اردو
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور
حسین رضی اللہ عنہما کا ایک مینڈھے 1 سے عقیقہ کئے۔ (ابوداؤد)۔
اور ترمذی، نسائی اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: وہ نقصان نہیں دے گا تم کو
خواہ وہ مرد بچے ہوں یا عورت بچیاں۔
امام مالکؒ نے نافعؒ سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان
کے گھر والوں میں سے جس کسی نے عقیقہ کا سوال کیا تو انہوں نے اس کو وہ عطا کیا اور وہ اپنی اولاد کا
عقیقہ بچے ہوں کہ بچیاں ایک ایک بکری کرتے تھے۔ (مؤطا امام مالک)۔
ان کی ایک اور روایت میں ہشام بن عروہ سے مروی ہے کہ ان کے والد عروہ
بن زبیر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا عقیقہ ایک ایک بکری سے کیا کرتے۔ (مؤطا امام مالک)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2841 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: “The Messenger of Allah (ﷺ) performed aqiqah, etc.”: Abu Hanifah and Malik said one sheep is slaughtered for both male and female. Al-Shafi’i and Ahmad said two sheep for a boy and one for a girl, per “Radd al-Muhtar” and “Ghurrar al-Afkar.”
Note 2
(2) The statement: “Not a general rule for us”: The three Imams say charity should be given equivalent to the weight of the hair in silver or gold, per “Radd al-Muhtar,” “Ghurrar al-Afkar,” and “Al-Musawwa.”
Note 1
(١) قوله: إن رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا: فقال بذلك أبو حنيفة ومالك، فتذبح عندهما شاة واحدةللذكر والأنثى، عند الشافعي وأحمد شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية. كذا في (رد المحتار) و(غرر الأفكار).
Note 2
(٢) قوله: لا عموم لها عندنا: وعند الأئمة الثلاثة يتصدق بزنة شعره فضة أو ذهبا. كذا في (رد المحتار) و(غررالأفكار) و (المسوى).
Note 1
اور ہم کہتے ہیں امام حسن رضی اللہ عنہ کے سر کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنا ایک دفعہ کا واقعہ ہے جس میں ہمارے نزدیک کوئی عموم نہیں۔ 1