اردو
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کے پاس ایک چور لایا گیا جو چادر چوری کیا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ میں نہیں
سمجھتا کہ وہ چوری کیا ہے۔ چور نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ (یعنی میں چوری کیا ہوں) آپ
نے فرمایا اس کو لے جاؤ اور ہاتھ کاٹ دو9 داغ دو اور پھر اس کو میرے پاس لاؤ۔
اور پھر اس کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹا گیا اور داغ پھر آپ کی خدمت میں لایا
گیا۔ تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ کر۔ تو اس نے کہا میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں
توبہ کی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کی۔ (مستدرک، علی شرط مسلم)
امام بغوی نے شرح السنۃ میں سارق کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹو پھر اس کو داغ دو۔
(دارقطنی اور عبدالرزاق اور دیگر محدثین نے اس کے ہم معنی روایت کی ہے)
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) The statement: Cut him, then cauterize him, etc.: Cauterization is recommended per al-Shafi‘i, obligatory per us, as the hadith’s apparent command implies obligation, with no diversion from its literal meaning, especially since neglecting it risks death, and punishment deters, not destroys, making it obligatory otherwise. (Gathered from Al-Durr al-Mukhtar, Nayl al-Awtar, and Al-Hidaya)
Note 2
(٢) قوله: فاقطعواه ثم احسموه إلخ: يعني وتحسم ندبًا عند الشافعي ووجوبًا عندنا؛ لأن ظاهر الحديث الوجوب؛لكونه أمرًا، ولا صارف له عن معناه الحقيقي، ولا سيما مع كونه يؤدي الترك إلى التلف، والحد زاجر لا متلف؛ فإنه يصير واجبا من جهة أخرى. (الدر المختار) و(نيل الأوطار) و(الهداية) ملتقط منها.