العربية
Typed, pending editorial approval
٣١٤٨ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «خَمْسُ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلَّ وَالْحَرَمِ: الحَيَّةُ وَالْغُرَابُ1 الْأَبْقَعُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْخُدَيَّا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1829 (unverified) 92% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1198a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱)قوله: الغراب الأبقع والغراب عندنا المراد به الأبقع لصراحته في هذا الحديث، والغراب في كتبنا أنه على ثلاثة أقسام، أحدها: الذي يأكل الحبوب فقط، وهو حلال اتفاقا. والثاني: الذى يأكل الجيف فقط، وهو حرام اتفاقا. والثالث: هو الذي يخلط بين أكلهما، وهو مكروه عند أبي يوسف وحلال عندهما . كذا في العرف الشذي».
Note 1
ف: واضح ہو کہ خشکی کے شکار کی دو قسمیں ہیں: (1) ایسے جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ (2) ایسے جانور جن کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔ تو ایسے جانور جن کا گوشت حلال ہے محرم کو ان کا شکار کرنا جائز نہیں ہے جیسے ہرن، خرگوش اور ایسے پرندے بھی جن کا گوشت حلال ہے ان کا شکار بھی جائز نہیں۔ خواہ وہ خشکی پر رہنے والے ہوں یا سمندر پر، اس لئے تمام پرندوں کا شمار خشکی کے جانوروں میں ہوتا ہے اس لئے کہ ان کی پیدائش خشکی پر ہوتی ہے اور وہ صرف غذا کے لئے ضرورۃً سمندر میں جاتے ہیں۔ (1) ایسے جانور جو طبعاً موذی ہوں جیسے بھیڑیا، شیر وغیرہ تو محرم ان جانوروں کو ہر حالات میں، ہر مقام پر ہلاک کر سکتا ہے، اس لئے کہ بغیر کسی سبب کے اذیٰ کا دفع کرنا واجب ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ حدیثوں میں ایسے موذی جانور کو ہلاک کرنے کی اجازت دی ہے۔ (2) موذی جانوروں کی ایک قسم وہ ہے جو طبعاً موذی نہیں ہوتے بلکہ انسان کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں جیسے لومڑی، چوہا وغیرہ تو آیت شریفہ ” لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ“، میں ایسے ہی جانوروں کا شکار ممنوع ہے۔ بدائع، بذل المجہود۔12