English
Al-Sa'ib ibn Yazid (may Allah be pleased with him) narrated: "The call (Adhan) on Friday during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, and Umar (may Allah be pleased with them) was first given when the Imam sat on the pulpit. When Uthman (may Allah be pleased with him) became the Caliph and the people increased, he added a third call at Al-Zawra'."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٨٢٥ - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ (رضي الله عنه) قَالَ : كَانَ النَّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ اللهِ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2116
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں جمعہ
کے روز پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جبکہ امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا (اور دونوں خطبوں کے ختم ہونے
کے بعد نماز جمعہ کے پہلے دوسری اذان یعنی اقامت کہی جاتی تھی) لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
کے دور خلافت میں جب آبادی بڑھ گئی (اور لوگوں کی کثرت ہونے لگی اور لوگ دور دور تک
پھیل گئے تو سب کو اطلاع دینے کے لئے آپ نے جمعہ کے روز جمعہ کا وقت شروع ہونے کے
بعد) تیسری اذان کا اضافہ فرمایا جو مقام زوراء میں دی جاتی تھی (اور یہ وہی اذان ہے جو
جمعہ کا وقت شروع ہونے کے بعد ہی دی جاتی ہے جس کو اب پہلی اذان کہنا مناسب ہے، یہ
اذان اجماع صحابہ سے ثابت ہوتی ہے اور احکام، قرآن اور حدیث کی طرح اجماع سے بھی
ثابت ہوتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 912 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.