Hadith 5118
Volume 4English
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6486 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Heart-Softening Narrations · Chapter 7
32 narrations · In source reading order
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “death” – in the genitive case, it explains or substitutes for “destroyer of pleasures,” as will follow. In the accusative, it implies “I mean,” and in the nominative, it implies “it is death.” (As stated in Al-Mirqat)
(2) His statement: “wicked servant” means the transgressor, referring to the extreme case, i.e., the disbeliever, as indicated by its contrast with “believing servant” earlier and the grave’s statement that he is the most hated of those walking upon it, as well as Allah’s statement: Is one who is a believer like one who is a transgressor? (As-Sajdah: 18). The phrase “or the disbeliever” reflects the narrator’s uncertainty, not variety. The custom of the Qur’an and Sunnah is to clarify the rulings for both groups in this world and the next, remaining silent about the believing transgressor to conceal his state, or to keep him between hope and fear, not to affirm an intermediate state as the Mu‘tazilah supposed. (As stated in Al-Mirqat)
(3) His statement: “And the Messenger of Allah said, with his fingers” means he gestured. (As stated in Al-Mirqat)
(4) His statement: “inserting some into others” indicates that the grave’s constriction and the interlocking of ribs are literal, not a metaphor for distress, as some deficient ones supposed, making the grave’s punishment spiritual, not physical. The correct view is that the Hereafter’s punishment and bliss involve both body and soul. (As stated in Al-Mirqat)
(5) His statement: “until he is brought to the Reckoning” proves that the disbeliever is judged, contrary to some who thought disbelievers enter Hell without reckoning, unless “reckoning” means “retribution.” Qur’anic verses like And whoever’s scales are light (Al-A‘raf: 9) clearly indicate their reckoning. It is possible that some defiant sinners enter Hell without reckoning or record, just as some believers, extreme in patience and reliance, enter Paradise without reckoning, and Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله : الموت بالجر تفسير لـ «هادم اللذات أو بدل منه كما يأتي فيما بعده، وبالنصب بإضمار أعني، وبالرفع بتقدير هو الموت. كذا في «المرقاة».
(۲) قوله: العبد الفاجر : أي الفاسق، والمراد به الفرد الأكمل، وهو الكافر بقرينة مقابلته لقوله: «العبد المؤمن» سابقا، ولما سيأتي من قول القبر له بكونه أبغض من يمشي على ظهره، ومنه قوله تعالى: ﴿أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقَا (السجدة: (۱۸) الآية وقوله : «أو الكافر شك من الراوي لا للتنويع، وقد جرت عادة الكتاب والسنة على بيان حكم الفريقين في الدارين، والسكوت عن حال المؤمن الفاسق سترا عليه، أو ليكون بين الرجاء والخوف لا لإثبات المنزلة بين المنزلتين كما توهمت المعتزلة. كذا في «المرقاة».
(۳) قوله : وقال رسول الله الله بأصابعه : أي أشار. كذا في «المرقاة».
(٤) قوله: فأدخل بعضها في بعض وفيه إشارة إلى أن تضييق القبر واختلاف الأضلاع حقيقي، لا أنه مجاز عن ضيق الحال، وإن الاختلاف مبالغة في أنه على وجه الكمال، كما توهمه بعض أرباب النقصان حتى جعلوا عذاب القبر روحانيا لا جسمانيا، والصواب أن عذاب الآخرة ونعيمها متعلقان بهما. كذا في «المرقاة».
1 قولہ: الموت (موت) لفظ ”موت“ زیر سے پڑھا گیا ہے اس صورت میں یہ هادم اللذات کی تفسیر ہوگی یا اس سے بدل ہوگا جیسا کہ اسکے بعد والے جملہ میں آیا ہے یا ”اعنی“ (میرے معنی کے مطابق) پوشیدہ ماننے کی صورت میں نصب کے ساتھ پڑھا جائیگا۔ لفظ موت سے پہلے لفظ هو مقدر ماننے کی صورت میں رفع بھی پڑھا جائیگا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: العبد الفاجر (بدکار بندہ) یعنی فسق و فجور کرنے والا اس سے سب سے بڑا فاسق بندہ مراد ہے اور وہ کافر ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ اس کے بالمقابل اس سے پہلے العبد المومن (بندۂ مومن) کا ذکر آیا ہے اور اسکے بعد یہ آیا ہے کہ قبر اس سے کہے گی کہ وہ اس کی پشت پر چلنے والوں میں سب سے زیادہ مبغوض تھا اسی سے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ”أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا“، بھلا جو مومن ہو کیا وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو؟ (32السجدہ، آیت:18) اور آپ کا ارشاد او الكافر (یا کافر) یہ شک راوی کے طور ہے، نوعیت بیان کرنے کے لئے نہیں دنیا و آخرت کے متعلق دونوں فریق کا حکم بیان کرنا اور گنہگار مومن کی حالت سے سکوت اختیار کرنا کتاب و سنت مبارکہ کا طریقہ رہا ہے یا تو اس کی پردہ پوشی کرنے کے لئے ہے یا اس لئے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے وہ دو درجوں کے درمیان کوئی تیسرا درجہ ثابت کرنے کیلئے نہیں ہے جیسا کہ فرقہ معتزلہ کا وہم و خیال ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: وقال رسول الله ﷺ باصابعه، یعنی حضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔ (مرقات)۔ 2 قوله: فادخل بعضها في جوف بعض، تو بعض کو بعض کے اندر داخل کردیا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قبر کا تنگ ہونا اور پسلیوں کا آپس میں ایک دوسرے میں گھس جانا حقیقی طور پر ہے تنگی حال سے مجاز کے طور پر نہیں، اور یہ معنی بھی نہیں کہ پسلیوں کا مل جانا کمال درجہ کی تنگی حال بتلانے کے لئے بطور مبالغہ ہے، جیسا کہ بعض ارباب نقصان کو وہم ہوگیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے عذاب قبر کو روحانی کیفیت قرار دیا ہے، نہ کہ جسمانی، اور درست بات یہ ہے کہ آخرت کا عذاب اور اس کی نعمتیں (جسم و روح) دونوں سے متعلق ہوں گی۔ (مرقات)۔ 3 قوله: حتى يفضى به الى الحساب (یہاں تک کہ اسے حساب کیلئے لے جایا جائے گا) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کافر سے حساب لیا جائے گا برخلاف ان بعض لوگوں کے جو گمان کرتے ہیں کہ کافر بغیر حساب و کتاب کے دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ (دونوں میں تطبیق کیلئے) مگر یہ کہا جائے کہ حساب سے مراد یہ ہے، اور آیات کے ظاہری الفاظ حساب لئے جانے کے بارے میں واضح ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ (7، اعراف آیت:9) اور جن کے (نیک اعمال کے) وزن اور ہلکے ہوں گے۔ ہاں ممکن ہے کہ ان میں سے بعض نافرمان و سرکش بغیر حساب و کتاب کے دوزخ میں داخل کئے جائیں گے، جیسا کہ صبر و توکل میں کمال درجہ پر فائز بعض مومنین بغیر حساب و کتاب کے داخل ہوں گے جیسا کہ سابق میں گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ (مرقات)۔ 4 قوله: اذا ذهب ثلثا الليل قام الخ (جب دو تہائی رات گزر جاتی تو حضرت نبی اکرم ﷺ اٹھتے ۔۔۔۔۔۔) اوقات نماز یاد دلانے والے مؤذن حضرات کا طریقہ اسی سے اخذ کردہ ہے اور ان کا اس کیلئے رات کا دو تہائی حصہ گزرنے سے پہلے اٹھنا مناسب نہیں ہے اور اس میں رات کے اخیر ثلث میں قیام کرنا نہایت ہی مستحب و پسندیدہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: من خاف الخ (جو خوف کرتا ہے) علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ نبی اکرم ﷺ نے راہ آخرت پر چلنے والے کیلئے بیان فرمائی ہے؛ کیونکہ شیطان اس کے راستہ پر رہتا ہے اور نفس اور جھوٹی آرزوئیں اس کی معاون و مددگار ہوتی ہیں اگر وہ اپنے راستے میں بیدار ہو گیا اور اپنے عمل میں خلوص نیت رکھا تو وہ شیطان اور اس کے مکر و فریب سے اور اس کے معاونین کی ڈاک زنی سے محفوظ ہو جاتا ہے، پھر اس بات کی رہبری فرمائی: راہ آخرت پر چلنا مشکل ہے اور آخرت حاصل کرنا انتہائی دشوار ہے جو ادنیٰ سی کوشش سے حاصل نہیں ہوتی۔(مرقات)۔ 2 قولہ: وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ...... الخ (اور وہ لوگ جو دیتے ہیں......) قرأت سبعہ میں یؤتون ما آتوا، ایتاء سے ہے اور یاتون بھی پڑھا گیا جو اتیان سے ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال اسی قرأت پر مبنی ہے لیکن مصحف کے نسخوں میں جو قرأت آئی ہے وہ پہلی قرأت ہے اور واضح دوسری قرأت ہے۔ اور اس کی توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ فاعل اپنے نفس سے عمل کو وجود میں لاکر دیتا ہے اور اسی سے اس کو باہر لاتا ہے تم اس کو سمجھو۔(لمعات)۔ 1 قوله: والقصد فى الفقر والغنى (تنگدستی و تونگری میں میانہ روی اختیار کرنا) اس میں دو معنی کا احتمال ہے پہلا تنگدستی اور تونگری میں میانہ روی اور اعتدال ہو اس طرح کہ نہ غایت درجہ تنگدستی میں رہے اور نہ حد سے زیادہ تونگری میں؛ کیونکہ پسندیدہ بات یہ ہے کہ کفاف (بقدر ضرورت وسائل اختیار کرنا) افضل ہے۔ ان میں کا دوسرا معنی تنگدستی و تونگری ہر دو حالت میں اعتدال کو ملحوظ رکھنا ہے۔ اور حضور ﷺ کے ارشاد وَأَمْرٌ بِالْعُرْفِ (اور میں نیکی کا حکم دوں) میں لفظ عرف ”عین“ کو ضمہ اور ”راء“ کو سکون کے ساتھ یہ مذکورہ احکام میں کا دسواں حکم ہے جبکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھ کو میرے رب نے نو چیزوں کا حکم فرمایا تو اس بارے میں کہا گیا کہ دراصل حساب کے خلاصہ کی طرح یہ مذکورہ احکام کا ایک جامع خلاصہ ہے؛ کیونکہ معروف (نیکی) میں دین کی ہر نیکی و بھلائی شامل ہے۔ (لمعات)۔ 2 قوله: قد شبت (آپ کے بعض موئے مبارک سفید ہوئے) یعنی پیرانہ سالی کے آنے سے پہلے آپ کے بعض موئے مبارک سفید ہوئے، اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اکثر ریش مبارک سفید ہو گئے ہوں؛ کیونکہ امام ترمذی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے سر انور اور داڑھی مبارک میں صرف چودہ سفید موئے مبارک شمار کیا۔ (مرقات)۔ 1 قوله: واخواتها (اور اس جیسی) یعنی اس جیسی سورتیں جن میں قیامت اور عذاب کا ذکر ہے، علامہ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: مطلب یہ ہے کہ ان سورتوں میں مذکور قیامت کی ہولناکیوں اور گزشتہ امتوں پر آئی ہوئی مصیبتوں کے بارے میں میرا متفکر ہونا بالوں کی سفیدی کا سبب بن گیا ہے، یہاں تک کہ اپنی امت سے متعلق خوف و فکر کی بناء پر قبل از وقت میرے بال سفید ہوگئے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: ما قال ابی لابیک (میرے والد نے آپ کے والد سے کیا کہا تھا؟) یعنی خوف کے غلبہ کے بارے میں جس نام سے باب کا عنوان ہے اور ان کا قول ”بَرَدَ“ ثابت ہوا کے معنی میں ہے، عرب کے اس قول سے ماخوذ ہے برد لنا علی فلان حق یعنی فلاں پر ہمارا حق ثابت ہوا۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 2 قولہ: لوددت ان ذلک برد لنا (میں یہی چاہتا ہوں کہ وہ (اعمال) ہمارے لئے باقی رہیں) یہ علی القدر صحابہ اور باعظمت خلفاء کی نسبت سے ہے، اب باجوان کے بعد کے لوگ ہیں تو غرور و تکبر، خود پسندی و ریاکاری سے بھرپور انکی اطاعتیں عمومی طور پر نافرمانیوں کے اسباب اور معصیت شعاری کی سزاؤں کے ذرائع ہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازے اور اپنی عنایت سے مختص فرما کر گنہگاروں کو نیکوکاروں میں شامل کردے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: ادق في اعينكم من الشعر الخ (تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی باریک) اسکے دو معنی ہیں ایک یہ ہے: تم ایسے عمل کرتے تھے جو ہمارے پاس سب سے اچھے اعمال کہلاتے ہیں دوسرا معنی یہ ہے: تم اُنکی پروا نہیں کرتے ہو اور انکو کمتر و حقیر سمجھتے ہو جبکہ ہم ان اعمال کو ہلاکت خیز اعمال میں شمار کرتے تھے، دوسری حدیث میں مذکور آپ کا فرمان ”تم حقیر گناہوں سے بچو“ دوسرے معنی کی تائید کر رہا ہے یعنی جن اعمال کو تم حقیر و کمتر سمجھتے ہو۔ (لمعات)۔ 2 قوله: يجر قصبه في النار (وہ اپنی آنتوں کو دوزخ میں گھسیٹ رہا تھا) دوزخ میں جن گناہوں کے سبب عذاب دیا جا رہا تھا وہ تمام چیزیں نبی اکرم ﷺ پر منکشف و ظاہر کر دی گئیں۔ (مرقات)۔ 3 قوله: او ابي مالك الاشعري (یا ابو مالک اشعری) انکو اشجعی کہا جاتا ہے اور ان کے نام میں اختلاف ہے، امام بخاری نے انکی حدیث کو شک کے ساتھ روایت کیا اور کہا: ابو مالک اشعری یا ابو عامر سے روایت ہے۔ (مرقات)۔ 3 قوله: الحرير والخمر والمعازف (ریشم، شراب، گانے بجانے کے آلات) معازف میم کے ”زبر“ کے ساتھ، یعنی لہو ولعب کے آلات جنکو بجایا جاتا ہے جیسے: ستار، سارنگی اور بانسری وغیرہ، معنی یہ ہے کہ لوگ شبہات پیدا کر کے خود دلائل سے حرام چیزوں کو حلال شمار کریں گے جملہ اُنکے یہ ہے کہ بہت سے امراء اور عوام سے جب کہا جائے: ریشم پہننا حرام ہے تو وہ کہتے ہیں: اگر وہ حرام ہوتا تو قاضی حضرات اور بڑے بڑے علماء اسکو نہیں پہنتے، اس طرح وہ حرام کو حلال سمجھنے لگتے ہیں۔ (مرقات)۔ 1 قوله: ولينزلن اقوام الخ (اور ضرور کچھ لوگ ایک پہاڑی کے دامن میں اتریں گے) یعنی انہیں میں سے جیسا کہ انکا مستحق عذاب ہونے سے ظاہر ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله: ويضع العلم (اور ان پر پہاڑ گرا دیگا) یعنی ان میں سے بعض لوگوں پر پہاڑ گرا دیگا جیسا کہ آپﷺ کی فرمان ”اور دوسروں کے چہرے مسخ کر دیگا“ اس پر دلالت کرتا ہے۔ (مرقات)۔ 3 قوله: الى يوم القيامة (روز قیامت تک کے لئے) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی صورتیں مرنے تک بدلی ہوئی ہونگی اور جو شخص مر گیا یقیناً اسکی قیامت قائم ہوگئی اور ممکن ہے کہ انکا حشر بھی اُن صورتوں پر ہوگا۔ (مرقات)۔ 4 قوله: ويمسخ اخرين (اور دوسروں کو مسخ کر دیگا) اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ آخری زمانہ میں فتنے آئیں گے اور چہرے مسخ ہوں گے تو گنہگار مومن کو (گناہوں سے) بچنا چاہئے تاکہ وہ عذاب اور چہروں کے مسخ ہونے میں مبتلا نہ ہو، علامہ خطابی نے کہا: اس میں یہ بیان ہے کہ اس امت میں بھی مسخ ہوگا۔ اسی طرح زمین میں دھنسایا جانا بھی ہوگا جیسا یہ دونوں چیزیں باقی تمام امتوں میں تھیں برخلاف ان لوگوں کی بات کے جنکا یہ خیال ہے کہ چہرے نہیں بدلیں گے البتہ دل بدل جائیں گے، میں کہتا ہوں: احادیث میں اسکی جو نفی آئی ہے وہ یا تو امت کے ابتدائی زمانہ پر محمول کی جائیگی، اس صورت میں عام ہے جس سے اس حدیث شریف کے ذریعہ آخری زمانہ خاص کر لیا گیا ہے، یا وہ تمام امت کی صورتیں بدلنے اور زمین میں دھنسا دیئے جانے پر محمول کی جائیگی اور جو مسخ اور خسف حدیث شریف میں ثابت ہے وہ امت کے کچھ لوگوں کے لئے واقع ہوگا اور اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔ (مرقات)۔ 5 قوله: وفيه الحر (اور اس میں لفظ حر) علامہ ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ نے کہا: ”حر“ راء کی تخفیف کے ساتھ ہے، یعنی شرمگاہ، اور کتاب المصابیح میں اس لفظ میں غلطی ہوئی اسی طرح سے کہ مشین اور بعض راویوں نے اس لفظ پر نقطے لگا دیئے ہیں اور اسکو ”خز“، گمان کیا نقطہ والی خاء اور زاء کے ساتھ، اور خز (ریشم) حرام نہیں ہے کہ اسکو حلال کیا جائے۔ اہـ۔ بقیتہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ بقیہ حاشیہ ۔۔۔ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے جو صاحب مفاتیح نے مصابیح کے شارحین سے ذکر کیا کہ ”حر“ بلا نقطہ زیر والی حاء اور بلا نقطہ غیر تشدید والی راء کے ساتھ، اس کی اصل، ”حرح“ ہے تو دوسری حاء کو حذف کیا گیا اور اس کی جمع احراح ہے اور ”حر“ کے معنی شرمگاہ ہے یعنی آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو زنا کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ جب مرد و عورت راضی ہوں تو عورت سے تمام قسم کے فائدے اٹھانا جائز ہے اور کہیں گے: عورت باغ کی مانند ہے تو جس طرح باغ کے مالک کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے باغ کا پھل جسکے لئے چاہے مباح قرار دے تو اسی طرح شوہر کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو جس شخص کے لئے چاہے مباح کردے اور جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے وہ دراصل مذہب حق سے منحرف، ملحد و بے دین لوگ ہیں، اب رہا ریشم پہننا تو وہ مردوں پر حرام ہے اور جو اس کو حلال سمجھا وہ کافر ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: فتح اليوم من ردم يا جوج و ماجوج الخ (آج یاجوج و ماجوج کی دیوار سے اتنا حصہ کھل گیا) اس سے مراد یہ ہے کہ اس دیوار میں آج تک کوئی شگاف نہیں تھا اور اس میں (شگاف) پڑ گیا ہے۔ کیونکہ اس کا کھلنا قرب قیامت کی علامتوں میں سے ہے اور جب وہ (شگاف) کشادہ ہوگا تو وہ نکلیں گے اور یہ خروج دجال کے بعد ہوگا جیسا اس کا بیان آگے آرہا ہے، اور یاجوج ماجوج بنی آدم ہی کی دو نسل اور ترک کی دو کافر جماعتیں ہیں۔ (مرقات)۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “when two-thirds of the night had passed, he stood” – this provides a basis for those who remind, like muezzins, that they should not rise before two-thirds of the night have passed. It also indicates the strong desirability of standing in prayer during the last third of the night. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله : إذا ذهب ثلثا الليل قام إلخ في هذا مأخذ للمذكرين من المؤذنين، وأنه ينبغي لهم أن لا يقوموا قبل مضي الثلثين من الليل، وفيه إشارة إلى استحباب القيام في الثلث الأخير من الليل استحبابا مؤكدا، كذا في «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Mishkat (candidate) 5348
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “Whoever fears” – Al-Tayyibi said: This is a metaphor the Prophet struck for the one journeying to the Hereafter. The devil is on his path, with the soul and its false aspirations as his allies. If he is vigilant in his journey and sincere in his deeds, he is safe from the devil and his plots, overcoming the path and its allies. He then indicated that the path to the Hereafter is difficult, and attaining it is arduous, not achieved with minimal effort. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله: من خاف إلخ : قال الطيبي الله : هذا مثل ضربه النبي السالك الآخرة، فإن الشيطان على طريقه، والنفس وأمانيه الكاذبة أعوانه، فإن تيقظ في مسيره وأخلص النية في عمله أمن من الشيطان وكيده، ومن قطع الطريق بأعوانه، ثم أرشد إلى أن سلوك طريق الآخرة صعب وتحصيل الآخرة متعسر لا يحصل بأدنى سعي. كذا في «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: And those who give what they give – the seven readers read: “yu’tuna ma ataw” (Al-Mu’minun: 60) from “giving,” though it has been read as “ya’tuna” from “coming.” Aishah’s question is not based on this reading, but the first is what appears in the texts. It seems the second was intended. It can be explained that the subject “gives” the act from himself and produces it. Understand. (As stated in Al-Lama’at)
(۱) قوله: والذين يؤتون إلخ : قراءة السبعة : يُؤْتُونَ مَا ءَاتَوا (المؤمنون: (٦٠) من الإيتاء، وقد قرئ يأتون من الإتيان، وسؤال عائشة لا مبني على هذه القراءة، لكن الواقع في النسخ هو الأولى، والظاهر أن يكون الثانية، وقد يوجه بأن الفاعل يؤتي أي يعطي من نفسه الفعل ويخرج منها، فافهم. كذا في اللمعات».
English
Mishkat (candidate) 5357
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “moderation in poverty and wealth” has two meanings. First: economy and balance in poverty and wealth, neither in extreme poverty nor extreme wealth, as sufficiency is preferred. Second: observing moderation in both states of poverty and wealth. His statement: “enjoining what is right” with an open ‘ayn and silent ra’ is the tenth mentioned, though he said: “My Lord commanded me with nine.” It is said this summarizes what was mentioned, as a conclusion, for the recognized good encompasses every accepted practice in religion. (As stated in Al-Lama’at)
(۱) قوله : والقصد في الفقر والغنى : يحتمل معنيين، أحدهما: الاقتصاد والتوسط في الفقر والغنى، بأن لا يكون في نهاية الفقر ولا في نهاية الغنى، فإن المختار أن الكفاف أفضل، وثانيهما: رعاية الاعتدال في حالتي الفقر والغنى. قوله: «وآمر بالعرف بضم العين وسكون الراء هذا عاشر المذكورات، وقد قال : أمرني ربي بتسع»، فقيل: إن هذا مجمل ما ذكر بمنزلة، فذلكة الحساب، فإن المعروف يتناول كل عرف في الدين. كذا في اللمعات».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “you have aged” means signs of weakness appeared before the time of old age, not that much white hair appeared, as At-Tirmidhi narrated from Anas that he counted only fourteen white hairs on the Messenger of Allah’s head and beard. (As stated in Al-Mirqat)
(2) His statement: “its sisters” means similar surahs mentioning the Resurrection and punishment. At-Tawrabushti said: It means concern for their contents of the Resurrection’s terrors and past nations’ events took its toll on me, aging me before my time out of fear for my nation. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله: قد شبت: أي ظهر عليك آثار الضعف قبل أوان الكبر، وليس المراد منه ظهور كثرة الشعر الأبيض عليه؛ لما روى الترمذي عن أنس قال: ما عددت في رأس رسول الله له ولحيته إلا أربع عشرة شعرة بيضاء. كذا في «المرقاة».
(۲) قوله: وأخواتها: أي وأشباهها من السور التي فيها ذكر القيامة والعذاب، قال التوربشتي الله يريد أن اهتماما بما فيها من أهوال القيامة والحوادث النازلة بالأمم الماضية أخذ مني مأخذه حتى شبت قبل أوان المشيب خوفا على أمتي. كذا في «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(۲) قوله: لوددت أن ذلك برد لنا إلخ : هذا بالنسبة إلى أجلاء الصحابة وعظماء الخلافة، وأما من بعدهم فطاعاتهم المشحونة بالغرور والعجب والرياء أسباب للمعاصي ووسائل لعقوبات العاصي غالبا إلا أن يتفضل الله برحمته وعين عنايته بأن يلحق المسيئين بالمحسنين. كذا في «المرقاة».
شیخ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ حدیث شریف کو اور جو اس کے ہم معنی روایات آئی ہیں انکو اس بات پر محمول نہیں کیا جا سکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے انجام کار کے بارے میں کوئی تردد رہا ہو، اللہ تعالیٰ کے پاس آپ کے بہتر و عمدہ مقامات سے متعلق غیر یقینی کیفیت میں رہے ہوں؛ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی صحیح احادیث آئی ہیں جن کے پیش نظر اس کے خلاف جو عندیہ ہے ختم ہوجاتا ہے اور اس پر اسکو کیسے محمول کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ حضور ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دینے والے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا اور آپ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ بزرگ و برتر ہیں اور آپ ہی سب سے پہلے شفاعت فرمائیں گے اور آپ ہی کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور دیگر بشارتیں وغیرہ۔ اور علامہ طیبی رحمة اللہ علیہ نے کہا: اس میں کئی توجیہات ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ یہ منسوخ ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے ”لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ“ (48، سورۃ الفتح، آیت نمبر:2)(تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خاطر آپ کو پہلے اور بعد میں معصوم رکھے) جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ”وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ“ (46، سورۃ الاحقاف، آیت نمبر:9) کی تفسیر میں فرمایا ہے۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “Do you know what my father said to your father” means regarding the dominance of fear, the chapter’s theme. His statement: “secured” means established, as in “a right was secured for us against so-and-so,” meaning established. (Extracted from Al-Mirqat)
(2) His statement: “I wish that it was secured for us” – this pertains to the eminent Companions and great caliphs. As for those after them, their acts of obedience, often filled with conceit, pride, and showing off, are usually causes of sins and means of punishment for the disobedient, unless Allah favors them with His mercy and care, joining the wrongdoers with the righteous. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله: ما قال أبي لأبيك: أي في أمر غلبة الخوف المعنون به الباب. وقوله: «برد» أي ثبت من قولهم: برد لنا على فلان حق أي ثبت. التقطته من «المرقاة».
(۲) قوله: لوددت أن ذلك برد لنا إلخ : هذا بالنسبة إلى أجلاء الصحابة وعظماء الخلافة، وأما من بعدهم فطاعاتهم المشحونة بالغرور والعجب والرياء أسباب للمعاصي ووسائل لعقوبات العاصي غالبا إلا أن يتفضل الله برحمته وعين عنايته بأن يلحق المسيئين بالمحسنين. كذا في «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “finer in your eyes than a hair” has two meanings. First: they do deeds considered the best among us. Second: you disregard and belittle them, while we counted them among the destructive sins. The second meaning is supported by the statement in another Hadith: “Beware of the belittled sins.” (As stated in Al-Lama’at)
(۱) قوله: هي أدق في أعينكم من الشعر إلخ فيه معنيان، أحدهما: يعملون أعمالا هي أحسن الأعمال عندنا، وثانيهما: لا تبالون به وتستصغرونها، وكنا نعدها من المهلكات، ويؤيد المعنى الثاني قوله في الحديث الثاني: إياك ومحقرات الذنوب أي التي تحقرونها. كذا في «اللمعات».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
(1) His statement: “dragging his intestines in the Fire” – perhaps the Prophet (ﷺ) was shown the rest of what he was punished for in the Fire. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله: يجر قصبه في النار: لعل النبي ﷺ كوشف من سائر ما كان يعاقب به في النار. كذا في «المرقاة».
English
Mishkat (candidate) 5343
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “or Abu Malik Al-Ash‘ari” – he is also called Al-Ashja‘i, and his name is disputed. Bukhari narrated his Hadith with uncertainty, saying: “from Abu Malik Al-Ash‘ari or Abu Amir.” (As stated in Al-Mirqat)
(2) His statement: “silk, wine, and musical instruments” – with an open mim, meaning instruments of amusement like the tambourine, lute, flute, and similar. They consider these prohibitions lawful by citing doubts and weak evidence. For example, when told that wearing silk is forbidden, many rulers and commoners say: “If it were forbidden, judges and great scholars would not wear it,” thus falling into deeming the prohibited lawful. (As stated in Al-Mirqat)
(3) His statement: “there will surely be people” – meaning among them, as is evident from their deserving punishment. (As stated in Al-Mirqat)
(4) His statement: “lay down the landmark” means the mountain upon some, as indicated by “transform others.” (As stated in Al-Mirqat)
(5) His statement: “transform others” – this Hadith indicates that in the end times, there will be trials and transformation of forms. Let the believing sinner avoid lest he fall into punishment and transformation. Al-Khattabi said: It shows that transformation and sinking can occur in this nation, as in other nations, contrary to those who claim it does not, saying transformation is only of hearts. I say: What negates it in Hadiths is either understood as applying to the early period of the nation, specified by this Hadith for the end times, or it applies to the transformation and sinking of the entire nation, while this refers to some. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
(6) His statement: “until the Day of Resurrection” indicates their transformation extends to death, and since whoever dies has his resurrection, it is possible their gathering will be in those forms. (As stated in Al-Mirqat)
(7) His statement: “the private parts” – Sheikh At-Tawrabushti said: “Private parts” with unpointed ha and light ra refers to the private area. This word was miswritten in the book Al-Masabih. Some Hadith narrators mistook it for “khazz” with pointed kha and za, but khazz is not forbidden to be deemed lawful. This is supported by the author of Al-Mafatih, explaining Al-Masabih, that “private parts” with unpointed ha and ra, originally “harah,” plural “ahrab,” means the private area. In the end times, some may commit adultery, believing that if the husband and wife consent, all forms of enjoyment are lawful, saying: “A woman is like a garden; just as a garden’s owner can allow its fruit to anyone, so can a husband allow his wife to anyone.” Those with this belief are the libertines and heretics. As for wearing silk, it is forbidden for men, and whoever deems it lawful is a disbeliever. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله : أو أبي مالك الأشعري: ويقال له: الأشجعي، واسمه مختلف فيه، وقد أخرج حديثه البخاري بالشك، فقال: عن أبي مالك الأشعري أو أبي عامر . كذا في «المرقاة».
(۲) قوله: الحرير والخمر والمعازف بفتح الميم أي آلات اللهو يضرب بها كالطنبور والعود والمزمار ونحوها، والمعنى يعدون هذه المحرمات حلالات بإيرادات شبهات وأدلة واهيات، منها: إن كثير من الأمراء والعوام إذا قيل لهم : لبس الحرير حرام، يقولون: لو كان حراما لما لبسه القضاة وعلماء الأعلام، فيقعون في استحلال الحرام. كذا في «المرقاة».
(۳) قوله: ولينزلن أقوام إلخ : أي منهم على ما هو الظاهر من استحقاقهم العذاب. كذا في «المرقاة».
(٤) قوله: ويضع العلم: أي الجبل على بعضهم كما يدل عليه قوله: ويمسخ آخرين». كذا في «المرقاة».
(٥) قوله: ويمسخ آخرين أفاد هذا الحديث أنه يكون في آخر الزمان نزول الفتن ومسخ الصور فليجتنب المؤمن العاصي كيلا يقع في العذاب ومسخ الصور، قال الخطابي فيه بيان أن المسخ قد يكون في هذه الأمة وكذلك الخسف كما كانا في سائر الأمم، خلاف قول من زعم أن ذلك لا يكون إنما مسخها بقلوبها، أقول: فما جاء في الأحاديث من نفيها، فهو إما محمول على أول زمان الأمة فهو عام خص منه آخر الزمان بهذا الحديث، وإما محمول على مسخ جميع الأمة وخسفهم، والمثبت منهما ما وقع لبعضهم، والله تعالى أعلم. كذا في المرقاة».
(٦) قوله: إلى يوم القيامة: إشارة إلى أن مسخهم امتد إلى الموت، وإن من مات فقد قامت قيامته، ويمكن أن يكون حشرهم على تلك الصور أيضا. كذا في «المرقاة».
(٧) قوله: وفيه الحر : قال الشيخ التوربشتي : الحر بتخفيف الراء الفرج، وقد صحف هذا اللفظ في كتاب «المصابيح». وكذلك صحفه بعض الرواة من أصحاب الحديث، فحسبوه الخز بالخاء والزاي المنقوطتين، والخز لم يحرم حتى يستحل. ويؤيده ما ذكره صاحب المفاتيح من شراح المصابيح من أن الحر بحاء مهملة مكسورة وراء مهملة مخففة وأصله الحرح، فحذفت الحاء الأخيرة وجمعه أحراح، والحر الفرج يعني قد يكون جماعة في آخر الزمان يزنون ويعتقدون أنه إذا رضي الزوج والمرأة حل منها جميع أنواع الاستمتاعات، ويقولون: المرأة مثل البستان، فكما أن لصاحب البستان أن يبيح ثمرة بستانه لمن شاء، فكذلك للزوج أن يبيح زوجته لمن شاء، والذين لهم هذا الاعتقاد هم الحرفيون والملاحدة وأما لبس الحرير فهو حرام على الرجال، ومن اعتقد حله فهو كافر. كذا في «المرقاة».
شیخ توربشتی اور صاحب مفاتیح نے اس کی صراحت کی ہے اور سنن ابوداؤد میں اسی طرح ہے اور اس میں يروح عليهم رجل بسارحة لهم (کہ شام میں ان کے پاس ایک آدمی اپنے مویشی لے کر آئے گا) کے الفاظ ہیں امام مسلم نے اپنی کتاب میں اسی طرح روایت کی۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “an opening in the barrier of Gog and Magog” – it means there was no hole in that barrier until that day, when it opened. Its opening is a sign of the Hour’s nearness. When it widens, they will emerge, after the Antichrist, as will come soon. Gog and Magog are two tribes of disbelieving humans from the Turks. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله: فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج إلخ والمراد أنه لم يكن في ذلك الردم ثقبة إلى اليوم، وقد انفتحت فيه، = إذ انفتاحها من علامات قرب الساعة، فإذا اتسعت خرجوا، وذلك بعد خروج الدجال كما سيأتي قريبا، ويأجوج ومأجوج جنسان من بني آدم، وطائفتان كافرتان من الترك. كذا في «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “the changing of people” – it means with the change of time, as is the apparent meaning aligning with the content of most Hadiths in this chapter. Alternatively, it refers to the variation in their states and ranks in their circumstances, encompassing the change of their times, as suggested by the apparent meaning of the first Hadith. Reflect on this.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “you can hardly find among them a mount fit for riding” – meaning a young, strong, trained she-camel suitable for riding. Likewise, among a hundred people, you rarely find one fit for companionship, bearing affection, and carrying love, who supports his companion and is gentle with him. Finding a knowledgeable, practicing, sincere person is like finding a rare gem or naming the phoenix. The mention of a hundred is for emphasis, not limitation. (Extracted from Al-Mirqat)
(۱) قوله: تغير الناس: أي بتغير الزمان على ما هو المتبادر الموافق المضمون أكثر أحاديث الباب، أو المراد بالتغير اختلاف حالاتهم ومراتبهم في منازلاتهم الشاملة لتغير أزمنتهم، وعليه ظاهر الحديث الأول، فتأمل.
(۱) قوله : لا تكاد تجد فيها راحلة : أي ناقة شابة قوية مرتاضة تصلح للركوب، فكذلك لا تجد في مائة من الناس من يصلح للصحبة وحمل المودة وركوب المحبة، فيعاون صاحبه ويلين له جانبه، فإن وجود العالم العامل المخلص من قبيل الكيماء، أو من باب تسمية العنقاء، فذكر المائة للتكثير لا للتحديد. التقطته من «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Mishkat (candidate) 5369
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “gather against you” means they will call one another to fight you, break your strength, and seize your lands and wealth. His statement: “as diners gather” – with a stretched vowel, as narrated in Abu Dawud’s book, describing a group or party. This Hadith is unique to him. If “diners” were read with two open vowels as the plural of “eater,” it would have a valid meaning. The sense is that just as diners call one another to their dish, eating freely without hindrance or opposition, so too will they take what is in your hands without effort, harm, or resistance. His statement: “but you will be like foam” refers to their lack of courage, low worth, and feeble minds. In summary, you will be divided, weak in state, and light in resolve. (Extracted from Al-Mirqat)
(۱) قوله: أن تداعى عليكم بأن يدعو بعضهم بعضا لمقاتلتكم وكسر شوكتكم وسلب ما ملكتموه من الديار والأموال. وقوله: كما تداعى الأكلة بالمد، وهي الرواية على نعت الفئة والجماعة، أو نحو ذلك، كذا روي لنا عن كتاب أبي داود وهذا الحديث من أفراده، ذكره الطيبي له، ولو روي الأكلة بفتحتين على أنه جمع آكل اسم فاعل لكان له وجه وجيه، والمعنى كما يدعو أكلة الطعام بعضهم بعضًا إلى قصعتها، أي التي يتناولون منها بلا مانع ولا منازع، فيأكلونها عفوا صفوا، كذلك يأخذون ما في أيديكم بلا تعب ينالهم أو ضرر يلحقهم، أو بأس يمنعهم. وقوله: ولكنكم غثاء» لقلة شجاعتهم ودناءة قدرهم وخفة أحلامهم، وخلاصته ولكنكم تكونون متفرقين ضعيفي الحال خفيفي البال. التقطته من «المرقاة».
English
Mishkat (candidate) 5364
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “Never has embezzlement appeared among a people” – the apparent meaning is that these consequences follow these actions specifically, and their secret is entrusted to the knowledge of the Lawgiver, though reasons and connections may be inferred. (As stated in Al-Lama’at)
(2) His statement: “death increased among them” means by plague, pestilence, death of the heart, or death of scholars. (As stated in Al-Mirqat)
(3) His statement: “without justice” means without entitlement or knowledge in their corrupt judgments, based on their flawed opinions. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله : ما ظهر الغلول في قوم، الحديث : الظاهر أن ترتب الأجزية على هذه الأشياء بحسب الخاصة، والسر في ذلك موكول إلى علم الشارع، وقد يستنبط علل ومناسبات. كذا في «اللمعات».
(۲) قوله: كثر فيهم الموت : أي بالوباء أو الطاعون أو موت القلب أو موت العلماء. كذا في «المرقاة».
(۳) قوله: بغير حق: أي بغير استحقاق أو بغير علم في أحكامهم الفاسدة، بل بآرائهم الكاسدة. كذا في «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “he wept for the blessings he once had” – the apparent meaning is that his weeping was out of mercy and compassion for him, seeing his poverty and need, especially since he was once esteemed and immersed in blessings among his people. However, this somewhat contradicts what happened with Umar, who wept when he saw the Prophet (ﷺ) lying on a mat with nothing between him and it, its marks on his noble body, recalling the luxuries of Khosrau and Caesar. The Prophet (ﷺ) said to him: “Are you at this point, O Umar? Are you not content that they have the world and we have the Hereafter?” Thus, it is better to interpret the weeping as joy that he found in his nation someone who chose asceticism in the world and focus on the Hereafter. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله: بكى للذي كان فيه من النعمة إلخ : والظاهر المتبادر أن بكاءه الا إنما كان رحمة له وشفقة عليه لما رآه من فقره وفاقته، لا سيما وقد كان عزيزا في قومه منغمسا في نعمته، لكن ينافيه بعض المنافاة ما وقع له مع عمر حيث بكى عمر الله لما رأى النبي مضطجعا على حصير سرير ليس بينه وبينه شيء، وقد أثر أثر ا الحصير على بدنه الشريف وتذكر عمر تنعم كسرى وقيصر ، فقال له: أأنت في هذا المقام يا عمر، أما ترضى أن تكون لهم الدنيا ولنا الآخرة، فالأولى أن يحمل البكاء على الفرح في أنه وجد في أمته من اختار الزهد في الدنيا والإقبال على العقبي. كذا في «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “the worst of them will be set” means the oppressors of the nation, and “over the best of them” means the oppressed. The commentators said: This Hadith is among the proofs of his prophethood, as he foretold the unseen, and his report matched reality. When they conquered the lands of Persia and Rome, took their wealth and luxuries, and enslaved their children, Allah set the killers of Uthman (may Allah be pleased with him) over them until they killed him, then set the Umayyads over the Hashemites, who did what they did, and so on. (Extracted from Al-Mirqat)
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “your worst inherit your world” means that dominion, wealth, and positions fall into the hands of oppressors and those unworthy of them. (As stated in Al-Mirqat)
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: “base” means of low lineage and vile character. (As stated in Al-Mirqat)
(۱) قوله : لكع : أي رديء النسب دنيء الحسب. كذا في «المرقاة».
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “you would weep much and laugh little” – weeping is the fruit of the tree of a living heart enlivened by Allah’s remembrance, feeling His greatness, awe, and majesty. Laughter is the result of a heedless heart. This clarifies the truth, urging people to seek a living heart and seek refuge from a heedless one. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: لبكيتم كثيرا ولضحكتم قليلا : فإن البكاء ثمرة شجرة حياه القلب الحي بذكر الله، واستشعار عظمته وهيبته وجلاله، والضحك نتيجة القلب الغافل عن ذلك، فبيان الحقيقة حث الخلق على طلب القلب الحي، والتعوذ من القلب الغافل. كذا في «المرقاة». .