Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2414

Chapter on The Virtue of Charity

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Chapter on The Virtue of Charity

Zujajat al-Masabih 2414Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2822Noor 2823
عمیر رضی اللہ عنہ جو ابی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) میرے آقا نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت کے کباب بناؤں، اتنے میں ایک فقیر آ گیا تو میں نے اس گوشت میں سے اس کو کچھ کھلا دیا۔ میرے آقا کو (جب) یہ معلوم ہوا تو انھوں نے مجھے مارا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور یہ واقعہ بیان کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے آقا کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ تم نے عمیر کو کیوں مارا ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ میری اجازت کے بغیر یہ میرا کھانا دے دیا کرتا ہے۔ حضور ارشاد فرمائے کہ اس قسم کی خیرات کا تم دونوں کو ثواب ملے گا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشا یہ نہیں کہ غلام مالک اور ایک دوسری روایت میں اس طرح مروی ہے کہ عمیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنے آقاؤں کے مال سے کچھ خیرات کر سکتا ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: ہاں! (خیرات کر سکتے ہو) اور اس کا ثواب تم کو اور تمہارے مالکوں کو برابر برابر ملے گا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1025a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1025b (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

کے مال میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے بلکہ غلام کو مارنے سے منع فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ مالک کو اس بات کی تسلی دی جائے کہ اس قسم کی خیرات سے دونوں کو ثواب ملتا ہے اور اس ثواب کو جو غلام کی خیرات سے مالک کو مل رہا ہے غنیمت سمجھنا چاہئے)(جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)