سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ثواب میں چار کلمے جو قرآن میں موجود ہیں
اور ایک روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین کلمے یہ
چار ہیں: سُبْحَانَ اللّٰهِ . وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ . لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ اور اللّٰهُ اكبر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تم جس کلمہ سے چاہو ابتداء کر سکتے ہو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2137a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (10)
Chapter-heading commentary
And glorify Him...
(1) His statement: "And glorify Him..." – It is said that "glorify Him" means saying: "SubhanAllah" (Glory be to Allah), "Alhamdulillah" (All praise is due to Allah), "La ilaha illa Allah" (There is no god but Allah), "Allahu Akbar" (Allah is the Greatest), and "La hawla wa la quwwata illa billah" (There is no power nor strength except with Allah). Some versions add: "Al-'Aliyy al-'Atheem" (The Most High, the Magnificent). Thus, "glorification" encompasses all these phrases. Tafsir al-Khazin and Al-Madarik mention this from Qatadah.
Morning and afternoon
(2) His statement: "Morning and afternoon" – This indicates consistency, as mentioning the two extremes implies the middle as well. Tafsir al-Khazin mentions this.
So exalt [Allah] with praise...
(3) His statement: "So exalt [Allah] with praise..." – This verse indicates the virtue of Tasbeeh (glorification) and Tahmeed (praise), as Allah made them sufficient for expressing gratitude for the blessings of victory and conquest. Tafsir al-Khazin mentions this.
And magnify Him...
(4) His statement: "And magnify Him..." – The intended meaning is that "magnify Him" can mean saying "Allahu Akbar" (Allah is the Greatest), as mentioned in Al-Husseini. Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah mentions this.
Note 5
The best speech...
(5) His statement: "The best speech..." – Some scholars use this hadith as evidence that if a person swears not to speak for a day and then says "SubhanAllah," "Alhamdulillah," "La ilaha illa Allah," or "Allahu Akbar," he breaks his oath. This is the view of Imam Shafi'i, as these are all forms of speech. However, our scholars (Hanafis) say he does not break his oath, because although these phrases are linguistically speech, they are not considered "speaking" in common usage. Rather, one is called a "reciter" (qari') or "glorifier" (musabbih), not a "speaker" (mutakallim). The principle in oaths is that they are based on common usage unless a specific intention is made. This is supported by hadiths mentioned in Fath al-Qadeer and others. The Shafi'i school bases oaths on linguistic reality, while the Maliki school bases them on Quranic usage. This is summarized from Mirqat al-Mafatih, Fath al-Qadeer, 'Umdat al-Ri'ayah, and Al-Binayah.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: وسبحوه إلخ : قيل : معنى سبحوه: قولوا: سبحان الله والحمد لله، ولا إله إلا الله ، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله زاد في نسخة: «العلي العظيم فعبر بالتسبيح عن أخواته. قاله الخازن، وكذا في المدارك» عن قتادة.
قوله
(۲) قوله: بكرة وأصيلا : فيه إشارة إلى المداومة؛ لأن ذكر الطرفين يفهم منه الوسط أيضًا. قاله الخازن.
قوله
(۳) قوله : فسبح إلخ وفي الآية دليل على فضيلة التسبيح والتحميد حيث جعل ذلك كافيًا في أداء ما وجب عليه من شكر نعمته النصر والفتح. قاله الخازن.
قوله
(٤)قوله: وكبره إلخ : والمقصود عن ذكر الآية أنه يجوز أن يكون وكبره» بمعنى: وقُل: الله أكبر، على ما في الحسيني. كذا في التفسيرات الأحمدية.
Note 5
قوله
(٥)قوله : أفضل الكلام إلخ واحتج بهذا الحديث القائل بأن من حلف لا يتكلم اليوم فسبح أو هلل أو كبر أو ذكر الله فإنه يحنث، وهو قول الشافعي؛ لأن الكل كلام. وقال علماؤنا : لا يحنث؛ لأن هذا وإن كانت من الكلام لغة، لكن لا يُسمى بمثل ذلك متكلما عرفًا، بل قاريا ومسبحًا، فإن المتكلم عرفًا من يخاطب الناس ويتكلم بما يخاطب به الناس الأصل في هذا الباب أن مبنى الأيمان عندنا على العرف ما لم ينو محتمل لفظه؛ لأن المتكلم إنما يتكلم بالكلام العرفي وعلى هذا الأصل يتفرع فروع هذا الباب، ويؤيدنا الأحاديث التي ذكرت في فتح القدير وغيره، وعند الشافعي منبى الأيمان على الحقيقة اللغوية، وعند مالك على استعمال القراني، هذا حاصل ما في المرقاة» و«فتح القدير» و «عمد الرعاية» و«البناية».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے ان چار کلموں یعنی سبحان الله . والحمد لله . ولا اله الا
الله . اور والله اكبر کا کہنا میرے پاس ان تمام چیزوں سے افضل ہے جن پر سورج طلوع کرتا ہے
(یعنی ان کلمات کا پڑھنا دنیا و مافیہا کو خیرات کرنے سے زیادہ ثواب رکھتا ہے) اس حدیث کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: میں نے معراج کی رات حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام سے
(ساتویں آسمان پر) ملاقات کی تو آپ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اپنی امت کو میرا
سلام پہنچا دیجئے (اس حدیث کے پڑھنے اور سننے والے کو چاہئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
جواباً سلام ان الفاظ میں کہے: وعليكم السلام ورحمة الله وبركاتهٗ۔ جیسا کہ مرقات میں
مذکور ہے۔12) اور ان کو یہ خبر سنا دیجئے کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے (یعنی مشک اور زعفران سے بنی
ہوئی ہے۔ اور اس کا پانی نہایت شیریں ہے اور یہ بھی فرما دیجئے کہ وہ چٹیل میدان ہے جو درختوں
سے خالی ہے) اور یہ بھی فرما دیجئے کہ سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر کا
پڑھنا جنت میں پودے لگانا ہے (یعنی جو شخص ان کلمات کو پڑھے گا ان کے ثواب میں ایک ایک پودا
اس کی جنت میں لگا دیا جائے گا۔ چونکہ یہ کلمے بہت مختصر ہیں اور ان کا پڑھنا بھی سہل ہے اس لئے
انسان کو چاہئے کہ ہر وقت ان کو پڑھتا رہے) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ
کسی درخت کے پاس سے گزر رہے تھے جس کے پتے خشک تھے آپ ﷺ نے عصا سے اس کی
ٹہنیوں پر ضرب لگائی تو اس کے پتے گرنے لگے اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
الحمد لله. سبحان الله. لا اله الا الله اور الله اكبر کہنے سے بندہ کے گناہ اس طرح جھڑ
جاتے ہیں۔ جس طرح اس درخت کے پتے گر رہے ہیں۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اذکار میں کون سا ذکر ثواب میں افضل ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: وہی ذکر جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لئے منتخب فرمایا ہے اور وہ ”سُبْحَانَ
اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ“ کہنا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرماتے ہیں کہ جو شخص دن میں سو مرتبہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھتا ہے تو اس کے گناہ گرائے
جاتے ہیں اگرچہ وہ دریا کے جھاگ کے برابر ہوں۔
اس کی روایت بخاری، مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سو مرتبہ ”سبحان اللہ وبحمدہ
“ پڑھے تو قیامت کے دن اس شخص سے بڑھ کر افضل عمل والا کوئی نہیں البتہ وہ شخص جو اس کے مانند یا
اس سے زائد پڑھتا رہا ہو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے (اور کہنے میں آسان ہیں) اور اعمال
کی ترازو میں (ثواب کے لحاظ سے) بھاری ہیں۔ اور رحمٰن کے پاس بے حد پیارے ہیں وہ یہ ہیں۔
سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ ○ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پڑھنے والا اللہ
تعالیٰ کے پاس بے حد محبوب ہے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو کوئی سُبحان اللهِ العظيم وبحمده پڑھے تو اس (کے لئے ہر دفعہ تسبیح
پڑھنے) پر جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ہر روز جب بندے صبح کرتے ہیں تو ایک فرشتہ یہ ندا دیتا ہے (کہ
اے بندگان خدا) تم پر لازم ہے کہ اپنے پاک شہنشاہ کی پاکی اور بزرگی بیان کیا کرو (یعنی سُبْحَان
مرقات میں مذکور ہے12)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Subhan al-Malik al-Quddus
(1) His statement: "Subhan al-Malik al-Quddus" – At-Tibi said this means: "Say: 'Subhan al-Malik al-Quddus' (Glory be to the Sovereign, the Most Holy)" or "Say: 'Subbuhun Quddusun, Rabb al-Mala'ikati war-Ruh' (The Most Glorified, the Most Holy, Lord of the angels and the Spirit)." This includes similar phrases like "SubhanAllahi wa bihamdihi" and "SubhanAllahil-'Atheemi wa bihamdihi." Mirqat al-Mafatih mentions this.
Note 1
قوله سبحان أي سبحوا قال الطيبي
(۱)قوله سبحان أي سبحوا قال الطيبي: أي قولوا: سبحان الملك القدوس، أو قولوا: سبوح قدوس رب الملائكة والروح، أي ونحوهما من قول سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم وبحمده. قاله في «المرقاة».
ام المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے صبح کے وقت نماز فجر کے لئے نکلے اور وہ اس وقت اپنے مصلیٰ پر بیٹھی
ہوئی تھیں۔ اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت یعنی چڑھے دن واپس تشریف
لائے تو ام المؤمنین اس وقت بھی اپنے مصلیٰ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان
سے دریافت فرمایا کہ: کیا تم اس وقت سے جبکہ میں تم کو چھوڑ کر باہر گیا ہوں اب تک اسی حالت پر
(ذکر الہی میں) بیٹھی ہوئی ہو؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ: ہاں یا رسول اللہ (یہ سن کر) حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے پاس سے جا کر (نماز فجر پڑھنے کے بعد) یہ چار کلمے تین
مرتبہ پڑھے ہیں اگر ان کے ثواب کا مقابلہ تمہارے اس پورے وقت کے ذکر سے کیا جائے (جس
میں تم اتنی دیر مشغول رہی ہو) تو ضرور ان چار کلمات کا ثواب (تمہارے سارے وقت کے ذکر کے
ثواب سے) بڑھ جائے گا وہ چار کلمے یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَاءَ
میں اللہ تعالیٰ کی پاکی اور اس کی حمد و ثناء بیان کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کی تعداد کے برابر
اور اس کی مرضی کے موافق اور اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہی کی مقدار
کے برابر۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔12
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے (ہم سے مخاطب ہو کر) فرمایا کہ: کیا تم میں کوئی
شخص ہر روز ایک ہزار نیکیاں نہیں کما سکتا؟ یہ سن کر حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کیا کہ:
کس طرح ایک شخص ایک ہزار نیکیاں کما سکتا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (کیوں
نہیں) کہ وہ سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰه پڑھے تو اس کے (نامۂ اعمال) میں ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں
گی یا اس کے ایک ہزار گناہ مٹا دئے جائیں گے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور حمیدی نے اپنی کتاب میں اس طرح روایت کیا ہے روزانہ سُبْحَانَ اللّٰه
پڑھنے سے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور ایک ہزار گناہ مٹا دئے جائیں گے۔
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا (حضرت عمرو
بن العاص رضی اللہ عنہ سے) روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو کوئی سو (100) بار صبح اور سو (100) بار شام سُبْحَانَ اللّٰه پڑھے تو
اس کو سو مرتبہ حج کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص صبح سو (100) مرتبہ اور شام
سو(100) مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ پڑھے تو اس کو اس شخص کے برابر ثواب ملے گا جو خدا کی راہ میں سو
مجاہدین کو (جہاد فی سبیل اللہ) کے لئے گھوڑے مہیا کرے اور جو شخص صبح اور شام سو سو مرتبہ لَا اِلٰهَ
اِلَّا اللّٰهُ پڑھے تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا ثواب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے سو
(100) غلاموں کو (جن کو ظلماً قیدی بنا لیا گیا ہو) آزاد کرنے والے کو ثواب ملتا ہے اور جو شخص سو
مرتبہ صبح اور سو(100) مرتبہ شام اَللّٰهُ اَكْبَر پڑھے تو کوئی شخص قیامت کے روز اس سے بڑھ کر
ثواب کا حامل نہ ہوگا مگر وہ شخص جس نے یہ کلمے اتنی ہی بار پڑھے یا اس سے زائد پڑھے ہوں۔ اس
کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے
ہیں کہ جو شخص ان کلمات لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ، لَا شَرِيْكَ لَهٗ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ
وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ○ کو دن میں سو(100) مرتبہ پڑھے تو اس کو سو(100) غلاموں کو
آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور (نامہ اعمال میں) ایک سو(100) نیکیاں لکھی جائیں گی اور
اس کے سو گناہ مٹا دیئے جائیں گے۔ اور اس دن (صبح سے) شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے
گا۔ اور (قیامت کے دن) کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا۔ مگر جو شخص جو ان کلمات کو
اس سے زیادہ پڑھے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ: سب سے افضل ذکر لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ہے اور بہترین دعا، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ہے۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ایک دفعہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ: اے
میرے پروردگار مجھے کوئی ایسا ذکر بتا دیجئے جس کے ذریعہ سے میں آپ کو یاد کروں یا دعا کروں۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے موسیٰ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کہا کرو تو حضرت موسیٰ نے عرض کیا: اے میرے
پروردگار! یہ تو سارے بندے پڑھا کرتے ہیں مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ جو میرے لئے مخصوص ہو
اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اے موسیٰ تم پر اس کی اہمیت واضح نہیں ہے یہ وہ کلمہ ہے کہ) اگر ساتوں
آسمان اور زمین اور ان کی ساری آبادی میرے سوا ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے
میں لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کو رکھا جائے تو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا پلڑا ان کے مقابلہ میں بھاری ہو جائے گا اور
جھک جائے گا۔
اس کی روایت بغوی نے شرح السّنہ میں کی ہے۔
(1) His statement: "Would outweigh them" – This hadith clearly establishes that "La ilaha illa Allah" is the best remembrance, with no reward greater than its reward. Mirqat al-Mafatih mentions this.
Note 1
قوله
(۱) قوله : لمالت لهن إلخ وهذا الحديث أصرح صريح على أن لا إله إلا الله أفضل الذكر لا ثواب أعظم من ثوابها. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: حاشیہ مشکوٰۃ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سوال حضرت موسیٰ علی نبینا علیہ الصلاۃ والسلام کو
الہام کیا کہ وہ پوچھیں اور رب العزّت اس کا جواب دیں تا کہ اس کلمہ طیّبہ کی عظمت اور اہمیت خواص اور
عوام سب پر ظاہر ہو اور سب اس کا ورد ہر وقت اور ہر مقام پر رکھا کریں اس لئے کہ اس کا کہنا آسان
ہے اور ثواب عظیم ہے۔12
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد
فرماتے ہیں کہ: سُبْحَانَ اللّٰه کا پڑھتے رہنا (نامۂ اعمال کی) نصف ترازو کو بھر دیتا ہے اور
الحمدلله کا کہتے رہنا نصف کو بھر دیتا ہے اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا کہنا اس کو اللہ تعالیٰ تک پہنچا
دیتا ہے اور درمیان میں کوئی پردہ حائل نہیں رہتا اس سے معلوم ہوا کہ (کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ۔
سُبْحَانَ اللّٰه اور الحمدلله سے افضل ہے (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے 12)۔ اس حدیث کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
Has no barrier...
(2) His statement: "Has no barrier..." – This clearly indicates that "La ilaha illa Allah" is superior to "SubhanAllah" and "Alhamdulillah." Mirqat al-Mafatih mentions this.
Note 2
قوله
(۲) قوله: ليس لها حجاب إلخ فيه دلالة ظاهرة على أن إلا إله إلا الله أفضل من سبحان الله والحمد لله. قاله في «المرقاة».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: کوئی بندہ مومن خلوص دل سے (بغیر دکھاوے کے) لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کہتا
ہے تو اس کے (اس کلمہ کے لئے) اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ یہاں
تک اس کا کلمہ عرش تک پہنچ جاتا ہے (یعنی اس کو قبول کر لیا جاتا ہے اور اس کی قبولیت) اس وقت تک
باقی رہتی ہے جب تک کہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچا رہتا ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ (زبان سے) اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا شکر خداوندی کی اصل ہے۔ جس بندے
نے اللہ تعالیٰ کی تعریف (زبان سے) بیان نہیں کی اس نے اللہ تعالیٰ کے شکر (بجا لانے کا حق) ادا نہ
کیا۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ف: اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ: حمد اور شکر میں فرق یہ ہے کہ حمد صرف
زبان سے کی جاتی ہے اور شکر زبان، دل اور تمام اعضاء سے کیا جاتا ہے تو گویا حمد شاخ ہوئی شکر کی۔
اور اس حدیث شریف میں حمد کو شکر کا سر اس لئے کہا گیا ہے کہ حمد زبان کا فعل ہے اور زبان سے اللہ کی
تعریف خوب بیان کی جا سکتی ہے اور زبان سب اعضاء کی نائب ہے۔ وہ اعضاء کی ترجمانی کرتی ہے۔
تو گویا یہ یعنی زبان سے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا مجمل شکر ہوا جو مفصل شکر کا جزوِ اعظم ہے اسی
لئے فرمایا گیا کہ جس بندے نے زبان سے اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا
نہ کیا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ صفائی باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کی بھی
حفاظت کرے۔12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن کو جنت میں داخل کیا جائے گا وہ
لوگ ہوں گے جنہوں نے (دنیا میں) غم اور خوشی دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی ہو
یعنی ہر موقع میں (الحمد لله کہتے رہے ہوں)۔
اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک دفعہ) سفر کر رہے تھے (راستہ میں) چند اصحاب نے بلند آواز سے
اللہ اکبر پڑھنا شروع کیا یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر سختی
نہ کرو (اور آہستہ آہستہ ذکر کرو)۔ اس لئے کہ تم جس ذات عالی کو پکار رہے ہو وہ نہ تو کم سننے والا ہے
اور نہ تم سے غائب ہے بلکہ تم جس ہستی کو پکار رہے ہو وہ تو سَمِيْعٌ وَّ بَصِيْرٌ خوب سننے والا اور خوب
دیکھنے والا ہے اور وہ ہر وقت تمہارے ساتھ ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور جس کو تم
پکارتے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تم سے زیادہ قریب ہے (یعنی تمہاری شہ رگ سے بھی
زیادہ قریب ہے) حضرت ابوموسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے پیچھے سواری پر تھا۔ اور اپنے دل میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے عبداللہ بن قیس (یہ حضرت ابوموسیٰ اشعری کا نام ہے)
کیا میں تم کو ایسا خزانہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ضرور بتائیے آپ نے فرمایا (سنو) وہ کلمہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
مکحول رضی اللہ عنہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوہریرہ
فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
کثرت سے پڑھا کرو اس لئے کہ یہ جنت کا خزانہ ہے مکحول فرماتے ہیں کہ جو شخص لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ
(برائیوں سے بچنے کی) طاقت (اور نیکیوں کے کرنے کی) قوت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی
ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور جگہ پناہ کی نہیں ہے) پڑھتے تو اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف اور
مصیبت کے 70 دروازے بند کر دیتے ہیں اور افلاس اور تنگدستی ستر مصیبتوں میں سے ایک معمولی
ہے۔ (کہ اس کا پڑھنے والا اس جیسی مصیبتوں سے محفوظ رہتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: کیا میں تم کو ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو عرش کے نیچے سے (اترا) ہے اور
جنت کا ایک خزانہ ہے (اور وہ کلمہ) لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ہے۔ جس وقت بندہ یہ کہتا ہے تو
اس (کے جواب میں) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: میرے بندے نے میری اطاعت کی اور اپنے تمام
کام میرے سپرد کر دئے۔ اس کی روایت بیہقی نے دعواتِ کبیر میں کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ (ظاہری اور باطنی) ننانوے (99) بیماریوں کی
دوا ہے۔ ان میں سے ایک معمولی بیماری (دین اور دنیا کا) رنج و غم ہے جس سے اس کا پڑھنے والا
نجات پاتا ہے۔
اس حدیث کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔
ف: صدر کی حدیثوں میں ارشاد ہے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ جنت کا ایک خزانہ ہے
اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ پڑھنے والا اس دن کا نفع
اٹھاوے گا کہ جس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد۔ اور حضرت مکحول کی روایت میں ارشاد ہے کہ اس
کے پڑھنے والے کے لئے مصائب کے ستر (70) دروازے بند کر دئے جاتے ہیں جس میں کا ایک
معمولی دروازہ فقر ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس سے مراد دل کا فقر ہے کہ
جب دل کا فقر دور ہو جاتا ہے تو اصل غنا حاصل ہو جاتا ہے جو حاجات سے انسان کو بے نیاز کر دیتا
ہے اور اگر ظاہری فقر کو بھی اس سے مراد لیا جائے تو کوئی بات بعید نہیں کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ
حاجت روائی بھی فرما دیتے ہیں۔12
ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ دونوں فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جو شخص لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ کہتا ہے تو
اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کے (قول کی) تصدیق میں یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق فرماتے ہیں اور جب بندہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تصدیق میں یوں فرماتے ہیں کہ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
وَأَنَا وَحْدِيْ لَا شَرِيكَ لِيْ۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں یکتا ہوں اور میرا کوئی شریک
نہیں اور جب بندہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق میں
یوں فرماتے ہیں: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ ،وَلِيَ الْحَمْدُ میرے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہت
میرے ہی لئے ہے اور ہر قسم کی تعریف بھی میرے ہی لئے ہے اور جب بندہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق میں فرماتے ہیں لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا وَلَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِيْ “میرے سوا کوئی معبود نہیں اور (برائیوں سے بچنے کی قوت اور نیکیوں کے
کرنے کی طاقت) بجز میری توفیق ممکن نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمائے
ہیں کہ جو ان کلمات یعنی ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ،لَا
پڑھے اپنی بیماری میں اور پھر انتقال کر جائے تو ان کلمات کی برکت سے آگ اس کو نہ چھوئے گی
(یعنی دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہے گا) اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سبحان الله کہنا تمام
مخلوقات کی عبادت ہے (یعنی ساری مخلوقات اس کلمہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے) اور
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنا شکر کا کلمہ ہے اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کہنا اخلاص (یعنی دوزخ سے نجات کا کلمہ ہے)
اور الله اكبر کا کہنا (اتنا ثواب رکھتا ہے کہ) زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے اس کو بھر دیتا
ہے اور جب بندہ مومن لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: میرا بندہ
فرمانبردار ہوا اور خود کو میرے حوالے کر دیا۔
اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی
عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ: مجھے کوئی ایسا
ذکر بتا دیجئے جس کو میں وظیفہ کے طور پر پڑھتا رہوں تو آپ نے ان کو یہ کلمات تعلیم فرمایا: لَا إِلٰهَ إِلَّا
الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ”انہوں نے کہا: یا رسول اللہ یہ کلمات تو
میرے رب کی ثناء کے لئے ہیں۔ (اس کو تو میں پڑھتا رہوں گا) اب میرے لئے کوئی دعاء بتلائیے
جس کو میں پڑھوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ دعاء تعلیم فرمائی اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ
وَارْحَمْنِيْ وَاهْدِنِيْ وَارْزُقْنِيْ وَ عَافِنِيْ. اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (ایک دفعہ) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک صحابیہ کے پاس گئے (جو ان کی قرابت دار تھیں) جو اس وقت
اپنے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھ کر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ یعنی ان سے گنتی کر رہی تھیں یہ دیکھ کر ان
سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو تسبیح پڑھنے کا ایسا طریقہ بتاتا ہوں جو آسان
بھی ہے اور افضل بھی (تم اس طرح پڑھا کرو): سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِى السَّمَاءِ. وَ
میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہوں مخلوقات سماوی کی تعداد کے برابر۔ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی
بیان کرتی ہوں مخلوقات ارضی کی تعداد کے برابر۔ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہوں مخلوقات
آسمان اور زمین کی درمیانی مخلوق کی تعداد کے برابر میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہوں۔ ان
مخلوقات کی تعداد کے برابر جو اب تک پیدا کی جانے والی ہیں۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ”اللہ اکبر“ کو بھی اسی طرح پڑھا جائے
اِلَّا بِاللّٰهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ. اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1500 (unverified) 97% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3568 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Date stones or pebbles...
(1) His statement: "Date stones or pebbles..." – Ali al-Qari said: "This is a valid basis for permitting the use of prayer beads (misbahah), as they serve the same purpose. There is no difference between strung and loose items for counting. The claim that prayer beads are an innovation is incorrect, as their origin is found in the Sunnah. The Prophet (ﷺ) did not forbid her but guided her to something easier and better. If it were disliked, he would have clarified it. The prayer beads are merely date stones threaded together, which does not warrant prohibition."
Al-Durr al-Mukhtar states: "There is no harm in using prayer beads without showing off." Al-Bahr, Al-Hilyah, and Al-Khazain mention this.
Note 1
قوله
(۱) قوله : نوى أو حصى إلخ : وقال علي القارئ: هذا أصل صحيح لتجويز السبحة بتقريره ، فإنه في معناها؛ إذ لا فرقبين المنظومة والمنثورة فيما يعد به، ولا يعتد بقول من عدها بدعة، وقال المشايخ: إنها سوط الشيطان انتهى.
وفي الدر المختار»: لا بأس باتخاذ المسبحة لغير رياء، كما بسط في البحر» انتهى. المسبحة بكسر الميم آله التسبيحوالذي في «البحر» و «الحلية» و«الخزائن بدون ميم، قال في المصباح السبحة خرزات منظومة، وهو يقتضي كونها عربية. وقال الأزهري: كلمة مولدة وجمعها سبح، مثل: غرفة وغرف ودليل الجواز هذا الحديث فلم ينهها عن ذلك، وإنما أرشدها إلى ما هو أيسر وأفضل، ولو كان مكروها لبين لها ذلك، ولا تزيد السبحة على مضمون هذا الحديث إلا بضم النوى في خيط، ومثل ذلك لا يظهر تأثيره في منع، فلا جرم أن نقل اتخاذها والعمل بها عن جماعة من الصوفية الأخيار وغيرهم، اللهم إلا إذا ترتب عليه رياء وسمعة فلا كلام لنا فيه . رد المحتار» ملتقط منه.
یسیرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جو مہاجر صحابیات سے میں تھیں وہ فرماتی
ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی ایک جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ: تم تسبیح
یعنی سُبْحَانَ اللّٰه پڑھنے کو تہلیل یعنی لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰه پڑھنے کو۔ تقدیس یعنی سُبْحَانَ الْمَلِكِ
الْقُدُّوْسِ پڑھنے کو اپنے اوپر لازم کر لو۔ اور انگلیوں کے پوروں پر ان کو شمار کیا کرو کیونکہ (اور اعضاء
کی طرح) انگلیوں سے بھی قیامت میں سوال ہوگا اور ان سے گواہی لی جائے گی اور (یہ جواب دیں
گی)۔ اس لئے تم (اذکار اور اوراد کے پڑھنے میں) غفلت نہ برتو۔ ورنہ رحمت خداوندی تم سے دور
کر دی جائے گی۔ (اور تم محروم ہو جاؤ گی)۔
اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Count with your fingers...
(1) His statement: "Count with your fingers..." – This indicates the permissibility of counting remembrances and serves as evidence for using prayer beads. Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) had a thread with many knots for counting Tasbeeh. The claim that prayer beads are an innovation is incorrect, as their basis is found in the Sunnah. The Prophet (ﷺ) restricted counting to fingers to indicate the superior method. Mirqat al-Mafatih mentions this.
Note 1
قوله
(۱) قوله : واعقدن بالأنامل إلخ وفيه جواز عد الأذكار ومأخذ سبحة الأبرار، وقد كان لأبي هريرة خيط فيه عقد كثيرة يسبح بها. وزعم أنها بدعة غير صحيح؛ لوجود أصلها في السنة، ولقوله : أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم، وإنما قيد العقد بالأنامل دلالة على الأفضل. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: مذکورہ بالا صدر کی دو حدیثوں میں ایک میں تسبیحات کو شمار کرنے کے لئے کنکریوں اور
گٹھلیوں کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں انگلیوں کے پوروں پر تسبیحات کو شمار کرنے کا ارشاد ہے۔
اس بارے میں صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ: ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تسبیح رکھنا
جائز ہے خواہ تسبیح کے دانے کسی ڈوری میں منسلک ہوں یا علیحدہ علیحدہ ہوں اس وجہ سے جو لوگ تسبیح
رکھنے کو بدعت قرار دے دیتے ہیں ان کی یہ بات مذکورہ حدیثوں کی روشنی میں قابل اعتبار نہیں چنانچہ
علمائے کرام اور مشائخ عظام نے تسبیح کو شیطان کے لئے کوڑا قرار دیا ہے۔
اسی وجہ سے درمختار میں لکھا ہے کہ اگر ریاکاری کا شائبہ نہ ہو تو اس کے استعمال میں کوئی
مضائقہ نہیں ہے۔ اور بحر الرائق میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔ اھ
مرقات میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ڈوری تھی جس میں
بہت ساری گرہیں پڑی ہوئی تھیں۔ جس سے تسبیحات کے شمار کا کام لیا کرتے تھے۔ اس سے تسبیح رکھنے
کا جواز اور استحباب ثابت ہوتا ہے۔12
Commentary and footnotes (10)
Chapter-heading commentary
(1) His statement: "And glorify Him..." – It is said that "glorify Him" means saying: "SubhanAllah" (Glory be to Allah), "Alhamdulillah" (All praise is due to Allah), "La ilaha illa Allah" (There is no god but Allah), "Allahu Akbar" (Allah is the Greatest), and "La hawla wa la quwwata illa billah" (There is no power nor strength except with Allah). Some versions add: "Al-'Aliyy al-'Atheem" (The Most High, the Magnificent). Thus, "glorification" encompasses all these phrases. Tafsir al-Khazin and Al-Madarik mention this from Qatadah.
(2) His statement: "Morning and afternoon" – This indicates consistency, as mentioning the two extremes implies the middle as well. Tafsir al-Khazin mentions this.
(3) His statement: "So exalt [Allah] with praise..." – This verse indicates the virtue of Tasbeeh (glorification) and Tahmeed (praise), as Allah made them sufficient for expressing gratitude for the blessings of victory and conquest. Tafsir al-Khazin mentions this.
(4) His statement: "And magnify Him..." – The intended meaning is that "magnify Him" can mean saying "Allahu Akbar" (Allah is the Greatest), as mentioned in Al-Husseini. Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah mentions this.
Note 5
(5) His statement: "The best speech..." – Some scholars use this hadith as evidence that if a person swears not to speak for a day and then says "SubhanAllah," "Alhamdulillah," "La ilaha illa Allah," or "Allahu Akbar," he breaks his oath. This is the view of Imam Shafi'i, as these are all forms of speech. However, our scholars (Hanafis) say he does not break his oath, because although these phrases are linguistically speech, they are not considered "speaking" in common usage. Rather, one is called a "reciter" (qari') or "glorifier" (musabbih), not a "speaker" (mutakallim). The principle in oaths is that they are based on common usage unless a specific intention is made. This is supported by hadiths mentioned in Fath al-Qadeer and others. The Shafi'i school bases oaths on linguistic reality, while the Maliki school bases them on Quranic usage. This is summarized from Mirqat al-Mafatih, Fath al-Qadeer, 'Umdat al-Ri'ayah, and Al-Binayah.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: وسبحوه إلخ : قيل : معنى سبحوه: قولوا: سبحان الله والحمد لله، ولا إله إلا الله ، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله زاد في نسخة: «العلي العظيم فعبر بالتسبيح عن أخواته. قاله الخازن، وكذا في المدارك» عن قتادة.
(۲) قوله: بكرة وأصيلا : فيه إشارة إلى المداومة؛ لأن ذكر الطرفين يفهم منه الوسط أيضًا. قاله الخازن.
(۳) قوله : فسبح إلخ وفي الآية دليل على فضيلة التسبيح والتحميد حيث جعل ذلك كافيًا في أداء ما وجب عليه من شكر نعمته النصر والفتح. قاله الخازن.
(٤)قوله: وكبره إلخ : والمقصود عن ذكر الآية أنه يجوز أن يكون وكبره» بمعنى: وقُل: الله أكبر، على ما في الحسيني. كذا في التفسيرات الأحمدية.
Note 5
(٥)قوله : أفضل الكلام إلخ واحتج بهذا الحديث القائل بأن من حلف لا يتكلم اليوم فسبح أو هلل أو كبر أو ذكر الله فإنه يحنث، وهو قول الشافعي؛ لأن الكل كلام. وقال علماؤنا : لا يحنث؛ لأن هذا وإن كانت من الكلام لغة، لكن لا يُسمى بمثل ذلك متكلما عرفًا، بل قاريا ومسبحًا، فإن المتكلم عرفًا من يخاطب الناس ويتكلم بما يخاطب به الناس الأصل في هذا الباب أن مبنى الأيمان عندنا على العرف ما لم ينو محتمل لفظه؛ لأن المتكلم إنما يتكلم بالكلام العرفي وعلى هذا الأصل يتفرع فروع هذا الباب، ويؤيدنا الأحاديث التي ذكرت في فتح القدير وغيره، وعند الشافعي منبى الأيمان على الحقيقة اللغوية، وعند مالك على استعمال القراني، هذا حاصل ما في المرقاة» و«فتح القدير» و «عمد الرعاية» و«البناية».