English
Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The daughter of the Prophet (ﷺ) sent a message to him that her son had passed away and asked him to come. He sent his greetings and said, 'To Allah belongs what He takes, and to Him belongs what He gives. Everything has an appointed time with Him. Be patient and seek reward.' She sent another message, insisting that he come. So he went, accompanied by Sa'd ibn Ubadah, Mu'adh ibn Jabal, Ubayy ibn Ka'b, Zayd ibn Thabit, and other men. When the child was brought to the Prophet (ﷺ), his soul was struggling, and the Prophet’s eyes filled with tears. Sa'd said, 'O Messenger of Allah, what is this?' He replied, 'This is mercy that Allah has placed in the hearts of His servants. Indeed, Allah shows mercy only to the merciful among His servants.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
۲۱۸۱ - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ ﷺ إِلَيْهِ أَنَّ ابْنَا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ، وَيَقُوْلُ: «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا، فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ، فَرُفِعَ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ سَعْدُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «هَذِهِ رَحْمَةُ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوْبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرَّحَمَاءَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2555
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضور کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا
نے خدمت اقدس میں کسی شخص سے یہ کہلا بھیجا کہ میرا لڑکا سکرات کی حالت میں ہے آپ ذرا
تشریف لائیے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے تم واپس جا کر ان کو میرا سلام پہنچاؤ اور کہو کہ
جو کچھ اللہ تعالیٰ لیتا ہے وہ اسی کا ہے اور جو کچھ وہ دیتا ہے وہ بھی اسی کا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا
ایک وقت مقرر ہے (وہ وقت ٹل نہیں سکتا) تم کو چاہئے کہ ثواب کی نیت سے صبر اختیار کریں، حضرت
زینب پھر دوبارہ کسی کو بھیجے اور قسم دے کر عرض کئے: آپ ضرور تشریف لائیے، یہ سن کر حضور کھڑے
ہوئے اور سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت اور دیگر صحابہ بھی حضور کے
ساتھ ہو گئے (جب حضور صاحبزادی کے مکان پر پہنچے تو حضور کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا، اس
وقت بچہ سکرات کی حالت میں تھا، بچے کی سانس سینہ میں اضطراب کے ساتھ چل رہی تھی، یہ حالت
دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، حضور کو روتے دیکھ
کر) حضرت سعد عرض کئے: یا رسول اللہ! کیا آپ بھی روتے ہیں؟ حضور فرمائے: سنو سعد! (کسی
کی موت پر نوحہ کرنا، چیخنا چلانا، کپڑے پھاڑ لینا اور سر پیٹنا یہ سب حرام اور منع ہیں) البتہ آنکھوں
سے (بغیر نوحہ کے) آنسو جاری ہونا، بشریت کا تقاضا ہے اور رحمت و نرم دلی کی نشانی ہے۔ جس کو اللہ
تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرماتا ہے (اس لئے یہ جائز ہے) اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں
میں سے انہیں پر رحم فرماتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1284 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 923a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.