English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever wishes to receive the fullest measure (of blessings) when sending blessings upon us, the members of the household, let him say:
'O Allah, send blessings upon Muhammad, the unlettered Prophet, and upon his wives, the mothers of the believers, and his descendants and his household, as You sent blessings upon Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.’" [Narrated by Abu Dawood]
And in "As-Sa‘ayah," it is mentioned: "The confirmed Sunnah is to send blessings after Tashahhud, without specifying certain words. This is indicated by the statements of most of our jurists. However, they differed regarding which wording is preferred. In ‘Ghuniyat Al-Mustamli,’ the preferred wording of the blessings is as mentioned in ‘Al-Kifayah,’ ‘Al-Qunyah,’ and the explanation of ‘Al-Quduri’:
Muhammad (peace be upon him) was asked about it, and he said: ‘Say: O Allah, send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent blessings upon Ibrahim and upon the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious. O Allah, bless Muhammad and the family of Muhammad, as You blessed Ibrahim and the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.’
And this is in agreement with what is found in the two authentic books (Bukhari and Muslim) from the Hadith of Ka‘b.
And the author of "An-Nakhira" reported from the book "Al-Hujaj ‘Ala Ahl Al-Madinah" by ‘Isa bin A‘ban: That Muhammad (peace be upon him) was asked about the way of sending blessings, and he answered with what has been mentioned before.
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۲۸۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَلْيَقُلْ اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَفِي السَّعَايَةِ»: إِنَّ السُّنَّةَ الْمُؤَكَّدَةَ هُوَ مُطْلَقُ الصَّلَاةِ بَعْدَ التَّشَهُدِ، لَا خُصُوصُ بَعْضِ أَلْفَاظِهَا. وَإِلَيْهِ يُشِيرُ كَلَامُ عَامَّةِ فُقَهَائِنَا، إِلَّا أَنَّهُمُ اخْتَلَفُوا فِي أَنَّ أَيَّ لَفْظٍ مُخْتَارُ، فَفِي غُنْيَةِ الْمُسْتَمْلِي»: الْمُخْتَارُ فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ عَلَى مَا ذَكَرَهُ فِي الْكِفَايَةِ» وَالزَّاهِدِيُّ فِي الْقِنْيَةِ» وَشَرْحِ الْقُدُورِيَّ»:
أَنَّ مُحَمَّدًا سُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ: يَقُوْلُ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. وَهِيَ الْمُوَافِقَةُ لِمَا فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيْثِ كَعْبٍ. وَنَقَلَ صَاحِبُ النَّخِيرَةِ» عَنْ كِتَابِ الْحُجَجُ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ» لِعِيسَى بْنِ أَبَانٍ: أَنَّ مُحَمَّدًا سُئِلَ عَنْ كَيْفِيَّةِ الصَّلَاةِ: فَأَجَابَ بِمَا مَرَّ انْتَهَى
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1467
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ اچھا معلوم ہو کہ وہ ہم پر اور ہمارے اہلبیت پر درود بھیج کر پورا پورا
ثواب حاصل کرے تو اس کو اس طرح درود بھیجنا چاہئے: ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ
إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ“ اے اللہ رحمت کاملہ نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو نبی
اُمی ہیں اور آپ کی ازواج مطہرات پر جو تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں اور آپ کی مقدس آل و اولاد پر
اور آپ کے برگزیدہ خاندان پر جس طرح تو نے رحمت کاملہ نازل فرمائی ہے، حضرت سیدنا ابراہیم
علیہ السلام کی اولاد پر بے شک آپ ہی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔ (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 982 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 919 (unverified) 82% confidence
Mishkat (candidate) 919
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: سعایہ میں مذکور ہے کہ قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد کسی خاص درود پڑھنے کی تخصیص نہیں ہے بلکہ سنت موکدہ یہ ہے کہ کوئی بھی ماثور درود پڑھا جائے اور ہمارے اکثر فقہاء نے ایسا ہی کہا ہے اور افضل و مختار یہ ہے کہ درود ابراہیمی پڑھا جائے، جیسا کہ شرح قدوری میں مذکور ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ کونسا درود پڑھا جائے تو امام محمد رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ درود ابراہیمی کا پڑھنا افضل ہے، علامہ زاہدی نے بھی منیہ میں یہی ذکر کیا ہے اور غنیہ المستملی میں کفایہ کے حوالے سے درود ابراہیمی کے پڑھنے کو مختار قرار دیا ہے اور درود ابراہیمی یہ ہے ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ o اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ“۔ اس کے علاوہ بخاری اور مسلم میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود پڑھنے کے بارے میں جو حدیث آئی ہے اس میں بھی یہی درود ابراہیمی مذکور ہے اور صاحب ذخیرہ نے بھی عیسیٰ بن ابان کی ”كِتَابُ الْحُجَّةِ عَلٰى أَهْلِ الْمَدِينَةِ“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ قعدہ اخیرہ میں کونسا درود پڑھا جائے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ نے درود ابراہیمی کے پڑھنے کو افضل قرار دیا۔