English
Nafi' narrated: "I used to trade with Syria and Egypt, then I began trading with Iraq. I visited Aisha (may Allah be pleased with her) and said: 'O Mother of the Believers, I used to trade with Syria, but now I trade with Iraq.' She replied: 'Do not do that. What is wrong with your previous trade? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "When Allah provides sustenance to someone from a certain means, they should not abandon it unless it changes or becomes unfavorable."'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٠٤ - وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّرُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مِصْرَ، فَجَهَّرْتُ إِلَى الْعِرَاقِ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، كُنْتُ أُجَهِّرُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّرْتُ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: «إِذَا سَبَّبَ اللَّهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهِ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3805
نافع رحمۃ اللہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ میں (اپنے تجارتی قافلوں
کو) ملک شام اور مصر کی طرف بھیجا کرتا تھا۔ پھر میرا ارادہ ہوا کہ (اب آئندہ تجارتی قافلہ کو) عراق
کی طرف بھیجوں (مشورہ کے لئے) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت اقدس میں
حاضر ہوا اور عرض کیا ام المؤمنین! میں اب تک شام (اور مصر) کی طرف (تجارتی قافلہ) بھیجا کرتا
تھا اب ارادہ ہے کہ عراق کی طرف قافلہ بھیجا کروں (یہ سن کر) ام المؤمنین نے فرمایا کہ تم اپنی پچھلی
تجارت کے سلسلہ کو کیوں بدل رہے ہو (جب کہ اس میں نفع ہے) سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے رزق کا کوئی سامان کر دے تو تم اس کو نہ چھوڑو جب
تک کہ اس میں کوئی نقصان یا تغیر واقع نہ ہو جائے۔ اس کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2148 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ انسان اپنے موجودہ ذریعہ معاش کو بلا کسی معقول سبب کے موہوم فائدے کی امید پر ترک نہ کرے اور دوسرے یہ کہ جمے ہوئے کاروبار کو چھوڑ کر لالچ اور طمع کی خاطر ایسے کاروبار کا ارادہ نہ کرے جس میں اس کو تجربہ نہ ہو اور اس کا فائدہ یقینی نہ ہو۔