Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات نے شرح السنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف سے کئی مسائل
معلوم ہوئے:
مسئلہ (1) نفل نماز کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے لئے اذان اور
اقامت نہ دی جائے۔
مسئلہ (2) امام کی اقتداء اگر صرف ایک مقتدی کر رہا ہو تو وہ امام کے داہنے جانب اس طرح
کھڑا رہے کہ مقتدی کے پیروں کی انگلیاں امام کی ایڑی کے پاس رہیں۔
(یہ اعلاء السنن میں طحاوی کے حوالہ سے مذکور ہے۔12)
مسئلہ (3) اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما
کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر گھماتے ہوئے سیدھے جانب کھڑا کر دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عمل قلیل نماز
میں ضرورتاً جائز ہے۔
مسئلہ (4) اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی
اللہ عنہما کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے گھما کر داہنے جانب کھڑا کر دیا۔ حالانکہ سامنے سے گھما کر کھڑا کرنا
آسان تھا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کا امام کے آگے ہونا جائز نہیں ہے، اسی لئے حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سے لائے، سامنے سے نہیں لائے۔
مسئلہ (5) اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہا نماز شروع
فرمائی اور بعد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی اقتداء کی، اس سے ثابت ہوا کہ ایسے تنہا نماز
پڑھنے والے کی اقتداء جائز ہے جس نے امامت کی نیت نہیں کی ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 660b (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ اگر امام کے پیچھے صرف ایک مرد اور صرف ایک
عورت اقتداء کر رہے ہوں تو مرد امام کے سیدھے جانب کھڑا ہو اور عورت ان کے پیچھے کھڑی
ہوجائے۔ (ردالمحتار)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 658b (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ مقتدی دو یا زیادہ ہوں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں
اور امام آگے ہو اور عورت ایک ہو تو سب سے پیچھے تنہا کھڑی ہو۔ (ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے)
ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر مردوں کے ساتھ صرف ایک بچہ
اقتداء کررہا ہو تو وہ مردوں کے ساتھ صف میں شریک ہوجائے، اور رد المحتار میں لکھا ہے کہ اگر بچے ایک
سے زائد ہوں تو وہ مردوں کے پیچھے اور عورتوں سے پہلے صف بنا کر کھڑے ہوں اور عورتیں بچوں کی
صف کے پیچھے اپنی صف بنالیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 234 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ
کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا کو نماز میں سب کے پیچھے علیحدہ تنہا کھڑا کیا، حالانکہ جماعت میں صف کے
پیچھے الگ تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو مفسد نماز بھی ہے، اس کے باوجود
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ملیکہ رضی اللہ عنہا کو تنہا پیچھے کھڑا کرنے کی بجز اس کے کوئی وجہ معلوم
نہیں ہوتی کہ عورت کا نماز میں مردوں یا لڑکوں کے ساتھ صف میں برابر کھڑا ہونا مردوں یا لڑکوں
دونوں کی نماز کے لئے مفسد ہے، اگر عورت کا صف میں مردوں یا لڑکوں کے برابر کھڑا ہونا جائز ہوتا تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان بڑھیا کو تنہا کھڑا ہونے سے ضرور منع فرماتے جبکہ اس واقعہ میں ملیکہ رضی
اللہ عنہا انس رضی اللہ عنہ کی دادی ہیں اور ان کے ساتھ ایک بچہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں کسی قسم کا خطرہ
شہوت بھی نہیں ہے، اس کے باوجود بھی ان بڑھیا کو تنہا کھڑا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کا صف میں
مردوں یا لڑکوں کے برابر کھڑا ہونا مطلقاً مردوں یا لڑکوں کی نماز کا مفسد ہے۔ (ردالمحتار اور اعلاء السنن)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ اگر امام کے ساتھ ایک مرد اور دو عورتیں اقتداء کر رہے
ہوں تو مرد امام کے سیدھے جانب کھڑا ہو اور دونوں عورتیں ان کے پیچھے صف بنا کر کھڑی ہو جائیں۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ فقہاء رحمہم اللہ نے صف بندی کا قاعدہ یہ بتلایا ہے کہ اول ایک شخص امام کے
پیچھے کھڑا ہو، پھر ایک اس کے دائیں طرف ایک بائیں طرف، پھر ایک دائیں طرف ایک بائیں طرف
اسی طرح کرتے رہیں، تا کہ امام سب کے بیچ میں ہو، پس دائیں جانب میں کھڑا ہونا اس وقت افضل
ہے جبکہ دائیں جانب اور بائیں جانب برابر ہو، یا دائیں طرف آدمی کم ہوں ورنہ بائیں طرف کھڑا ہونا
افضل ہے۔ (مرقات۔ اعلاء السنن)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 681 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اعلاء السنن میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ ”توسطوا الامام“ (امام کو بیچ
میں کھڑا کیا کرو) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک صف بھر جانے کے بعد دوسری صف امام کے سیدھ
میں پیچھے سے شروع کی جائے، اور پھر دائیں اور بائیں آدمی برابر کھڑے ہوتے رہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 377 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 544a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز سکھانے کے
لئے منبر شریف پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔ اس بارے میں علامہ عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ
ضرورۃً امام کا مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا ہونا جائز ہے، ورنہ بلا ضرورت امام مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا ہو تو
یہ مکروہ ہے، اس کی تائید حضرت عمار کی امامت والی مذکورہ حدیث اور اسی قسم کی دیگر احادیث سے ہوتی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1126 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امام اور مقتدی کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو اقتداء
صحیح ہے بشرطیکہ امام اور مقتدی ایک مکان میں ہوں اور امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ نہ ہو، یہ درمختار میں
مذکور ہے۔ چونکہ اس حدیث شریف میں صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء ایک
ہی مقام میں کی، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال بھی صحابہ پر مشتبہ نہ تھا اس لئے صحابہ کی اقتداء صحیح تھی۔
خلاصہ اس مسئلہ کا یہ ہے کہ مکان مختلف ہو یعنی امام اور مقتدی ایک مکان میں نہ ہوں تو اقتداء
درست نہیں ہے اگرچیکہ امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ ہو یا نہ ہو، ایسا ہی اگر امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ
ہو تو بھی اقتداء ناجائز ہے اگرچیکہ امام اور مقتدی کا مکان مختلف ہو یا نہ ہو۔
(یہ خلاصہ ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات نے شرح السنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف سے کئی مسائل معلوم ہوئے: مسئلہ (1) نفل نماز کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے لئے اذان اور اقامت نہ دی جائے۔ مسئلہ (2) امام کی اقتداء اگر صرف ایک مقتدی کر رہا ہو تو وہ امام کے داہنے جانب اس طرح کھڑا رہے کہ مقتدی کے پیروں کی انگلیاں امام کی ایڑی کے پاس رہیں۔ (یہ اعلاء السنن میں طحاوی کے حوالہ سے مذکور ہے۔12) مسئلہ (3) اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر گھماتے ہوئے سیدھے جانب کھڑا کر دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عمل قلیل نماز میں ضرورتاً جائز ہے۔ مسئلہ (4) اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے گھما کر داہنے جانب کھڑا کر دیا۔ حالانکہ سامنے سے گھما کر کھڑا کرنا آسان تھا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کا امام کے آگے ہونا جائز نہیں ہے، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سے لائے، سامنے سے نہیں لائے۔ مسئلہ (5) اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہا نماز شروع فرمائی اور بعد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی اقتداء کی، اس سے ثابت ہوا کہ ایسے تنہا نماز پڑھنے والے کی اقتداء جائز ہے جس نے امامت کی نیت نہیں کی ہو۔