Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3205

Chapter: Earning a Livelihood and Seeking Halal Provisions

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Earning a Livelihood and Seeking Halal Provisions

Zujajat al-Masabih 3205Volume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah is Pure and accepts only what is pure. He has commanded the believers as He commanded the Messengers: 'O Messengers, eat from the good things and do righteous deeds.' (Al-Mu'minun 23:51) And He said: 'O you who believe, eat from the good things We have provided for you.' (Al-Baqarah 2:172)" He then mentioned a man who travels widely, disheveled and dusty, raising his hands to the sky, saying: "O Lord! O Lord!" Yet his food is haram, his drink is haram, his clothing is haram, and he was nourished with haram—so how can his supplication be answered?

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٠٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : «إِنَّ اللَّهَ طَيِّبُ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ: {يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا}(المؤمنون: (٥١) وَقَالَ تَعَالَى: ﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ}(البقرة: ١٧٢) ، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3806
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک (یعنی حلال) چیزوں ہی کو قبول فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو انہی چیزوں کا حکم دیا ہے جن کا حکم اپنے انبیاء اور رسولوں کو دیا ہے۔ چنانچہ (اپنے کلام پاک میں) ارشاد فرمایا: ”اے میرے رسولو! پاک (یعنی حلال) چیزوں کو کھاؤ اور نیک کام کرو“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”اے ایمان والو! پاک یعنی حلال چیزوں کو کھاؤ جن کو ہم نے تمہیں دیا ہے۔“ پھر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی (عبادتوں یعنی حج اور جہاد کے لئے) پراگندہ بال اور غبار آلود حال میں طویل سفر کرتا ہے اور آسمان کی طرف ہاتھوں کو اٹھا کر فریاد کرتا ہے (اور پکارتا ہے) اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام ہے، اور لباس حرام ہے اور اس کی پرورش بھی حرام (مال سے) ہوئی ہے تو ایسے شخص کی دعا کب اور کیسے قبول ہوگی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1015 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2760 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 2760

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: صاحب مرقات رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ بارگاہ خداوندی میں دعا کی قبولیت کے لئے دو بازو درکار ہیں ایک اکل حلال دوسرے صدق مقال یعنی حلال کی روزی کھانا اور سچ بولنا اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کی پرورش حرام روزی سے ہوئی لیکن اب حلال روزی کھا رہا ہے تو بھی اس کی دعا قبول نہ ہوگی جب تک صدق دل سے توبہ نہ کرے اور آئندہ کے لئے حلال خوری کا سچا عہد نہ کرلے۔ اس وقت اس کی دعا قبول ہوسکتی ہے۔