Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3304

Chapter on the Wedding Feast

In this book

Current reading

Marriage

Chapter on the Wedding Feast

Zujajat al-Masabih 3304Volume 2

English

Safinah (may Allah be pleased with him) narrated: A man hosted Ali ibn Abi Talib and prepared food for him. Fatimah said, “If only we invited the Messenger of Allah (ﷺ) to eat with us.” They invited him, and he came, placing his hand on the doorposts. He saw a decorated curtain in a corner of the house and returned. Fatimah followed him and said, “O Messenger of Allah, what turned you back?” He said, “It is not for me or a prophet to enter a decorated house.” Narrated by Ahmad and Ibn Majah.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٣٠٤ - وَعَنْ سَفِينَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيْ الْبَابِ فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَتَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيَّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4383
سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا تو آپ نے اس کے لئے کھانا تیار کروایا۔ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا اچھا ہوتا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلاتے اور آپ ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے انہوں نے حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کو بلایا، آپ تشریف لائے اور دروازہ کے دونوں بازو کی لکڑیوں پر ہاتھ رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک اونی منقش باریک پردہ گھر کے ایک کونے میں لگا ہوا ہے (یہ دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو گئے۔ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں بھی حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کے پیچھے پیچھے گئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کس چیز نے آپ کو لوٹا دیا؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے یا کسی نبی کو سزاوار نہیں کہ وہ ایسے گھر میں داخل ہوں جو (نقش و نگار کر کے) سجایا گیا ہو۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3360 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He saw a decorated curtain in a corner of the house

(1) The statement: “He saw a decorated curtain in a corner of the house”: Al-Khattabi, followed by Ibn al-Malik, said it was ornamented and patterned. Others said it was not patterned but set up like a bride’s canopy, covering the wall, which is reckless and resembles the actions of tyrants. It indicates not responding to an invitation with a prohibition, as in Al-Marqah. In Al-‘Alamgiriyyah, Faqih Abu Ja‘far (may Allah have mercy on him) said in Sharh as-Siyar al-Kabir: There is no harm in covering house walls with patterned felts if the intent is to ward off cold. If the intent is decoration, it is disliked. Shams al-A’immah as-Sarakhsi said in Sharh as-Siyar: There is no harm in covering walls with felts to ward off cold, or with straw to ward off heat. What is disliked is that done for decoration, as in Az-Zakhirah. In essence, what is done for arrogance is disliked; if for need or necessity, it is not, which is the chosen view, as in Al-Ghayathiyyah.

Note 2

He returned, etc.

(2) The statement: “He returned, etc.”: In Ad-Durr al-Mukhtar: If invited to a feast where there is playing or singing, he may sit and eat. If the prohibition is in the house but not at the table, he should not sit but leave discreetly, per His saying: “Do not sit after the reminder with the wrongdoing people” [Al-An‘am: 68]. If he can prevent it, he should; if not, he endures if not a role model. If a role model and unable to prevent, he leaves and does not sit, as it tarnishes religion. What is narrated about the Imam was before he became a role model. If he knows of the playing beforehand, he does not attend, whether a role model or not, as the duty of the invitation applies after attending, not before, per Ibn Kamal.

Note 1

ف(1): واضح ہو کہ علامہ طیبی نے فرمایا ہے کہ دولہن کے کمرہ کی طرح گھروں کے در و دیوار کو نقش و نگار سے آراستہ کرنا رعُونت اور انانیت ہے اور یہ متکبرین کا فعل ہے جو مسلمان کے لئے زیبا نہیں اس لئے ایسی دعوت جس میں ایسے منکرات ہوں قبول نہیں کرنا چاہئے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں فقیہ ابو جعفر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر گھر کی دیوار کو جانوروں کی منقش کھالوں کو چسپاں کیا جائے تاکہ سردی سے حفاظت ہو سکے تو اس میں کوئی حرج نہیں البتہ بطور زینت ایسا کام کیا جائے تو مکروہ ہوگا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر ایسا کام جو تکبر کی وجہ سے کیا جائے وہ مکروہ ہوگا البتہ حاجت اور ضرورت کی وجہ سے ایسا کام کیا جائے تو کراہت نہیں ہوگی۔ قولِ مختار یہی ہے۔ یہ غیاثیہ میں مذکور ہے۔ ف(2): حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں منقش پردہ کو دیکھا تو واپس ہو گئے۔ درمختار میں لکھا ہے کہ ولیمہ کی دعوت میں پہنچنے کے بعد دیکھا گیا کہ وہاں کھیل کود گانا بجانا ہو رہا ہے اگر یہ کام گھر میں ہو رہے ہوں اور دستر خوان پر ہوں تو نہ بیٹھے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ“ (سورۃ انعام، پ:7، ع:8، آیت نمبر:68) (نصیحت کے بعد ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھیں)۔ ایسے موقعوں پر فقہاء نے دو طریقوں کو بیان کیا ہے۔ ایک یہ کہ اگر عام آدمی ہے تو منع کرے اور اگر نہ منع کر سکتا ہو تو صبر کرے اور اگر قوم کا پیشوا ہو اور منع بھی نہ کر سکتا ہو تو وہاں سے نکل جائے اور نہ بیٹھے اس لئے کہ ایسے آدمی کے بیٹھنے سے دین کی اہانت ہوتی ہے۔ اور اگر پہلے سے اس بات کا علم ہو کہ دعوت میں منکرات ہیں تو عام آدمی یا پیشواے قوم کسی کو بھی ایسی دعوت میں نہیں جانا چاہئے۔12