Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1168

Chapter on Recitation in Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Recitation in Prayer

Zujajat al-Masabih 1168Volume 1

English

From Ibn ‘Umar: When he was asked, "Should anyone recite behind the Imam?" He replied: "When one prays with the Imam, the Imam’s recitation is sufficient for him." And Ibn ‘Umar would not recite behind the Imam. ]Narrated by Muhammad[ This is a good chain of narration, with no room for criticism at all. Al-Tahawi narrated something similar, and Malik also narrated it, adding: "And if one prays alone, let him recite." Al-‘Ayni said: "Ibn ‘Umar would not recite behind the Imam, and he was among the greatest followers of the Prophet ﷺ."

العربية

Typed, pending editorial approval
١١٦٨ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) : أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ : هَلْ يَقْرَأُ أَحَدٌ مَعَ الْإِمَامِ؟ قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ مَعَ الْإِمَامِ فَحَسْبُهُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ مَعَ الْإِمَامِ. رَوَاهُ مُحَمَّدُ. هَذَا طَرِيقُ جَيِّدُ الْإِسْنَادِ، لَا يُتَصَوَّرُ فِيهِ الْكَلَامُ أَصْلًا. وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مَالِكُ وَزَادَ: وَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيَقْرَأُ». وَقَالَ الْعَيْنِيُّ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَكَانَ أَعْظَمَ النَّاسِ اقْتِدَاءٌ بِرَسُولِ اللهِ ﷺ. انْتَهَى

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1334
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب کبھی ان سے دریافت کیا جاتا کہ مقتدی امام کے پیچھے قرأت کیا کرے تو آپ جواب دیا کرتے کہ تم میں سے جو کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھا کرے تو امام کی قرأت اس کے لئے کافی ہے۔ (اس کو قرأت کرنے کی ضرورت نہیں ہے،) اور خود ابن عمر کا بھی یہی عمل درآمد تھا کہ وہ امام کے پیچھے قرأت نہیں کیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 188 (unverified) 40% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 855 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 855

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

محمد نے کی ہے۔ اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے متعلق کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے، اور امام طحاوی نے بھی اس حدیث کی اسی طرح روایت کی ہے اور امام مالک نے بھی اس کی روایت کی ہے، اور امام مالک نے اس حدیث کی جو روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے ”وَإِذَا صَلّٰى وَحْدَهٗ فَلْيَقْرَءْ“، یعنی مقتدی کو امام کی قرأت کافی ہے ہاں اگر وہ مسبوق ہو تو باقی نماز میں قرأت کیا کرے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما قرأت خلف الامام نہیں کرتے تھے اور آپ کی شان یہ ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا کرتے تھے اور اپنے زمانہ میں اسی وجہ سے اتباع سنت میں سب سے زیادہ مشہور تھے اس لئے آپ کا قرأت خلف الامام نہ کرنا عین سنت ہے۔