Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2260

(اس باب میں ان چیزوں کا بیان ہے جن پر زکات دینا واجب ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(اس باب میں ان چیزوں کا بیان ہے جن پر زکات دینا واجب ہے)

Zujajat al-Masabih 2260Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2654Noor 2655
اور امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے فرماتے ہیں کہ چاندی کی مقدار جب پانچ اوقیہ (یعنی دو سو درہم کی قیمت) کو پہنچ جائے تو اس پر (زکات میں) پانچ درہم واجب ہیں اور (دو سو درہم سے زائد مقدار میں) ہر چالیس درہم پر ایک درہم (زکات میں) دیا جائے اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے صحیح سند کے ساتھ کی ہے۔ اور ابوداؤد کی ایک روایت میں (اس طرح) ہے کہ (جب کسی کے پاس بکریاں چالیس ہو جائیں تو) 40 سے 120 بکریوں تک (زکات میں) ایک بکری دینا واجب ہے اور جب بکریاں 120 سے زائد ہو جائیں تو 121 سے 200 تک دو بکریاں اور جب 200 سے زائد ہو جائیں تو 201 سے 300 تک تین بکریاں، اور جب بکریاں 300 سے زائد ہو جائیں تو ہر سو بکریوں پر ایک بکری واجب ہوگی اور اگر کسی کے پاس بکریاں (40 سے کم یعنی) 39 ہوں تو (ایسی صورت میں) تم پر کچھ بھی زکات واجب نہیں (اگر کسی کے پاس چرنے والی گائیں یا بیل ہوں اور
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1573 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

With an authentic chain.

(1) The statement: “With an authentic chain.” Al-Allamah Al-Ayni said: “It is surprising that Al-Nawawi, despite being aware of these authentic hadiths, says: ‘Abu Hanifah has a weak hadith,’ and mentions a disputed hadith while ignoring other authentic hadiths.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: بسند صحيح: قال العلامة العيني والعجب من النووي مع وقوفه على هذه الأحاديث الصحيحة كيف يقول؟ ولأبي حنيفة حديث ضعيف، ويذكر الحديث المتكلم فيه، ولم يذكره غيره من الأحاديث الصحيحة.

Note 1

ان پر ایک سال گزر جائے تو) ایسی گائیوں میں ہر تیس گائیوں پر (زکات میں) تبیع یعنی ایک سالہ بچھڑا (مادہ ہو یا نر) لیا جائے گا اور گائیوں کی تعداد چالیس ہو جائے تو مُسِنّہ یعنی دو سالہ گائے یا بیل (زکات میں) لی جائے گی اور ایسے جانور جن سے (کھیتی وغیرہ میں) کام لیا جاتا ہو (اگرچہ کہ وہ نصاب کو پہنچ جائیں تو) ان پر زکات نہیں ہے اور درمختار میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی کے پاس چالیس سے زائد گائے، بیل ہوں تو چالیس سے لے کر ساٹھ تک زکات معاف ہے اور جب گائے، بیل ساٹھ ہو جائیں تو ان پر دو تبیعہ (زکات میں) لئے جائیں گے اور صاحبین کا بھی یہی قول ہے اور بقیہ تینوں ائمہ یعنی امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل بھی اسی کے قائل ہیں اور اسی پر فتویٰ ہے۔ یہ ینابیع اور تصحیح القدوری کے حوالے سے بحر سے منقول ہے اور محیط میں مذکور ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں جو روایات منقول ہیں ان میں اوفق یہی روایت ہے، یہاں اوفق سے مراد یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ اور اکثر فقہاء اسی روایت پر متفق ہیں اور جوامع الفقہ میں لکھا ہے کہ یہی قول مختار ہے اس کو علامہ عینی نے بنایہ میں بیان کیا ہے اور عمدۃ الرعایہ میں مذکور ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ چالیس سے زیادہ گائے، بیل پر زکات نہیں ہے یہاں تک کہ 60 ہو جائیں، البتہ یہ 60 ہو جائیں تو ان پر زکات واجب ہے، اور صاحبین کا بھی یہی قول ہے اور اسی پر فتویٰ ہے جیسا کہ نہر، بحر اور درمختار وغیرہ میں مذکور ہے۔12