Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues of the Qur’an

Hadith 2657

Chapter: The Etiquette of Reciting the Qur'an

In this book

Current reading

the Virtues of the Qur’an

Chapter: The Etiquette of Reciting the Qur'an

Zujajat al-Masabih 2657Volume 2

English

Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: "I was sitting with a group of the poor emigrants, some of them covering themselves with others due to lack of clothing, while a reciter was reciting to us. The Messenger of Allah (ﷺ) came and stood among us. When he stood, the reciter stopped. He greeted us then asked: 'What were you doing?' We said: 'O Messenger of Allah, we had a reciter reciting the Book of Allah to us and we were listening.' He said: 'Praise be to Allah Who has made among my ummah those with whom I have been commanded to be patient.' Then he sat among us to make himself equal with us, then motioned with his hand like this (forming a circle), so they gathered around him with their faces turned toward him. He said: 'Rejoice, O group of poor emigrants, with complete light on the Day of Judgment. You will enter Paradise half a day before the wealthy - that being five hundred years.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٦٥٧ وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: جَلَسْتُ فِي عِصَابَة مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِئُ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ سَكَتَ الْقَارِيُّ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ كَانَ قَارِئُ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابٍ اللهِ، فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ قَالَ: فَجَلَسَ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا، فَتَحَلَّقُوْا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ، فَقَالَ: «أَبْشِرُوْا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3135
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اصحاب صفہ کی ایسی جماعت میں بیٹھ گیا تھا جس میں غرباء مہاجرین تھے اور حالت یہ تھی کہ ان میں سے ایک دوسرے کو آڑ بنا رہے تھے تاکہ ستر پوشی ہو سکے (اور یہ حالت کپڑوں کی کمی کی وجہ سے تھی) اور ایک شخص اس وقت ہم کو قرآن سنا رہا تھا اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری نے آپ کو دیکھ کر اچانک قرأت روک دی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو سلام فرمایا (اس سے معلوم ہوا کہ قرأت قرآن کے وقت سلام کرنا چاہئے جب قاری نے قرآن پڑھنا روک دیا) تو حضور نے پوچھا: تم یہ کیا کر رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا: قرآن سن رہے تھے۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا جن کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے نفس کو ان کے ساتھ رکھوں (اور ان کے ساتھ بیٹھا کروں) راوی کا بیان ہے کہ پھر حضور ہمارے درمیان بیٹھ گئے تاکہ اپنی محبوب شخصیت کو ہمارے درمیان مساوی رکھیں پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا کہ: (حلقہ بنا کر بیٹھ جائیں) تو سب لوگ حلقہ بنا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ سب کے چہرے حضور کے روبرو تھے اس طرح کہ حضور کی نگاہ مبارک سب پر پڑ رہی تھی اس کے بعد حضور نے ہم کو خطاب کر کے فرمایا: خوشخبری ہو تم کو اے فقراء اور مہاجرین کی جماعت کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قیامت کے دن نورِ کامل کی بشارت دی ہے اور یہ بھی سن لو کہ تم لوگ دولت مند لوگوں سے نصف یوم پہلے ہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور قیامت کا یہ آدھا دن دنیا کے پانچ سو سال کے مساوی ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3666 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2198 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 2198

Confidence and text similarity are not editorial verification.