اردو
یزید بن رومان اور عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو قبیلہ کندہ کے ایک شخص اکیدر بن عبدالملک کے پاس روانہ
فرمایا، جو مقام دومہ کا بادشاہ تھا اور نصرانی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد سے فرمایا کہ تم
اس کو گائے کا شکار کرتا ہوا پاؤ گے۔ پس خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکل پڑے یہاں تک کہ جب وہ صاف
چاندنی رات میں اس کے قلعہ سے اس قدر فاصلہ پر تھے کہ جہاں سے آنکھ (قلعہ کا) نظارہ کر سکتی
ہے تو (دیکھا کہ) وہ چھت پر اپنی بیوی کے ساتھ ہے۔ پس ایک گائے اپنی سینگوں سے محل کے
دروازے کو رگڑتی ہوئی آئی، تو اس سے اس کی بیوی نے کہا کیا تم نے کبھی اس جیسے (شکار) کو دیکھا؟
تو اس نے کہا بخدا نہیں، وہ بولی تو اس جیسے (شکار) کو کون چھوڑتا ہے؟ وہ بولا کوئی نہیں۔ پھر وہ اپنے
گھوڑے (کو تیار کرنے) کا حکم دیا تو اس پر زین کسی گئی، اور اس کے ساتھ افراد خاندان کی ایک
جماعت بھی سوار ہوگئی، جن میں اس کا ایک بھائی تھا، جس کو حسان سے بلایا جاتا تھا۔ چنانچہ وہ سب
اپنی چادروں کو لئے اس کے ہمراہ نکل پڑے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسواروں کا ان سے
سامنا ہوا تو انہوں نے اس کو پکڑ لیا۔ اور اس کے بھائی حسان کو مار ڈالا۔ اور اس کے اوپر سونے کا کام
کی ہوئی ریشم کی ایک چادر تھی تو خالد بن ولید نے اس کو اس سے نکال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں حاضری سے پہلے ہی آپ ﷺ کے پاس روانہ کر دیا پھر خالد اکیدر کو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ ﷺ نے اس کے خون کو معاف فرمایا اور جزیہ کی شرط پر اس
سے صلح فرمائی اور اس کو رہا کر دیا تو وہ اپنے مکان کو واپس ہوگیا۔ (سنن کبریٰ للبیہقی)
ابوداؤد میں یہ روایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سے مختصر مروی ہے۔
Qur’an-related source paragraphs
Allah, the Exalted, says: “Fight those who do not believe in Allah or the Last Day, nor forbid what Allah and His Messenger have forbidden, nor follow the religion of truth, from among those given the Scripture,(1) until they pay the jizyah willingly while they are humbled” [Qur’an 9:29].
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3989 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 3989
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: “From among those given the Scripture”: This clarifies “those who do not believe in Allah”, meaning the jizyah is imposed on those who believe in a revealed scripture, like Jews who believe in the Torah, Samaritans who believe in the Psalms, and Christians who believe in the Gospel. As in (At-Tafsir al-Ahmadiyyah) and (Sharh al-Kanz).
(2) The statement: “Say to those who remained behind, etc.”: In (At-Tafsir al-Ahmadiyyah), this verse indicates that apostates and Arab idol-worshippers are not offered jizyah, as stated by exegetes and the author of (Al-Hidayah) in the chapter on fighting: This applies to those from whom jizyah is accepted. For those from whom it is not, like apostates and Arab idol-worshippers, there is no benefit in offering jizyah, as only Islam is accepted from them, per Allah’s saying: “You will fight them, or they will submit” [Qur’an 48:16].
Chapter-heading commentary
(١) قوله: من الذين أوتوالكتاب: بيان لقوله: الذين لا يؤمنون بالله، والمعنى: توضع الجزية على الذي يعتقد كتابا منالكتب المنزلة كاليهودي؛ فإنه يعتقد التوراة والسامري؛ فإنه يعتقد الزبور والنصراني؛ فإنه يعتقد الإنجيل. التقطتهمن (التفسيرات الأحمدية) وشروح (الكنز).
(٢) قوله: قل للمخالفين إلخ: قال في (التفسيرات الأحمدية): فيكون الآية دليلا على أن المرتدين ومشركي العرب لا يقبلمنهما الجزية صرَّح به المفسرون، وصاحب (الهداية) أيضًا؛ حيث قال في (باب كيفية القتال): وهذا في حق من يقبلمنه الجزية، ومن لا يقبل منه، كالمرتدين وعَبَدَة الأوثان من العرب لا فائدة في دعائهم إلى قبول الجزية؛ لأنه لا يقبلمنهم إلا الإسلام، قال الله تعالى: ﴿تُقَتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونٌّ﴾ (الفتح: ١٦). هذا لفظه.