Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1115

Chapter on What is Recited After the Takbir

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on What is Recited After the Takbir

Zujajat al-Masabih 1115Volume 1

English

Anas reported: A man entered the prayer row while out of breath and said: (Allah is the Greatest. Praise be to Allah, abundant, pure, and blessed praise). When the Messenger of Allah (ﷺ) finished the prayer, he asked, "Who said these words?" The people remained silent. He asked again, "Who said these words? There is no harm in them." A man said, "I came while out of breath and said them." The Prophet (ﷺ) said, "I saw twelve angels rushing to see who would take them up." [Narrated by Muslim] In Al-Bahr Ar-Ra'iq, it is mentioned that this occurred in the early days of Islam. It is also indicated by the fact that Umar recited the opening supplication loudly to teach people, showing that this was the final practice in obligatory prayers.

العربية

Typed, pending editorial approval
١١١٥ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه): أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، الحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ. فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ ﷺ صَلَاتَهُ قَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟» فَأَرَمَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا، فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُوْنَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ»: أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ، وَيَدُلُّ عَلَيْهِ أَنَّ عُمَرَ اللهِ حِيْنَ جَهَرَ جَهَرَ بِالثَّنَاءِ فَقَطْ لِيَقْتَدِيَ النَّاسُ بِهِ، وَيَتَعَلَّمُوْا مِنْهُ فَهُوَ ظَاهِرُ فِي أَنَّهُ الَّذِي كَانَ آخِرَ الْأَمْرِ فِي الْفَرَائِضِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1265
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جماعت میں اس حالت میں شریک ہوا کہ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اس نے ایسی حالت میں اللہ اکبر کہہ کر۔ (ہاتھ باندھا اور یہ ثناء پڑھی۔) ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ“ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے جو ریا اور دکھاوے سے پاک ہو اور جس تعریف میں برکت ہو۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کر دی تو ارشاد فرمایا کہ ان الفاظ کا کہنے والا کون تھا؟ سب لوگ خاموش رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ یہ الفاظ کس نے کہے تھے؟ (اس پر بھی) سب لوگ خاموش رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے یہ الفاظ کہے ہیں تو اس نے کوئی بری بات نہیں کہی ہے (اس پر) ایک شخص نے (جو شریک جماعت ہوا تھا) کہا میں اس حالت میں شریک ہوا کہ میری سانس پھولی ہوئی تھی اور میں یہ کلمات کہہ گزرا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے ان کلمات کو اوپر لے جانے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت

Arabic quotation in the English source

اللَّهُ أَكْبَرُ، الحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 600 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

کر رہے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) بحر الرائق میں لکھا ہے کہ ثناء میں ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کی بجائے ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيهِ“ یہ اور اس قسم کے دوسرے الفاظ کا فرائض میں پڑھنا ابتداء اسلام میں تھا اور اس کی دلیل جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل ہے کہ جب آپ نے نماز پڑھی تو ثناء میں تعلیماً ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کو جہر سے پڑھا تاکہ لوگ ثناء کے بارے میں آپ کی اتباع کریں اور اس کو سیکھ لیں، پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ فرائض میں ثناء کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل یہی تھا، اس لئے نماز میں یہ ثناء ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر پڑھی جائے۔