English
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The first deed for which a servant will be held accountable on the Day of Resurrection is their prayer. If it is sound, they will succeed; if defective, they will fail. If any deficiency is found in their obligatory prayers, the Lord—Exalted and Majestic—will say: "See if My servant has any voluntary prayers to complete what is lacking in the obligatory ones." Then the rest of their deeds will be judged accordingly.' In another narration: 'Zakat will be judged in the same manner, followed by all other deeds.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٧٣٤ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ، فَإِنْ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّع؟ فَيُكَمَّلَ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ يَكُوْنُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ. وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسْبٍ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ.
اردو
5/2001-2002۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت میں اعمال کا حساب لیا جائے گا تو سب اعمال
کے حساب سے پہلے نماز کا حساب شروع کیا جائے گا (دیکھا جائے گا کہ اس کی فرض نماز صحیح ہوئی ہے
یا نہیں اگر اس کی فرض) نماز تمام ارکان اور سنتوں کی پابندی کے ساتھ ادا ہوئی ہے تو اس کی نماز
قبول ہوگی اور اس کو پورا پورا ثواب دیا جائے گا اور وہ حساب میں کامیاب ہو جائے گا اگر اس کی
(فرض) نماز میں کچھ ایسی خرابیاں ہوئی ہوں کہ جس کے سبب سے اس کی نماز ناقص ہوئی ہے تو وہ
بڑے خسارہ میں ہوگا، ثواب بھی نہیں ملے گا (اور عذاب کا مستحق ہو جائے گا) اللہ تعالیٰ (بڑے کریم
ہیں) اس وقت محض اپنے فضل و کرم سے فرشتوں سے کہیں گے کہ میرے فرشتو! دیکھو میرے بندے
کے نامۂ اعمال میں فرض کے بعد کچھ سنن اور نوافل بھی ہیں تو اس فرض کے نقصان کی تلافی ان سنتوں
اور نوافل سے کردو (اور اس کی فرض نماز کا ثواب اس کو پورا پورا دے دو تاکہ وہ عذاب سے نجات
پائے) یہی حال دوسرے عبادات کا بھی ہے (اگر فرض روزوں میں کچھ نقصان آگیا ہو تو نفل
روزوں سے اس نقصان کو دور کر دیں گے، کامل روزوں کا ثواب عطا فرمائیں گے۔ ایسے ہی فرض
زکات میں کچھ نقصان آگیا ہو تو نفل خیرات سے فرض زکات کے نقصان کو پورا کر دیں گے اور وہ
کامل زکوٰۃ کے ثواب کا مستحق ہو جائے گا۔ اسی طرح دوسرے اعمال کی بھی یہی کیفیت ہوگی یعنی ان
کے فرائض کے نقصان کو نوافل سے پورا کیا جائے گا (اس لئے بندہ پر لازم ہے کہ فرض نمازوں کے
سوا نفل نمازیں بھی پڑھا کرے اسی طرح فرض روزوں کے سوا نفل روزے بھی رکھا کرے۔ اور فرض
زکات کے سوا نفل خیرات بھی دیا کرے تاکہ قیامت کے دن فرضوں میں کچھ نقصان نکلے تو نفل سے
وہ نقصان پورا کر دیا جائے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور امام احمد نے بھی دوسرے راوی سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 864 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1330 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 1330
Confidence and text similarity are not editorial verification.