱) قوله: يقول عند الكرب إلخ في هذا الذكر إشارة بأنه لا يقدر أحد على إزالة الغم إلا الله. قال الطيبي : هذا ذكر يترتب عليه رفع الكرب. قاله في المرقاة». وقال النووي: وهو حديث جليل ينبغي الاعتناء به، والإكثار عنه عند الكرب، والأمور العظيمة. قال الطبري: كان السلف يدعون به ويسمونه دعاء الكرب انتهى. وقال ابن بطال : حدثني أبو بكر الرازي قال: كنت بأصبهان عند أبي نعيم أكتب الحديث عنه، وهناك شيخ يقال له : أبو بكر بن علي عليه مدار الفتيا، فسعى به عند السلطان، فسجنه، فرأيت النبي في المنام وجبريل عن يمينه يحرك شفتيه بالتسبيح لا يفتر، فقال لي النبي قل لأبي بكر بن علي يدعو بدعاء الكرب الذي في صحيح البخاري حتى يفرج الله عنه، فأصبحت فأخبرته، فدعا به فلم يكن إلا قليلا حتى أخرج من السجن. كذا في «عمدة القاري».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ بیوی سے صحبت کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لینے سے بچہ شیطان کے ضرر سے محفوظ رہتا ہے، علماء نے اس حفاظت کی تفصیل میں کہا ہے کہ شیطان بچہ کو کافر نہیں کرسکتا اور اس کا خاتمہ بالخیر ہوگا یا اس کو جنون یا مرگی کے مرض میں مبتلا نہیں کرے گا الغرض بچہ شیطان کے تصرف سے محفوظ رہے گا اور یہ سب اللہ کے ذکر کی برکتیں ہیں۔ (مرقات12)۔