اردو
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے ایک صحابی نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دعوت
دی، جب کھانا سامنے آیا تو ایک صحابی ہٹ کر ایک جانب ہوگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان
سے دریافت کیا: تم (کیوں ہٹ گئے) کیا بات ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم) آج میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے بھائی
نے تمہارے لئے تکلیف اٹھا کر (کھانا) تیار کیا ہے اور تم کہتے ہو کہ میں روزہ سے ہوں (آج تو)
کھالو اور اس کے بدلہ کسی اور دن قضاء کرلو۔
اس کی روایت دارقطنی اور طیالسی نے کی ہے۔
بخاری کی ایک اور روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک دفعہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھی کو مشکیرہ
میں اور کھجور کو اس کے برتن میں رکھ دو، میں آج روزہ سے ہوں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر
کے ایک گوشہ میں تشریف لے گئے اور نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں
کے لئے دعاء فرمائی۔
12/2997۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس
طرح مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کو تم میں سے
کھانے پر بلایا جائے اور تم روزے سے ہو (اور روزہ توڑنا نہ چاہتے ہو تو کہہ دو کہ میں روزہ سے
ہوں۔
اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ اس کو قبول کرلے، اگر روزہ
سے ہو (اور روزہ توڑنا نہ چاہتے ہو) تو (اس کے گھر میں نفل) نماز پڑھ کر (دعاء کردو) اور اگر روزہ
سے نہ ہو تو کھانا کھالے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1982 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: "Eat, etc." In Al-Durr al-Mukhtar, it is said: Hospitality is an excuse for both the guest and the host if the host is someone who would not be satisfied with mere attendance and would be offended by the guest not eating. Otherwise, it is not an excuse. This is the correct view in the school.
Note 2
(۲) قوله: كل إلخ : وقال في الدر المختار والضيافة عذر للضيف والمضيف إن كان صاحبها ممن لا يرضى بمجرد حضوره ويتأذى بترك الإفطار فيفطر، وإلا لا، هو الصحيح من المذهب.
Note 1
ف: ردالمحتار میں نفل روزہ کو توڑنے کے بارے میں حسب ذیل شرائط مذکور ہیں: ردالمحتار میں لکھا ہے کہ ضیافت مہمان اور میزبان دونوں کے لئے نفل روزہ کو توڑنے کے لئے عذر ہے جبکہ میزبان مہمان کے کھانا کھائے بغیر راضی نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں مہمان نفل روزہ توڑ سکتا ہے اور اسی طرح اگر مہمان میزبان جو روزہ سے ہو اس کو کھانے میں ساتھ لئے بغیر کھانے پر راضی نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں میزبان بھی اپنا نفل روزہ توڑ سکتا ہے اور اگر روزہ توڑے بغیر مہمان یا میزبان راضی ہو جاتا ہو تو میزبان اور مہمان دونوں کو چاہئے کہ نفل روزہ نہ توڑیں یہ بھی واضح رہے کہ عذر کی بناء پر نفل روزہ زوال سے پہلے توڑا جا سکتا ہے اور زوال کے بعد ایسے عذر کی بناء پر نفل روزہ نہ توڑے، اور کسی وجہ سے بھی نفل روزہ توڑنا اس وقت صحیح ہے جبکہ توڑنے والے اس روزہ کے قضاء کی نیت رکھتا ہو اور یہی مذہب حنفی ہے۔12