Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے) · Chapter 1

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

22 narrations · In source reading order

Hadith 2226

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2601
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن (کا حاکم بنا کر) بھیجے تو فرمایا کہ تم ایک ایسی قوم میں جا رہے ہو جو اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ ہیں۔ پس تم ان کو (اسلام کی) دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ اس کو مان لیں یعنی اسلام قبول کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اس بات کو یعنی پنجگانہ نمازوں کے وجوب کو مان لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکات فرض کی ہے جو ان کے (ایسے) مالداروں سے لی جائے گی (جو صاحب نصاب ہیں اور جن کے مال پر زکات واجب ہونے کے شرائط (زکات کے واجب ہونے کے شرائط اور مستحقین کی تفصیل اسی باب کے ابتداء میں ذکر ہے۔12) پر پورے اترتے ہیں) اور ان کے (مسلمان) فقراء پر تقسیم کی جائے گی (جو زکات لینے کے مستحق (زکات کے واجب ہونے کے شرائط اور مستحقین کی تفصیل اسی باب کے ابتداء میں ذکر ہے۔12) ہیں) اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو ان کا بہترین مال (زکات میں) نہ لینا (اور اسی طرح ناقص مال بھی نہ لینا بلکہ متوسط مال لینا کہ نہ زکات دینے والے کا نقصان ہو اور نہ بیت المال کا، زکات کا مال وصول کرنے میں زیادتی اور بدزبانی سے زکات دینے والے کو تکلیف نہ دینا اور) ایسے مظلوم کی بددعاء سے خود کو بچائے رکھنا کیوں کہ مظلوم کی بددعاء اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا (یعنی مظلوم کی فریاد قبول ہو کر رہتی ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "And establish prayer and give Zakat" (Quran 2:43), and His saying: "Those who withhold what Allah has given them of His bounty will have it coiled around their necks like a collar on the Day of Resurrection" (Quran 3:180), and His saying: "And do not aim at what is bad to spend from it, (1) while you would not take it yourselves except with closed eyes. And know that Allah is Free of need and Praiseworthy" (Quran 2:267).

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1496 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 19a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1772 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 1772

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Chapter-heading commentary

And do not aim at what is bad to spend from it…

(1) The statement: "And do not aim at what is bad to spend from it…" In Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah, it is mentioned that the jurists have also stated that the Zakat collector should only take what is moderate, neither the worst nor the best of the wealth. This verse is evidence for that, even if it is not explicitly stated.

Note 2

From their wealthy.

(2) The statement: "From their wealthy." It indicates that the pronoun refers to those who are obligated, and a child is not included among them, nor is a insane person. This is mentioned in Al-Mirqat and Umdat al-Qari. The Shafi'i scholars state that Zakat is not obligatory on them, but it is obligatory on their wealth. The Hanbali scholars, however, hold that it is obligatory on them, citing the hadith of Amr ibn Shu'ayb from his father from his grandfather that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever is in charge of an orphan who has wealth should trade with it and not leave it until it is consumed by charity." [Narrated by Tirmidhi] We respond that the condition for Zakat is sanity and maturity, so it is not obligatory on the wealth of a child or an insane person. Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "The pen is lifted from three: a sleeper until he wakes, a child until he reaches puberty, and an insane person until he regains sanity." The hadith of Tirmidhi is weak because its chain includes Al-Muthanna ibn Al-Sabah, whom Ahmad said is not worth anything, and Al-Nasa'i said he is abandoned in hadith. Yahya said he is nothing. Tirmidhi, after narrating it, said: "There is discussion about its chain because Al-Muthanna ibn Al-Sabah is weak in hadith, and all its routes are weak." Shams al-A'imma and others from the companions responded to their hadiths, even though they are not established, that the intended charity is maintenance, supported by the fact that he attributed consumption to all the wealth, and maintenance consumes all the wealth. Charity is maintenance due to his saying: "A person's spending on his family is charity." Tirmidhi said: "The scholars differed in this matter. Ahmad and Ishaq held one opinion, while a group of scholars said there is no Zakat on the wealth of an orphan. This was the opinion of Sufyan al-Thawri, Abdullah ibn al-Mubarak, Abu Hanifa and his companions, Abu Wa'il, Sa'id ibn Jubayr, Al-Nakha'i, Al-Sha'bi, Al-Hasan al-Basri, and it was narrated as the consensus of the companions. Sa'id ibn al-Musayyib said: 'Zakat is only obligatory on those who are obligated to pray and fast.' Humaid ibn Zanjuwayh narrated from Al-Nasa'i that more than one companion of the Prophet (ﷺ) held that there is Zakat on the wealth of an orphan, including Umar, Ali, Aisha, and Ibn Umar. This is the opinion of Malik and Al-Shafi'i, following the view of Ibn Abbas. In Al-Mabsut, it is also the opinion of Ali, and it was narrated from Ja'far ibn Muhammad from his father similarly. Shuraih also held this opinion, as mentioned by Al-Nasa'i. This is the summary of what is in Al-Binayah and Umdat al-Qari.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: ولا تيمموا إلخ وقال في التفسيرات الأحمدية: وقد ذكر الفقهاء أيضًا أن لا يأخذ المصدق إلا الوسط، ولا يأخذ رذالة المال ولا خياره. ففي الآية دليل عليه أيضًا وإن لم يصرحوا به.

Note 2

قوله

(٢) قوله: من أغنياءهم وفيه أن الضمير راجع إلى المكلفين، والطفل غير داخل فيهم وكذا المجنون. كذا في «المرقاة» و«عمدة القاري». وعبارة الشافعية لا تجب الزكاة عليهما، بل تجب في مالهما. وعند الحنابلة الوجوب عليهما، احتجوا بحديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي ﷺ خطب، فقال: ألا من ولي يتيما له مال فليتجر في ماله، ولا يتركه حتى تأكله الصدقة، رواه الترمذي. قلنا: الشرط في وجوب الزكاة العقل والبلوغ، فلا تجب في مال الصبي والمجنون الحديث عائشة لها عن النبي ﷺ أنه قال: رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يفيق. وحديث الترمذي ضعيف؛ لأن في إسناده المثنى بن الصباح، فقال أحمد: لا يساوي شيئًا، وقال النسائي: متروك الحديث. وقال يحيى: ليس بشيء. وقال الترمذي بعد أن رواه: وفي إسناده مقال؛ لأن المثنى بن الصباح يُضعف في الحديث، وله طرق كلها ضعيفة. وأجاب شمس الأئمة وغيره من الأصحاب عن أحاديثهم مع أنها غير ثابتة: أن المراد من الصدقة النفقة، ويؤيده أنه أضاف الأكل إلى جميع المال والنفقة التي هي تأكل جميع المال، والصدقة هي النفقة؛ لقوله : نفقة المرء على عياله صدقة. وقال الترمذي، وقد اختلف أهل العلم في هذا الباب، فرأى وأحمد وإسحاق، وقالت طائفة من أهل العلم: ليس في مال اليتيم زكاة، وبه قال سفيان الثوري وعبد الله بن المبارك. قلت: و به قال أبو حنيفة وأصحابه، وهو قول أبي وائل وسعيد بن جبير والنخعي والشعبي والحسن البصري، وحكي عنه إجماع الصحابة. وقال سعيد ابن المسيب: لا تجب الزكاة إلا على من تجب الصلاة والصيام، وذكر حميد بن زنجويه النسائي أنه غير واحد من أصحاب النبي في مال اليتيم زكاة، منهم عمر وعلي وعائشة وابن عمر. وبه يقول مالك والشافعي مذهب ابن عباس. وفي المبسوط» وهو قول علي أيضًا، وعن جعفر بن محمد عن أبيه مثله، وبه قال شريح، ذكره النسائي. هذا حاصل ما في البناية» و«عمدة القاري».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ زکات مالداروں سے لی جائے گی۔ مرقات اور عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ حدیث شریف کے لفظ ”اَغْنِيَائِهِمْ“ سے مراد مکلفین ہیں اور مکلفین سے ایسے صاحب نصاب مراد ہیں جو عاقل و بالغ ہوں۔ اس لئے زکات عاقل پر فرض ہوگی مجنون پر فرض نہ ہوگی اور ایسے ہی زکات بالغ پر فرض ہوگی، نابالغ پر فرض نہ ہوگی۔ اس کی تائید ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ تین شخص مرفوع القلم ہیں یعنی ان کے اعمال لکھے نہیں جاتے اور نہ ان کا مؤاخذہ ہوتا ہے۔ ایک سونے والا کہ جب تک کہ وہ نہ جاگے۔ دوسرا بچہ جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو۔ تیسرا مجنون جب تک کہ اس کا جنون ختم نہ ہو جائے۔ اس حدیث شریف سے بچے اور مجنون کا غیر مکلف ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس بناء پر سفیان ثوری، عبدالرحمن بن مبارک، ابو وائل، سعید بن جبیر، نخعی، شعبی، حسن بصری۔ رحمہم اللہ۔ اس بات کے قائل ہیں کہ یتیم کے مال پر زکات واجب نہیں اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ یتیم کے مال پر زکات واجب نہ ہونے کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۔ کا اجماع ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں کا بھی یہی مذہب ہے۔ اور سعید بن المسیب نے فرمایا ہے کہ جس شخص پر نماز اور روزہ فرض ہے، زکات بھی اسی شخص پر فرض ہوگی، اس سے معلوم ہوا کہ چونکہ نابالغ اور مجنون پر نماز اور روزہ فرض نہیں ہے، اسی لئے ان پر زکات بھی فرض نہ ہوگی اور حمید بن زنجویہ نے بیان کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بھی یہی مذہب ہے کہ مجنون اور نابالغ پر زکات فرض نہیں ہے، اور مبسوط میں لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول ہے کہ مجنون اور بچے پر زکات فرض نہیں ہے اور امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے اپنے والد امام محمد باقر رحمہ اللہ سے یہی روایت کی ہے اور قاضی شریح بھی اسی کے قائل ہیں کہ نابالغ اور مجنون پر زکات فرض نہیں ہے جیسا کہ نسائی نے روایت کی ہے، یہ پورا مضمون بنایہ اور عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔12

Hadith 2227

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2602Noor 2603
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یتیم کے مال پر زکات (فرض) نہیں۔ اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے۔ اور ابراہیم نخعی سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

Hadith 2228

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2604
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نابالغ کے مال پر زکات فرض نہیں ہے تاوقتیکہ اس پر نماز فرض نہ ہو، (یعنی جب بالغ ہو جائے گا تو نماز کی طرح زکات بھی اس پر فرض ہو جائے گی) اس حدیث کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔

Hadith 2229

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2605
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: جو کوئی سونے یا چاندی کا مالک ہو (یعنی صاحب نصاب ہو) اور وہ اس (مال) کا حق (یعنی زکات) ادا نہ کرے تو ایسے شخص کے لئے قیامت کے دن وہ سونا اور چاندی (عذاب کا ذریعہ بن جائیں گے اس طرح کہ) اس سونے اور چاندی کی تختیاں بنائی جائیں گی، اور ان تختیوں کو آگ میں اس قدر تپایا جائے گا کہ وہ آگ بن جائیں گی اور آگ کی ان تختیوں سے اس شخص کے پہلو پیشانی اور پیٹھ کو داغ دیا جائے گا۔ اس عمل سے جب وہ تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی تو پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے اور تپایا جائے گا اور ان سے داغ دیا جاتا رہے گا اور وہ دن (جس میں یہ عمل کیا جاتا رہے گا وہ اتنا بڑا ہوگا کہ جس) کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار برسوں کے برابر ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کا حساب و کتاب ختم ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 987a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1773 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 1773

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Among their dues is milking them.

(1) The statement: "Among their dues is milking them." This is on the basis of recommendation. Know that its mention is incidental and explanatory of what should be cared for by someone with honor, not because of the punishment. [Summarized from Mirqat]

Note 2

He did not forget the right of Allah regarding their backs and necks.

(2) The statement: "He did not forget the right of Allah regarding their backs and necks." Al-Nawawi said: "Abu Hanifa used this as evidence for the obligation of Zakat on horses."

Note 1

قوله

(۱) قوله: من حقها حلبها: هذا على سبيل الاستحباب، واعلم أن ذكره وقع استطرادا وبيانا لما ينبغي أن يعتنى به من له مروءة لا لكون التعذيب. «مرقاة» ملخصا.

Note 2

قوله

(٢) قوله : ثم لم ينس حق الله في ظهورها ولا رقابها: قال النووي: استدل به أبو حنيفة على وجوب الزكاة في الخيل.

Note 1

دوزخ میں بھیج دئے جائیں گے (صاحب مرقات اور اشعۃ اللمعات نے بیان کیا ہے کہ حدیث شریف میں پہلو، پیشانی اور پشت کو داغ دئے جانے کا جو ذکر آیا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ تینوں جسم کے اشرف اعضاء ہیں کہ اعضاء رئیسہ دل، دماغ اور جگر ان ہی میں ہیں۔ ان اعضاء کے داغ دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان ہی اعضاء کی زیب و زینت کے لئے اس نے مال جمع کیا اور زکات دینے سے گریز کیا، ان اعضاء کو داغ دینے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ان ہی اعضاء سے اس نے سائل کو تکلیف پہنچائی۔ پہلو پر اس لئے داغ دیا جائے گا کہ سائل کے سوال پر پہلو تہی کیا اور پیشانی کو اس لئے داغا جائے گا کہ سائل کو دیکھ کر منھ پھیر لیا، اور پیٹھ کو اس لئے داغا جائے گا کہ حاجتمند سے پیٹھ پھیرا) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سونے چاندی کی زکات ادا نہ کرنے کی وعید کو سن کر) صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (یہ تو زرِ نقد کا حکم تھا اب ارشاد ہو کہ) اونٹوں (اونٹوں کی زکات کا نصاب آئندہ باب میں آ رہا ہے۔12) کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (اونٹ والے پر دو حق ہیں، ایک حق تو اونٹوں کی زکات ادا کرنے کا ہے جو فرض ہے دوسرا حق جو مستحب ہے یہ ہے) کہ اونٹوں کا دودھ اس دن نکالا جائے جس دن ان کے پانی پینے کی باری ہوتی ہے (تاکہ فقراء جو ایسے موقعوں پر جمع ہو جاتے ہیں وہ پی کر دودھ سے شکم سیر ہو سکیں، اور یہ حکم مستحب ہے)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کی زکات نہ دینے والے شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈالا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ وہاں پوری تعداد میں موجود ہوں گے ان میں ایک بچہ بھی کم نہ ہوگا، اور وہ خوب موٹے تازے ہوں گے یہ اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے اور کچلیں گے اور اپنے دانتوں سے کاٹیں گے اور جب ان اونٹوں کی ایک قطار اس طرح روند کر، کچل کر، اور کاٹ کر گزر جائے گی، تو اونٹوں کی دوسری قطار روندنے، کچلنے اور کاٹنے کے لئے آ جائے گی، اور اس طرح یہ عمل اس دن ہوتا رہے گا کہ جس کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار برسوں کے برابر ہوگی یہاں تک کہ بندوں کا حساب و کتاب ختم ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دئے جائیں گے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ گائے اور بکریوں کے مالک کا کیا ہوگا (جس نے صاحب نصاب ہونے کے باوجود ان کی زکات نہ دی ہو)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے اور بکریوں کی زکات (گائے اور بکریوں کی زکات کا نصاب آئندہ باب میں آ رہا ہے۔12) نہ دینے والے شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈالا جائے گا اور اس کی سارے گائیں اور بکریاں وہاں پوری تعداد میں موجود ہوں گی، ان میں ان کا ایک بچہ بھی کم نہ ہوگا۔ ان کے سینگ نہ تو مڑے ہوئے ہوں گے نہ تو ٹوٹے ہوئے ہوں گے اور نہ وہ بے سینگ کے ہوں گے (یعنی سب کے سروں پر سینگ ہوں گے، اور سینگ صحیح و سالم ہوں گے تاکہ) یہ گائے اور بکریاں ان سینگوں سے اپنے اس مالک کو ماریں (جس نے ان کی زکات نہ دی ہو) اور اپنے کھروں سے اس کو کچلیں گے اور روندتے ہوئے گزر جائیں گے اور جب ان گائے اور بکریوں کی ایک قطار اس طرح سینگوں سے مارتی ہوئی اور پیروں سے کچلتی ہوئی گزر جائے گی تو ان کی دوسری قطار مارنے اور کچلنے کے لئے آ جائے گی، اور اسی طرح یہ عمل اس دن ہوتا رہے گا۔ جس کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار برسوں کے برابر ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کا حساب و کتاب ختم ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ دیئے جائیں گے (اس حدیث شریف میں کئی بار یہ ذکر ہے کہ قیامت کا دن دنیا کے پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا۔ اس بارے میں صاحب مرقات اور اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ اس دن کی پچاس ہزار کے برابر درازی کافروں کے لئے اور گنہگاروں کے لئے اس دن کی درازی ان کے گناہوں کے لحاظ سے ہوگی اور نیکوکار مؤمنین پر یہ دن اتنی دیر میں گزر جائے گا جتنی دیر میں فجر کی دو رکعتیں ادا کی جاتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پھر عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! گھوڑوں (گھوڑوں کی زکات کے بارے میں تفصیلات آئندہ باب میں آ رہی ہیں۔12) کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضورؐ ارشاد فرمائے سنو! گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: (1) ایک تو وہ گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کے لئے گناہ کا سبب بنتے ہیں، (2) دوسرے وہ گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کے لئے پردہ ہوتے ہیں، یعنی گھوڑوں کی وجہ سے وہ معزز سمجھا جاتا ہے اور اس کی محتاجی کا گمان کسی کو نہیں ہوتا، اور (3) تیسرے وہ گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کے لئے ثواب کا ذریعہ بنتے ہیں۔ وہ گھوڑے جو مالک کے لئے گناہ کا سبب ہوتے ہیں اس شخص کے گھوڑے ہیں جن کو مالک نے فخر و غرور اور ریاء کے لئے باندھ رکھا ہے یا مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے رکھ چھوڑا ہے تو ایسے گھوڑے (اس شخص کی ایسی نیت کی وجہ سے) اس کے لئے گناہ کا سبب ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ گھوڑے جو اپنے مالک کے لئے پردہ (عزت) کا سبب ہوتے ہیں، ایسے گھوڑے ہیں جن کو ان کے مالک نے خدا کی راہ میں اطاعت اور بندگی کی غرض سے باندھ رکھا ہے اور جو حقوق گھوڑوں کی پیٹھوں اور گردنوں سے متعلق ہیں ان کو ادا کرنا بھی نہیں بھولا ہے۔ (مثلاً کسی کی ضرورت پر ان کو مستعار دیا کرتا ہے) تو ایسے گھوڑے اپنے مالک کی عزت کا سبب بنتے ہیں۔ تیسرے وہ گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کے لئے اجر وثواب کا سبب ہوتے ہیں، اور یہ اس شخص کے گھوڑے ہوتے ہیں جن کو مالک نے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے چراگاہوں اور سبزہ زاروں میں باندھ رکھا ہے، ان چراگاہوں اور سبزہ زاروں میں سے یہ گھوڑے جس قدر کھائیں گے اس سبزہ کی مقدار کے موافق اس کے مالک کے حق میں نیکیاں لکھی جائیں گی اور ان گھوڑوں کی لید اور پیشاب کا شمار بھی نیکیوں میں ہوتا ہے حتی کہ اگر کوئی گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک یا دو ٹیلوں پر چھلانگتا ہے تو بھی اللہ تعالیٰ اس گھوڑے کے قدموں کے نشانات کی تعداد کے برابر (اور اس دوڑنے کی حالت میں جو لید کرتا ہے) اس کی لید کی مقدار کے موافق اس کے مالک کے حق میں نیکیاں لکھ دیتے ہیں، اگر مالک ان گھوڑوں کو لے کر کسی نہر پر سے گزرے اور مالک کے ان گھوڑوں کو پانی پلانے کے ارادے کے بغیر بھی یہ گھوڑے پانی پی لیں تو پئے ہوئے پانی (کے قطرات کی تعداد) کے برابر اللہ تعالیٰ اس کے مالک کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھ دیتے ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ مالک کی نیت اور ارادہ کے بغیر گھوڑوں کے پانی پی لینے پر جب اتنا بڑا ثواب دیا جاتا ہے تو جب مالک ان کو ارادہ اور نیت کے ساتھ پانی پلاتا ہوگا تو اس ثواب کا کیا پوچھنا!) یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! گدھوں کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: گدھوں کے متعلق مجھ پر تو کوئی خاص حکم نازل نہیں ہوا، ہاں یہ جامع آیت موجود ہے: (پ:30،سورہ زلزال،ع:1،آیت نمبر:7-8،میں) ”فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ. وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ“۔ جو شخص (دنیا میں) ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو قیامت میں دیکھ لے گا، اور جو شخص (دنیا میں) ذرہ برابر بھی بدی کرے گا وہ بھی اس کو قیامت میں دیکھ لے گا۔ (صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گدھے کے متعلق سے اس آیت کو جو بیان فرمایا ہے اس کا منشا یہ ہے کہ اگر گدھے کو کسی نیک کام میں استعمال کرے گا تو اس کے مالک کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا اور اگر کسی برے کام میں اس کو استعمال کرے تو اس کے مالک کو اس کی سزا ملے گی، صاحب مرقات نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت مذکورہ اتنی جامع اور مانع ہے کہ باوجود الفاظ کی کمی کے ایسے معنی اور مطالب کے لحاظ سے ہر عمل نیک وبد پر حاوی ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Hadith 2230

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2606
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی کے پاس اونٹ یا گائے یا بکریاں (بقدر نصاب) ہوں اور وہ ان کی زکات ادا نہ کرے تو قیامت کے دن یہ جانور نہایت فربہ اور تنومند ہو کر اس شخص کی طرف آئیں گے اور اس کو اپنے کھروں سے روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے۔ ان جانوروں کی پہلی جماعت جب اسی طرح روند کر گزر جائے گی تو فوراً دوسری جماعت (روندنے اور کچلنے کے لئے) آ موجود ہو جائے گی اور (جانوروں کی جماعتیں یکے بعد دیگرے) اسی طرح کرتی رہیں گی، یہاں تک کہ لوگوں کا حساب و کتاب ختم ہو جائے گا (اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دئے جائیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1460 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 990a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2231

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2607
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو مال عطا کیا اور اس نے اس مال کی زکات ادا نہیں کی تو قیامت کے دن اس کا مال اس کے لئے گنجا سانپ بنا دیا جائے گا (معمر ہونے اور زیادہ زہریلا ہونے کی وجہ سے سانپ گنجا رہے گا) اور اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ (اس قسم کا سانپ بھی بہت زہریلا ہوتا ہے) اور یہ سانپ قیامت کے دن طوق کی طرح اس شخص کی گردن میں ڈال دیا جائے گا اور یہ سانپ اس شخص کی دونوں باچھیں پکڑ کر اس کو کاٹے گا، اور کہے گا کہ میں تیرا (وہ) مال ہوں، میں تیرا (وہ) خزانہ ہوں (جس پر تو نے زکات نہ دے کر مجھ سے بھلائی کی امید رکھی تھی، لیکن چونکہ تو نے میرا حق ادا نہ کیا یعنی زکات نہ دی، اس لئے تجھے یہ سزا مل رہی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کی تائید میں) یہ آیت تلاوت فرمائی: ”وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“۔ (پ:4،ع:18، سورہ آل عمران، آیت نمبر:180) اور ہرگز خیال نہ کریں ایسے لوگ جو (ضروری موقعوں) پر ایسی چیز کے خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو دی ہے کہ یہ بات ان کے لئے کچھ اچھی ہوگی، ہرگز نہیں! بلکہ یہ بات ان کی بہت ہی بری ہے کیونکہ انجام اس بخل کا یہ ہوگا کہ وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنا دئے جائیں گے، اس مال کا سانپ بنا کر جس میں انھوں نے بخل کیا تھا۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1403 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2232

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2608
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی نے زکات ادا کئے بغیر مال جمع کر کے رکھا ہو تو اس کا وہ مال قیامت کے دن گنجا اور زہر بھرا سانپ بن جائے گا اور وہ شخص اس سے بھاگے گا اور سانپ اس کا تعاقب کرتا رہے گا (یہاں تک کہ اس کو پا لے گا اور اس شخص کا یہ حال ہوگا کہ) وہ اپنی انگلیوں کو خود آپ چبا لے گا (جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے کہ سانپ وغیرہ سے خوف اور دہشت کے وقت اپنی انگلیاں آپ چبا لیا کرتے ہیں)۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1785 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1785

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: حدیث شریف میں انگلیوں کے چبائے جانے کا جو ذکر ہے، اس کے تعلق سے اشعۃ اللمعات میں کہا ہے کہ مال کے جمع اور خرچ کرنے میں ہاتھ کی انگلیوں ہی کو دخل ہوتا ہے۔12

Hadith 2233

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2609
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص اپنے مال کی زکات ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس مال کو سانپ بنا کر اس کی گردن میں لپٹا دیں گے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دلیل میں اس آیت کو تلاوت فرمائے: ”وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ“ (پ:4،ع:18، سورہ آل عمران، آیت نمبر:180) (اس کا ترجمہ حدیث نمبر: (6/2606) میں ابھی گزر چکا ہے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3012 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1784 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2234

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2610
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو (زکات وصول کرنے کے لئے) عامل بنا کر روانہ فرمایا۔ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن جمیل رضی اللہ عنہ، خالد بن الولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے زکات ادا نہیں کی ہے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ ابن جمیل کے زکات دینے سے انکار پر حیرت ہے ایک زمانہ میں وہ فقیر تھا اور اب اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس کو دولت مند بنا دیا (تو وہ اس احسان کا یہی بدلہ دے رہا ہے اور کفران نعمت پر اتر آیا ہے) اب رہے خالد بن الولید تو تم لوگ ان سے زکات طلب کر کے ان پر زیادتی کر رہے ہو۔ انہوں نے تو اپنی زرہیں (اور دوسرے سامان جنگ تک کو) راہ خدا میں جہاد کے لئے وقف کر دیا ہے (یہاں تک کہ ان کے پاس کچھ بھی نہ رہا کہ اس کی زکات ادا کرسکیں) اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زکات وہ تو مجھ پر ہے (جو گزشتہ سال ان پر واجب ہوئی تھی) اس کو میں ادا کروں گا۔ (اب رہی اس سال کی زکات) اس کو بھی میں ہی ادا کروں گا۔ پھر حضور ﷺ ارشاد فرمائے: اے عمر! کیا تم نہیں جانتے کہ چچا دراصل باپ کے مانند ہوتا ہے (جیسا کہ ایک ہی جڑ کے دو تنے ہوتے ہیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1468 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 983 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زکات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا“ یعنی حضرت عباسؓ کی دونوں سال کی زکات میں ہی ادا کروں گا، ایک تو سال حال کی، دوسرے سال گزشتہ کی۔ اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی ضرورت پر حضرت عباس سے دو سال کی پیشگی زکات حاصل فرمائی تھی جیسا کہ بیہقی نے روضہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت کی ہے اور امیر کو اس قسم کا اختیار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان تفصیلات سے ناواقف تھے، عام حکم کی بناء پر حضرت عباسؓ سے بھی تاکید کے ساتھ زکات کا مطالبہ فرمائے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ حضرت عباسؓ کے زکات نہ دینے پر تمہاری شدت خلاف واقعہ ہے۔ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ میرے چچا ہیں اور باپ کے برابر ہیں۔12 ف(2): اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے: ”فَأَغْنَاهُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ“ اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے اس کو یعنی ابن جمیل کو غنی بنا دیا۔ اس بارے میں اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ غنی بنا دینا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف بھی غنی بنانے کی جو نسبت کی گئی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس، اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے نعمتوں اور برکتوں کے حاصل کرنے کا واسطہ ہے (چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ عطا کرنے والے ہیں، میں تقسیم کرنے والا ہوں)12

Hadith 2235

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2611
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، خلیفہ ہوئے تو عرب کے بعض قبیلے (جیسے غطفان، فزارہ اور بنو سلیم وغیرہ زکات کا انکار کر کے (یہ مرقات میں مذکور ہے۔12) کافر ہوگئے (اس لئے کہ زکات فرض ہے اور فرض کا منکر کافر ہوتا ہے) (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان لوگوں سے جہاد کا ارادہ فرمالئے تو) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیقؓ سے فرمایا کہ آپ کس طرح ان منکرین زکات سے جہاد کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ صریح حکم موجود ہے (کہ جو شخص ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کا قائل ہوجائے اس کی جان اور مال محفوظ رہیں گے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے) مجھے لوگوں سے اس وقت تک جہاد کرنے کا حکم ملا ہے، جب تک وہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ (اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ) کے قائل نہ ہوجائیں جو شخص ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ کا قائل ہوجائے گا وہ مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ رکھ سکے گا۔ ناحق اس کا مال لیا جائے گا اور نہ جان، باقی (باطن کا) حساب تو اللہ لینے والے ہیں (یہ سن کر) حضرت صدیقؓ فرمائے: خدا کی قسم میں تو ہر اس شخص سے جہاد کروں گا جو نماز اور زکات میں فرق کرے (کہ نماز تو ادا کرے اور زکات کا انکار کرے اور نہ دے) جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نماز اور زکات کا ذکر ساتھ ساتھ فرمایا ہے، کیونکہ زکات (اسی طرح) مالی عبادت ہے (جیسا کہ نماز بدنی عبادت ہے) اللہ کی قسم اگر وہ لوگ مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روک رکھیں گے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ (یہ سن کر) حضرت عمرؓ فرمائے: خدا کی قسم (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ عزم دیکھ کر) میں نے یہ رائے قائم کرلی کہ (منکرین زکات کے خلاف) جہاد کرنے کی نسبت اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کا شرح صدر فرمایا ہے یعنی آپ کا سینہ کھول دیا ہے اور میں سمجھ گیا کہ یہی فیصلہ حق ہے (کہ منکرین زکات سے جہاد کیا جائے) (یہ ہے شان فاروقی کہ جب حق ظاہر ہوگیا تو اپنی رائے سے رجوع فرمالیا)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1399 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 20a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

A young she-goat.

(1) The statement: "A young she-goat." According to Abu Hanifa, there is no Zakat on young goats, lambs, or calves unless they are with older ones. This is his final opinion, and it is the opinion of Muhammad. In Al-Qahistani, from Al-Tuhfa: "The correct opinion is theirs, and the hadith of Abu Bakr does not contradict it because taking a young goat does not necessitate taking from the young, as it is apparent from what we mentioned in the hadith of the apostates regarding the Zakat of sheep that a young goat refers to a one-year-old or two-year-old, even if metaphorically. Therefore, it should be understood to avoid contradiction. Even if it is accepted, it is permissible to take it as its value, not that it is the obligation itself, and we say this. Or it is on the basis of exaggeration, not precision, as indicated by the fact that in another narration, 'a rope' is mentioned instead of 'a young goat.' This is the summary of what is in Al-Hidayah, Radd al-Muhtar, and Fath al-Qadir.

Note 1

قوله

(۱) قوله: عناقا وليس في الفصلان والحملان والعجاجيل صدقة عند أبي حنيفة، إلا أن يكون معها كبار، وهذا آخر أقوله، وهو قول محمد وفي القهستاني» عن «التحفة»: الصحيح قولهما، وحديث أبي بكر لا يعارضه؛ لأن أخذ العناق لا يستلزم الأخذ من الصغار؛ لأن ظاهر ما قدمنا في حديث المرتدين في صدقة الغنم أن العناق يقال على الجذعة والثنية ولو مجازا، فارجع إليه، فيجب الحمل عليه دفعا للتعارض، ولو سلم جاز أخذها بطريق القيمة، لا أنها هي نفس الواجب، ونحن نقول به، أو هو على طريق المبالغة لا التحقيق يدل عليه أن في الرواية الأخرى عقالا» مكان العناق»، هذا حاصل ما في الهداية» ورد المحتار» و«فتح القدير».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ ”اگر وہ مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روک رکھیں گے جسے وہ (زکات میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے جہاد کروں گا“، واضح ہو کہ یہاں بکری کے بچے سے مراد حقیقتاً بکری کا بچہ نہیں ہے، کیوں کہ بکری کے بچے پر زکات واجب نہیں بلکہ یہاں یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مثلاً بکری کا بچہ ہی کیوں نہ ہو، جو پہلے زکات میں دیا جاتا تھا اور اب نہ دیا جائے تو اس کے لئے بھی جہاد کیا جائے گا (زکات میں وصول کئے جانے والے جانوروں کے بچوں سے متعلق مسائل آگے اپنے مقام پر آرہے ہیں)۔ (ماخوذ از: ہدایہ، ردالمحتار اور فتح القدیر)12

Hadith 2236

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2612
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب (سورۃ توبہ، پ:10، ع:5، آیت نمبر:34، کی) یہ آیت نازل ہوئی۔ ”وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکات نہیں نکالتے) تو آپ ان کو ایک بڑے دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئے۔ مسلمانوں پر یہ آیت بہت شاق گزری (اس لئے کہ بظاہر اس آیت سے مال کا جمع کرنا ممنوع معلوم ہوتا تھا یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمائے: میں تمہاری اس مشکل کو حل کئے دیتا ہوں (یہ کہہ کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کئے: یا نبی اللہ (اس آیت سے بظاہر مال کے جمع کرنے کی ممانعت معلوم ہو رہی ہے اور) اس پر عمل کرنا صحابہ پر شاق گزر رہا ہے (حضور ارشاد فرمائیں کہ اس کا اصلی منشاء کیا ہے اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ مال جمع ہی نہ کیا جائے بلکہ اس آیت کی وعید ان لوگوں سے متعلق ہے جو بغیر زکات ادا کئے، مال جمع کرتے ہیں اور) اللہ تعالیٰ نے زکات تو اسی لئے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال کو پاک کر دے (زکات ادا کر کے مال جمع کرنے پر وعید نہیں ہے مال جمع کرنے کی تائید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: کیا تم نہیں دیکھتے کہ) اللہ تعالیٰ نے میراث اسی لئے فرض فرمائی ہے کہ بعد میں آنے والے (ورثاء) کو ان کا حق مل سکے (اگر مال جمع کرنا جائز نہ ہوتا تو وراثت قائم ہی کیسے ہو سکتی تھی یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ کا نعرہ بلند کیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے ارشاد فرمایا: اے عمر! تم کو انسان کا سب سے بہترین خزانہ بتائے دیتا ہوں اور وہ اس کی نیک بخت بیوی ہے جس کے دیکھنے سے مرد کو مسرت حاصل ہو اور وہ عورت اس کے حکم کی اطاعت کرے اور اس کا شوہر کہیں باہر چلا جائے تو اس کے غیاب میں اس کے (مال اور اپنی عصمت کی) حفاظت کرے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1664 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Pay the Zakat of your wealth willingly

(2) The statement: And those who hoard. The severe warning is attached to hoarding gold and silver and not spending them in the way of Allah without distinction between jewelry and other forms. Any wealth from which Zakat is not paid is considered hoarded according to the hadith we narrated. Thus, one who fails to pay Zakat is a hoarder and falls under the warning. The warning only applies to neglecting an obligation. The Prophet's (ﷺ) saying: "Pay the Zakat of your wealth willingly" does not distinguish between one type of wealth and another. Jewelry is surplus wealth beyond basic needs, as preparing for adornment indicates surplus beyond basic needs. Thus, it is a blessing that requires gratitude by giving a portion to the poor. This is mentioned in Al-Bada'i.

Note 2

قوله والذين يكنزون ألحق الوعيد الشديد بكنز الذهب والفضة وترك إنفاقها في سبيل الله من غير فصل بين الحلى وغيره، وكل مال لم تؤد زكاته فهو كنز بالحديث الذي روينا، فكان تارك أداء الزكاة منه كانزا، فيدخل تحت الوعيد، ولا يلحق الوعيد إلا بترك الواجب، وقول النبي

(۲) قوله والذين يكنزون ألحق الوعيد الشديد بكنز الذهب والفضة وترك إنفاقها في سبيل الله من غير فصل بين الحلى وغيره، وكل مال لم تؤد زكاته فهو كنز بالحديث الذي روينا، فكان تارك أداء الزكاة منه كانزا، فيدخل تحت الوعيد، ولا يلحق الوعيد إلا بترك الواجب، وقول النبي : وأدوا زكاة أموالكم طيبة بها أنفسكم من غير فصل بين مال ومال، ولأن الحلي مال فاضل عن الحاجة الأصلية؛ إذ الإعداد للتجمل والتزين دليل الفضل عن الحاجة الأصلية، فكان نعمة الحصول التنعم به، فيلزمه شكرها بإخراج جزء منها للفقراء. قاله في «البدائع».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ”۔ (سورۃ توبہ، پ:10، ع:5، آیت نمبر:34) یعنی جو لوگ سونا اور چاندی بطور خزانہ جمع کر رکھے ہیں اور ان کو راہ خدا میں صرف نہیں کرتے، وہ دردناک عذاب کے مستحق ہیں اور ہر وہ مال جس پر زکات ادا نہ کی جائے، خواہ وہ زیور ہو یا غیر زیور وہ کنز ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے، اس لئے زیور بھی مال ہی کہلائے گا اور اس پر بھی زکات واجب ہوگی اور یہی مذہب حنفی ہے۔ دیگر یہ کہ زکات ادا نہ کر کے مال جمع کرنے والے سے یہ بھی وعید متعلق ہوگی جو صدر کی حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور وعید تو صرف ترک واجب یا ترک فرض پر ہی ہوتی ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ مطلقاً مال پر زکات فرض ہے خواہ وہ زیور ہو یا غیر زیور۔ زیورات پر زکات فرض ہونے کی ایک اور دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد ہے ”وَأَدُّوْا زَكٰوةَ أَمْوَالِكُمْ طَيِّبَةً بِهَا أَنْفُسُكُمْ“ تم اپنے اموال پر (خواہ وہ سونا چاندی ہوں زیورات) خوشی خوشی زکات ادا کرو۔ حدیث شریف میں مطلقاً مال کا ذکر ہے اور یہ نہیں فرمایا گیا کہ فلاں مال پر زکات ہے اور فلاں مال پر زکات نہیں۔ مال خواہ سونا یا چاندی کی شکل میں ہو یا زیورات، یا دوسرے اموال کی شکل میں ہو، سب مال ہی کہلائے گا اور اس پر زکات واجب ہوگی، بشرطیکہ وہ نصاب کو پہونچتا ہو۔ زیورات پر زکات فرض ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ زیورات حاجت اصلی سے زائد ہوتے ہیں، کیوں کہ ان سے زیب و زینت مقصود ہوتی ہے اور یہی دلیل ہے ان کے حاجت اصلی سے زائد ہونے کی! لہذا زیورات بھی نعمت قرار پائے جو خوشحالی اور فارغ البالی کی دلیل ہیں۔ لہذا اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کرنا چاہئے کہ ان زیورات میں سے حسب نصاب کچھ حصہ کو فقراء پر تقسیم کر دیا جائے، اس بناء پر زیورات پر بھی زکات واجب قرار دی گئی۔ (بدائع)

Hadith 2237

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2613
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (زکات دینے والوں سے) ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس عاملین زکات آیا کریں تو ان کو (پوری پوری زکات دے کر) خوش خوش واپس کیا کرو (اس لئے کہ عاملین زکات امام کی طرف سے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں اور امام کی اطاعت سب پر واجب ہے) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 989b (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2238

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2614
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ دیہاتی عربوں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کئے کہ عاملین زکات جب ہمارے پاس (زکات وصول کرنے کے لئے) آتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ ہم پر زیادتی کرتے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تم اپنے زکات وصول کرنے والوں کو خوش رکھا کرو۔ ان لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (کیا ہم انہیں خوش رکھیں) اگرچہ کہ وہ ہم پر زیادتی کرتے ہوں؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرمائے: ہاں زکات وصول کرنے والوں کو خوش رکھو، اگرچہ کہ وہ (تمہارے خیال میں) زیادتی کرتے ہوں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1589 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Even if they oppress us.

(1) The statement: "Even if they oppress us." In Al-Ashbah wa al-Naza'ir, in the third section: "Sin does not prevent eligibility for testimony, judgment, leadership, authority, or guardianship over a child's wealth or administration of endowments. It is not permissible to appoint a sinner, as we wrote in the explanation. If he sins, he is not removed, but it is obligatory or preferable to remove him." Al-Nawawi said in Sharh Muslim: "This differs from the opinion of Al-Shafi'i, who holds that the collector is removed like a judge is removed due to sin. The apparent meaning of the hadith is evidence against him."

Note 1

قوله

(۱) قوله: وإن ظلمونا: في الأشباه والنظائر في الفن الثالث: الفسق لا يمنع أهلية الشهادة والقضاء والامرة والسلطنة والإمامة والولاية في مال الولد والتولية على الأوقاف، ولا تحل توليته كما كتبناه في الشرح، وإذا فسق لا ينعزل، وإنما يستحقه بمعنى أنه يجب عزله أو يحسن عزله انتهى. وقال النووي في شرح مسلم» بخلافه، لعل انعزال الساعي مذهب الشافعي كانعزال القاضي عنده بالفسق، وظاهر الحديث حجة عليه.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ عاملین زکات کو خوش رکھا جائے اگرچہ کہ وہ زیادتی کریں۔ اس بارے میں الاشباہ والنظائر کے فن ثالث میں مذکور ہے کہ زیادتی کرنے والا یعنی فاسق شہادت، قضاءت، امارت، حکومت اور امامت کی اہلیت رکھتا ہے اسی طرح فاسق، نابالغ اولاد کا ولی اور اوقاف کا متولی بن سکتا ہے اور فسق کی وجہ سے خود بخود معزول نہیں ہو جاتا، جیسے مذہب امام شافعی میں مذکور ہے۔ اور مذہب حنفی یہ ہے کہ ایسے فاسق کو معزول کر دینا امام یا حاکم کا ہی اختیار ہے وہ خود بخود معزول نہیں ہوتا۔12

Hadith 2239

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2615
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ عنقریب تمہارے پاس زکات وصول کرنے والے سوار آئیں گے جن کو تم (اس وجہ سے) ناپسند کرو گے (کہ وہ تمہارا مال لینے آتے ہیں، یہ ناگواری مال کی جدائی کی وجہ سے طبعاً ہوتی ہے شرعاً نہیں) لیکن جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم خوش ہو کر ان کا استقبال کرو (اور ان کی تعظیم کرو) اور جو کچھ وہ تم سے زکات میں طلب کریں اس کو پورا پورا ادا کرو۔ (کسی چیز کو ان سے چھپائے نہ رکھو) اگر وہ (زکات کی وصولی میں) انصاف سے کام لیں گے تو یہ ان ہی کے فائدے کی چیز ہوگی (اور اس کا ان کو ثواب ملے گا) اور اگر وہ (زکات کا مال وصول کرنے میں) زیادتی کریں گے (یعنی چن کر اچھا مال لیں گے یا نصاب سے زیادہ لیں گے) تو اس کا گناہ ان ہی پر ہوگا (اور ان کے ظلم کو برداشت کرنے کا ثواب بھی تم کو ملے گا) بہرحال جس طرح ممکن ہو تم ان کو خوش کر دیا کرو کیوں کہ تمہارا (نصاب کے موافق زکات دینے سے قرض تو ادا ہو جائے گا لیکن کامل ثواب) اسی وقت پورا پورا حاصل ہو سکے گا جب کہ تم ان کی خوشی حاصل کرو (اس وجہ سے کہ عاملین زکات سلطان کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں، ان کی مخالفت سلطان کی مخالفت ہوگی، اور سلطان کی مخالفت فتنہ اور فساد کا سبب ہے) (اور تم ان کو اپنے حسن سلوک سے اس طرح خوش کر دو کہ) وہ تمہارے لئے دعا کریں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1588 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2240

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2616
بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) عرض کیا کہ زکات وصول کرنے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں تو کیا ہم ان سے اتنا مال چھپائے رکھیں جتنا کہ وہ ہم سے زیادہ لیتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہ کیا کرو (بلکہ جس قدر وہ طلب کریں ادا کر دیا کرو، اگر وہ زائد لیں گے تو خود ذمہ دار ہوں گے)۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1586 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

Should we hide.

(2) The statement: "Should we hide." In Al-Ashbah wa al-Naza'ir, in the section on riddles with Al-Hamawi: "Which man is it recommended for to hide it?" Say: "The one who fears the oppressors, so they do not know the extent of his wealth, meaning they take it and give it to those who are not entitled to it. Concealment is better." Ibn Wahban mentioned it in his explanation of his poem but did not attribute it to any of our scholars.

Note 2

قوله

(۲) قوله: أفنكتم: وفي الأشباه والنظائر في فن الألغاز مع الحموي : أي رجل يستحب له إخفائها؟ فقل: الخائف من الظلمة؛ لئلا يعلموا كثرة ماله، يعني فيأخذونها ، فيضعونها في غير أهلها، فالستر أفضل. ذكرها ابن وهبان في شرحه لمنظومته، ولم يعزها إلى أحد من أئمتنا.

Hadith 2241

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2617
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد اور دادا کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جلب اور جنب جائز نہیں ہے بلکہ زکات ان کے گھروں پر (ان ہی کی آبادی میں) وصول کی جائے جہاں وہ ہمیشہ رہتے ہیں (جلب یہ ہے کہ زکات وصول کرنے والا کسی دور دراز مقام پر جا کر ٹھہر جائے اور زکات دینے والے سے کہے کہ وہ اپنے اپنے جانور اس کے پاس لے آئے اور جنب یہ ہے کہ زکات دینے والا اپنے جانوروں کو لے کر کسی دور مقام کو چلا جائے اور زکات لینے والے سے کہے کہ وہ وہاں آ کر زکات وصول کرے یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں کہ پہلی صورت میں زکات دینے والے کو اور دوسری صورت میں زکات لینے والے کو تکلیف اور مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے)۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1591 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2242

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2618Noor 2619
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوگ زکات لے کر آتے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام ان کے حق میں یہ دعا فرماتے، اے اللہ! رحمت وبرکت نازل فرما اس شخص پر اور اس کے اہل وعیال پر (راوی کہتے ہیں کہ) (ایک روز) میرے والد (ابواوفیٰ) خدمت اقدس میں زکات لے کر پہنچے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء دی، اے اللہ! ابواوفیٰ اور ان کے خاندان پر رحمت وبرکت نازل فرما۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں زکات پیش کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں یہ دعا فرماتے، اے اللہ! اس شخص پر رحمت نازل فرما۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1497 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1078a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

O Allah, bless the family of so-and-so.

(1) The statement: "O Allah, bless the family of so-and-so." The author of Radd al-Muhtar in the fifth volume, in various issues, quoting from Al-Mustasfa: "The hadith: 'O Allah, bless the family of Abi Awfa' indicates that it is permissible to pray for others initially, but others cannot do so. In Ghunyat al-Fatawa: 'If you say: The Prophet's (ﷺ) saying: 'O Allah, bless the family of Abi Awfa' indicates the permissibility of using it for others, I say: It is specific to the Prophet (ﷺ) as evidence that the predecessors did not use it generally.' This is in Fusul al-Hawashi by Al-Shashi."

Note 1

قوله

(۱) قوله: اللهم صل على آل فلان: قال صاحب رد المحتار في الجزء الخامس في مسائل شتى ناقلا عن «المستصفى»: وحديث: صلى الله على آل أبي أوفى الصلاة حقه فله أن يصلي على غيره ابتداء، أما الغير فلا انتهى. وفي «غنية الفتاوى»: فإن قلت: قول النبي : اللهم صل على آل أبي أوفى يدل على جواز استعمالها في غيره؟ قلت: إنه مما خص به النبي بدليل أن السلف لم يستعملونها مطلقا. كذا في فصول الحواشي لأصول الشاشي».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زکات لانے والے کے لئے ان الفاظ سے دعا فرماتے تھے ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى آلِ فُلَانٍ“ اس بارے میں ردالمحتار میں لکھا ہے کہ ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى“ کے الفاظ سے دعا کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصیات سے ہے۔ دوسروں کے لئے جائز نہیں ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سواء کسی اور پر صلوۃ کے لفظ سے دعاء کریں، ہاں امام یا زکات وصول کرنے والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ زکات دینے والے کے لئے اس طرح دعاء کرے: ”آجَرَكَ اللّٰهُ فِيْمَا أَعْطَيْتَ، وَبَارَكَ اللّٰهُ فِيْمَا أَبْقَيْتَ“ (خازن۔)12 تو نے جو مال (راہ خدا میں) دیا ہے، اللہ اس کا تجھے ثواب دے، اور جو مال (زکات ادا کرنے کے بعد) تیرے پاس رہ گیا ہے، اللہ تجھے اس میں برکت دے۔

Hadith 2243

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2620
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک صاحب کو جن کا نام ابن اللُّتْبِيَّة تھا عامل زکات بنا کر بھیجا جب وہ زکات وصول کر کے (مدینہ منورہ) واپس لوٹے تو (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے حساب لیا تو وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں زکات کا مال پیش کرتے ہوئے (جیسا کہ بخاری کی ایک اور روایت میں مذکور ہے۔) عرض کئے: حضور! یہ مال آپ کا ہے (جو زکات میں دیا گیا ہے) اور یہ مال مجھے ہدیۃ ملا ہے (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نے لوگوں کے سامنے منبر پر) خطبہ ارشاد فرمایا: (اولاً) اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی، پھر فرمایا: میں تم میں سے کچھ آدمیوں کو ان امور پر مامور کرتا ہوں جن پر اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔ پس ان میں سے ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے: یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: اگر یہ اپنے بیان میں سچا ہے) تو کیوں نہ اپنے ماں کے یا باپ کے گھر میں بیٹھ گیا کہ دیکھ لیتا کہ وہاں اس کو ہدیہ کا مال آتا ہے یا نہیں۔ قسم ہے اس ذات عالی کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص بھی کوئی چیز بھی (بغیر استحقاق) لے گا تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ وہ چیز اس کی گردن پر لدی ہوگی، اونٹ ہوگا تو بلبلا رہا ہوگا، گائے ہوگی تو چلا رہی ہوگی اور بکری ہوگی تو منمنا رہی ہوگی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھائے اور اتنا بلند فرمائے کہ حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغل کی سفیدی ہم کو نظر آنے لگی اور فرمایا: اے اللہ! میں نے تیرا حکم (تیرے بندوں تک) پہنچا دیا! اے اللہ! میں نے تیرا حکم (تیرے بندوں تک) پہنچا دیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2597 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1832a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 2

Why did he not sit..?

(2) The statement: "Why did he not sit..?" The author of Radd al-Muhtar in the fourth volume, in the book of judgment, said: "The Prophet's (ﷺ) reasoning is evidence for the prohibition of gifts whose cause is authority." [Fath]

Note 3

Evidence…

(3) The statement: "Evidence…" In Mirqat: "What he said in the first principle agrees with our opinion and that of Al-Shafi'i, as it is among the established principles that the means take the ruling of the ends. Thus, the means to obedience is obedience, and the means to sin is sin. As for what he said in Mishkat regarding the second principle, it is suitable for the opinion of those who prohibit tricks that lead to escaping usury or other matters, like Malik. Abu Hanifa, Al-Shafi'i, and others who permit tricks do not consider this aspect, as the Prophet (ﷺ) taught his worker in Khaybar when he said: 'He buys a good measure of dates for two measures of bad dates,' a trick to escape usury, which is to sell the bad dates for dirhams and buy the good dates with them. Thus, the second principle in this book is established, and the second principle in Mishkat is refuted."

Note 2

قوله

(۲) قوله: فهلا جلس : قال صاحب رد المحتار في الجزء الرابع في كتاب القضاء تعليل النبي له دليل على تحريم الهدية التي سببها الولاية. «فتح».

Note 3

قوله

(۳) قوله: دليل : قال في المرقاة» وما قاله في الكلية الأولى فهو موافق لمذهبنا ومذهب الشافعي؛ لأن من القواعد المقررة أن للوسائل حكم المقاصد، فوسيلة الطاعة طاعة، ووسيلة المعصية معصية. وأما ما قاله في «المشكاة» من الكلية الثانية فإنما يليق بمذهب من منع الحيل الموصلة إلى الخروج عن الربا أو غيره كمالك. وأبو حنيفة والشافعي وغيرهما ممن يرى إباحة الجيل لا ينظرون إلى هذا الدخيل؛ لأن النبي ﷺ علم عامله على خيبر، وقد قال له: إنه يشتري صاع تمر جيد بصاعي رديء حيلة تخرجه عن الربا، وهي أن يبيع الرديء بدراهم، ويشتري بها الجيد، فتستفاد منه الكلية الثانية التي في هذا الكتاب، وتنتقض بها الكلية الثانية التي قالها في «المشكاة».

Note 1

اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”کیوں نہ اپنے ماں کے یا باپ کے گھر میں بیٹھ گیا کہ دیکھ لیتا کہ وہاں اس کو ہدیہ کا مال آتا ہے یا نہیں“؛ خطابی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس ارشاد نبوی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دلیل ہے کہ ہر ایسی چیز جو کسی ممنوع یا ناجائز کام کا ذریعہ اور وسیلہ بنے وہ بھی ممنوع اور ناجائز ہے۔ شرح السنہ میں بھی ایسا ہی مذکور ہے، اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ نے مرقات میں لکھا ہے کہ یہ کلیہ ہے کہ ”ایسی چیز جو کسی ناجائز کام کا ذریعہ بنے وہ بھی ناجائز ہے“ مذہب حنفی اور مذہب شافعی کے موافق ہے، کیوں کہ وسائل کا حکم مقاصد کا ہوتا ہے، جو چیز طاعت کا وسیلہ بنے وہ بھی طاعت ہی ہوگی، اور جو چیز معصیت کا ذریعہ بنے وہ بھی معصیت ہی ہوگی۔ اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات میں اسی حدیث شریف کے تحت ایک دوسرا کلیہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ہر ایسا کام جو کسی ناجائز معاملہ سے (مثلاً سود وغیرہ سے) بچنے کے لئے اختیار کیا جائے تو ایسا کام جائز ہوگا۔ چنانچہ خیبر کے عامل زکات کو جن کے پاس کچھ ردی کھجور تھے اور وہ ان کو اچھے کھجور سے بدلنا چاہتے تھے (اور یہ معاملہ یعنی ردی کھجور کو اچھے کھجور سے بدلنا ربوا یعنی سود کی تعریف سود کی تعریف میں آتا تھا) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سودی معاملہ سے بچانے کے لئے اس طرح ہدایت فرمائی کہ وہ دو صاع ردی کھجور کو اولاً بیچ دیں اور اس کی قیمت سے ایک صاع اچھے کھجور خریدیں چوں کہ یہ معاملہ سود سے بچنے کے لئے بطور ذریعہ کے اختیار کیا گیا ہے اس لئے جائز ہوگا (اس وجہ سے کہ ایسا وسیلہ جو حرام یا ناجائز کام سے بچنے کے لئے اختیار کیا جائے جائز ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عامل زکات کے ہدیہ لینے کو پسند نہیں فرمایا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ہدیہ جو حکومت کے اثر کی وجہ سے دیا جاتا ہو، اس کا قبول کرنا حرام ہے۔ ردالمحتار بحوالہ فتح اور صاحب مرقات نے اس کے عدم جواز کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ عامل زکات کو صاحب مال اس وجہ سے ہدیہ دیتے ہیں کہ ان کے مال سے زکات کا کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے جو ناجائز ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عامل کو اس کی خدمت کا معاوضہ مقرر ہے اور اس طرح کا ہدیہ بھی معاوضہ ہی متصور ہوگا اور اس صورت میں ایک خدمت کے دو معاوضے ہو جائیں گے جو جائز نہیں ہے۔12

Hadith 2244

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2621
عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہم تم میں سے کسی کو عامل مقرر کرتے ہیں پھر وہ ہم سے سوئی یا اس سے چھوٹی بڑی چیز کو چھپا لیتا ہے (تو یہ خیانت ہے) اور ایسا شخص قیامت کے دن اس چھپائی ہوئی چیز کو لئے ہوئے حاضر ہوگا (اور اس کو اپنے کئے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1833a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2245

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2622Noor 2623
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایسا عامل جو حق اور انصاف کے ساتھ زکات وصول کرے، اس کا مرتبہ ایسے غازی کے برابر ہے جو راہ خدا میں جہاد کرے (جس طرح غازی جہاد سے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ گھر لوٹتا ہے، ایسا ہی عامل زکات بھی ثواب اور بیت المال کے لئے مال زکات لے کر لوٹتا ہے اور اس کا مال کے ساتھ واپس ہونا قوم کے مالیہ کو مستحکم کرنے کا بڑا اہم سبب ہے) اور عامل زکات (کا غازی کے برابر مرتبہ) اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اپنے گھر واپس نہ لوٹ جائے۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔ اور ترمذی کی ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ سال میں ایک مہینہ ہے (یعنی جس مہینہ میں مال آیا ہے، اس مہینہ سے لا کر ایک سال گزرنے پر زکات عائد ہوتی ہے خواہ وہ مہینہ کوئی بھی ہو، جس میں تم اپنے اموال کی زکات دیتے ہو، اس مہینہ کے گزر جانے کے بعد (یعنی درمیان سال میں) کچھ مال تمہارے پاس آ جائے تو جب تک اس مال پر ایک سال نہ گزر جائے اس وقت تک اس مال پر زکات واجب نہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2936 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 645 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Until the beginning of the next month.

(1) The statement: "Until the beginning of the next month." In Tabyin al-Haqaiq, a commentary on Kanz al-Daqaiq, it is mentioned that Tirmidhi narrated this, and it implies that Zakat becomes obligatory on newly acquired wealth at the beginning of the new year. Sabt ibn al-Jawzi said: "Tirmidhi narrated it with a similar meaning." It is also said that it is attributed to Uthman. Al-Sakkaki also said: "Tirmidhi narrated it," and he affirmed this. Know that our position in this matter is the opinion of Uthman, Ibn Abbas, Al-Hasan al-Basri, Al-Thawri, and Al-Hasan ibn Salih, as stated by Al-'Allama Al-'Ayni in Sharh al-Hidayah and Al-Ta'liq al-Mumajjad. Al-Shafi'i and Ahmad said: "The hadith 'Whoever acquires wealth is not obligated to pay Zakat until a year has passed' is not to be combined with other narrations." Tirmidhi and others narrated it, and our scholars said: "It is a weak hadith." This is because Tirmidhi said: "Abd al-Rahman ibn Zayd ibn Aslam is weak in hadith. Ahmad ibn Hanbal, Ali ibn al-Madini, and other hadith scholars weakened him, and he made many mistakes." In Al-Ta'liq al-Mumajjad: "Even if its authenticity is accepted, its generality is not intended, as there is consensus on excluding profits and offspring. We reasoned based on similarity, saying that offspring and profits are excluded due to similarity, not due to being newly acquired. Therefore, newly acquired wealth must be included if it is of the same type. This alleviates hardship for craftsmen who earn a dirham or more daily, as requiring a full year for every newly acquired wealth would cause great difficulty, which is avoided by the text." This was established by Ibn al-Humam and others. The hadith can also be interpreted to mean that whoever acquires wealth and has no other wealth reaching the Nisab (minimum threshold) is not obligated to pay Zakat until a year has passed.

Note 1

ف: ترمذی کی دوسری روایت میں مذکور ہے کہ ”تم اپنے اموال پر زکات دیتے رہو“ اس بارے میں کوکب دری اور عرف الشذی میں لکھا ہے کہ اموال کی تین قسمیں ہیں، ایک وہ مال ہے جو مال تجارت کے منافع کے طور پر درمیان سال میں حاصل ہوا ہے، جیسے کسی کے پاس کچھ بکریاں ہیں اور درمیان سال میں اور بکریوں کا اضافہ ہوا تو چونکہ اصل اور اضافہ شدہ مال کی جنس ایک ہے تو اس پر سب کا اتفاق ہے کہ ایسے درمیان سال میں حاصل ہونے والے منافع کو اصل سرمایہ میں شامل کر کے ختم سال پر دونوں مال کی زکات ایک ساتھ ادا کی جائے۔ دوسرے وہ مال ہے جو موجودہ اموال کی جنس سے نہ ہو، جیسے کسی کے پاس تجارت کے اونٹ ہیں اور اس کو درمیان سال میں کچھ بکریاں بھی حاصل ہو گئیں تو اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ ختم سال پر وہ صرف اونٹوں کی زکات دے کر بکریوں کو شامل نہ کرے، اس لئے کہ بکریاں غیر جنس سے ہیں، ہاں جب بکریوں پر ایک سال کی مدت گزر جائے تو وہ بکریوں کی علیحدہ زکات ادا کرے۔ تیسرے وہ مال ہے جو وراثت یا وصیت کے طور پر درمیان سال میں حاصل ہوا ہو، ایسے مال کے بارے میں امام اعظم اور امام مالک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگر درمیان سال میں حاصل ہونے والا اور موجودہ مال دونوں جنس میں ایک ہوں تو اصل مال اور اضافہ شدہ مال دونوں کو ملا کر ختم سال پر دونوں کی زکات ایک ساتھ ادا کی جائے۔ اور امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ درمیان سال میں حاصل ہونے والے مال پر بھی جب تک ایک سال پورا نہ گزر جائے زکات واجب نہیں ہوگی خواہ ایسا مال سابقہ مال کے ہم جنس ہو یا نہ ہو۔12

Hadith 2246

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2624
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سال گزرنے سے پہلے زکات ادا کرنے کے بارے میں دریافت فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اجازت دیدی (اس وجہ سے کہ ادائی زکات کی اصل شرط نصاب کا پورا ہونا ہے اور وہ واقع ہو چکی ہے، اس لئے احناف اور اکثر ائمہ کے نزدیک سال گزرنے سے پہلے زکات ادا کر دی جائے تو زکات ادا ہو جاتی ہے (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1624 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 678 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1795 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2247

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2625Noor 2626Noor 2627
طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اہل یمن سے فرمایا تھا کہ جَو اور جوار کے بجائے تم مجھے زکات میں دھاری دار چادریں یا پہننے کے کپڑے لا کر دو، کیونکہ تم پر کپڑوں کا دینا غلہ دینے کی نسبت زیادہ آسان ہے اور مدینہ منورہ میں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کپڑے زیادہ مفید ہیں۔ اس کی روایت امام بخاری نے (کتاب الزکات میں) تعلیقاً کی ہے اور ان کی تعلیق بھی حدیث کی روایت کی طرح صحیح ہے۔ ابن ابی شیبہ نے بھی اپنی مصنف میں اسی طرح روایت کی ہے اور بخاری کی ایک اور روایت میں ثمامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان سے انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ اس حکم نامہ میں جس کا خدائے تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم فرمایا تھا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ لکھا تھا کہ اگر کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس کی زکات میں اس شخص پر ایک سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو اور اس کے پاس ایک سالہ اونٹنی موجود نہ ہو بلکہ دو سالہ اونٹنی موجود ہو تو عامل زکات کو چاہئے کہ ایسے شخص سے دو سالہ اونٹنی لے لے اور دو بکریاں یا بیس درہم اس کو (زائد عمر کے جانور لینے کے معاوضہ میں) واپس کر دے اور اگر اس کے پاس ایک سالہ اونٹنی نہ ہو اور دو سالہ اونٹ ہو تو زکات میں دو سالہ اونٹ کو ہی لے لے مگر واپس کچھ نہ دے (کیوں کہ اونٹ ہونے کی وجہ سے وصولی میں کچھ زائد چیز نہیں آ رہی ہے، جس کا معاوضہ دیا جا سکے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1453 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Instead of barley.

(1) The statement: "Instead of barley." Our scholars used this as evidence for the permissibility of paying the value in Zakat. Ibn Rashid said: "Bukhari agreed with the Hanafis on this issue despite frequently differing from them, but evidence led him to this position." Know that the principle in this matter is that paying the value in Zakat is permissible according to us, as well as in expiations, Sadaqat al-Fitr, tithes, land tax, and vows. This is the opinion of Umar, his son Abdullah, Ibn Mas'ud, Ibn Abbas, Muadh, and Tawus. Al-Thawri said: "It is permissible to give goods as Zakat if they are of equivalent value." This is the opinion of Bukhari and one of the two narrations from Ahmad. If someone gives goods instead of gold or silver, Ashhab said it suffices. Al-Tartushi said: "This is a clear opinion on the permissibility of paying the value in Zakat." [Summarized from Umdat al-Qari]

Note 2

If they have a male camel.

(2) The statement: "If they have a male camel." This hadith is evidence for us because a male camel has no role in Zakat except through its value, as males are only accepted in Zakat based on their value. Bukhari also used this as evidence for the permissibility of accepting the value, despite his strong disagreement with the Hanafis. This is mentioned in Umdat al-Qari.

Note 1

قوله

(۱) قوله: مكان الشعير: احتج به أصحابنا في جواز دفع القيم في الزكاة، ولهذا قال ابن رشيد: وافق البخاري في هذه المسألة الحنفية مع كثرة مخالفته لهم، لكن قاده إلى ذلك الدليل. ثم اعلم أن الأصل في هذا الباب أن دفع القيمة في الزكاة جائزة عندنا، وكذا في الكفارة وصدقة الفطر والعشر والخراج والنذر، وهو قول عمر وابنه عبد الله وابن مسعود وابن عباس ومعاذ وطاوس. وقال الثوري: يجوز إخراج العروض في الزكاة إذا كانت بقيمتها، وهو مذهب البخاري، وإحدى الروايتين عن أحمد. ولو أعطى عرضا عن ذهب وفضة قال أشهب يجزئه. وقال الطرطوشي: هذا قول بين في جواز إخراج القيم في الزكاة، «عمدة القاري» ملخصا.

Note 2

قوله

(۲) قوله: عنده ابن لبون هذا الحديث حجة لنا؛ لأن ابن لبون لا مدخل له في الزكاة إلا بطريق القيمة؛ لأن الذكر لا يجوز في الإبل إلا بالقيمة. ولذلك احتج به البخاري أيضًا في جواز أخذ القيم مع شدة مخالفته للحنفية. قاله في عمدة القاري.

Note 1

ف: واضح ہو کہ صدر کی دونوں حدیثیں جو حضرت طاؤس اور حضرت ثمامہ سے مروی ہیں ان سے امام اعظم رحمہ اللہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ زکات میں نفس مال کے بجائے دوسری جنس لی جا سکتی ہے جیسے غلہ کے بجائے اسی قیمت کے کپڑے یا جانوروں کی زکات میں ایک جانور کے بجائے اسی قیمت کا دوسرا جانور۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ادائی زکات کا اصل تعلق صاحب زکات سے ہے۔ نفس مال سے نہیں، اسی لئے وہ اس مال کی زکات بصورت قیمت بھی ادا کر سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اور اسی طرح صدقہ فطر، کفارہ، عشر خراج اور نذر میں بھی اصل جنس کی بجائے قیمت کا دینا جائز ہے اور یہی قول حضرت عمر فاروق، حضرت ابن عمر، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت معاذ، حضرت ثوری اور امام بخاری کا ہے۔ ہدایہ، فتح القدیر اور اعلاء السنن میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔