Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2539

Chapter on The Prohibition of Invalidating Deeds

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on The Prohibition of Invalidating Deeds

Zujajat al-Masabih 2539Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that a man from the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) prepared food and invited the Prophet (ﷺ) and some of his companions. When the food was brought, one of them declined, and the Prophet (ﷺ) asked, "What is wrong with you?" He said, "I am fasting." The Prophet (ﷺ) said, "Your brother has gone to trouble for you and prepared food, and you say you are fasting? Eat and fast another day in its place." [Narrated by Al-Daraqutni and Al-Tayalisi] In a narration by Bukhari from Anas (may Allah be pleased with him), he said, "The Prophet (ﷺ) entered upon Umm Sulaym, and she brought him dates and butter. He said, 'Return your butter to its container and your dates to their container, for I am fasting.' Then he went to a corner of the house and prayed a non-obligatory prayer, after which he supplicated for Umm Sulaym and her household." In a narration by Muslim from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him), the Prophet (ﷺ) said, "When one of you is invited to food while fasting, let him say, 'I am fasting.'" In another narration, he said, "When one of you is invited, let him accept. If he is fasting, let him pray, and if he is not fasting, let him eat."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٣٩ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: صَنَعَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ طَعَامًا فَدَعَا النَّبِيَّ ﷺ وَأَصْحَابًا لَهُ، فَلَمَّا أُتِيَ بِالطَّعَامِ تَنَكَّى أَحَدُهُمْ، فَقَالَ لَهُ : «مَا لَكَ؟» فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ : تَكَلَّفَ لَكَ أَخُوكَ وَصَنَعَ ، ثُمَّ تَقُوْلُ: إِنِّي صَائِمٌ، كُلْ2 وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ. رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ والطَّيَالِسِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ عَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى أُمَّ سُلَيْمٍ، فَأَتَتْهُ بِتَمَرٍ وَسَمَنٍ، فَقَالَ: «أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ فَدَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلَّ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ».

اردو

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی، جب کھانا سامنے آیا تو ایک صحابی ہٹ کر ایک جانب ہوگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تم (کیوں ہٹ گئے) کیا بات ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) آج میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے بھائی نے تمہارے لئے تکلیف اٹھا کر (کھانا) تیار کیا ہے اور تم کہتے ہو کہ میں روزہ سے ہوں (آج تو) کھالو اور اس کے بدلہ کسی اور دن قضاء کرلو۔ اس کی روایت دارقطنی اور طیالسی نے کی ہے۔ بخاری کی ایک اور روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک دفعہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھی کو مشکیرہ میں اور کھجور کو اس کے برتن میں رکھ دو، میں آج روزہ سے ہوں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے ایک گوشہ میں تشریف لے گئے اور نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لئے دعاء فرمائی۔ 12/2997۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کو تم میں سے کھانے پر بلایا جائے اور تم روزے سے ہو (اور روزہ توڑنا نہ چاہتے ہو تو کہہ دو کہ میں روزہ سے ہوں۔ اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ اس کو قبول کرلے، اگر روزہ سے ہو (اور روزہ توڑنا نہ چاہتے ہو) تو (اس کے گھر میں نفل) نماز پڑھ کر (دعاء کردو) اور اگر روزہ سے نہ ہو تو کھانا کھالے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1982 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Eat, etc.

(2) The statement: "Eat, etc." In Al-Durr al-Mukhtar, it is said: Hospitality is an excuse for both the guest and the host if the host is someone who would not be satisfied with mere attendance and would be offended by the guest not eating. Otherwise, it is not an excuse. This is the correct view in the school.

Note 2

قوله

(۲) قوله: كل إلخ : وقال في الدر المختار والضيافة عذر للضيف والمضيف إن كان صاحبها ممن لا يرضى بمجرد حضوره ويتأذى بترك الإفطار فيفطر، وإلا لا، هو الصحيح من المذهب.

Note 1

ف: ردالمحتار میں نفل روزہ کو توڑنے کے بارے میں حسب ذیل شرائط مذکور ہیں: ردالمحتار میں لکھا ہے کہ ضیافت مہمان اور میزبان دونوں کے لئے نفل روزہ کو توڑنے کے لئے عذر ہے جبکہ میزبان مہمان کے کھانا کھائے بغیر راضی نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں مہمان نفل روزہ توڑ سکتا ہے اور اسی طرح اگر مہمان میزبان جو روزہ سے ہو اس کو کھانے میں ساتھ لئے بغیر کھانے پر راضی نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں میزبان بھی اپنا نفل روزہ توڑ سکتا ہے اور اگر روزہ توڑے بغیر مہمان یا میزبان راضی ہو جاتا ہو تو میزبان اور مہمان دونوں کو چاہئے کہ نفل روزہ نہ توڑیں یہ بھی واضح رہے کہ عذر کی بناء پر نفل روزہ زوال سے پہلے توڑا جا سکتا ہے اور زوال کے بعد ایسے عذر کی بناء پر نفل روزہ نہ توڑے، اور کسی وجہ سے بھی نفل روزہ توڑنا اس وقت صحیح ہے جبکہ توڑنے والے اس روزہ کے قضاء کی نیت رکھتا ہو اور یہی مذہب حنفی ہے۔12