اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3123
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ
سے دریافت کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کس طرح پڑھتے تھے تو آپ نے فرمایا کہ
حضور کی قرأت مد والی ہوتی تھی پھر حضرت انسؓ اس طرح بسم الله الرحمن الرحيم کو پڑھ کر
سنایا کہ بسم اللہ میں لفظ اللہ کے سے پہلے جو الف ہے اس کو ایک الف کی مقدار کھینچ کر پڑھتے
اور اس طرح الرحمن میں حرف میم پر جو الف ہے اس کو بھی ایک الف کی مقدار کھینچ کر پڑھتے یہ
دونوں اصل مد والی کہلاتے ہیں اور اسی طرح الرحیم میں میم سے پہلے جو یا (ی) ہے اس کو بھی کھینچ
کر پڑھتے (یہ مد عارضی ہے اس کو ایک الف سے لے کر تین الف کی مقدار تک کھینچ کر پڑھا جا سکتا
ہے جیسا کہ قواعد تجوید میں مذکور ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5046 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) His statement: "It was extended, etc." In Al-Hujjah, it is stated that in obligatory prayers, one recites deliberately, letter by letter; in Tarawih, at a moderate pace; and in voluntary night prayers, one may hasten after reciting in a way that is understandable, meaning after extending the minimal elongation. The reciters have said this, otherwise it is forbidden due to neglecting the commanded deliberate recitation. This is from Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar, compiled from both.
Note 2
(۲) قوله : كانت مدا إلخ: وفي الحجة يقرأ في الفرض بالترسل حرفًا حرفًا، وفي التراويح بين بين، وفي النفل ليلا له أن يسرع بعد أن يقرأ كما يفهم، أي بعد أن يمد أقل مد، قال به القراء، وإلا حرم لترك الترتيل المأمور به شرعا. «الدر المختار» ورد المحتار ملتقط منهما.
Note 1
ف: واضح ہو کہ ردالمختار اور درالمختار میں کتاب الحجر کے حوالے سے لکھا ہے کہ فرض نماز میں قرأت ترتیل سے ہونا چاہئے کہ ہر حرف کو الگ الگ ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف پڑھے اور نماز تراویح میں قرأت بین بین یعنی نہ تو ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور نہ بہت تیز بلکہ اعتدال سے قرأت ہونی چاہئے اور رات کی نفل نمازوں میں نمازی کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو قرأت میں جلدی کرے مگر قرأت اس طرح سے ہو کہ حروف واضح طور پر سمجھ میں آتے ہوں کہ مد کے مقام میں لازماً مد ادا کرے جیسے قراء کرام نے کہا ہے اس لئے کہ مد کو ترک کرنا حرام ہے اور ترتیل سے قرآن کو پڑھنا شرعاً مامور بہ ہے۔12