اردو
سَمُرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم ﷺ سے روایت
فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنا (گم شدہ یا چُرایا ہوا یا غصب کیا ہوا) مال کسی
شخص کے پاس دیکھے تو اس (کے پانے) کا زیادہ مستحق ہے اور (جس شخص نے ایسے مشتبہ مال کو
خرید لیا تھا تو) اس شخص کو چاہئے کہ بیچنے والے (غاصب کا) پیچھا کرے (تلاش کرے اور اس سے
اپنی قیمت لے لے، مال تو بہر صورت اصل مالک کا ہوجائے گا)۔ اس کی روایت امام احمد، ابوداود
اور نسائی نے کی ہے۔
اور طبرانی نے حضرت سَمُرہ رضی اللہ عنہ سے ہی اس طرح روایت کی ہے کہ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی شخص کا کوئی مال چوری جائے یا وہ گم
ہوجائے اور وہ شخص اسی چیز کو کسی کے ہاں پاوے تو اس کا مستحق یہی شخص (یعنی اصل مالک) ہے اور ادا
شدہ قیمت (غاصب) بیچنے والے سے (رقم دینے والا) خریدار اپنی قیمت وصول کرے۔ (اس سے
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3531 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) At-Turbishti said this refers to usurped, stolen, or lost property. This was discussed in the chapter on bankruptcy and deferment. [From Al-Marqah].
Note 1
(۱) قوله: من وجد عين ماله قال التوربشتي: المراد منه ما غصب أو سرق أو ضاع من الأموال. كذا في «المرقاة»، هذا نبذة مما ذكرناه في باب الإفلاس والإنظار، ومن شاء التفصيل فلينظر ثمه.
Note 1
معلوم ہوا کہ مغصوبہ یا چوری کا مال کسی صورت میں خریدنا نہیں چاہئے اور اگر خرید لے تو مال اصل مالک کو واپس ہوجائے گا اور ادا شدہ قیمت چرا کر بیچنے والے سے وصول طلب ہوگی)۔