Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے) · Chapter 7

Chapter on The Virtue of Charity

78 narrations · In source reading order

Hadith 2383

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2790
مَرْثَد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے مجھ سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ ان صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن مسلمان کا صدقہ اس کے لئے سایہ کا کام دے گا (یعنی قیامت کی گرمی سے راحت و آرام کا سبب ہوگا)۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1926 (unverified) 55% confidence

Mishkat (candidate) 1926

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2384

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2791
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے) کسی نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کو فقراء اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا) جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (گھر) تشریف لائے تو دریافت فرمایا (کیا اس بکری میں سے تقسیم کے بعد) کچھ باقی رہ گیا ہے؟ تو ام المومنین جواب دیں کہ (صرف) ایک دست باقی رہ گیا ہے اس میں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (نہیں) پوری بکری باقی ہے سوائے اس دست کے جو (گھر میں) رہ گیا ہے۔ (یعنی جو کچھ اللہ کی راہ میں دیا گیا، اس کا ثواب اللہ کے پاس باقی ہے اور جو گھر میں بچ گیا وہ فانی ہے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

Hadith 2385

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2792
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ) تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں: ایک وہ شخص جو رات کے وقت (نیند سے) اٹھ کر کلام اللہ (کو نماز یا غیر نماز میں) پڑھا کرتا ہو، دوسرا وہ شخص جو اپنے داہنے ہاتھ سے چھپا کر اس طرح خیرات کرے (کہ) بائیں ہاتھ کو اس کی خبر نہ ہو۔ تیسرا وہ شخص جو کسی جہاد میں شریک ہو، اور اس کے ساتھیوں کے قدم اکھڑ گئے لیکن وہ (تنہا) دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2567 (unverified) 82% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2386

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2793
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ پس وہ تین آدمی جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں ان میں سے ایک وہ ہے (جس نے اللہ کے نام پر مانگنے والے کو صدقہ دیا) جبکہ ایک سائل ایک جماعت کے پاس آیا اور اللہ کے نام پر مانگا اور ان لوگوں سے قرابت کا واسطہ دے کر نہیں مانگا، ان لوگوں میں سے کسی نے اس کو کچھ نہیں دیا۔ انہیں میں سے ایک شخص (چپکے سے اٹھ کر) باہر آیا اور اس مانگنے والے کو اس طرح چھپا کر دیا کہ سوائے خدا اور اس شخص کے جس کو دیا گیا کسی کو معلوم نہ ہوسکا (یہی وہ سائل کو دینے والا شخص ہے جس سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں۔ دوسرا وہ شخص ہے جو سب کو رات میں سوتا چھوڑ کر خدا کی عبادت کرتا ہو، جبکہ لوگ رات میں سفر کر رہے ہوں، یہاں تک کہ جب نیند ان پر غالب آگئی اور وہ سو گئے انھیں میں سے ایک شخص (سب کو سوتا چھوڑ کر) اٹھا (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) اور میرے سامنے گڑگڑانے لگا اور میرے کلام کی تلاوت میں مشغول ہو گیا۔ اور (تیسرا) وہ شخص ہے جو کسی لشکر میں (شریک جہاد) تھا اور دشمن سے مقابلہ ہوا، اور اس کے ساتھیوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ (دشمن کے مقابلہ میں) سینہ تانے ثابت قدم رہا۔ یہاں تک کہ اپنی جان دیدی، یا اس کو فتح حاصل ہوئی (ایسا شخص بھی اللہ تعالیٰ کے پاس محبوب ہے) اور وہ تین شخص جن پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوتے ہیں (وہ یہ ہیں: ایک) زناکار بوڑھا (دوسرے) تکبر کرنے والا فقیر اور (تیسرے) وہ دولتمند جو ظلم کرتا ہو۔ اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2568 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2568 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2387

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2794
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی تو (اس کو تھامنے کے لئے) اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کئے اور پہاڑوں کو زمین پر ٹھہرایا تو زمین (کا ہلنا بند ہو گیا اور اس) کو قرار حاصل ہو گیا تو فرشتے پہاڑوں کی سختی (کو دیکھ کر اس) سے حیران رہ گئے اور عرض کئے: اے پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑوں سے بڑھ کر بھی کوئی سخت چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں (وہ) لوہا ہے (جو پہاڑ سے سخت ہے کہ وہ پتھر کو توڑ دیتا ہے) فرشتوں نے (حیرت سے) پھر پوچھا: اے پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ہاں (وہ) آگ ہے (جو لوہے سے سخت ہے کہ لوہے کو نرم کر دیتی ہے) فرشتوں نے پھر عرض کیا اے پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں (وہ) پانی ہے (جو آگ کو بجھا دیتا ہے) فرشتوں نے پھر عرض کیا: اے پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں پانی سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ہاں (وہ) ہوا ہے (جو پانی پر غالب ہے کہ پانی کو اڑا لے جاتی ہے، تو فرشتوں نے پھر عرض کیا: اے پروردگار! کیا آپ کے مخلوق میں ہوا سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ہاں (وہ) انسان ہے (جو سب سے زیادہ سخت اور قوی ہے) کہ جو اپنے سیدھے ہاتھ سے اس طرح چھپا کر خیرات کرتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوتی (اس لئے کہ اس نے نفس کو ریا اور دکھاوے اور شیطانی وسوسوں سے بچایا اور جبلی عادتوں کا مقابلہ کیا اور اخلاص سے خیرات کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کی اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کیا) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3369 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2388

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2795
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: جو مسلمان کسی برہنہ مسلمان کو کپڑے پہنا دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائیں گے اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائیں گے اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی مہر لگی ہوئی شراب (طہور) پلائیں گے۔ اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1682 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2449 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2389

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2796
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس کسی مسلمان نے کسی مسلمان کو کوئی کپڑا (جیسے تہ بند، چادر وغیرہ) پہنا دے تو یہ (پہنانے والا مسلمان) اس وقت تک اللہ کی حفاظت (اور امان) میں رہے گا جب تک کہ اس کپڑے کی ایک دھجی بھی اس کے (یعنی پہننے والے کے جسم) پر باقی رہے گی۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2484 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2390

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2797
سعد بن عُبَادَۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سعد رضی اللہ عنہا میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے (اور میں ان کی روح پر ایصال ثواب کے لئے کچھ خیرات کرنا چاہتا ہوں ارشاد ہو کہ) کونسی خیرات افضل ہے (جس سے ان کو ثواب پہونچے)؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ پانی (بہترین صدقہ ہے، اس لئے تم کنواں کھدوا دو تا کہ سب کو اس سے فائدہ پہونچے) تو حضرت سعدؓ نے کنواں کھدوایا، اور کہا یہ کنواں ام سعد (پر ایصال ثواب) کے لئے (وقف) ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1681 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1912 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1912

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2391

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2798Noor 2799
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر نفقہ میں (یعنی کھانا کھلانے وغیرہ میں) وسعت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر سال بھر وسعت کریں گے (یعنی خیر و برکت نازل کریں گے) سفیان ثوری (جو اس حدیث کے راویوں میں ہیں) فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کا بارہا تجربہ کیا (اور خوب ہی پایا کہ سال بھر وسعت رہی)۔ اس حدیث کی روایت رزین نے کی ہے۔ اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1926 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1926

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2392

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2800
ابو ہریرہ اور حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بہترین خیرات وہ ہے جو ضرورت سے زائد مال میں سے دی جائے (کہ خیرات کے بعد بھی مال اہل وعیال کی ضرورت کے لئے باقی رہے) اور خرچ کی ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر پرورش ہوں۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور مسلم نے صرف حکیم بن حزام سے روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1426 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1427 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1034 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2393

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2801
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کونسی خیرات (ثواب کے اعتبار سے) بہترین ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (بہترین خیرات یہ ہے کہ) غریب آدمی (محنت اور مشقت کر کے جو مال حاصل کرتا ہے اس میں سے اپنی) وسعت کے لحاظ سے خیرات کر دے اور خرچ کی ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر پرورش ہوں۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1677 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2394

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2802
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ بہترین خیرات یہ ہے کہ تو کسی بھوکے کو (خواہ وہ مسلمان ہو، یا کافر ہو، یا جانور) پیٹ بھر کھانا کھلا دے۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

Hadith 2395

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2803
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ بہترین دینار (یعنی رقم) وہ دینار ہے جس کو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے اور وہ دینار (بھی بہترین) ہے جس کو آدمی اپنی جہاد کی سواری پر خرچ کرے، اور (اسی طرح) وہ دینار (بھی بہترین) ہے جس کو آدمی اپنے جہاد کرنے والے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 994 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2396

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2804
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے: (یا رسول اللہ!) میرے پاس دینار ہیں (ارشاد ہو کہ میں ان کو کیسے خرچ کروں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (پہلے) تو اس کو اپنی ذات پر خرچ کر۔ انھوں نے عرض کیا کہ (اس کے بعد بھی) میرے پاس دینار (باقی) رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کو تو اپنی اولاد پر خرچ کر انھوں نے (پھر) عرض کیا کہ (اس کے بعد بھی) میرے پاس اور دینار (باقی) رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تو اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر، انھوں نے (پھر) عرض کیا: (اس کے بعد بھی) میرے پاس اور دینار (باقی) رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تو اس کو اپنے خادم پر خرچ کر، انھوں نے (پھر) عرض کیا کہ میرے پاس اور دینار رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تم خود سمجھدار ہو (اس لئے تم جس کو مستحق سمجھے ہواس کو دیدو)۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1691 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2535 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2397

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2805
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کوئی مسلمان اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو اس پر اس کو خیرات کا ثواب ملتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5351 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 55 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1002 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2398

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2806
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (انسان اپنے مال کو کئی طریقوں سے خرچ کرتا ہے) ایک (خرچ تو) وہ دینار ہے جس کو تم راہ خدا (یعنی جہاد، یا حج، یا طلب علم) میں خرچ کرتے ہو اور ایک دینار وہ ہے جس کو تم غلام باندی آزاد کرنے میں خرچ کرتے ہو اور ایک دینار وہ ہے جس کو تم مسکین پر خیرات کرتے ہو اور ایک دینار وہ ہے جس کو تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو (یوں تو ان میں سے تم کو ہر ایک دینار کے خرچ پر ثواب ملتا ہے لیکن) وہ دینار جس کو تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہو وہ ثواب کے اعتبار سے سب سے افضل ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 995 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2399

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2807
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بچوں پر جو میرے ہی بطن سے ہیں خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تم ان پر خرچ کرتی جاؤ تم جو کچھ خرچ کرو گی اس کا ثواب تم کو برابر ملے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1467 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1001 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2400

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2808
ام المومنین میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (وہ کہتی ہیں) کہ انہوں نے ایک باندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں آزاد کیا پھر (بعد میں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر فرمایا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اگر تم اس (باندی) کو اپنے ماموؤں کو دے دیتیں (جن کو ایک خادم کی ضرورت تھی) تو اس کا ثواب (آزاد کرنے سے) زیادہ ہوتا (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلہ رحمی کا ثواب خیرات کرنے سے بڑھ کر ہے) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 999 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2592 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2401

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2809
سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (اجنبی) مسکین کو خیرات دینے سے (صرف) ایک خیرات کا ثواب ملتا ہے اور (غریب) قرابت دار کو خیرات دینے سے دوہرا ثواب ملتا ہے، ایک تو خیرات کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 658 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1844 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2582 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2402

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2810
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، انصار مدینہ میں کھجوروں کے اعتبار سے بہت مالدار تھے اور ان کو سب سے زیادہ محبوب وہ باغ تھا جس کو بَیْرَحَاء کہتے تھے جو مسجد نبوی کے مقابل واقع تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا عمدہ (اور شیریں) پانی پیا کرتے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ”لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ“ (تم خیر کامل بھی حاصل نہ کرسکو گے یہاں تک کہ تم اپنی پیاری چیز کو خرچ نہ کرو گے) (سورۃ آل عمران:92) تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کئے: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ“ اور ”بَیْرَحَاء “(نامی باغ) مجھ کو اپنے مال میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اس لئے میں اس کو خدا کے نام پر خیرات کرنا چاہتا ہوں اور اس (کو خیرات کرنے سے) اللہ تعالیٰ کے پاس نیکی اور ذخیرہ (آخرت) کی امید رکھتا ہوں۔ پس یا رسول اللہ ﷺ! آپ اس کو جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں (یعنی: جس کو چاہیں دیدیں) (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: بَخْ بَخْ (واہ واہ! شاباش، شاباش) یہ باغ نہایت نفع دینے والا ہے، تم نے جو کچھ کہا میں نے سن لیا (یعنی مجھے تمہارا منشا معلوم ہوگیا) اب میری رائے میں مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم اس کو اپنے (محتاج) قرابت داروں میں تقسیم کردو۔ (تا کہ صدقہ کا بھی ثواب حاصل ہو، اور صلہ رحمی کا بھی)، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ایسا ہی کروں گا اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس باغ کو اپنے قرابت داروں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1461 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 998a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2403

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2811
رائطہ بنت عبداللہ جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور جو ایک ہنرمند صحابیہ ہوئی ہیں ان سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، بیروزگار تھے تو یہ (اپنے ہنر کی آمدنی کو روزانہ) ان پر اور ان کی اولاد پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ (چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو حکم (جیسا کہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں مذکور ہے، جو زینب زوجہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔12) دیا تھا کہ وہ خیرات کیا کریں، یہ ارشاد سن کر) انہوں نے (اپنے شوہر سے) کہا خدا کی قسم! تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے خیرات کرنے سے روک رکھا ہے (کہ میرے ہنر کی پوری آمدنی تم پر خرچ ہو جاتی ہے) جس کی وجہ سے میں کچھ بھی خیرات نہیں کر سکتی ہوں (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر ہم پر خرچ کرنے کی وجہ سے تم ثواب سے محروم ہو رہی ہو تو مجھے بھی پسند نہیں کہ تم ہم پر خرچ کرو، تو یہ دونوں حضرات (میاں بیوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (حاضر ہوئے اور) رائطہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک ہنرمند عورت ہوں اور (چیزیں بنا کر) فروخت کرتی ہوں اور (اس وقت) میرے بچے اور میرے خاوند کے پاس کچھ بھی (مال) نہیں ہے (چونکہ میں ان پر خرچ کرتی ہوں) اس لئے میں خیرات نہیں کر سکتی ہوں (حضور ﷺ! ارشاد ہو کہ) میری آمدنی جو ان پر خرچ ہو رہی ہے کیا اس کا مجھے اجر و ثواب ملے گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جب تک تم ان پر خرچ کرو گی تم کو اس کا (برابر) ثواب ملتا رہے گا۔ اس لئے تم ان پر خرچ کرتی جاؤ۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

A woman from Sana’a

(1) The statement: "A woman from Sana’a" etc. In Sharh Ma’ani al-Athar, it is said: "This indicates that the charity mentioned was voluntary and not obligatory. Rabitah was Zainab, the wife of ‘Abdullah ibn Mas’ud. It is not known that ‘Abdullah had another wife during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The evidence that this charity was voluntary is her statement: 'I was a skilled woman, and I used to sell from my work and spend on ‘Abdullah.' The response of the Messenger of Allah (ﷺ) in this hadith and the previous one was in answer to her question. In this hadith of Rabitah, it is mentioned: 'I used to spend from that on ‘Abdullah and his children.' It is unanimously agreed that a woman cannot spend her Zakat on her children. Since what she spent on her children was not from Zakat, similarly, what she spent on her husband was also not from Zakat."

Note 1

قوله

(۱) قوله: امرأة صنعاء إلخ : وقال في شرح معاني الآثار»: ففي هذا الحديث أن تلك الصدقة مما لم يكن فيه زكاة، ورابطة هذه هي زينب امرأة عبد الله لا تعلم أن عبد الله كانت له امرأة غيرها في زمن رسول الله ﷺ. والدليل على أن تلك الصدقة كانت تطوعًا كما ذكرنا قولها: «كنت امرأة صنعاء، أصنع بيدي فأبيع من ذلك، فأنفق على عبد الله»، فكان قول رسول الله ﷺ الذي في هذا الحديث وفي الحديث الأول جوابا لسؤالها هذا. وفي حديث رابطة هذا: كنت أنفق من ذلك على عبد الله على ولده مني. وقد أجمعوا على أنه لا يجوز للمرأة أن تنفق على ولدها من زكاتها، فلما كان ما أنفقت على ولدها ليس من الزكاة، فكذلك ما أنفقت على زوجها ليس هو أيضًا من الزكاة.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رائطہ رضی اللہ عنہا اپنی روزانہ کی کمائی سے اپنے شوہر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور اپنی اولاد پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ واضح ہو کہ حضرت رائطہؓ کا ان پر خرچ کرنا مد زکات سے نہ تھا اس کی دلیل شرح معانی الآثار میں اس طرح مذکور ہے کہ خود حضرت رائطہؓ فرماتی ہیں کہ میں ایک ہنرمند عورت ہوں اور اپنی دستکاری سے (روزانہ) جو کچھ بناتی ہوں اور اس کی آمدنی کو حضرت ابن مسعود پر خرچ کرتی ہوں۔ (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی روز مرہ کی آمدنی کو ہر روز خرچ کر دیا کرتی تھیں، اس لئے مال پر سال کے نہ گزرنے کی وجہ سے زکات کے نصاب کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ لہذا معلوم ہوا کہ ان کا خرچ مد زکات سے نہ تھا) چنانچہ حضرت رابطہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور بچوں پر خرچ کرنا ثواب کا موجب ہے یا نہیں۔ اس سوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال نفل خیرات کے ثواب سے متعلق تھا نہ کہ زکات سے۔ حضرت رابطہ کا خرچ مد زکات سے نہ ہونے پر شرح معانی الآثار میں دوسری دلیل یہ ہے کہ عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زکات کے مال کو اپنے بچوں پر خرچ کرے، چونکہ حضرت رابطہؓ جس مال کو اپنے بچوں پر خرچ کیا کرتی تھیں، اسی مال میں سے اپنے شوہر پر بھی خرچ کیا کرتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہ مال جس کو بچوں پر خرچ کرتی تھیں وہ مد زکات میں سے نہ تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مال حضرت رابطہؓ اپنے شوہر پر خرچ کرتی تھیں وہ بھی مد زکات سے نہ تھا۔12

Hadith 2404

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2812
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دو میں کس کو تحفہ دوں؟ تو حضور ارشاد فرمائے کہ جس کا دروازہ تمہارے (دروازے) سے قریب ہو (اس کے پاس تحفہ بھیجو)۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2595 (unverified) 99% confidence · Validation similarity: 0.888
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6020 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2259 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The one whose door is closer to you

(1) The statement: "The one whose door is closer to you" refers to the neighbor whose house is adjacent to yours, according to the opinion of Abu Hanifah. Others said: "The one who lives in your neighborhood and shares the same mosque with you." This is considered the most appropriate view. Al-Shafi’i said: "The neighbor includes up to forty houses in every direction." The correct opinion is that of the Imam, as mentioned in Al-Durr al-Muntaqa, and clarified by Al-‘Allamah Qasim. This is the analogy. Among the rights of a neighbor is not to forget them in food, drink, and clothing, and to assist them in every difficulty. If one can feed them, they should do so; otherwise, they should not let the effects of cooking, such as smoke, be seen, as it may cause them distress. This is the summary of what is mentioned in Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah and Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar in the book of Wills. This is why ‘Ali al-Qari said in Al-Mirqat: "Perhaps the reason is that they are more connected and more aware, making them more deserving of good companionship and visible kindness." Allah says: And do good to parents, relatives, orphans, the needy, the near neighbor, the distant neighbor, the companion at your side (Al-Nisa 4:36). This indicates that the closer neighbor is more deserving of kindness, but it does not mean that giving is restricted to the closest neighbor, as is apparent from the hadith.

Note 1

قوله

(۱) قوله: أقربهما منك بابا جارك من يلاصق داره دارك هذا على رأي أبي حنيفة. وقالا: من يسكن في محلتك ويجمعكم مسجد المحلة، وهو استحسان. وقال الشافعي: الجار إلى أربعين دارًا من كل جانب، والصحيح قول الإمام كما أفاده في الدر المنتقى، وصرح به العلامة قاسم، وهو القياس ومن حقوق الجار أن لا ينسه في الطعام والشراب واللباس، ويعاونه في كل هم وغم، فإن يقدر على إطعامه فليطعم، وإلا فلا يظهر أثر الطبخ من الدخان وغيره؛ لأنه يصير مغموما به. هذا حاصل ما في التفسيرات الأحمدية» و«الدر المختار ورد المحتار» في كتاب الوصايا. ولهذا قال علي القاري في المرقاة»: ولعل وجهه أنه أكثر اختلاطا وأظهر اطلاعا، فيكون بحسن العشرة وظهور المودة أولى، وقد قال تعالى: ﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَنَا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ) (النساء : (٣٦) فدل على أن الجار الأقرب بمزيد الإحسان أنسب، وليس المراد انحصار الإهداء إلى الأقرب، كما هو ظاهر الحديث.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں پڑوسی کا ذکر ہے، پڑوسی کے تعین میں ائمہ کے اقوال حسب ذیل ہیں:۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پڑوسی وہ ہے کہ جس کا گھر تمہارے گھر سے ملا ہوا ہو اور صاحبین کا قول یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو تمہارے محلہ میں رہتا ہو اور محلہ کی مسجد کا مصلی ہو وہ پڑوسی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پڑوس کا شمار اپنے گھر کے ہر جانب سے چالیس گھر تک ہوتا ہے۔ در منتقی میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہی صحیح معلوم ہوتا ہے اور اسی کی صراحت علامہ قاسم نے بھی کی ہے اور قیاس بھی یہی ہے کہ پڑوسی وہی ہے جس کا گھر تمہارے گھر سے متصل ہو۔ (درمنتقی کی عبارت یہاں ختم ہوئی)۔ پڑوسی کے تعین کے بعد پڑوسی سے متعلق حقوق یہ ہیں کہ اگر پڑوسی نادار ہو تو اس کے کھانے، کپڑے اور اس کی امداد سے غافل نہ ہو اور اگر پڑوسی کسی مصیبت اور پریشانی میں مبتلا ہو جائے تو اس کے دکھ درد میں شریک رہے اور اگر گھر میں کھانے وغیرہ کا اہتمام ہو تو اس میں اپنے پڑوسی کو بھی شریک کرے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو کم از کم اپنے گھر پر پکوان وغیرہ کے انتظامات کو نمایاں نہ کرے تا کہ وہ رنجیدہ نہ ہو۔ جیسا کہ تفسیرات احمدیہ، درمختار اور ردالمحتار کی ”کتاب الوصایا“ میں مذکور ہے12

Hadith 2405

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2813
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جب تم (گوشت کا) شوربہ پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کردو تاکہ (تم اس کے ذریعہ سے) اپنے پڑوسیوں کی مدد کرسکو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2625a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2406

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2814
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کیا میں تم کو سب سے بہتر آدمی کا پتہ نہ دوں؟ سنو! سب سے بہتر آدمی وہ ہے جو (ہر وقت) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار رہتا ہے (پھر آپ ارشاد فرمائے): کیا میں تم کو اس شخص کا پتہ نہ دوں جو (درجہ میں) اس کے قریب ہے؟ (سنو یہ) وہ شخص ہے جو چند بکریوں کے ساتھ گوشہ تنہائی اختیار کرلے اور ان بکریوں پر جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے (یعنی زکات ہے) اس کو ادا کرتا ہے (پھر آپ ارشاد فرمائے): کیا میں تم کو سب سے برے آدمی کی خبر نہ دوں؟ (سنو یہ) وہ شخص ہے جس سے اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کیا جائے اور (وہ باوجود قدرت رکھنے کے) نہ دیتا ہو۔ اس کی روایت ترمذی، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1652 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Asked in the name of Allah

(1) The statement: "Asked in the name of Allah" in Al-Mukhtarat, it is said: Ibn al-Mubarak said, "If someone asks for the sake of Allah or for the right of Allah, I prefer not to give them anything, as they have elevated what Allah has made insignificant." This is understood to apply when the need is not known. I say: One should consider the prohibition along with what our teacher Al-Jarahi mentioned from Al-Tabarani with a chain of narrators who are reliable, from Abu Musa (may Allah be pleased with him) that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Cursed is the one who asks in the name of Allah, and cursed is the one who is asked in the name of Allah and then refuses, unless the request is inappropriate." This is the summary of what is in Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله : يسأل بالله : وفي المختارات»: قال ابن المبارك: سأل لوجه الله أو لحق الله يعجبني أن لا يعطيه شيئًا؛ لأنه عظم ما حقر الله محمول على ما إذا لم يعلم ضرورته، أقول: وليتأمل المنع مع ما ذكره شيخ مشايخنا الجراحي مما عند الطبراني بسند رجاله رجال الصحيح عن أبي موسى الله أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: ملعون من سأل بوجه الله، وملعون من سئل بوجه الله، ثم منع سائله ما لم يسأل هجرا، يعني قبيحا. ولأبي داود والنسائي وصححه ابن حبان، وقال الحاكم: على شرط الشيخين عن ابن عمر الله رفعه: «من يسأل الله بوجه فأعطوه». وللطبراني: ملعون من سأل بوجه الله، وملعون من يسأل بوجه الله فيمنع سائله، إلا أن يحمل على السؤال من غير الدنيا أو على ما إذا علم عدم حاجته، وأن سؤاله للتكثر، تأمل. هذا حاصل ما في «الدر المختار» ورد المحتار».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جس سے سائل اللہ کے نام کا واسطہ دیکر مانگے اور وہ نہ دے۔ اس بارے میں ابن مبارک کا قول مختارات میں اس طرح مذکور ہے کہ جو شخص اللہ کا واسطہ دے کر یا اللہ کا حق بتا کر مانگے، مجھے یہ بات پسند ہے کہ ایسے سائل کو کچھ نہ دیا جائے، اس لئے اس نے (دنیوی مال) جس کو اللہ نے حقیر قرار دیا ہے (اس کے حاصل کرنے کے لئے) اس نے اللہ کے نام کو جو عظمت اور شان والا ہے (ایسی حقیر چیز کے لئے) استعمال کیا۔ یہ قول اس وقت پر محمول ہے جب کہ معلوم ہو کہ سائل حقیقت میں ضرورت مند نہیں ہے۔ اس خصوص میں طبرانی نے قوی سند کے ساتھ ایک حدیث ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اس شخص پر لعنت ہے جو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہو اور وہ شخص بھی ملعون ہے جس سے اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کیا جائے اور (وہ قدرت رکھنے اور سائل کی ضرورت سے واقف ہونے کے باوجود) سائل کو نہ دے اگر سائل سوال کرتے وقت برا بھلا کہہ دے تو ایسی صورت میں نہ دینے والا لعنت کا مستحق نہیں ہوگا۔ اور ابوداؤد اور نسائی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک روایت کی ہے جس کو ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق قرار دیا ہے اور ابن عمرؓ نے اس حدیث کو مرفوع یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کا واسطہ دے کر مانگے تم اس کو دیدو۔ صاحب درمختار اور ردالمحتار نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیثوں کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ مانگنے والا اور نہ دینے والا یہ دونوں اس صورت میں لعنت کے مستحق قرار دئے جائیں گے جب کہ مانگنے والا بے ضرورت اور اپنے مال کو بڑھانے کے لئے سوال کرے اور نہ دینے والا اس وقت ملعون ہوگا جب کہ وہ دینے کی قدرت رکھنے اور سائل کی ضرورت سے واقف ہونے کے باوجود نہ دے۔12

Hadith 2407

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2815
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص (بطور فریاد کے کسی کے شر سے) اللہ کے نام پر تم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پناہ دے دو اور جو شخص تم سے سوال کرے اور اللہ کے نام پر کوئی چیز مانگے تو تم اس کو دیدو، اور جو شخص کھانے کی دعوت دے تو تم اس کی دعوت کو قبول کرو، اور کوئی شخص تمہارے ساتھ احسان کرے تو تم بھی اس کے احسان کا بدلہ دو (یعنی اس کے ساتھ کوئی نیکی کرو) اور اگر تم ایسا نہ کرسکو تو اس کے لئے دعاء کرتے رہو، یہاں تک کہ تم کو یقین ہوجائے کہ تم نے اس (کے احسان) کا بدلہ چکا دیا۔ اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1672 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2567 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1943 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 1943

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ احسان کرنے والے کا بدلہ احسان سے نہ کرسکیں تو کم از کم ”جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا“ (اللہ تعالیٰ تم کو اس کا بہتر بدلہ دے) کہہ دیں تو یہ دعا اس کے احسان کا بدلہ ہوجائیگی۔12

Hadith 2408

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2816
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات (یا اس کے نام کا واسطہ دیکر نہ اللہ سے نہ اس کے غیر سے) بجز جنت (کے کوئی اور چیز) نہ مانگی جائے (یعنی لوگوں سے اللہ کا واسطہ دے کر دنیا کی کوئی چیز نہیں مانگنا چاہئے)۔ (مرقات اور اشعۃ اللمعات۔12) اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1671 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2409

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2817
ام بجید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سائل کو (خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ کچھ نہ کچھ ضرور دو) اگرچہ یہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی روایت امام مالک، نسائی نے کی ہے اور ترمذی اور ابوداؤد نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1667 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 665 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2565 (unverified) 83% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2410

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2818
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب بیوی اپنے گھر کے کھانے میں سے (راہ خدا میں کچھ خیرات کرتی ہے اور اس (خیرات) میں اسراف نہیں ہورہا، ہو تو اس عورت کو اس خیرات کا ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو بھی اس کمائی کا ثواب ملتا ہے (جس مال میں سے خیرات دی گئی ہے) اور اسی طرح اس داروغہ کو بھی (خیرات کا ثواب ملتا ہے جو اپنے مالک کی جانب سے اس کے مال میں سے کچھ خیرات کردے) تینوں کو برابر پورا ثواب ملتا ہے) ایک کا ثواب کم کرکے دوسرے کو نہیں دیا جائے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1024a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1425 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

When she spends.

(1) The statement: "When she spends." In Al-Mirqat, it is said: "The scholars have generally agreed that it is not permissible for a woman to give charity from her husband's wealth without his explicit or implicit permission. Similarly, a servant is not allowed to do so. The hadith that indicates permissibility is based on the custom of the people of Hijaz, who would allow family members and servants to give charity and spend when a beggar arrives or a guest is present." This is what Al-Sharif Al-Jurjani said in the commentary of Al-Mishkat. Al-Allamah Al-Ayni said in Umdat Al-Qari: "The hadiths in this chapter differ. The way to reconcile them is that it varies according to the customs of different regions, the husband's attitude—whether he is lenient and approves or dislikes it—and the nature of what is spent, whether it is something insignificant that he would overlook or something significant that he would not tolerate. It also depends on whether the item is perishable and might spoil if delayed or something that can be stored without fear of spoilage."

Note 1

قوله

(۱) قوله: إذا أنفقت: وقال في المرقاة»: قال محي السنة: عامة العلماء على أنه لا يجوز لها التصدق من مال زوجها بغير إذنه صريحا أو دلالة، وكذا الخادم والحديث الدال على الجواز أخرج على عادة أهل الحجاز يطلقون الأمر للأهل والخادم في التصدق والإنفاق عند حضور السائل ونزول الضيف انتهى. كذا قال الشريف الجرجاني في حاشية المشكاة». وقال العلامة العيني في عمدة القاري: أحاديث هذا الباب مختلفة، كيفية الجمع بينها أن ذلك يختلف باختلاف عادات البلاد وباختلاف حال الزوج من مسامحته ورضاه بذلك أو كراهته لذلك، وباختلاف الحال في الشيء المنفق بين أن يكون شيئًا يسيرًا يتسامح به، وبين أن يكون له خطر في نفس الزوج يخل بمثله، وبين أن يكون ذلك رطبا يخشى فساده إن تأخر، وبين أن يكون يدخر ولا يخشى عليه الفساد.

Note 1

ف: مرقات میں محی السنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر خیرات کرے، خواہ وہ اجازت صراحت کے ساتھ ہو یا اشارۃً ہو۔ اور اسی طرح خادم کے لئے بھی جائز نہیں کہ اپنے مالک کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر خیرات کرے، اب باذکورہ حدیث شریف اور وہ حدیثیں جو بعد میں آ رہی ہیں ان میں بغیر اجازت کے بیوی اور خادم کے خیرات کرنے کا جو ذکر ہے وہ اس بنا پر ہے کہ اہل حجاز کی عام عادت یہ تھی کہ وہ اپنی بیویوں اور خادموں کو اجازت دے رکھتے تھے کہ اگر سائل آئے تو دیدیا کریں اور مہمان آئے تو مہمان نوازی کیا کریں، علامہ شریف جرجانی نے بھی مشکوۃ کے حاشیہ میں ایسا ہی کہا ہے۔ اور علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں کہا ہے کہ اس بارے میں مختلف حدیثیں آئی ہیں، ان میں تطبیق یعنی اختلاف کو دور کرنے کی صورت یہ ہے کہ بیوی اور خادم کو خیرات کرنے کی اجازت کا انحصار ملک کے رواج، شوہر اور مالک کی طبیعت اور جو چیز خیرات کی جارہی ہے اس کی حیثیت پر ہوگا۔ مثلاً کسی ملک کا رواج یہ ہے کہ شوہر اور مالک کی اجازت کے بغیر وہاں خیرات دی جاتی ہو، یا شوہر کی طبیعت یہ ہے کہ وہ اجازت کے بغیر اپنی بیوی کی خیرات پر اور مالک اپنے خادم کی خیرات پر راضی رہتے ہوں یا جو چیز خیرات میں دی جا رہی ہے وہ معمولی حیثیت کی ہے اور زیادہ مدت تک رکھنے سے خراب ہو جاتی ہے تو ان تمام صورتوں میں بیوی یا خادم کا بغیر اجازت کے خیرات کرنا جائز ہوگا اس کے برخلاف مالک کا رواج ایسا نہ ہو، یا شوہر اور مالک کی طبیعت میں بخل ہو اور وہ اجازت کے بغیر خیرات کو پسند نہ کرتے ہوں یا جو چیز خیرات دی جا رہی ہو شوہر اور مالک کے پاس اہم ہو تو ان تمام صورتوں میں شوہر یا مالک کی اجازت کے بغیر خیرات کا دینا جائز نہ ہوگا۔12

Hadith 2411

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2819
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب بیوی اپنے شوہر کے مال سے اس کے حکم کے بغیر کچھ خیرات کرے تو اس کو (پورے ثواب کا) آدھا ثواب ملے گا (اور باقی نصف اس کے شوہر کو ملے گا)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5360 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1026a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2412

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2820
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے خطبہ میں یہ فرماتے سنا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی مال خرچ نہ کرے (اس پر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا کھانے میں سے بھی (اجازت کے بغیر بیوی کے لئے خیرات کرنا جائز نہیں ہے حالانکہ وہ روپیہ پیسہ کے مقابلہ میں معمولی چیز ہے تو) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (نہیں کھانا بھی خیرات نہ کرے) کھانا تو ہمارا اہم ترین مال ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 670 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.