Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الزكاة

Hadith 2260

بَابُ مَا يَجِبُ فِيْهِ الزَّكَاةُ

In this book

Current reading

كتاب الزكاة

بَابُ مَا يَجِبُ فِيْهِ الزَّكَاةُ

Zujajat al-Masabih 2260Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٢٦٠ - وَعَنْ مُحَمَّدٍ الْبَاقِرِ مَرْفُوْعًا قَالَ: إِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ أَوَاقٍ فَفِيْهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِيْنَ دِرْهَمًا دِرْهَمُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ1. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ: وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةٌ شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِن زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاءٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا تِسْعُ وَثَلَاثُوْنَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيْهَا شَيْءٌ، وَفِي الْبَقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعُ، وَفِي الْأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٍ. وَقَالَ فِي الدُّرِّ الْمُخْتَارِ»: فِيْمَا زَادَ عَلَى الْأَرْبَعِيْنَ بِحِسَابِهِ فِي ظَاهِرِ الرَّوَايَةِ عَنِ الْإِمَامِ، وَعَنْهُ لَا شَيْءَ فِيْمَا زَادَ عَلَى سِتِّينَ، فَفِيْهَا ضِعْفُ مَا فِي ثَلَاثِينَ، وَهُوَ قَوْلُهُمَا وَالثَّلَاثَةِ، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، «بحر» عَنِ الْيَنَابِيْعِ»، وَتَصْحِيحِ الْقُدُوْرِيَّ». وَفِي الْبِنَايَةِ»: وَقَالَ فِي عُمْدَةِ الرِّعَايَةِ»: وَرُوْيَ عَنْهُ أَنَّهُ لَا شَيْءٍ فِي الزَّيَادَةِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ إِلَى سِتَّيْنَ، وَهُمْ قَوْلُهُمَا، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، كَمَا فِي النَّهْرِ وَالْبَحْرِ وَالدُّرِّ الْمُخْتَارِ وَغَيْرِهَا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1573 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

With an authentic chain.

(1) The statement: “With an authentic chain.” Al-Allamah Al-Ayni said: “It is surprising that Al-Nawawi, despite being aware of these authentic hadiths, says: ‘Abu Hanifah has a weak hadith,’ and mentions a disputed hadith while ignoring other authentic hadiths.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: بسند صحيح: قال العلامة العيني والعجب من النووي مع وقوفه على هذه الأحاديث الصحيحة كيف يقول؟ ولأبي حنيفة حديث ضعيف، ويذكر الحديث المتكلم فيه، ولم يذكره غيره من الأحاديث الصحيحة.

Note 1

ان پر ایک سال گزر جائے تو) ایسی گائیوں میں ہر تیس گائیوں پر (زکات میں) تبیع یعنی ایک سالہ بچھڑا (مادہ ہو یا نر) لیا جائے گا اور گائیوں کی تعداد چالیس ہو جائے تو مُسِنّہ یعنی دو سالہ گائے یا بیل (زکات میں) لی جائے گی اور ایسے جانور جن سے (کھیتی وغیرہ میں) کام لیا جاتا ہو (اگرچہ کہ وہ نصاب کو پہنچ جائیں تو) ان پر زکات نہیں ہے اور درمختار میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی کے پاس چالیس سے زائد گائے، بیل ہوں تو چالیس سے لے کر ساٹھ تک زکات معاف ہے اور جب گائے، بیل ساٹھ ہو جائیں تو ان پر دو تبیعہ (زکات میں) لئے جائیں گے اور صاحبین کا بھی یہی قول ہے اور بقیہ تینوں ائمہ یعنی امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل بھی اسی کے قائل ہیں اور اسی پر فتویٰ ہے۔ یہ ینابیع اور تصحیح القدوری کے حوالے سے بحر سے منقول ہے اور محیط میں مذکور ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں جو روایات منقول ہیں ان میں اوفق یہی روایت ہے، یہاں اوفق سے مراد یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ اور اکثر فقہاء اسی روایت پر متفق ہیں اور جوامع الفقہ میں لکھا ہے کہ یہی قول مختار ہے اس کو علامہ عینی نے بنایہ میں بیان کیا ہے اور عمدۃ الرعایہ میں مذکور ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ چالیس سے زیادہ گائے، بیل پر زکات نہیں ہے یہاں تک کہ 60 ہو جائیں، البتہ یہ 60 ہو جائیں تو ان پر زکات واجب ہے، اور صاحبین کا بھی یہی قول ہے اور اسی پر فتویٰ ہے جیسا کہ نہر، بحر اور درمختار وغیرہ میں مذکور ہے۔12