English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah has angels who roam the roads seeking people engaged in remembrance. When they find a group remembering Allah, they call out, 'Come to what you seek!' They then surround them with their wings up to the lowest heaven. Their Lord—Who knows them better—asks, 'What are My servants saying?' They reply, 'They glorify, magnify, praise, and exalt You.' He says, 'Have they seen Me?' They say, 'No, by Allah, they have not seen You.' He says, 'How would it be if they saw Me?' They say, 'If they saw You, they would worship You more fervently, glorify You more, and praise You more.' He asks, 'What do they ask for?' They say, 'They ask for Paradise.' He says, 'Have they seen it?' They say, 'No, by Allah, O Lord, they have not.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'If they saw it, they would desire it more intensely and strive harder for it.' He asks, 'From what do they seek refuge?' They say, 'From the Fire.' He says, 'Have they seen it?' They say, 'No, by Allah, O Lord, they have not.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'If they saw it, they would flee from it more desperately and fear it more.' He then says, 'I call you to witness that I have forgiven them.' An angel among them says, 'So-and-so is not truly among them; he only came for a need.' Allah says, 'They are the people of the gathering—none who sits with them is wretched.'" [Narrated by Bukhari]
In Muslim’s version: "Allah has mobile, distinguished angels who seek out gatherings of remembrance. When they find one, they join them and spread their wings over them until they fill the space between them and the lowest heaven. When they disperse, they ascend. Allah—Who knows best—asks, 'From where have you come?' They say, 'We came from servants of Yours on earth who glorify, magnify, declare Your Oneness, praise, and supplicate to You.' He asks, 'What do they ask of Me?' They say, 'They ask for Your Paradise.' He says, 'Have they seen My Paradise?' They say, 'No, O Lord.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'They seek Your protection.' He asks, 'From what?' They say, 'From Your Fire, O Lord.' He says, 'Have they seen My Fire?' They say, 'No.' He says, 'How would it be if they saw it?' They say, 'They seek Your forgiveness.' He says, 'I have forgiven them, granted them what they asked, and protected them from what they feared.' They say, 'O Lord, among them is so-and-so, a sinful servant who merely passed by and sat with them.' He says, 'I have forgiven him too. They are a people whose companion is not wretched.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
۲۷۲۱ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُوْنَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا1 يَذْكُرُوْنَ اللهً تَنَادَوْا: هَلُمُوْا إِلَى حَاجَتِكُمْ، قَالَ: فَيَحُفُوْنَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ -: مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ قَالَ: يَقُولُونَ: يُسَبِّحُوْنَكَ وَيُكَبِّرُوْنَكَ وَيَحْمَدُوْنَكَ وَيُمَجِّدُوْنَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ2 رَأَوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُوْلُوْنَ: لَا ، وَاللهِ مَا رَأَوْكَ.
قَالَ: فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا،3 قَالَ: فَيَقُولُ: فَمَا يَسْأَلُونِي؟ قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ4 الْجَنَّةَ، قَالَ: يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟5 قَالَ: يَقُولُونَ: لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ، مَا رَأَوْهَا، قَالَ: يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ [أَنَّهُمْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُوْنَ: لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً، قَالَ: فَمِمَّ يَتَعَوَّذُوْنَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ.
قَالَ: يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُونَ : لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ، مَا رَأَوْهَا، قَالَ يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً،6 قَالَ: فَيَقُولُ: فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ، قَالَ: يَقُولُ مَلَكُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ، إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى [بِهِمْ جَلِيسُهُمْ.7 رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «قَالَ: إِنَّ لِلهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً8 فُضُلًا يَتَتَبَّعُوْنَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ فَعَدُوا مَعَهُمْ وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى يَمْلَثُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوْا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ [بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ، يُسَبِّحُوْنَكَ وَيُكَبِّرُوْنَكَ وَيُهَلِّلُوْنَكَ وَيَحْمَدُوْنَكَ وَيَسْأَلُونَكَ، قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُونِي؟ قَالُوا: يَسْأَلُوْنَكَ جَنَّتَكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: لَا أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: وَيَسْتَجِيرُوْنَكَ، قَالَ: وَمِمَّ يَسْتَجِيرُوْنَنِي؟ قَالُوا: مِنْ نَارِكَ [يَا رَبِّ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: لَا ، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: يَسْتَغْفِرُوْنَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوْا، وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا. قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءُ، إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَيَقُولُ: وَلَهُ غَفَرْتُ، هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ9 جَلِيسُهُمْ.
اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں کی ایک جماعت مقرر ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر
کرنے والوں کی تلاش میں پھرتی رہتی ہے (تاکہ ان سے ملیں۔ اور ان کے ذکر کو سنیں) جب وہ
ذاکرین کی جماعت کو سنتے ہیں تو وہ فرشتے اپنے ساتھیوں کو آواز دے کر کہتے ہیں کہ اپنے مقصد کو
حاصل کرنے کے لئے دوڑو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سن کر
فرشتوں کی جماعت ذاکرین کے پاس جمع ہو جاتی ہے) اور اپنے پروں سے ان کو گھیر لیتی ہے اور ان
کا یہ سلسلہ پہلے آسمان کو پہنچ جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ (جب یہ فرشتے اللہ تعالیٰ
کے حضور میں جاتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ باوجود اس کے فرشتوں سے زیادہ اپنے بندوں کے حال سے
واقف ہیں فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ مرے بندے کیا کہہ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے
ہیں کہ وہ آپ کی پاکی، بڑائی، تعریف اور عظمت کے ساتھ آپ کا ذکر کر رہے تھے۔ حضور نے ارشاد
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ان لوگوں نے مجھے دیکھا ہے، تو فرشتے عرض
کرتے ہیں کہ: آپ کی ذات کی قسم انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا؟ اللہ تعالیٰ دریافت فرماتے ہیں کہ:
اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ہے۔ یہ سن کر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: اگر وہ آپ کو دیکھ
لیتے تو آپ کی اور زیادہ عبادت کرتے۔ اور آپ کی اور زیادہ بزرگی اور پاکی بیان کرتے۔ حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پھر فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟
فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: وہ آپ سے جنت کے طلبگار ہیں۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان سے دریافت
فرماتے ہیں کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: آپ کی ذات کی قسم
انہوں نے جنت نہیں دیکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال
ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ جنت دیکھ لیتے تو ان میں جنت کی خواہش طلب اور رغبت
زیادہ بڑھ جاتی۔ اللہ تعالیٰ پھر فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ مجھ سے کس چیز کی پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے
عرض کرتے ہیں کہ وہ آپ سے دوزخ کی پناہ چاہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:
اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا، انہوں نے دوزخ دیکھی ہے؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں
کہ آپ کی ذات کی قسم انہوں نے دوزخ نہیں دیکھی ہے، اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ
لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ لیتے تو اس سے بہت زیادہ
بھاگتے اور خوف زدہ ہوتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ (فرشتوں کو مخاطب
کر کے) فرماتے ہیں کہ میں تم لوگوں کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ: میں نے ان کو بخش دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: (یہ سن کر) ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے کہ ان میں ایک ایسا
شخص بھی شامل ہے جو (ذکر کرنے کے لئے حاضر نہیں ہوا تھا۔ بلکہ) وہ اپنے کسی کام کے لئے ان
کے پاس آیا تھا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ ایسے کامل لوگ ہیں ان کے پاس بیٹھنے والا بھی
بدبخت نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کی بھی بخشش ہو جاتی ہے اور ذاکرین کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی محروم
نہیں ہوتا ہے۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے12۔
اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ فرشتوں کی ایک جماعت ہے جو زیادہ گشت کیا کرتی ہے اور ذکر کے مجالس کی تلاش میں
رہتی ہے۔ اور جب یہ فرشتے کسی ایسی مجلس کو پا لیتے ہیں جس میں اللہ کا ذکر ہو رہا ہو تو یہ بھی ان کے
ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے پروں سے ڈھانک لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ساری
فضاء جو اس مجلس اور آسمان کے درمیان ہے فرشتوں سے بھر جاتی ہے اور جب (ذکر کی مجلس
برخواست ہوتی ہے) تو یہ فرشتے منتشر ہو کر (ساتویں) آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (فرشتوں کے بارگاہ رب العزت پہونچنے پر) اللہ تعالیٰ ان سے
دریافت فرماتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے زیادہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر
ہیں۔ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ان بندوں کے پاس سے
آ رہے ہیں جو زمین پر آپ کی پاکی، بزرگی اور آپ کا کلمہ اور حمد بیان کرنے کے لئے جمع تھے اور
آپ سے دست بدعا تھے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟
فرشتے کہتے ہیں کہ وہ آپ سے آپ کی جنت کا سوال کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے دریافت کرتے
ہیں کہ کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں: اے پروردگار انہوں نے
(آپ کی جنت کو) نہیں دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا خوب ہوتا اگر وہ میری جنت کو دیکھ
لیتے۔ پھر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: وہ آپ سے پناہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: وہ کس چیز
سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ آپ کی دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں کہ کیا انہوں نے میری دوزخ کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اے خداوند انہوں
نے (دوزخ کو) نہیں دیکھا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ: کیا ہی بہتر ہوتا اگر وہ میری دوزخ کو
دیکھ لیتے فرشتے پھر عرض کرتے ہیں: کہ اے خداوند وہ آپ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ (تم گواہ رہو) کہ میں نے ان کی
مغفرت کردی۔ اور جس چیز (یعنی جنت کو) انہوں نے مانگا میں نے وہ چیز انہیں بخش دی اور جس چیز
(یعنی دوزخ) سے انہوں نے پناہ مانگی میں نے ان کو اس سے پناہ دیدی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فرماتے ہیں کہ یہ سن کر فرشتے پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں: ان میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو بڑا
گنہگار ہے اور ادھر سے گزر رہا تھا۔ اور اس مجلس میں بیٹھ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں
کہ: اللہ تعالیٰ فرشتوں سے یہ سن کر فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو بھی بخش دیا کہ یہ ایسے سعادت
مند لوگ ہیں کہ ان کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی بدبخت اور محروم نہیں ہوتا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6408 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2689 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (19)
Note 1
(1) His statement: "A group remembering Allah..." indicates the virtue and elevated status of communal remembrance. Mirqat Al-Mafatih mentions this.
Note 2
(2) His statement: "Have they seen Me?" hints that the glorification of humans is superior because it occurs despite barriers, unlike the angels' glorification, which is direct. Mirqat Al-Mafatih.
Note 3
(3) His statement: "They would praise You more" implies that the effort in worship corresponds to knowledge and love. Mirqat Al-Mafatih.
Note 4
(4) His statement: "They ask for Your Paradise" shows that desiring Paradise is not blameworthy, as it is the abode of reward and meeting Allah. What is criticized is worship solely for Paradise or fear of Hell, for Allah deserves worship for His sake. Mirqat Al-Mafatih.
Note 5
(5) His statement: "Have they seen it?" indicates that Paradise is a created, existing, tangible reality. Mirqat Al-Mafatih.
Note 6
(6) His statement: "They would fear it more" demonstrates the profound dialogue resulting from abundant remembrance. This may be the meaning of: "Whoever remembers Me in a gathering, I remember him in a better one." The hadith also highlights the superiority of worship in the unseen realm, just as faith in the unseen is superior to faith in the seen. Mirqat Al-Mafatih.
Note 7
(7) His statement: "None who sits with them is wretched" encourages keeping company with those who remember Allah. Mirqat Al-Mafatih.
Note 8
(8) His statement: "Mobile (angels)" refers to those who frequently travel, from which the Sufi concept of spiritual travel (siyahah) is derived. Mirqat Al-Mafatih.
Note 9
(9) His statement: "Their companion is not wretched" encourages sitting with the righteous to gain their blessings. Mirqat Al-Mafatih.
Note 1
(۱) قوله : قوما يذكرون الله وفيه دلالة على أن للاجتماع على الذكر مزية ومرتبة. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: هل رأوني إلخ فيه تنبيه على أن تسبيح بني آدم وتقديسهم أعلى وأشرف؛ لأنه في عالم الغيب مع وجود الموانع، وتقديس الملائكة في عالم الشهادة بلا صارف. قاله في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله : وأكثر لك تسبيحا : فيه إيماء إلى أن تحمل مشقة الخدمة على قدر المعرفة والمحبة. كذا في «المرقاة».
Note 4
(٤) قوله: يسألونك الجنة فيه إشارة إلى أن سؤال الجنة ليس بمذموم، فإنها دار الجزاء واللقاء، وإنما ذم من لا يعبد الله إلا لرجاء الجنة أو لخوف النار، فإن الله تعالى يستحق العبادة لذاته. كذا في «المرقاة».
Note 5
(٥) قوله : هل رأوها فيه إشعار بأن الجنة مخلوقة موجودة حسية. كذا في «المرقاة».
Note 6
(٦) قوله: أشهد لها مخافة: هذا بسط عظيم في السؤال والجواب اقتضاه كثرة ذكر رب الأرباب في جمع أولى الألباب ولعل هذا هو المعنى بقوله : من ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منه، وفي الحديث إشعار بأفضلية العبادة في عالم الغيب، كما أن الإيمان بالغيب أفضل من الإيمان بالشهادة. كذا في «المرقاة».
Note 7
(۷)قوله : لا يشقى جليسهم وفي الحديث ترغيب في مخالطة أهل الذكر. قاله في «المرقاة».
Note 8
(٨)قوله: سيارة: أي كثيرة السير ومنه أخذ سياحة الصوفية. قاله في «المرقاة».
Note 9
(٩) قوله : لا يشقى بهم جليسهم وفي هذا ترغيب العباد في مجالسة الصلحاء لينالوا نصيبا منهم. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: واضح ہو کہ بخاری اور مسلم کی مذکور الصدر حدیث سے حسب ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں: منجملہ فوائد کے ایک فائدہ یہ ہے کہ ذکر الٰہی کے لئے مجالس کا قائم کرنا بڑی اہمیت اور فضیلت کا باعث ہے دوسرے یہ کہ بنی آدم کا کئی موانعات کے باوجود عالم ناسوت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی تسبیح اور تقدیس بیان کرنا ملائکہ کی تسبیح اور تقدیس سے افضل ہے اس لئے کہ فرشتوں کو مشاہدہ حق کے سوا وہ موانعات بھی نہیں ہیں جو انسانوں کو حاصل ہوئے ہیں۔ تیسرے یہ کہ جنت کا سوال کرنا مذموم نہیں البتہ یہ مذموم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف جنت کے شوق اور دوزخ کے خوف سے کی جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت فی نفسہ مطلوب ہے۔ اور اس کی عبادت میں کسی غرض کو وابستہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس حدیث شریف میں یہ بھی مذکور ہے کہ فرشتے ذکر الٰہی کی مجالس کی تلاش میں گشت کرتے رہتے ہیں۔ اس سے علماء نے صوفیاء کرام کی سیاحت کا جواز ثابت کیا ہے۔ آخر میں حدیث میں ارشاد ہے کہ ذاکرین کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں ہوتا۔ اس میں اس بات کی ترغیب ہے کہ نیک اور صالحین کی صحبت اختیار کرنا چاہئے تاکہ ان کی صحبت سے فیوض اور برکات حاصل ہوں۔ اور یہ فوائد مرقات سے ماخوذ ہیں۔12