Fadala bin ‘Ubaid (may Allah be pleased with him) said: "While the Messenger of Allah ﷺ was sitting, a man entered and prayed. Then he said, ‘O Allah, forgive me and have mercy on me.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘You have hurried, O worshipper! When you pray and then sit, first praise Allah as He deserves, then send blessings upon me, and then supplicate.’"
He continued: "Then another man prayed after that. He praised Allah and sent blessings upon the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ said to him: ‘O worshipper, ask and you will be given.’"
فضالۃ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ایک شخص نے آ کر نماز پڑھی (اور قعدۂ اخیرہ میں اس شخص (یہ
ترجمہ ابوداؤد کی روایت کے لحاظ سے کیا گیا ہے) نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور نہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا) (یہ قید مرقات میں مذکور ہے) اور صرف اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِيْ (یعنی
اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما) کہا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے نماز
پڑھنے والے تو نے جلدی کی ہے، جب تو نماز پڑھے اور قعدۂ اخیرہ میں بیٹھے تو پہلے التحیات کے
ذریعہ (یہ قید مرقات سے ماخوذ ہے۔) اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر جیسا کہ اس کے شایان شان ہے پھر مجھ
پر درود بھیج، اس کے بعد اللہ سے دعاء مانگ۔ فضالہؓ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ایک اور شخص نے
نماز پڑھی تو اس نے (نماز کے قعدۂ اخیرہ میں التحیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور نبی صلی
اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا (اور دعاء نہ کی) تو اس شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے نماز
پڑھنے والے اب دعاء کر تیری دعاء قبول ہوگی۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ابوداؤد و نسائی
نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Allah, the Almighty, says: "Indeed, Allah and His angels send blessings upon the Prophet. O you who have believed, send blessings upon him and greet him with peace." (Al-Ahzab: 56)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3476 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1481 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے نماز میں حمد اور درود کے بعد دعاء قبول ہوتی ہے اسی طرح
خارج نماز بھی دعاء کی جائے تو اس ترتیب کے ساتھ کی جانی چاہئے کہ پہلے حمد باری تعالیٰ کی جائے پھر
درود پڑھا جائے اور اس کے بعد دعاء کی جائے تا کہ قبولیت کو پہنچے۔
‘Abdullah bin Mas‘ud (may Allah be pleased with him) said: "I was praying while the Prophet ﷺ, Abu Bakr, and ‘Umar were with him. When I sat, I began by praising Allah, then I sent blessings upon the Prophet ﷺ, and then I supplicated for myself. The Prophet ﷺ said: ‘Ask, and you will be given. Ask, and you will be given.’"
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ)
میں نماز پڑھ رہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما
بھی وہاں رونق افروز تھے جب (میں نماز میں قعدہ اخیر کیلئے) بیٹھ گیا تو پہلے (میں نے التحیات کے
ذریعہ) حمد و ثناء کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور اس کے بعد میں نے اپنے لئے دعاء مانگی تو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کو پسند فرما کر) ارشاد فرمایا اچھا ہے مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔)
‘Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: "Indeed, supplication remains suspended between heaven and earth, and nothing of it ascends until you send blessings upon your Prophet."
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب
تک تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجو گے تب تک تمہاری دعاء آسمان اور زمین کے درمیان
معلق رہے گی، ذرا بھی اوپر نہیں چڑھے گی۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کے تحت صاحب مرقات نے حصن حصین کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابوسلیمان
دارانی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی حاجت کو مانگنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت مانگے اور اپنی اس دعاء کو
درود ہی پر ختم کرے کیوں کہ اللہ تعالیٰ دونوں درودوں کو قبول فرما لیتے ہیں اور یہ ان کی شان کریمی سے
بعید ہے کہ درودوں کو تو قبول فرما لیں اور اس دعا کو چھوڑ دیں جو ان دونوں کے درمیان ہے۔
‘Abdur-Rahman bin Abi Layla said: "Ka‘b bin ‘Ujrah met me and said: ‘Shall I give you a gift that I heard from the Prophet ﷺ?’ I said, ‘Yes, please give it to me.’ He said: ‘We asked the Messenger of Allah ﷺ, ‘O Messenger of Allah, how should we send blessings upon you and your household? For Allah has taught us how to greet you.’
He said: ‘Say: O Allah, send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent blessings upon Ibrahim and upon the family of Ibrahim; You are indeed Praiseworthy and Glorious. O Allah, bless Muhammad and the family of Muhammad, as You blessed Ibrahim and the family of Ibrahim; You are indeed Praiseworthy and Glorious.’"
This was agreed upon
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھ
سے کعب ابن عجرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو وہ فرمانے لگے کیا میں تمہیں ایک ایسا تحفہ نہ دوں جو
مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے؟ میں نے ان سے کہا جی ہاں ضرور دیجئے تو حضرت کعب رضی اللہ
عنہ نے کہا کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اللہ تعالیٰ نے (نماز میں التحیات کے ذریعہ) آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں سکھا دیا ہے، اب فرمائیے کہ ہم
آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر (نماز میں) درود کس طرح بھیجا کریں؟ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح کہا کرو: ”اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ سَيِّدِنَا
اے اللہ! رحمت بھیج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر (جس کا یہ اثر ہو کہ دنیا میں آپ کی
عظمت کا ذکر ہر جگہ ہوتا رہے آپ کی دعوت اسلام ہر جگہ پہنچ جائے اور آپ کی شریعت ہمیشہ باقی رہے
اور آخرت میں اس رحمت کا اثر اس طرح ہو کہ آپ کی شفاعت عامہ آپ کی تمام امت کو پہنچے اور اجر و
ثواب دس مرتبہ کے برابر ہو کر ملتا رہے۔ رحمت کے معنی مرقات سے ماخوذ ہے۔12)
اور ایسی ہی رحمت آپ کے آل پر بھیجئے یہ ایسی رحمت کی طرح ہو جیسی کہ آپ نے حضرت
ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر رحمت کی ہے اور ان کے ساتھ ہم پر بھی رحمت فرمائیے، بے شک
آپ ہی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔
اے اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر ایسی برکت نازل فرمائیے (جس کا یہ اثر
ہو کہ جو نعمتیں آپ کو عطا ہوئی ہیں وہ ہمیشہ باقی رہیں اور ان میں زیادتی ہوتی رہے یہ) ایسی ہی برکت ہو جو
حضرت ابراہیم اور ان کی آل کو آپ نے عطا کی ہے اور ان کے ساتھ ہم پر بھی برکت نازل کیجئے، بے
شک آپ ہی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی روایت
کئے ہوئے تشہد کے الفاظ پر ایک حرف کے بھی بڑھانے اور گھٹانے کو پسند نہیں فرماتے تھے اسی وجہ سے
صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ التحیات میں ”اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ کے پڑھتے وقت
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے پہلے لفظ ”سَيِّدَنَا“ نہیں بڑھانا چاہئے، البتہ درود ابراہیمی میں جو
تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک سے پہلے لفظ ”سَيِّدِنَا“ بڑھانا چاہئے اور
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام مبارک کے پہلے بھی لفظ ”سَيِّدِنَا“، بڑھانا چاہئے ردالمحتار میں ایسا
ہی مذکور ہے۔
ف(2): واضح رہے کہ درود ابراہیمی میں ”كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ
سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ“ کے بعد ”اِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ سے پہلے ”وَصَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمْ“ اور اسی
طرح ”كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ“ کے بعد ”اِنَّكَ
حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ سے پہلے ”وَبَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ“ کا جو اضافہ کیا گیا ہے وہ ترمذی کی ایک روایت
سے ماخوذ ہے جس کے راوی عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ (ملاحظہ ہو ترمذی کے ابواب الوتر
میں ”مَاجَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلٰوةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“۔)
Abu Humayd As-Sa‘idi (may Allah be pleased with him) said: "They asked: ‘O Messenger of Allah, how should we send blessings upon you?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Say: O Allah, send blessings upon Muhammad and his wives and his descendants, as You sent blessings upon the family of Ibrahim. And bless Muhammad and his wives and his descendants, as You blessed the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.’" This was agreed upon
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے عرض کیا کہ
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر درود کس طرح بھیجا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا تم اس طرح کہا کرو ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ
عَلٰى آلِ سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ“ اے اللہ رحمت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر
اور آپ کے ازواج مطہرات اور آپ کی مقدس آل و اولاد پر جس طرح تو نے رحمت بھیجی حضرت
ابراہیم علیہ السلام کی اولاد پر اور برکت نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج
مطہرات پر اور آپ کی مقدس آل و اولاد پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی حضرت ابراہیم علیہ
السلام کی اولاد پر بے شک آپ ہی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever wishes to receive the fullest measure (of blessings) when sending blessings upon us, the members of the household, let him say:
'O Allah, send blessings upon Muhammad, the unlettered Prophet, and upon his wives, the mothers of the believers, and his descendants and his household, as You sent blessings upon Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.’" [Narrated by Abu Dawood]
And in "As-Sa‘ayah," it is mentioned: "The confirmed Sunnah is to send blessings after Tashahhud, without specifying certain words. This is indicated by the statements of most of our jurists. However, they differed regarding which wording is preferred. In ‘Ghuniyat Al-Mustamli,’ the preferred wording of the blessings is as mentioned in ‘Al-Kifayah,’ ‘Al-Qunyah,’ and the explanation of ‘Al-Quduri’:
Muhammad (peace be upon him) was asked about it, and he said: ‘Say: O Allah, send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent blessings upon Ibrahim and upon the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious. O Allah, bless Muhammad and the family of Muhammad, as You blessed Ibrahim and the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.’
And this is in agreement with what is found in the two authentic books (Bukhari and Muslim) from the Hadith of Ka‘b.
And the author of "An-Nakhira" reported from the book "Al-Hujaj ‘Ala Ahl Al-Madinah" by ‘Isa bin A‘ban: That Muhammad (peace be upon him) was asked about the way of sending blessings, and he answered with what has been mentioned before.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ اچھا معلوم ہو کہ وہ ہم پر اور ہمارے اہلبیت پر درود بھیج کر پورا پورا
ثواب حاصل کرے تو اس کو اس طرح درود بھیجنا چاہئے: ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ
إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ“ اے اللہ رحمت کاملہ نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو نبی
اُمی ہیں اور آپ کی ازواج مطہرات پر جو تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں اور آپ کی مقدس آل و اولاد پر
اور آپ کے برگزیدہ خاندان پر جس طرح تو نے رحمت کاملہ نازل فرمائی ہے، حضرت سیدنا ابراہیم
علیہ السلام کی اولاد پر بے شک آپ ہی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔ (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: سعایہ میں مذکور ہے کہ قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد کسی خاص درود پڑھنے کی تخصیص نہیں
ہے بلکہ سنت موکدہ یہ ہے کہ کوئی بھی ماثور درود پڑھا جائے اور ہمارے اکثر فقہاء نے ایسا ہی کہا ہے اور
افضل و مختار یہ ہے کہ درود ابراہیمی پڑھا جائے، جیسا کہ شرح قدوری میں مذکور ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ
سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ کونسا درود پڑھا جائے تو امام محمد رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ درود ابراہیمی کا
پڑھنا افضل ہے، علامہ زاہدی نے بھی منیہ میں یہی ذکر کیا ہے اور غنیہ المستملی میں کفایہ کے حوالے سے
درود ابراہیمی کے پڑھنے کو مختار قرار دیا ہے اور درود ابراہیمی یہ ہے ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ
وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ
إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ o اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا
بَارَكْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ“۔
اس کے علاوہ بخاری اور مسلم میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد
درود پڑھنے کے بارے میں جو حدیث آئی ہے اس میں بھی یہی درود ابراہیمی مذکور ہے اور صاحب ذخیرہ
نے بھی عیسیٰ بن ابان کی ”كِتَابُ الْحُجَّةِ عَلٰى أَهْلِ الْمَدِينَةِ“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام محمد رحمہ
اللہ سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ قعدہ اخیرہ میں کونسا درود پڑھا جائے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ نے درود
ابراہیمی کے پڑھنے کو افضل قرار دیا۔
‘Abdur-Rahman bin ‘Awf (may Allah be pleased with him) said: "The Messenger of Allah ﷺ went out until he entered a garden and prostrated for a long time, to the point that I feared that Allah had taken his soul. I went to check on him, and he raised his head and said: ‘What is the matter?’ I mentioned to him my concern.
He said: ‘Jibreel came to me and said: Shall I not give you glad tidings? Allah, the Almighty, says to you: Whoever sends blessings upon you once, I send blessings upon him, and whoever greets you with peace, I greet him with peace.’"
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم (ایک روز) باہر نکلے اور ایک کھجور کے باغ میں تشریف لے گئے وہاں حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام سجدہ فرمائے اور سجدے میں اتنی دیر تک رہے کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیا
سے تشریف تو نہیں لے گئے؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں (گھبرایا ہوا)
نزدیک پہنچا کہ دیکھوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ مجھے قریب آتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
سجدے سے سر مبارک کو اٹھائے اور فرمائے کیوں عبدالرحمن کیا ہے (اس قدر گھبرائے ہوئے کیوں
ہو؟) میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا خیال ظاہر کیا (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ عبدالرحمن کچھ فکر کی بات نہیں، جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر درود پڑھے گا تو
میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو سلام بھیجے گا تو میں بھی اس پر سلام بھیجوں گا۔ (اس کی روایت
امام احمد نے کی ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sends blessings upon me once, Allah will send blessings upon him ten times."
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس (10) رحمتیں نازل
فرماتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sends one prayer upon me, Allah will send ten prayers upon him, ten sins will be erased from him, and he will be raised by ten degrees.”
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل
فرماتے ہیں، اس کے دس گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور اس کے دس درجے بلند کئے جاتے
ہیں۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Abu Talhah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) came one day with joy on his face and said: “Jibril came to me and said: ‘Your Lord says: O Muhammad, does it not please you that no one from your Ummah sends blessings upon you except that I send ten blessings upon him, and no one greets you except that I send ten greetings upon him?’”
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اس
حالت میں تشریف فرما ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور خوشی سے چمک رہا تھا آپ نے
ارشاد فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور یہ خوشخبری سنائے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ کو ایک خوشخبری سناتے ہیں جس سے آپ راضی اور خوش ہو جائیں گے
وہ یہ ہے کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی آپ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے اس پر میں دس دفعہ رحمت
نازل کرتا ہوں اور آپ کی امت میں سے جو کوئی آپ پر ایک دفعہ سلام بھیجتا ہے تو میں بھی اس پر دس
دفعہ سلام بھیجتا ہوں۔
(اس کی روایت نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)
Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sends one prayer upon the Prophet (ﷺ), Allah and His angels send seventy prayers upon him.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی صلی
اللہ علیہ وسلم پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ستر (70) دفعہ رحمت بھیجتے
ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Ruwayfi’ (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sends blessings upon Muhammad and says: ‘O Allah, grant him the closest position near You on the Day of Judgment,’ my intercession will be guaranteed for him.”
رویفع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے ساتھ یہ دعا بھی کرتا ہے:
اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن ایسی جگہ بٹھائیے جو سب سے زیادہ
آپ کے قریب ہو تو اس شخص کیلئے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The closest people to me on the Day of Judgment will be those who sent the most blessings upon me.”
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ وہ شخص مجھ سے نزدیک ہوگا جو سب
سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Ubayy bin Ka’b (may Allah be pleased with him) narrated: I said: “O Messenger of Allah, I send many blessings upon you. How much of my supplication should I devote to you?” He said: “As much as you wish.” I said: “A quarter?” He said: “As you wish, but if you increase it, it will be better for you.” I said: “A half?” He said: “As you wish, but if you increase it, it will be better for you.” I said: “Two-thirds?” He said: “As you wish, but if you increase it, it will be better for you.” I said: “Shall I dedicate all my supplication to sending blessings upon you?” He said: “Then your worries will be relieved, and your sins will be forgiven.”
ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض
کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چاہتا ہوں کہ کثرت سے آپ پر درود بھیجا کروں، میں نے
اپنے لئے دعاء کا ایک وقت معین کر لیا ہے، اس میں سے کتنا وقت آپ پر درود بھیجنے کیلئے مقرر کروں؟
تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جتنا چاہو، تو میں نے عرض (اچھا) ایک چوتھائی وقت
مقرر کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنا چاہو، اگر اس سے بھی زیادہ کر لو تو تمہارے لئے بہتر
ہے میں نے عرض کیا تو کیا آدھا وقت اس میں لگا دوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جتنا چاہو
اور اگر اس سے بھی زیادہ کر لو تو تمہارے لئے بہتر ہے، میں نے عرض کیا کہ دو تہائی وقت درود بھیجنے میں
گزار دوں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جتنا چاہو، اگر اس سے بھی زیادہ پڑھو تو تمہارے لئے
بہتر ہے میں نے عرض کیا حضور! اگر ایسا ہی ہے تو میں اپنے دعاء پڑھنے کا کل وقت آپ پر درود پڑھنے میں
لگا دیتا ہوں، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو ایسی حالت میں (درود کی برکت سے) تمہارے
دینی اور دنیوی تمام مقاصد پورے کر دئیے جائیں گے اور تمہارے سارے فکر و غم دور ہو جائیں گے اور
تمہارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “May the nose of a man be rubbed in dust who hears my name and does not send blessings upon me! May the nose of a man be rubbed in dust who enters Ramadan and then it passes before he is forgiven! May the nose of a man be rubbed in dust who finds his parents, one or both of them, in old age and yet they do not cause him to enter Paradise!”
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہت بدنصیب ہے وہ شخص کہ جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ
مجھ پر درود نہ بھیجے (اس سے معلوم ہوا کہ جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیا جائے تو سننے
والے کو چاہئے کہ درود پڑھا کرے، اور وہ بھی بدنصیب ہے کہ جس کی زندگی میں رمضان المبارک
آئیں اور (اس نے اس ماہ مبارک میں عبادت و خیر و خیرات اور شب بیداری کر کے) اپنی مغفرت نہ
کروا لی کہ اتنے میں رمضان ختم ہو گئے، اور وہ بھی بدنصیب ہے کہ جس کے سامنے اس کے والدین یا
ان میں سے کسی ایک پر بڑھاپا آیا اور (ان کی خدمت کر کے اور ان کو راضی رکھ کر) جنت کا مستحق نہ
ہوا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The miser is the one in whose presence I am mentioned, and he does not send blessings upon me.”
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بڑا ہی بخیل ہے وہ شخص کہ جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ میرا نام
سن کر مجھ پر درود نہ پڑھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور امام احمد نے بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس کی روایت
کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Do not turn your houses into graves, and do not make my grave a place of celebration. Send blessings upon me, for indeed, your blessings reach me wherever you may be.”
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ تم اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ (یعنی گھروں میں
مُردوں کی طرح پڑے سوتے نہ رہو بلکہ گھروں میں بھی نفل نمازیں پڑھا کرو اور جس طرح مسجدوں
میں عبادتیں کر کے انوار حاصل کرتے ہو اسی طرح گھروں میں بھی کچھ نہ کچھ عبادتیں کر کے انوار
حاصل کرتے رہو) اور تم میری قبر کو عید نہ بناؤ یعنی (کبھی کبھی اتفاقیہ طور پر میری قبر پر نہ آیا کرو بلکہ
قصداً بار بار میری قبر پر آنے کی کوشش کرنا اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو بار بار آنے کی آرزو دل میں رکھنا۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرمانا کہ ”میری قبر کو عید نہ بناؤ“ ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ آپ ہم
اپنے کسی دوست کو جو بہت دنوں بعد آئے کہا کرتے ہیں کہ تم تو عید کے چاند ہو چنانچہ اشعۃ اللمعات اور
مرقات میں اس ارشاد مبارک کی شرح اس طرح کی گئی ہے کہ میری قبر کی زیارت کو عید کی طرح کبھی کبھی
نہ آؤ‘‘، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اپنی قبر شریف کی زیارت کی ترغیب اس لئے دی ہے کہ
آپ رحمۃ للعالمین ہیں، آپ اپنی امت کو وہ ساری فضیلتیں دلوانا چاہتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
قبر شریف کی زیارت سے حاصل ہوتی ہیں ان فضیلتوں کو قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شفاء شریف
میں اور شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جذب القلوب اور مولانا انوار اللہ خاں صاحب رحمۃ
اللہ علیہ نے عمران القلوب میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے منجملہ ان کے ذیل میں چند حدیثیں نمونتاً
درج کی جاتی ہیں۔
(1) طبرانی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے ”مَنْ زَارَ قَبْرِي
وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي“ جس نے میری قبر (شریف) کی زیارت کی ہے میں اس کی ضرور شفاعت
کروں گا۔
(2) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کی ہے: ”مَنْ
حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي“ (جو کوئی حج کر کے میری قبر کی
زیارت کرے گا تو اس کو میری زندگی میں ملاقات کرنے کا شرف اور ثواب حاصل ہوگا۔)
(3) علامہ ملا علی قاری نے شرح شفاء میں لکھا ہے کہ حضرت امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي
فَكَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي وَمَنْ لَمْ يَزُرْ قَبْرِي فَقَدْ جَفَانِي“ (میرے انتقال کے بعد میری قبر کی
زیارت کرنے والا میری زندگی میں مجھ سے ملاقات کرنے والے کے جیسا ہے اور جس نے میری قبر کی
زیارت نہ کی تو اس نے مجھ پر ظلم اور جفا کیا۔)
صاحبو! اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و جفا کرنے کا کیا نتیجہ ہے اس کو سوچ لو، قبر شریف
کی زیارت کرنے سے ایک فضیلت یہ بھی حاصل ہوتی ہے کہ زیارت کرنے والے کے گناہوں کی بھی
مغفرت ہو جاتی ہے۔
علامہ قسطلانی شارح بخاری نے مواہب لدنیہ میں، علامہ نور الدین علی سمہودی نے خلاصۃ الوفا
میں، اور شیخ ابن عبداللہ النعمانی نے مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ
سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن سے تین دن بعد ایک اعرابی آیا اور قبر شریف سے
لپٹ گیا اور قبر مبارک سے مٹھی بھر خاک لے کر اپنے سر پر ڈال لی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
آپ نے جو فرمایا تھا ہم نے اسے سنا اور جو کچھ آپ نے اللہ تعالیٰ سے محفوظ رکھا ہم نے اس کو آپ سے
سیکھ کر محفوظ اور یاد رکھا، آپ پر جو قرآن شریف (اترا ہے اس کی ایک آیت یہ ہے (سورہ نساء
پ5ع19) ”وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَاءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ
لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا“ (آپ کی امت: جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرے
یعنی کسی گناہ میں مبتلا ہو، پھر (ندامت کے ساتھ) آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ سے اپنے
گناہ کی معافی چاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی آپ بھی اس کیلئے معافی طلب کریں تو وہ اللہ
تعالیٰ کو ضرور توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم اور مہربانی کرنے والا پائیں گے۔)
اس آیت کو پڑھ کر اُس اعرابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی جان پر ظلم
کیا یعنی گناہ میں مبتلا ہوا ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ
آپ اللہ تعالیٰ سے میری مغفرت چاہیں، اسی وقت قبر شریف سے آواز آئی کہ یقیناً تیری مغفرت ہوگئی
اور تجھے بخش دیا گیا۔
اس سے بھی مزار شریف پر حاضر ہونا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنا اور حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کا معروضہ قبول فرمانا یہ سب چیزیں ثابت ہوتی ہیں، اس واقعہ کو ابن عساکر اور ابن الجوزی نے
بھی نقل کیا ہے اور عمران القلوب میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ مشہور واقعات میں سے ہے اور چاروں مذاہب
کے ائمہ اور راویوں نے مختلف روایتوں اور متعدد طرق سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔
مسلمانو! تم خوش تقدیر ہو کہ ایسی دولت تمہیں نصیب ہوئی تم قصداً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
قبر شریف پر زیارت کی نیت سے حاضر ہوا کرو تاکہ تمہارے گناہ معاف ہوجائیں اور تم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق بنو اور تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملاقات کرنے والے
کے جیسا درجہ حاصل ہوجائے اور جنت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہو اور خبردار! قبر
شریف پر حاضر نہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جفا کرنے والے نہ بنو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت
کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ تم جہاں کہیں ہو مجھ پر درود بھیجا کرو (یہ خیال
نہ کیا کرو کہ ہم دُور افتادہ اتنی دور سے درود پڑھا کریں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے خبر ہوگی نہیں نہیں
مجھے ضرور خبر ہوگی) اور تمہارا درود جہاں کہیں سے ہو مجھے پہنچ جایا کرے گا۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sends blessings upon me at my grave, I hear him. And whoever sends blessings upon me from far away, it is conveyed to me.”
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میری قبر کے پاس آ کر مجھ پر درود پڑھتا ہے تو میں خود اس کے درود
کو (بغیر واسطہ کے) سنتا ہوں اور جو شخص دور دراز مقام سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ درود مجھ کو
فرشتوں کے ذریعہ سے پہنچایا جاتا ہے۔
(اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah has angels who travel throughout the earth, conveying to me the greetings of my Ummah."
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے مقرر ہیں جن کا کام ہی مجھ تک
سلام کا پہنچانا ہے اور وہ زمین میں ہر جگہ پھرتے رہتے ہیں اور جب کوئی میرا امتی مجھ پر سلام بھیجتا ہے
تو وہ فوراً اُس کا سلام مجھے پہنچا دیتے ہیں۔ (اس کی روایت نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is no one who sends greetings upon me except that Allah returns my soul to me so that I may respond to their greetings."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ (میرے انتقال کے بعد میری روح ملاء اعلیٰ کی طرف متوجہ رہے گی اور اس کو ذات و
صفات الٰہی میں استغراق اور محویت حاصل ہوگی ایسی حالت میں) جب کوئی تم میں سے مجھ پر سلام
بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ مجھ کو اس استغراق سے اپنی اصلی حالت پر لوٹا دیں گے اور میں سلام کرنے والے
کے سلام کا جواب دوں گا۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور بیہقی نے بھی دعوات کبیر میں اس کی روایت کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ موت کیا چیز ہے، موت انتقال کا نام ہے کہ روح ایک جسم کو چھوڑ کر
دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ دو پنجرے ہیں اور پرندہ ایک ہے دونوں پنجروں
کے دروازے کھول کر ان کے منہ کو ملا دیتے ہیں تو پرندہ ایک پنجرے سے دوسرے پنجرے میں منتقل
ہو جاتا ہے، عالم برزخ میں اسی جسم خاکی کے ہو بہو ایک دوسرا جسم بھی تیار کیا گیا ہے، فرق یہ ہے کہ یہ
جسم خاکی کثیف ہوتا ہے اور برزخ کا جسم لطیف ہوتا ہے، چنانچہ بعض اولیاء اللہ جیسے حضرت مجدد الف
ثانی رحمة اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ آپ کو کئی جگہ دعوت دی گئی اور سب دعوتوں کا وقت ایک ہی تھا تو آپ ہر
مقام پر اسی ایک ہی وقت میں ہر جگہ تشریف رکھتے ہوئے نظر آئے، ایک تو یہ جسم خاکی تھا اور دوسرے جو
کئی جسم نظر آئے ان کو آپ عالم برزخ سے کرامتاً لے کر اس عالم میں دکھائی دیئے اور ہم کو خواب میں
بھی مردہ کا جو جسم نظر آتا ہے وہ وہی عالم برزخ کا جسم لطیف ہے کہ اس جسم لطیف میں روح جسم خاکی
سے منتقل ہوگئی ہے، اب خلاصہ موت کا یہ ہوا کہ روح خاکی جسم کا کثیف جسم چھوڑ کر برزخ کے لطیف جسم
میں داخل ہوتی ہے اور یہی موت ہے، بظاہر یہ موت ہر انسان کو ہوتی ہے، عوام کو بھی اور شہداء کو بھی اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی اس کی نسبت کی جاتی ہے اور یہ تینوں روحیں زندہ ہیں، پھر ان
تینوں کی زندگی میں کیا فرق ہے؟ فرق یہ ہے کہ ہر انسان کی روح زندہ تو رہتی ہے مگر اس جسم خاکی کے
ساتھ جب تک ہے وہ اعمال کے ذریعہ ترقی اور ثواب حاصل کر سکتی ہے، برزخ کے جسم میں جانے کے
بعد عام انسان کی روح کی ترقی بند ہو جاتی ہے، نہ تو وہ برزخ میں کھاتا پیتا ہے اور نہ کوئی عمل کر کے باطنی
ترقی حاصل کر سکتا ہے اس واسطے کہ یہ دار العمل نہیں ہے دار الجزاء ہے، گو ہر عام انسان کی روح زندہ
ہے مگر کھانا پینا اور باطنی ترقی بند ہونے سے کہا جاتا ہے کہ وہ مر گیا ہے۔
بخلاف اس کے شہیدوں کی روح بھی خاکی جسم چھوڑ کر برزخ کے لطیف جسم میں چلی جاتی ہے،
اس لئے شہید پر بھی موت کا اطلاق ہوتا ہے مگر اعمال کے ذریعہ سے اس کی ترقی بند نہیں ہوئی ہے جسم
خاکی میں جیسے عمل کے ذریعہ سے ترقی کرتے تھے، شہید، برزخ کے جسم لطیف میں جانے کے بعد بھی
ویسے ہی بدستور ترقی کرتے اور کھاتے پیتے بھی رہتے ہیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ شہید زندہ ہیں ان کی
زندگی بھی کچھ فرض نہیں، مبالغہ نہیں، واقعی وہ زندہ ہیں، زندگی کے سارے آثار موجود ہیں ”يُرْزَقُونَ.
فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ“ (اپنے خدا کے پاس اس کے فضل سے کھاتے پیتے اور خوشیاں
مناتے ہیں) عمدہ عمدہ بہشت ہر قسم کی لذت اور آرام حاصل کر رہے ہیں جہاں چاہے گل گشت کرتے ہیں
سبز پرندوں کے خول میں رہ کر ایسی ہی سیر کرتے ہیں جیسا کہ ہم آج کل ہوائی جہاز میں سیر کیا کرتے
ہیں، اپنے اعمال سابقہ کی بہار لوٹ رہے ہیں ان کے اعمال گل و ریاحین اور حور جنت بن کر ان کے
سامنے ہیں وہ ان سے لذت لے رہے ہیں عالم قدس میں ترقی کر رہے ہیں خدا کے قرب کے درجے
بڑھ رہے ہیں، یہ ان کی آخرت کی زندگی ہے۔
بخلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اقدس جسم مطہر سے نکلی اس لئے آپ پر بھی
موت کا اطلاق ہوا، ارشاد باری تعالیٰ ہے ”إِنَّكَ مَيِّتٌ“ ”وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ“ (آپ پر بھی موت آنی
ہے اور ان پر بھی) مگر عالم برزخ میں کوئی ایسا لطیف جسم نہیں تھا جو آپ کی روح مطہر کے لائق ہو، اس
وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر نہ دنیا میں ہے نہ عالم برزخ میں اور نہ آخرت میں، جب عالم
برزخ میں ایسا جسم لطیف نہیں رہا تو پھر اسی جسم خاکی میں روح مطہر کو واپس کر دیا گیا اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا یہی جسم مطہر اس عالم سے عالم برزخ میں منتقل ہو گیا اور اسی وجہ سے آپ کو حیات النبی صلی
اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم برزخ میں تشریف فرما ہیں، چونکہ عام انسانوں
اور شہداء کی روحیں عالم برزخ میں دوسرے لطیف اجسام میں منتقل ہوئی ہیں اس لئے ان سے جسم خاکی
کے لوازم بھی ٹوٹ گئے ہیں ان کی بیبیوں سے نکاح کیا جا سکتا ہے، ان کی میراث تقسیم ہو سکتی ہے، اس
کے برخلاف چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی جسم خاکی عالم برزخ میں منتقل ہو گیا ہے اور آپ کے
جسم خاکی کے لوازمات منقطع نہیں ہوئے ہیں، اس لئے ازواج مطہرات سے آپ کے بعد نکاح کرنا
حرام قرار دیا گیا ہے، اور آپ کی میراث تقسیم نہیں کی گئی اگر ایسا کیا جاتا تو لازم آتا کہ زندہ کی بیوی سے
نکاح کیا گیا اور زندہ کا مال تقسیم ہوا، عالم برزخ کے جسم میں جو لطافت پائی جاتی ہے وہ لطافت حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کے اس جسم خاکی میں بدرجہ زائد موجود تھی، پھر عالم برزخ میں آپ کے لئے لطیف جسم کی
کیا ضرورت؟ جیسے عالم برزخ کے جسم کو سایہ نہیں ہوتا ایسے ہی آپ کے جسم مبارک کو سایہ نہ تھا اور عالم
برزخ کے لطیف جسم میں سے جیسے کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نکل جاتی ہے ایسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
اس عالم کے خاکی جسم میں سے پٹکا کمر مبارک سے باہر ہوگیا تھا اسی وجہ سے آپ کا ارشاد مبارک ہے
جیسے میں سامنے سے دیکھتا ہوں ویسے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں، کیا کبھی آپ نے کسی کثیف جسم کو دیکھا
ہے کہ وہ سامنے کی طرح پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہو؟ یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک ہی کی
لطافت تھی کہ آپ سامنے کی طرح پیچھے سے بھی دیکھا کرتے تھے، آپ کے اس عالم کے جسم کے لطیف
ہونے پر معراج شریف کا واقعہ بھی دلالت کرتا ہے، کوئی کثیف جسم ایسا نہیں پہنچ سکتا، جیسا کہ معراج میں
آپ کا لطیف جسم کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ اس تمہید کے بعد مذکور الصدر حدیث کو اس طرح سمجھئے۔
کوئی مسلمان کہیں ہو جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے تو روح اقدس جو عالم
برزخ میں احوال ملکوت کی طرف متوجہ رہتی ہے اور مشاہدہ رب العزت میں مستغرق ہے، سلام کا جواب
دینے کے لئے روح مطہر کو مذکورہ حالت سے ایسا ہی افاقہ ہوتا ہے، جیسے دنیا میں وحی کے وقت عالم
ملکوت کی طرف مشغولیت ہوتی تھی اور وحی ختم ہونے کے بعد پھر آپ اس عالم کی طرف متوجہ ہوجاتے
تھے۔
اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حدیث شریف میں ”رَدَّ اللّٰهُ عَلَيَّ رُوْحِيْ“ جو مذکور ہے اس میں
رد روح سے، روح مطہر کا جسم سے نکلنا اور سلام کے وقت پھر جسم کی طرف آنا مراد نہیں ہے، بلکہ روح
اقدس کا استغراق اور محویت سے اپنی اصلی حالت پر لوٹ آنا مراد ہے اگر روح اقدس کا جسم سے نکلنا اور
پھر جسم میں داخل ہونا مراد ہوتا تو حدیث شریف میں ”رَدَّ اللّٰهُ عَلَيَّ رُوْحِيْ“ کے بجائے ”رَدَّ اللّٰهُ
عَلٰى جِسْمِي رُوْحِيْ“ ارشاد فرمایا جاتا، یعنی میری روح کو میرے جسم کی طرف لوٹایا جاتا ہے، جب
ایسا نہیں فرمایا گیا بلکہ یہ فرمایا گیا کہ ”روح میری طرف لوٹ آتی ہے“ تو اس کے یہی معنی ہوئے کہ مجھے
اس عالم سے اس عالم کی طرف افاقہ ہوتا ہے اور سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کا جسم اقدس سے نکلنا اور پھر اسی جسم اقدس میں
داخل ہونا اور آپ کا اسی جسم خاکی کے ساتھ اپنی قبر شریف میں تشریف فرما ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں
ہے جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم بالا کو
اٹھا لئے گئے اور آپ اسی جسم خاکی کے ساتھ اس وقت عالم بالا میں تشریف فرما ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوپر اٹھائے جانے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی جسم
خاکی کے ساتھ قبر مبارک میں تشریف رکھنے کی نظیر ملتی ہے، ہاں روح مبارک کا جسم اطہر سے نکلنا اور پھر
جسم اقدس میں واپس ہونا اس کی نظیر بھی الحمدللہ حضرت ادریس علیہ السلام کے واقعہ میں موجود ہے اور
اس واقعہ کی تفصیل ذیل میں تفسیر روح المعانی سے درج کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ مریم میں حضرت ادریس علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرمایا ہے ”وَرَفَعْنٰهُ
مَكَانًا عَلِيًّا“ (اور ہم نے اُن کو اونچی جگہ اُٹھالیا) تفسیر روح المعانی میں حسن بصری رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے ”مَكَانًا عَلِيًّا“ سے مراد جنت ہے اس لئے کہ جنت سے بڑھ کر بلندی کسی مقام کو حاصل
نہیں اور اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام جثّاً یعنی اس جسم خاکی کے ساتھ جنت
میں پہنچائے گئے۔
حضرت ادریس علیہ السلام کے جنت میں اٹھائے جانے کی تفصیل یہ ہے کہ صاحب روح
المعانی نے ابن المنذر کی تخریج سے عمر مولیٰ عفرۃ رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث نقل فرمائی ہے
،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام بڑے پرہیزگار نبی مرسل تھے، آپ نے ہفتہ کے
سات دنوں کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا، تین دن لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتے اور باقی چار دن روئے زمین
میں سیاحت فرماتے اور ایسی عبادت شاقہ فرمایا کرتے کہ تنہا آپ کی نیکیاں جو آسمان پر اٹھائی جاتی تھیں
وہ اس زمانہ کے سارے انسانوں کی نیکیوں کے برابر ہوتی تھیں حضرت ادریس علیہ السلام کے تقویٰ
عبادت اور نیکیوں کی وجہ سے ملک الموت کو آپ سے ملاقات کا شوق ہوا اور وہ آپ کی سیاحت کے
دوران میں آپ کے پاس پہنچے اور آپ سے خواہش کی کہ اے اللہ کے نبی! اپنی صحبت بابرکت میں مجھے
چند دن رہنے کی اجازت دیجئے! حضرت نے فرمایا کہ تمہارا گزارہ میرے ساتھ دشوار ہے لیکن اصرار پر
آپ نے اجازت دے دی، دو دن تک ملک الموت آپ کی صحبت میں رہے، ان کے کھانا نہ کھانے اور
عبادت سے نہ تھکنے کی وجہ حضرت ادریس علیہ السلام نے ان سے فرمایا: بخدا! تم انسان نہیں تو انہوں نے
جواب دیا بیشک میں فرشتہ ہوں اور ملک الموت ہوں اور آپ سے للہ اور فی اللہ محبت رکھتا ہوں، یہ سن کر
حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا کہ ان دو دنوں میں آپ نے کسی کی روح قبض تو نہیں کی؟ ملک
الموت نے جواب دیا کیوں نہیں؟ جس کسی کی روح قبض کرنے کا مجھے حکم ہوا ہے میں نے اُس کی روح
قبض کر رہی ہے، اور سچ تو یہ کہ پوری دنیا میرے سامنے ایسی ہے جیسا کہ آدمی کے سامنے دسترخوان بچھا
ہوا اور وہ جس چیز کو چاہے کھا لیتا ہو، یہ سن کر حضرت ادریس علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا کہ میں تم
کو اس ذات اقدس کی قسم دیتا ہوں جس کے سبب تم نے مجھ سے محبت کر رکھی ہے کہ تم میری ایک
ضرورت کو پوری کرو، ملک الموت نے کہا یا نبی اللہ! فرمایئے وہ کیا حاجت ہے؟ حضرت ادریس علیہ
السلام نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ موت کا مزہ چکھوں، پھر آپ میری روح مجھ پر واپس فرما دیں، ملک
الموت نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ادریس علیہ السلام کی روح مبارک کو نکالا اور پھر واپس کر دیا،
اس کے بعد حضرت ادریس علیہ السلام کی فرمائش پر آپ کو دوزخ اور جنت دکھائی، جب آپ نے جنت
دیکھی، اور جنت کی خنکی، خوشبو اور گل و ریحان دیکھے تو ملک الموت سے فرمایا کہ مجھے جنت میں داخل کرو
کہ میں کچھ کھاؤں اور پیوں تا کہ جنت کی طلب اور شوق کا مجھ میں اضافہ ہو جائے، الغرض حضرت
ادریس علیہ السلام جنت میں داخل ہوئے میوے کھائے اور پانی پیا، اس کے بعد ملک الموت نے کہا
اے نبی اللہ! اب تو تمہاری حاجت پوری ہو چکی ہے اب یہاں سے چلو کہ اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کے
دن انبیاء علیہم السلام کے ہمراہ جنت میں داخل فرما دیں، حضرت ادریس علیہ السلام نے جنت کے ایک
درخت کو پکڑ لیا اور فرمایا میں اب یہاں سے نہیں نکلوں گا اور اگر تم چاہو تو میں تم سے اس بارے میں
مباحثہ بھی کر سکتا ہوں جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اللہ تعالیٰ نے ملک الموت پر وحی نازل فرمائی کہ
ادریس سے مباحثہ کرو! ملک الموت نے حضرت ادریس علیہ السلام سے فرمایا یا اے نبی اللہ! فرمایئے آپ
کیا مباحثہ کرنا چاہتے ہیں؟ اس پر حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”كُلُّ
نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ“ (ہر شخص ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنے والا ہے) اور میں نے موت کا مزہ
چکھ لیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا“ (تم میں سے کوئی ایسا بشر نہیں جو جہنم پر
سے ہو کر نہ گزرے) اور میں جہنم پر سے گزر چکا ہوں) اور اہل جنت کیلئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”وَمَا
هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ“ (اور جنتی کبھی جنت سے نکالے نہ جائیں گے) تو اللہ تعالیٰ نے جب مجھے
جنت میں داخل فرما دیا ہے تو جنت سے کیسے نکل جاؤں؟ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت پر وحی نازل فرمائی کہ
میرے بندے ادریس نے مباحثہ میں تم پر کامیابی حاصل کر لی، میری عزت و جلال کی قسم کہ یہ سب کچھ
میرے علم میں تھا تو اے ملک الموت! ادریس کو چھوڑ دو کہ انہوں نے تم پر بڑی قوی حجت پیش کی ہے۔
اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس
علیہ السلام کی توصیف اور شان میں جو ”وَرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا“ فرمایا ہے کہ اس کا اقتضاء بھی یہی ہے۔
علاوہ ازیں تفسیر در منثور میں بھی ایسی ہی تفصیل کے ساتھ ابن المنذر ہی کی تخریج سے عمر مولیٰ عفرۃ رضی
اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوع موجود ہے۔
حضرت ادریس علیہ السلام کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی روح مطہرہ جسم سے نکالی
گئی پھر واپس کی گئی اور آپ اب اسی جسم خاکی کے ساتھ جنت میں تشریف فرما ہیں۔
الغرض اوپر کے دونوں واقعات سے جب یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی جسم
خاکی کے ساتھ عالم بالا میں تشریف فرما ہیں، اور حضرت ادریس علیہ السلام کی روح مبارک آپ
کے جسم اطہر سے نکالی گئی، پھر واپس کی گئی اور آپ اس وقت اسی جسم خاکی کے ساتھ جنت میں
تشریف فرما ہیں تو اگر سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک جسم اطہر سے نکل کر پھر جسم اقدس
میں داخل ہوئی اور آپ بھی اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم برزخ میں اپنی قبر مبارک میں تشریف فرما
ہیں تو کیا تعجب کی بات ہے؟
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے نماز میں حمد اور درود کے بعد دعاء قبول ہوتی ہے اسی طرح خارج نماز بھی دعاء کی جائے تو اس ترتیب کے ساتھ کی جانی چاہئے کہ پہلے حمد باری تعالیٰ کی جائے پھر درود پڑھا جائے اور اس کے بعد دعاء کی جائے تا کہ قبولیت کو پہنچے۔