عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ (زبان سے) اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا شکر خداوندی کی اصل ہے۔ جس بندے
نے اللہ تعالیٰ کی تعریف (زبان سے) بیان نہیں کی اس نے اللہ تعالیٰ کے شکر (بجا لانے کا حق) ادا نہ
کیا۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ف: اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ: حمد اور شکر میں فرق یہ ہے کہ حمد صرف
زبان سے کی جاتی ہے اور شکر زبان، دل اور تمام اعضاء سے کیا جاتا ہے تو گویا حمد شاخ ہوئی شکر کی۔
اور اس حدیث شریف میں حمد کو شکر کا سر اس لئے کہا گیا ہے کہ حمد زبان کا فعل ہے اور زبان سے اللہ کی
تعریف خوب بیان کی جا سکتی ہے اور زبان سب اعضاء کی نائب ہے۔ وہ اعضاء کی ترجمانی کرتی ہے۔
تو گویا یہ یعنی زبان سے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا مجمل شکر ہوا جو مفصل شکر کا جزوِ اعظم ہے اسی
لئے فرمایا گیا کہ جس بندے نے زبان سے اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا
نہ کیا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ صفائی باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کی بھی
حفاظت کرے۔12
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ: حمد اور شکر میں فرق یہ ہے کہ حمد صرف زبان سے کی جاتی ہے اور شکر زبان، دل اور تمام اعضاء سے کیا جاتا ہے تو گویا حمد شاخ ہوئی شکر کی۔ اور اس حدیث شریف میں حمد کو شکر کا سر اس لئے کہا گیا ہے کہ حمد زبان کا فعل ہے اور زبان سے اللہ کی تعریف خوب بیان کی جا سکتی ہے اور زبان سب اعضاء کی نائب ہے۔ وہ اعضاء کی ترجمانی کرتی ہے۔ تو گویا یہ یعنی زبان سے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا مجمل شکر ہوا جو مفصل شکر کا جزوِ اعظم ہے اسی لئے فرمایا گیا کہ جس بندے نے زبان سے اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کیا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ صفائی باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کی بھی حفاظت کرے۔12