Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3081

Chapter: Stoning at Jamrah

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: Stoning at Jamrah

Zujajat al-Masabih 3081Volume 2

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Prophet (ﷺ) stoning on the Day of Sacrifice while mounted, saying: 'Learn your rituals from me, for I do not know if I will perform Hajj after this one.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۰۸۱ - عَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَرْمِي1 عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَقُوْلُ: لَتَأْخُذُوْا مَنَاسِكَكُمْ؛ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُ بَعْدَ حَجَّتِيْ هَذِهِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3651
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قربانی کے دن یعنی دسویں ذوالحجہ کو (جمرۂ اولیٰ پر) سواری کی حالت میں کنکریاں مار رہے تھے اور (کنکریاں مارنے کے بعد) آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تم لوگ حج کے مناسک مجھے دیکھ کر سیکھ لو شاید کہ اس حج کے بعد میں پھر حج نہ کر سکوں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1297 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

While mounted

(1) "While mounted": Abu Hanifah and Muhammad held that stoning while riding is superior, based on these narrations. Abu Yusuf considered it a situational act for visibility. Later scholars preferred walking for humility, especially in crowded times. (Fatawa Qadi Khan, Al-Maraqi)

Note 1

قوله

(۱) قوله : يرمي على راحلته وفي فتاوى قاضى خان: قال أبو حنيفة ومحمد عمها : الرمي كله راكبا أفضل؛ لأنه روي ركوبه فيه كله، وكان أبو يوسف يحمل ما روي من ركوبه الله في رمي الجمار كلها على أنه ليظهر فعله، فيقتدى به، ويسئل ويحفظ عنه المناسك، كما ذكر في طوافه راكبا، في الظهيرية» أطلق استحباب المشي، قال: يستحب المشي إلى الجمار، وإن ركب إليها فلا بأس به، والمشي أفضل، وتظهر أولويته؛ لأنا إذا حملنا ركوبه ، على ما قلنا: يبقى كونه مؤديا عبادة، وأداؤها ماشيا أقرب إلى التواضع والخشوع، وخصوصا في هذا الزمان؛ فإن عامة المسلمين مشاة في جميع الرمي، فلا يأمن الأذى بالركوب بينهم بالزحمة. كذا في «المرقاة».

Note 1

واضح ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری کی حالت میں جو رمی فرمائی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کو صحابہ دیکھ سکیں اور رمی کے طریقہ کو آپ سے سیکھ لیں مظہریہ میں پیدل رمی کرنے کو مطلقاً مستحب قرار دیا ہے اس لئے کہ اس میں تواضع خشوع اور انکساری زیادہ ہوتی ہے جو عبادت میں مقصود ہے اور ظہیریہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس زمانہ میں پیدل رمی کرنا افضل ہے، اس لئے کہ عامۃ المسلمین پیدل رمی کرتے ہیں اور سب پیدل رمی کریں تو ایذاء اور تکلیف کا اندیشہ نہیں رہتا۔ چنانچہ اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ صحیح احادیث میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف دسویں ذوالحجہ کو بغرض تعلیم سواری پر رمی فرمائی اور بقیہ دنوں میں پیدل رمی فرمائی۔12